Al-Risala · March 1988

A taste of paradise

Al-Risala, March 1988, pp. 25–29

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے سوچا کہ جس جنت کی دور کی ایک جھلک اتنی حسین ہو، وہ جنت خود کتنی زیادہ حسین ہوگی۔ یہ دعا نکلی کہ خدایا، میرے پاس کوئی عمل نہیں جس سے میں جنت جیسی قیمتی چیز کا امیدوار بن سکوں دوسرے لوگوں کو آپ جنت بطور جزا دیں گے، مجھ کو جنت بطور عطیہ دے دیجئے۔

موٹر بوٹ سے اتر کر سڑک پر آئے تو وہاں سب سے پہلے جو چیز نظر کے سامنے تھی وہ ایک بڑا سا بینر تھا جس پر لکھا ہوا تھا: مرحبا بالعلماء المسلمين على ارض الاسلام (اسلام کی سرزمین پر مسلم علماء کا آنا مبارک) یہ گویا پہلی تحریری علامت تھی کہ اب ہم اس منزل پر پہنچ گئے ہیں جہاں مذکورہ انٹرنیشنل اسلامک کانفرنس کا انعقاد ہونے والا ہے۔

پروفیسر ٹی ڈبلیو آرنلڈ نے اپنی کتاب پریچنگ آف اسلام میں مالدیپ کے تذکرہ کے ذیل میں لکھا ہے کہ گمان غالب ہے کہ مالا بار کے راستہ سے اسلام مالدیپ میں پہنچا۔ اس جزیرے کے باشندے عرب اور ایرانی تاجروں کے ذریعے مسلمان ہوئے۔ یہ تاجر ان علاقوں میں آباد ہوتے۔ انھوں نے مقامی عورتوں سے شادیاں کیں اور اس طرح انھوں نے یہاں موثر تبلیغ کا راستہ ہموار کیا۔ اندازہ ہے کہ مالدیپ میں پہلا اسلام قبول کرنے والا شخص سلطان احمد شنورازہ تھا جو ۱۲۰۰ء کے قریب مسلمان ہوا۔ (صفحه ۳۷۲) کچھ مورخین کا خیال ہے کہ لگ بھگ ۵۰۰ء میں سیلون سے کچھ بدھسٹ یہاں آکر آباد

۱۲ ویں صدی عیسوی میں ان لوگوں ۔ اجتماعی طور پر اسلام قبول کر لیا ۔ جناب ابراہیم شہاب (اسپیکر ) نے مالد یپ میں اسلام کے آغاز کی تاریخ کسی قدر مختلف انداز میں بتائی ۔ انھوں نے کہا کہ پہلے یہاں ایک راجہ شری بھونا دیت تھے ۔ ان کے زمانہ میں مغرب (افریقہ) سے ایک " ولی " ابو البرکات یوسف البربری یہاں آئے۔ ۵۴۸ھ میں ان کے ہاتھ پر راجہ مسلمان ہو گیا۔ اور اپنا نام محمد بن عبد اللہ رکھا۔ اس کے بعد تھوڑی مدت میں مالدیپ کے تمام باشندے مسلمان ہو گئے ۔

جناب ابراہیم شہاب نے ایک اور عجیب بات یہ بتائی کہ سابق سلطان کا خاندان ان مالدیپ میں نئے حالات سے مکمل موافقت کر کے رہتا ہے۔ دوسرے باشندوں کی طرح اس کے افراد یا سس میں ہیں یا تجارت میں۔ کسی شاہی خاندان کے لئے بدلے ہوئے حالات سے مطابقت کی یہ انو کھی مثال ہے جو غالباً یہاں کے سادہ فطری مزاج کی دین ہے۔

