He used to criticise the government openly
Al-Risala, March 1988, pp. 35–41
By Maulana Wahiduddin Khan
چنانچہ حکومت ان کی مخالف ہوگئی۔ آخر عبد الرشید صاحب پاکستان چلے گئے اور وہیں ۱۹۷۸ میں ان کا انتقال ہو گیا۔
انھوں نے مزید بتایا کہ عبد الرشید صاحب نے اپنی وزارت کے زمانہ میں علماء کی ایک کمیٹی بنائی تھی۔ اس کمیٹی نے قرآن کا ترجمہ برمی زبان میں کیا۔ تاہم اس کے چھپنے سے پہلے عبد الرشید صاحب کی حکومت ختم ہو گئی ۔ بعد کو قرآن کا یہ ترجمہ خود موجودہ حکومت کے تعاون سے موجودہ حکومت مسلم تنظیموں کو 65000چاٹ (برمی سکہ) سالانہ امداد دیتی ہے۔ سے مذکورہ ترجمہ قرآن شائع کیا گیا ہے۔
میں نے کہا کہ عبد الرشید صاحب نے ختم حکومت کے بعد جو راستہ اختیار کیا، وہ یہ تھا کہ نئی حکومت کے مخالف بن کر کھڑے ہوں اور بالآخر پاکستان جاکر خاموشی کے ساتھ فوت ہو جائیں اس
کے بجائے اگر انھوں نے بدلے ہوئے حالات سے مطابقت کی روش اختیار کی ہوتی تو عین ممکن تھا کہ ان کو نئے حالات بیں دو بارہ مواقع کار مل جائیں جس طرح ان کے ترجمہ قرآن کے کام کو نئی حکومت کے زمانہ میں مواقع ملے۔ مذکورہ برمی مسلمان میری یہ بات سن کر خاموش ہو گئے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ طرز فکر ان کے لئے بالکل نیا ہے۔
ایک صاحب جنوبی انہر پتہ سے آئے تھے۔ میں نے دیکھا کہ وہ اچھی انگریزی بولتے ہیں اور کافی معلومات رکھتے ہیں۔ میرے پاس گاڈارائٹرز (God Arises) کا ایک نسخہ تھا۔ میں نے واپسی کی شرط پر ان کو یہ کتاب دیکھنے کے لئے دی۔ اگلے دن انھوں نے بتایا کہ میں کتاب میں چوری کرنے کا قائل نہیں ہوں۔ مگر آپ کی اس کتاب کو دیکھنے کے بعد اس کے بارہ میں میری نیت خراب ہوگئی ہے۔ میں اس کو واپس کرنا نہیں چاہتا۔ انھوں نے کہا کہ اس کی انگریزی اتنی اچھی ہے کہ میں نے بے شمار کتا میں پڑھی ہیں مگر اب تک کسی دینی شخصیت کی کتاب میں مجھے ایسی انگریزی زبان نہیں ملی۔ مجھے حیرت ہے کہ آپ نے کیوں کر ایسی کتاب تیار کی۔ میں نے وہ کتاب ان کے حوالے کر دی۔ سے اندازہ ہوا کہ وہ علمی ذوق رکھتے ہیں اور کثرت سے مطالعہ کرتے رہتے ہیں۔ چنانچہ میں نے ایک اور کتاب انھیں دیدی جو پرافٹ آف ریولیوشن" کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ ”بغیر دیکھے میں جانتا ہوں آپ کو آپ کی کتابوں سے یہ کہتے ہوئے ایک صاحب مجھ سے ان کے صاف اردو لہجہ پر مجھے تعجب ہوا۔ یہ جناب ابراہیم شہاب تھے جو مالدیپ کی اسمبلی میں انھوں نے بتایا کہ انھوں نے جامعہ ملیہ دہلی میں اس وقت تعلیم حاصل کی ہے جب کہ جامعہ قرول باغ میں تھی، پھر انھیں کے زمانے میں وہ اوکھلا منتقل ہوگئی۔
ملاقاتوں کے دوران معلوم ہوا کہ یہاں بہت سے مرد اور عورتیں ہیں جو الرسالہ سے واقف ہیں یا اسلامی مرکز کی اردو یا عربی یا انگریزی کتابیں پڑھی ہیں۔ ایک خاتون جو ایک مقامی اخبار سے منسلک ہیں، انھوں نے بتایا کہ ہم نے الرسالہ کے کئی مضامین دو ہی زبان میں ترجمہ کر کے مقامی اخبار میں شائع کئے ہیں۔ (مالدیپ کی مقامی زبان کا نام دو یہی ہے)
جناب عبد اللطیف صاحب کا تعلق ایجوکیشن منسٹری سے ہے۔ انھوں نے بتایا کہ مالدیپ میں بہت سے لوگ ہیں جنھوں نے آپ کی کتابیں (عربی یا انگریزی) پڑھی ہیں۔ ہم لوگ دینی علمی موضوعات
