Al-Risala · March 1988

Petty quarrel leads to death

Al-Risala, March 1988, pp. 21–25

By Maulana Wahiduddin Khan

خبر میں بتایا گیا تھا کہ حیدر آباد میں ایک شخص نے رات کے وقت کسی آدمی کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ صاحب مکان کو اتنی رات میں دروازہ کھٹکھٹانا قابل اعتراض معلوم ہوا۔ وہ آنے والے سے جھگڑنے اب دوسرا شخص جو اس کا جاننے والا تھا اور سادہ طور پر صرف ملنے کے لئے آیا تھا۔ وہ بھی غصہ میں آکر لڑنے لگا۔ یہاں تک کہ مار پیٹ کی نوبت آگئی اور ایک شخص شدید زخمی ہو کر ہلاک ہو گیا۔ بظاہر یہ دو جاہل آدمیوں کی کہانی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہی پوری ملت کی کہانی ہے۔ تمام دنیا میں مسلمانوں کا حال یہی ہے کہ وہ معمولی معمولی باتوں پر لڑ جاتے ہیں اور لڑائی شروع ہونے کے بعد ان کی لڑائی دوبارہ اس وقت تک ختم نہیں ہوتی جب تک ان کے اندر لڑنے کی سکت ہی ختم نہ ہو جائے۔ ایران کی حکومتی جنگ سے لے کر بستیوں کی انفرادی مقدمہ بازی تک ہر جگہ مسلمانوں کا حال یہی ہے۔

راستہ میں ہمارا جہاز کچھ دیر کے لئے کوچن اترا۔ ۳۵ سال پہلے میں ایک بار چندن کے لئے کوچن آیا تھا۔ اس وقت کی کئی باتیں ابھی تک مجھ کو یاد ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ میں کوچن سے راس کماری (کیپ کومورن) گیا تھا۔ اس وقت یہاں تعمیرات نہیں ہوئی تھیں ۔ کے آخری ساحل پر بیٹھ کر دیر تک میں سمندر کے مناظر کو دیکھتا رہا۔ ساحل سے تقریباً نصف فرلانگ کے فاصلہ پر سمندر کے درمیان ایک چٹان تھی ۔ اس سے سمندر کا پانی ٹکرا کر اچھلتا تھا تو عجیب منظر پیدا ہوتا تھا۔ سوامی ویویکا نند ہندستان کا سفر کرتے ہوئے یہاں آئے تو

انھوں نے سمندر میں چھلانگ لگادی۔ وہ تیرتے ہوئے مذکورہ چٹان کے اوپر پہنچے اور وہاں دھیان اب اس چٹان پر ان کے نام سے بہت بڑا اسٹینڈ بن گیا ہے۔ تاہم قدرت کا سابقہ منظر اب وہاں موجود نہیں۔

آتے اور جاتے ہوئے تھوڑی تھوڑی دیر کے لئے جہ گوآ میں ٹھہرا۔ بہت سی پرانی یادیں تازہ ہوگئیں ۔ گوآ ۱۵۰۵ء سے پرتگال کے قبضہ میں تھا۔ ۱۹۶۲ میں دوبارہ وہ ہندوستان کے قبضہ میں آیا۔ آزادی (1947) سے قبل ہندوستان میں تین مغربی طاقتیں تھیں۔ زیادہ بڑے حصہ پر انگریز اور چند چھوٹے مقامات پر فرانسیسی اور پرتگالی۔ انگریزوں اور فرانسیسیوں نے بدلے ہوئے حالات کا اعتراف کرتے ہوئے پرامن طور پر اپنے زیر قبضہ علاقے خالی کر دیے مگر پرتگالی پر امن تخلیہ کے لئے راضی نہیں ہوتے ۔ ملک میں آزاد قومی حکومت کے قیام کے بعد جو اہرلال نہرو نے مسلسل یہ کوشش کی کہ پرتگالی پرامن طور پر اپنے علاقے کو آزاد کر دیں۔ مگر وہ راضی نہیں ہوئے ۔ دسمبر ۱۹۶۱ میں ہندوستان نے فوجی کارروائی کرکے بزور گوآ پر قبضہ کر لیا۔ اس سلسلہ میں انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (1984) کے مقالہ نگار نے نہایت بامعنی بات لکھی اس نے لکھا ہے کہ نہرو کے فوجی قبضہ کے بعد مغربی ملکوں میں اس کے خلاف کافی شور و غل ہوا مگر تاریخ کی روشنی میں نہرو کا اقدام جائز تھا۔ برطانی اور فرانسیسی واپسی کے بعد ہندوستان میں پرتگالی مقبوضات کی موجودگی ایک خلاف زمانہ حرکت تھی ، With the withdrawl of the British and the French, the Portugese colonial presence in India became an anachronism (12/946). حقیقت واقعہ کا اعتراف اگر آپ بخوشی نہ کریں تو بالآخر آپ کو حقیقتِ واقعہ کا اعتراف بجبر کرنا پڑے گا۔ اور دوسری صورت کے مقابلہ میں پہلی صورت یقینی طور پر زیادہ اہون ہے ۔ تریوندرم سے جہاز از بدلنا تھا، اس لئے یہاں چند گھنٹے رکنا پڑا ۔ کیرلا کا دار السلطنت ہے جو ساحل سمندر سے ایک میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ تریوندرم کو پہلی بار 1745 میں اہمیت حاصل ہوئی جب کہ راجہ مارتنداور مانے اس کو اپنی راجدھانی قرار دیا۔ یونیورسٹی یہیں قائم ہے۔ مشہور اور نیٹل کا نفرنس (۱۹۳۷) تریوندرم ہی میں ہوئی تھی۔ اس کے صدر

