Vijai Lakshmi Pandit, The Scope of Happiness
Al-Risala, March 1988, pp. 17–21
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈیو گوارشیا سے لے کر لکا دیپ تک سمندر میں جگہ جگہ چٹانی ابھار اس طرح پھیلا ہوا ہے جیسے کسی نے انتھاہ پانی کے درمیان لکڑی کے بہت سے تنے ڈال دئے ہوں۔ اسی لمبے سلسلہ کے درمیان وہ ’’ملک‘‘ ہے جس کو جزائر مالدیپ کہتے ہیں۔ یہ جزائر ہندوستان کے جنوبی ساحل سے تقریباً ۴۰۰ میل کے فاصلہ پر واقع ہیں۔
مالدیپ کے بارہ میں راقم الحروف نے سب سے پہلے الجمعیۃ ویکلی ۲۹ مارچ ۱۹۷۴ء میں ایک مفصل مضمون شائع کیا تھا۔ اس کا عنوان ان الفاظ میں قائم کیا گیا تھا : مالدیپ کا رقبہ صرف 300 مربع کلومیٹر ہے، مگر کلیدی محل وقوع کی وجہ سے وہ بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اس کی اسی اہمیت کی بنا پر برطانیہ نے پہلی بار مالدیپ (مالے) میں ایک ہوائی اڈہ بنایا۔ دوسری عالمی جنگ میں فوجی اہمیت کے اس ہوائی اڈہ سے برطانیہ نے بہت کام لیا تھا۔ کے درمیان اس ہوائی اڈہ کو دیکھ کر خیال ہوتا ہے کہ انگریز واقعتاً دور رس نظر رکھتے تھے۔ اسی لئے وہ دنیا کے اتنے بڑے رقبہ پر حکومت کرنے میں کامیاب ہوسکے۔
الجمعیتہ کے اس مضمون میں راقم الحروف نے مزید لکھا تھا : جزائر مالدیپ کی پوری آبادی مسلمان یہ پانچ سو سال پہلے کے اس واقعہ کی یادگار ہے جب کہ عرب تاجروں کے ذریعہ اسلام جنوبی ہند کے ساحل سے لے کر سیلون، مشرقی بنگال، ملیشیا اور چین تک پھیل رہا تھا۔ کے آخر میں پرتگالی قافلہ بحر ہند میں آگئے، اور انھوں نے اس علاقہ سے عربوں کی تجارت اس کے بعد اس علاقہ میں اسلام کی اشاعت کا کام بھی بند ہوگیا (صفحہ ۱۰) مالدیپ کے لئے میرا پہلا سفر جنوری ۱۹۸۳ میں ہوا۔ یہ سفر ایک اسلامی کانفرنس کی دعوت پر تھا جس سفر کی روداد الرسالہ مئی ۱۹۸۳ میں شائع ہوچکی ہے۔ اس کانفرنس میں مجھے ایک مقالہ ’’جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں اسلام کی اشاعت‘‘ کے موضوع پر پیش کرنا تھا۔ مقالہ کی تیاری کے لئے کتابوں کی ضرورت تھی ۔ دہلی کے مسلم اداروں میں مجھے اس موضوع پر کوئی کتاب نہ مل سکی اس کے بعد میں نے دہلی کے ایک مسیحی ادارہ کو ٹیلیفون کیا۔ انھوں نے کہا کہ آپ آج شام
آۓ تو ان کے ساتھ صدف دل بھی لے چلے ساحل کی ہم نے خاک اڑائی ہے رات بھر اپنے کمالِ ضبط کا اظہار ہم کریں روئیں گے ہم ضرور مگر بات بات پر اک ایک دن ہے عمرِ گریزاں سے قیمتی کیوں کاٹتے ہو ہاتھ پہ رکھ کر حیات پر اک شخص کو بھلانا ہے مدت سے کام ہے جیسے کوئی چراغ جلائے ہو رات پر شاید وہ اس گلی سے گزرتا ہوا کبھی لکھی ہے ہم نے خاک پہ کیا کیا صفات پر ہم نے تو اپنے دل کے اجالے سے کر دیا روشن جہاں کو آپ اندھیرے کی رات پر