مالدیپ جیسے چھوٹے ممالک قدیم زمانہ میں ہمیشہ خطرہ کی حالت میں رہتے تھے۔ کسی بھی صبح وشام کوئی بڑی طاقت اگر ان پر قبضہ کر سکتی تھی۔ مثلاً پر تگالی 1558 میں آکر مالدیپ پر قابض ہو گئے۔ ان کا قبضہ ۱۵۷۳ تک جاری رہا۔ سترہویں صدی عیسوی میں وہ ڈچ حکمرانوں کے ماتحت رہا۔ ۱۸۸۷ سے وہ برطانیہ کے قبضہ میں چلا گیا ۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد نو آبادیاتی نظام کمزور رو ہوا تو ۱۹۶۵ میں اس کو برطانیہ سے آزادی حاصل ہو گئی ۔ ۱۹۶۸ سے مالدیپ میں مکمل جمہور یہ قائم ہے۔ موجودہ دور میں پہلی بار یہ ممکن ہوا ہے کہ چھوٹی قومیں بھی اپنی آزاد حکومت قائم کر سکیں ۔ مالدیپ ۱۹۶۵ اسے اقوام متحدہ کا ممبر ہے۔ ۸۵ فی صد لوگ تعلیم یافتہ ہیں ۔

مساوات اور قومی سالمیت اور انسانی آزادی کے احترام کا دور جو موجودہ زمانہ میں پیدا ہوا ہے اس کو عام طور پر لوگ اس جدید مغربی انقلاب سے منسوب کرتے ہیں جس کی ایک علامت اقوام متحدہ مگر خود جدید انقلاب اور اقوام متحدہ اس اسلامی انقلاب کی پیداوار ہیں جو چودہ سو سال پہلے پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب نے عالمی سطح پر پیدا کیا تھا ۔

۱۶ ویں صدی کے پرتگالی سیاح بار بوسا (Duarte Barbosa) نے جنوبی ہند کا سفر کیا تھا ۔ وہ ۱۵۰۴ اور ۱۵۱۱ کے درمیان دہیپا گرم آیا تھا۔ اس نے لکھا ہے کہ اس زمانہ نہیں

مالدیپ میں جہاز سازی کی صنعت قائم تھی۔ اور جنوبی ہند کے لوگ اپنی ضرورت کے جہاز مالدیپ میں بنوایا کرتے تھے۔ وجیا گرام کے راجہ کے جہاز بھی مالدیپ سے بن کر آتے تھے۔ جواہر لال نہرو نے اپنی کتاب ' ڈسکوری آف انڈیا میں لکھا ہے کہ سلطان ٹیپو کا باپ حیدر علی ( ۱۷۸۲- ۱۷۲۲) نہایت عزم اور حوصلہ والا آدمی تھا۔ وہ ہندوستان کی تاریخ میں ممتاز شخصیت کا مالک تھا۔ وہ پورے ملک کا لیڈر بننے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ حیدر علی نے دوسروں سے بہت پہلے سمندری طاقت کا اندازہ کر لیا تھا اور یہ سمجھ گیا تھا کہ انگریزوں کی کامیابی کا اصل راز بحری طاقت میں ان کی برتری ہے۔ اس نے خود اپنا ایک بحری بیڑہ بنانا چاہا اور مالدیپ پر قبضہ کر کے اس کو جہاز سازی اور بحری سرگرمیوں کا مرکز بنانے کی کوشش کی: He started building his own navy and, capturing the Maldive Islands, made them his head quarters for ship building and naval activities (p. 275). مالدیپ کے ساحل پر جب میں نے یورپ کی بنی ہوئی مشینی کشتیوں کی قطاریں دیکھیں تو میں نے کہا: روایتی جہاز سازی کے دور میں مالدیپ جہاز کا " تاج " تھا، مگر سائنسی جہاز سازی کے دور میں مالدیپ صرف " خریدار " بن کر رہ گیا۔ یہی موجودہ زمانہ میں تمام دنیا کے مسلمانوں کا حال ہے۔ مسلمان دورِ قدیم میں سب سے آگے تھے ، مگر دورِ جدید میں وہ سب سے پیچھے ہو گئے ۔ یہاں میرا قیام سن ڈھیرا اپلیس ہوٹل کے کمرہ نمبر ۱۰۸ میں تھا۔ یہ عین سمندر کے کنارے ایک طرف ہوٹل کی عمارتوں کی صورت میں انسانی مصنوعات کا منظر ہے اور دوسری طرف سمندر کی لہروں اور پھیلے ہوئے آسمان کی صورت میں خدائی مصنوعات کا ۔ ہوٹل اور سمندر کے درمیان صرف ایک سڑک حائل ہے۔ سمندر کا یہ منظر میرے لئے ہمیشہ وسخر لكم ما في السموات والارض کی تصویر ہوتا ہے۔ ان چھوٹے چھوٹے جزیروں کے مقابلہ میں سمندر ہیبت ناک حد تک بڑا ہے۔ مگر اس کی موجیں ساحل کو چھو کر اس طرح واپس چلی جاتی ہیں جیسے کہ ان کو ایک برتر حکم کے تحت پابند کر دیا گیا ہو کہ تمہاری حد یہاں ختم ہوگئی ، اس سے آگے تجاوز کرنے کی تمہیں