ڈاکٹر تھامس (F. F. Thomas) تھے۔ انھوں نے میکس مولر کا حوالہ دیتے ہوئے یہ انوکھی بات کہی تھی کہ سنسکرت اس ملک میں اتنی ہی عام ہے جتنا کہ قدیم یورپ میں لاطینی تھی۔ اور سنسکرت کی ایک سادہ صورت (Simple form) کو پورے ملک کی مشترک زبان بنانے کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے (ڈسکوری آف انڈیا، صفحہ 127)

تریو ندرم جنوبی ساحل پر واقع ہے جہاں بحر عرب کی لہریں آکر ہندوستان کی سرزمین سے اس علاقہ کی اہم ترین خصوصیت یہ ہے کہ یہاں اسلام عرب تاجروں کے ذریعہ آیا۔ اس طرح یہاں کے لوگ اسلام سے اس خالص تعمیری پہلو کی حیثیت سے آشنا ہوئے جس کو پنڈت جواہر لال نہرو نے شاندار کلچر (Brilliant culture) سے تعبیر کیا ہے۔

عرب تاجروں کے غیر سیاسی اور تعمیری انداز نے لوگوں کو اسلام کا گرویدہ بنا دیا۔ نہ صرف عوام بلکہ راجے اور مہاراجے بھی اسلام سے شدید طور پر متاثر ہوئے۔ کالی کٹ کے راجہ زمورن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ عرب تاجروں کا سر پرست بن گیا۔ اور اپنی رعایا میں قبول اسلام کی حوصلہ افزائی کرنے لگا (پریپنگ آف اسلام، (۲۶۹)

پروفیسر آرنلڈ نے لکھا ہے کہ سولھویں صدی کے آغاز میں مو پلا نو مسلم مالابار کی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ تھے۔ اگر پرتگالی اس علاقہ میں نہ پہنچتے تو اس ساحل کے تمام لوگ مسلمان ہو جاتے۔ کہ وہ کثرت سے اسلام قبول کر رہے تھے اور مسلم تاجروں کا طبقہ ان کے اوپر نہایت گہرا اثر ڈال رہا تھا (۲۶۹)

ہندوستان میں ”ملک“ ایک واحد جغرافی خطہ کا نام ہوتا ہے۔ مگر جب آپ مالدیپ کی فضا میں پہنچ کر نیچے کی طرف نظر ڈالیں تو ”ملک“ کا تصور بالکل بدلا ہوا ہوگا۔ یہاں ”ملک“ ایک ایسے مجموعہ کا نام ہے جو متفرق صورت میں سمندر کے اندر دور دور تک بکھرا ہوا ہو مالدیپ ۱۰۸۷ چھوٹے چھوٹے جزیروں پر مشتمل ہے۔ ان کا مجموعی رقبہ ۲۹۸ مربع کلومیٹر ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے جزیرے سمندر میں تقریباً ساڑھے سات سو کلومیٹر لمبائی اور تقریباً سوا سو کلومیٹر چوڑائی میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان میں سے صرف ۲۱۹ جزیرے آباد ہیں جن میں یہاں کے تقریباً پونے دو لاکھ باشندے رہتے ہیں۔ باقی جزیرے زیادہ تر جنگلات کی صورت میں ہیں۔ مالے (Male) نامی

