Why not she herself?
Al-Risala, January 1988, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
اندرا گاندھی خود کیوں نہیں (ٹائمس آف انڈیا ۱۲ جولائی ۱۹۸۷) یعنی اندرا گاندھی خود پریڈینٹ بن جائیں اور مجھے وزیر اعظم بنا دیں۔ واقعات بتاتے ہیں کہ مرار جی ڈیسائی کانگریس سے الگ ہو گئے۔ انھوں نے وزیر اعظم بننے کے لیے سارے ملک کو الٹ پلٹ ڈالا۔ مارچ ۱۹۷۷ کے الیکشن میں جنتا پارٹی کی جیت کے بعد وہ مختصر مدت کے لیے وزیر اعظم بن بھی گئے۔ مگر جلد ہی بعد وہ سیاسی زوال سے دوچار ہوئے اور پھر کبھی ابھر نہ سکے۔
مرار جی ڈیسائی کی سیاسی ناکامی کا اصل سبب یہ تھا کہ وہ ممکن کو چھوڑ کر نا ممکن کی اگر وہ اس راز کو جانتے کہ موجودہ حالات میں ان کے لیے جو آخری ممکن چیز ہے وہ صدارت ہے نہ کہ وزارت عظمیٰ، تو یقیناً وہ ذلت اور ناکامی سے بچ جاتے۔ نا ممکن کے پیچھے دوڑنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ممکن سے بھی محروم ہو کر رہ گئے۔ ناممکن کے پیچھے دوڑنا، آدمی کو ممکن سے بھی محروم کر دیتا ہے۔ جب کہ ممکن پر قانع رہنے والا ممکن کو بھی پاتا ہے اور بالآخر نا ممکن کو بھی۔