کو ہماری لائبریری میں آجائیں۔ شام کو میں وہاں پہنچا تو انھوں نے دس انگریزی کتابیں خاص اسی موضوع پر میرے حوالے کر دیں ۔ کتنا فرق ہے ایک میں اور دوسرے میں ۔
مالدیپ کے لئے میرا دوسرا سفر دسمبر ، ۱۹۸۸ میں ہوا۔ یہ سفر دوبارہ ایک انٹرنیشنل اسلامک کانفرنس میں شرکت کے لئے تھا جس کا اہتمام حکومت مالدیپ کے تعاون سے کیا گیا تھا۔ ۵ دسمبر، ۱۹۸۸ کی صبح کو فجر سے پہلے گھر سے روانہ ہونا تھا۔ ۴ دسمبر کی شام کو مختلف کاموں میں دیر ہوگئی اور میں ساڑھے بارہ بجے سے پہلے بستر پر نہ جاسکا۔ سوتے وقت دل سے دعا نکلی کہ خدا یا مجھے تین بجے جگادیجئے ۔ تاخیر کی وجہ سے نیند بھی کسی قدر دیر میں آئی۔ میں گہری نیند سوگیا۔ بالکل بے خبر سورہا تھا کہ خلاف معمول اچانک نیند کھل گئی۔ دیکھا تو گھڑی کی ایک سوئی تین پر تھی اور دوسری سوئی بارہ پر۔ نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ دل نے کہا کہ اللہ کی مدد ٹھیک اپنے وقت پر آتی ہے۔ اگرچہ انسان اپنی عجلت پسندی کی وجہ سے گھبرا اٹھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ شاید خدا کی مدد آنے والی نہیں۔ ۵ نومبر ، ۱۹۸۸ کی صبح کو انڈین۔ ائیر لائنز کی فلائٹ نمبر ۷۴۶ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ جو ریٹرن ٹکٹ ہے ، اس پر لکھا ہوا ہے : دہلی ۔ اس کو دیکھ کر خیال آیا کہ اسی طرح ہر آدمی کے پاس ایک اور ریٹرن ٹکٹ ہے۔ یہ دوسرا ٹکٹ بظاہر دکھائی نہیں دیتا۔ پر غیر تحریری زبان میں پختہ طور پر لکھا ہوا ہے : آخرت ۔ مجھے دہلی سے مالدیپ پہنچ کر وہاں چند دن قیام کرنا ہے اور پھر دوبارہ دہلی واپس آجانا ہے۔ اسی طرح ہر آدمی جو یہاں ہے وہ آخرت سے دنیا میں آیا ہے ، اور دوبارہ اس کو یہاں سے آخرت کی طرف پہلی قسم کے سفر کو ہر شخص جانتا ہے ، مگر دوسری قسم کے سفر کو جاننے والے اتنے کم ہیں کہ دوربین اور خورد بین سے تلاش کرنے پر بھی کہیں کوئی نہیں ملتا۔
ہوائی جہاز کے اعلانات میں ہمیشہ ایک ضروری اعلان سگریٹ نوشی کے بارہ میں ہوتا ہے ٹوائلٹ میں اسموکنگ نہ کریں ، لینڈنگ کے وقت اسموکنگ نہ کریں ، وغیرہ۔ کرنے والا سگریٹ نوشی کے بارہ میں ہمیشہ " نہ کریں " والے مواقع کو بتاتا ہے ، وہ " کریں " والے موقع کا اعلان نہیں کرتا۔ بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کے بارہ میں " کریں " والی بات کہنے کی ضرورت نہیں۔ وہ تو آدمی بہتاتے بغیر کرے گا۔ ایسی چیزوں کیلئے صرف " نہ کریں " والا پہلو یاد دلانے
کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اپنے طبعی تقاضوں کے جوش میں وہ اس دوسرے پہلو کو بھول جاتا ہے۔