جزیرہ یہاں کا دار السلطنت ہے۔ یہ جزیرہ صرف ایک میل چوڑا اور ڈیڑھ میل لمبا ہے۔ مالدیپ کے سابق وزیراعظم مسٹر احمد ذکی مارچ ۱۹۷۹ء میں ہندوستان آئے تھے۔ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ” ان کا ملک چھوٹے چھوٹے جزیروں میں بٹا ہوا ہے، اس بنا پر رسل و رسائل (Communication) کی بہت دشواری ہے۔ اس سلسلہ میں ہمیں آپ کی مدد کی “ آزادی (۱۹۶۵ء) کے بعد مالدیپ نے اس میدان میں خصوصی توجہ دی۔ اب یہ مسئلہ کافی حد تک حل ہو چکا ہے۔ تمام آباد جزائر میں بندرگاہیں بنی ہوئی ہیں۔ جدید طرز کی کشتیاں جزائر کو مربوط کرنے کے لئے ہر وقت سمندر میں دوڑتی رہتی ہیں۔ وائر لیس کا عمدہ نظام قائم ہے جس کی وجہ سے ایک لمحہ میں ایک جزیرہ اور دوسرے جزیرہ کے درمیان ربط قائم کیا جا سکتا ہے۔

ان چیزوں کو دیکھ کر میں نے سوچا کہ مالدیپ کے ذمہ دار اگر یہ مہم چلاتے کہ مالدیپ کے ۱۰۸ جزیروں کو ملا کر ایک کر دیا جائے تاکہ دوسرے ملکوں کی طرح ان کا ملک بھی ایک واحد زمینی خطہ بن جائے جس میں اس سرے سے اس سرے تک سڑکیں ہوں اور ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک ریلیں دوڑتی ہوں۔ اگر وہ ایسی مہم چلاتے تو وہ صرف ایک بے فائدہ لفظ بازی ہوتی جس کا موجودہ اسباب کی دنیا میں کوئی حاصل نہیں۔ مگر انھوں نے اس قسم کی کوئی مہم اس کے برعکس انھوں نے صورت واقعہ کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے حسب حال اپنے مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ۲۵ سال کے اندر ان کا مسئلہ حل ہو گیا۔ جب کہ جزائر کی یکجہتی کے لئے ان کی ”مطالباتی مہم“ ۲۵ ہزار سال میں بھی کسی نتیجہ پر پہنچنے والی نہیں تھی۔ اس دنیا میں کامیابی کی پہلی شرط حقیقت واقعہ کا اعتراف ہے۔ حقیقت واقعہ کے اعتراف کے بعد ہی کسی شخص یا قوم کا سفر شروع ہوتا ہے۔ جو لوگ حقیقت واقعہ کا اعتراف نہ کریں، ان کا سفر ہی شروع نہیں ہو گا۔ اور جس سفر کا آغاز نہ ہوا ہو وہ سفر اختتام پر کیسے پہنچ سکتا ہے۔ ۵ دسمبر ۱۹۸۰ء کی سہ پہر کو مالدیپ پہنچے۔ یہاں کا خاص شہر اور دار السلطنت مالے ہے۔ مالے سے کچھ فاصلہ پر ایک چھوٹا اور لمبا جزیرہ ہے۔ اس جزیرہ پر ہوائی اڈہ بنا ہوا ہے۔ اس جزیرہ کا رقبہ بس اتنا ہی ہے کہ وہ ایک اوسط درجہ کے ہوائی اڈہ کے طور پر استعمال ہو سکے۔

اس کا طرز تعمیر عام ہوائی اڈوں سے مختلف ہے۔ وہ جس طرح فطری ماحول میں ہے، اسی طرح وہ فطری انداز میں بنایا گیا ہے اور نہایت خوبصورت ہے۔

ہوائی اڈہ اور مالے کے درمیان سمندر حائل ہے۔ یہ فاصلہ جدید طرز کی موٹر بوٹ کے ذریعہ یہ سفر اس درجہ پرکشش تھا کہ میرے ساتھ بیٹھے ہوئے ایک عرب شیخ بار بار ”جمیل، جمیل“ کہے جا رہے تھے۔ ہمارے پیچھے ہوائی اڈہ پر جہاز رن وے پر دوڑ رہا تھا، اور ہمارے سامنے مشینی کشتی سمندر کی موجوں کو پھاڑتی ہوئی آگے چلی جارہی تھی۔ چاروں طرف آفاقی مناظر اور حسین فطرت آدمی کو مبہوت کر رہے تھے۔ اس تجربہ کے زیر اثر میں ہوٹل کے کمرہ میں داخل ہوا تو وہاں دیوار پر ایک خوبصورت تصویر تھی جس میں سمندر کے پس منظر میں جزیرہ کو دکھایا گیا تھا۔ تصویر کے نیچے انگریزی میں یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے :

Printed page