زندہ چیزوں میں ہاتھي اور غیر زندہمیں سمندر کا انسان کے لئے مسخر ہونا انتہائی عجیب ہے۔

اگر چہ سَخَّرَ لكم ما فی السموات والارض کے دوسرے بے شمار پہلو ہیں جو اس سے بھی زیاوہ مگر ان کو جاننے کے لئے سائنسی معلومات کی ضرورت ہے لیکن ہاتھی اور سمندر کا مسخر ہونا ایسے کھلے ہوئے واقعات ہیں جن کو ایک عام آدمی بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے ۔ اور ان سے اپنے لئے سبق حاصل کر سکتا ہے۔

مالدیپ کو" سیاحوں کی جنت "کرا جاتا ہے۔ یہاں کثرت سے مغربی ملکوں کے لوگ تفریح اور سیاحت کے لئے آتے ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگوں سے یہاں میری گفت گو ہوئی۔ میرا عام تاثر یہ ہے کہ ممسلمانوں میں اور مغربی اقوام میں ایک خاص فرق پایا جاتا ہے۔ اگر آپ ایک سلمان سے کسی موضوع پر گفتگو کریں قو اس کے لئے انتہائی مشکل ہوگا کہ وہ اپنے ذاتی خیالات سے الگ ہوکر آپ کی بات وہ آپ کی بات کو اس طرح سنتا ہے جیسے کہ کب آپ کی بات ختم ہو اور وہ دوبارہ اپنے دماغ کا ٹیپ کھول دے۔

میں نے اپنے تجربہ میں بار بار یہ محسوس کیا ہے کہ اس معاملہ میں مغربی انسان کا حال بالکل مختلف ذاتی طور پر وہ خواہ کوئی بھی خیال رکھتا ہو ، مگر جب آپ اس سے ایک بات کہیں تو وہ اپنے خیالات سے جدا ہو کہ آپ کی بات کو سنے گا۔ ایسا معلوم ہوگا جیسے کہ تھوڑی دیر کے لئے وہ خالی الذہن ہوگیا ہے اور ہر دوسری چیز سے بالکل بے تعلق ہو کر آپ کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ بے حد اہم حقیقت یہ ہے کہ یہ سب سے بڑا سبب ہے جس نے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو جمود کی حالت میں مبتلا کر دیا ہے ، اور مغربی تو میں مسلسل ترقی کی طرف اپنا سفر جاری کئے ہوئے ہیں۔ یہاں ایک پاکستانی افسر سے ملاقات ہوئی۔ وہ دہلی میں پیدا ہوئے تھے اور اگست ۱۹۴۷ء میں پاکستان منتقل ہو گئے۔ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ میراڈس ایڈوانٹیج یہ ہے کہ میں ایک " اردو اسپیکنگ مہاجر ہوں ، اس لئے بڑی ترقیوں کے دروازے میرے لئے بند ہیں۔ کہا کہ ہمارا اگر دہ اقلیت میں ہونے کی وجہ سے پاکستان میں بے حیثیت ہورہا ہے۔ ان کے الفاظ میں " ان مہاجرین کے اندر Nuisance value تو ہے ، مگر ان کے اندر Democratic value نہیں اس لئے وہ شور وغل تو کر سکتے ہیں ، مگر وہ ملک کے ڈھانچہ میں کوئی موثر تبدیلی لانے کی طاقت نہیں رکھتے ________ جو لوگ " ہند و اکثریت" سے خائف ہو کر پاکستان چلے گئے تھے ، وہ دوبارہ