جہاز میں مختلف اخباروں کے ساتھ ہندی روزنامہ نو بھارت ٹائمس (۵ نومبر، ۱۹۸۱) بھی میں نے اس کو کھولا تو درمیان کے صفحہ پر ایک مضمون تھا جس کا عنوان حسب ذیل الفاظ میں قائم کیا گیا تھا: ’’پنجاب پر ایک آشا وادی نظر‘‘ ایڈیٹوریل کے عنوانات یہ تھے : واپسی لمبی ہوگی، عام آدمی کو انصاف۔ آجکل ہندی اخبارات میں جو زبان ہوتی ہے وہ سادہ اردو ہوتی ہے۔ فرق رسم الخط کا ہے۔ یہ صورت حال بتاتی ہے کہ ہندوستان میں ’’اردو دانوں‘‘ کے لئے کبھی وہ چیز پیدا ہونے والی نہیں جس کو لینگویج گیپ کہا جاتا ہے۔ یعنی زبان کی دوری۔ اصل فرق رسم الخط کا ہوگا۔ اور وہ کوئی زیادہ بڑا فرق نہیں۔
راقم الحروف نے ہندی صرف سات دن پڑھی ہے ، روزانہ ایک گھنٹہ کی رفتار سے۔ اعظم گڑھ کے زمانہ قیام میں ایک کائستہ بھولیشور لال نے ایک ہفتہ ہمارے گھر پر آکر ہندی زبان پڑھائی تھی۔ سات گھنٹہ کی تعلیم کا یہ نتیجہ ہے کہ میں ہندی کے بڑے حروف (عنوان، پوسٹر، نام) با آسانی پڑھ لیتا ہوں ۔ اردو داں لوگ اگر صرف ہندی رسم الخط سیکھ لیں تو وہ کبھی ہندی علاقہ میں اجنبی نہیں ہوں گے۔
انڈین ایئر لائنز کے میگزین سواگت (دسمبر، ۱۹۸۱) میں ایک مضمون لکا دیپ کے بارہ میں تھا۔ لکا دیپ جغرافی اعتبار سے بالکل مالدیپ کا ایک حصہ معلوم ہوتا ہے۔ اگر چہ وہ ہندوستانی ایڈ منسٹریشن کے تحت ہے۔ یہاں کے ایک حصہ میں مالدیپی زبان بولی جاتی ہے۔ آبادی چالیس ہزار ہے جو سب کی سب مسلمان ہے۔ ۳۶ جزائر کا یہ مجموعہ صرف ۳۲ مربع کلو میٹر رقبہ رکھتا ہے۔ مضمون نگار مسٹر پی کے۔ ڈے مالدیپ گئے۔ وہاں سمندر کے کنارے کے خوبصورت سیپ انھیں بہت پسند آئے اور انھوں نے بہت سے سیپ اپنے بیگ میں جمع کرلئے۔ وہ لکھتے ہیں: I managed to collect a bagful of sea shells of various shapes and hues. However, many of these I had to throw back as soon as it was discovered that inside these were nestling live hermit crabs!
وہ خوبصورت سیپ جن میں دنیا کے کیکڑے بیٹھے ہوئے ہوں ان کو ہر آدمی دیکھ لیتا ہے اور اپنے سے دور پھینک دیتا ہے۔ مگر یہاں دوسرے بہت سے خوبصورت سیپ ہیں جن میں آخرت کے کیکڑے بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان دوسری قسم کے کیکڑوں کو کوئی نہیں دیکھتا۔ ان کو ہر آدمی اپنے بیگ میں محفوظ کئے ہوئے ہے ۔ وہ ان کو صرف آخرت میں پھینکنا چاہے گا۔ وقت کا پھینکنا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔
حال ہی میں انگریزی اخبار دکن کرانیکل (۵ دسمبر، 1987) نظر سے گزرا۔ اس کی ایک خبر کی سرخی تھی ۔ معمولی جھگڑے پر موت :