خود مسلم اکثریت “ کا شکار ہو کر رہ گئے ۔

یہ بات جو مذکورہ پاکستانی نے اپنے ملک کے بارہ میں کہی ، یہی ہندوستان کے مسلمانوں کے بارہ میں بھی درست ہے۔ یہاں کے مسلمان جلسے جلوس ، تقریروں اور بیانوں کے ہنگامے تو دکھارہے ہیں مگر وہ ملکی نظام پر اثر انداز نہیں ہو پاتے۔ اور اسی کی مشترک وجہ یہ ہے کہ وہ اقلیت میں ہیں اور اس کے ساتھ غیر منظم بھی۔ ان کے موجودہ طریق کار کا یہ نتیجہ ہے کہ وہ صرف غوغائی گروہ کا لقب حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کو اس Clamorous group کے بجائے “ تخلیقی گروہ “ بننا چاہئے۔ انہیں احتجاج اور مطالبہ کے بجائے اپنی افادیت ثابت کر کے اس ملک میں اپنا مقام حاصل کرنا چاہئے۔

ایک اور پاکستانی مسلمان نے بتایا کہ ۱۹۸۶ میں کراچی میں شیعہ سنی فساد کا سبب جلوس شیعہ حضرات نے ایک ایسے راستے سے اپنا جلوس نکالا جس پر سنی حضرات کو اعتراض تھا۔ نے روٹ بدلنے پر اصرار کیا۔ تاہم روٹ میں تبدیلی نہ ہوسکی اور فساد ہو گیا۔ ہندوستان میں بھی بار بار دہرائی جارہی ہے۔ جلوس کے روٹ پر اعتراض کا سبب غالباً مسلمانوں کا بڑھا ہوا جذ بہ فخر ہے۔ جلوس کو مسلمان شان و شوکت کا مظاہرہ سمجھتے ہیں ، اس لئے غیر قوم کے جلوس کا اپنے علاقہ سے گزرنا انہیں گوارا نہیں ہوتا۔ مسلمانوں سے اگر جھوٹے فخر کی یہ نفسیات ختم ہو جائے تو جلوس جیسی چیزوں پر فساد بر پا ہونے کا سلسلہ بھی یقیناً ختم ہو جائے گا۔ ڈاکٹر شیر چو دھری جنوبی افریقہ سے آئے تھے ۔ وہ اصلاً پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں۔ افریقہ میں وہاں کے شہری کی حیثیت سے رہ رہے ہیں۔ انھوں نے ایک گفتگو کے دوران بہت دل چسپ بات کہی۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کی اصلاح کیسے ہو۔ کوئی شخص جب مسلمانوں کی اصلاح کے لئے نکلتا ہے ، تو خواہ وہ جدھر بھی نکلے ، فوراً راستہ میں ایک مردہ آکر کھڑا ہو جاتا ہے اور اس کا سفر وہیں رک جاتا ہے (مردہ کھڑا ہونے سے ان کی مراد کیا تھی، اس کی تشریح ناظرین خود کر سکتے ہیں)

مذکورہ اسلامی کانفرنس کا ایجنڈا ( جدول الاعمال ) حسب ذیل تھا:

Printed page