میں آپ ہی کے افکار کا حوالہ دیتے ہیں، کیوں کہ وہ سائنٹفک انداز میں ہوتے ہیں۔ ان کو میں نے الرساله انگریزی (نومبر، دسمبر ۱۹۸۶ء) ایک ایک عدد دیا۔ جناب عبد الحمید عبد الوہاب (ہائی کورٹ) کا خط مجھے دہلی میں ملا تھا، انھوں نے دو کتابوں کی فرمائش کی تھی۔ یہ کتابیں میں اپنے ساتھ لایا تھا اور یہاں ان کے حوالہ کر دیا۔ یہ کتابیں تھیں: قانونِ اسلام اور گارڈ اسائمنز۔ ایک صاحب کناڈاسے آئے تھے۔ وہ کناڈا ہی میں پیدا ہوئے، ان کی مادری زبان انگلش انھوں نے اعلیٰ مرحلہ تک کناڈا ہی میں تعلیم حاصل کی ہے۔ ان کو میں نے انگریزی الرساله دیکھنے کے لئے دیا۔ انھوں نے اسی دن سب پڑھ ڈالا۔ انھوں نے خاص طور پر "چھوٹے چھوٹے بامعنی مضامین" کو پسند کیا۔ میں نے الرسالہ کی زبان کے بارے میں ان کی رائے پوچھی۔ انھوں نے کہا: The articles were not written as translations from Urdu or Arabic into English, but as from English to English. Haroon Salamat, P.O. Box 66 Station U, Toronto, ONT, Canada M8Z ITO ۱۹۸۶ء کی شام کا کھانا ایک اور جزیرہ پر رکھا گیا تھا۔ اس کو یہاں کی زبان میں کو رمبا گاؤں (Kurumba village) کہا جاتا ہے۔ کانفرنس کے تمام شرکاء بڑی موٹر بوٹ کے ذریعہ مالے سے کور مبالے جائے گئے ۔ اس جزیرہ پر سیاحوں کے لئے بہت بڑا ہوٹل بنایا گیا ہے۔ اسی ہوٹل میں کھانے کا انتظام کیا گیا تھا۔
جزیرہ مالے سے جزیرہ کورمبا تک ۲۰ منٹ کا راستہ ہے۔ اس وقت سمندر میں کسی قدر تموج تھا، اس لئے موٹر بوٹ معمول سے زیادہ ہلنے لگی۔ اس قسم کا تموج مہلک نہیں، تاہم وہ انسان کے عجز کے مقابلہ میں سمندر کی طاقت کا تجربہ کرا تا ہے۔ میں نے کہا کہ خدایا ، جس طرح آپ اتھاہ سمندر میں غرقابی سے بچاتے ہوئے میرا سفر طے کرا رہے ہیں ، اسی طرح معاندین کی سازشوں سے محفوظ رکھ کر اس مشن کو جاری رکھے جس کے لئے اٹھنے کی آپ نے اس عاجز اور حقیر بندے کو توفیق عطا فرمائی ہے۔ ایک روز کھانے کی میز پر میرے سامنے نئے حلیہ کے ایک آدمی تھے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ ان کا نام شوگو کٹا کور ہے۔ مالدیپ میں آجکل جاپان کی امداد کے تحت ٹیلیفون لگائے جا رہے ہیں، اس میں وہ بطور کنسلٹنٹ یہاں آئے ہیں۔ وہ ٹوکیو کے مضافات میں ۱۹۷۳ء کو
پیدا ہوتے ۔ وہ دوسری جنگِ عظیم کے وقت مڈل اسکول کے طالبِ علم تھے۔
ان سے انگریزی میں گفتگو ہوئی ۔ میں نے کہا کہ جاپانیوں کے بارہ میں مجھے سب سے زیادہ عجیب چیز ان کی تبدیلی کی صلاحیت معلوم ہوتی ہے۔ یہی ان کی ترقی کا راز ہے۔ دوسری جنگِ عظیم تک وہ بالکل جنگ جو قوم تھے۔ دوسری جنگِ م کے خاتمہ پر اچانک وہ پر امن قوم بن کر تسلیم اور سائنس کے میدان میں سرگرم ہو گئے ۔ جاپانیوں میں اس صلاحیت کا سرچشمہ کیا ہے۔ انھوں نے اس کا سبب جاپانی جغرافیہ کو قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ جاپان میں سال میں چار موسم ہوتے ہمیں۔ اس کی وجہ سے ہیں بار بار اپنے آپ کو بدلنا پڑتا ہے۔ جاپان میں کثرت سے زلزلے اور طوفان آتے ہیں اس لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم ہر وقت نئی صورت سے مطابقت کرنے کے لئے تیار اسی کا یہ نتیجہ بھی ہے کہ جاپانی لوگ نئی باتوں کو جاننے کے لئے بے حد تجسس رہتے ہیں : Japanese are very curious to know new things, new ideas جاپانی قوم کی اسی صلاحیت کا نتیجہ تھا کہ جنگِ عظیم کی بر بادی کے بعد ان کے اندر شدت سے نئی سوچ انھوں نے سابقہ روش کو ترک کر کے نئے حالات کے مطابق دوسری روش اختیار کر لی ۔ میں سوچا کہ یہ فرق بھی کتنا عجیب ہے۔ ایک قوم کے لئے اس کے " زلزلے " ترقی کا زینہ بن جاتے ہیں ، اور دوسری قوم کے " زلزلے " اس کو صرف فریاد و ماتم کی غذا دے رہے ہیں۔ مسٹر شُو گو کٹا کور اسے دوسری بار ۔ ۱۰ دسمبر کو ملاقات ہوئی تو میں نے خدا اور مذہب کے موضوع پر تفصیلی گفتگو کی۔ انھوں نے اپنا کارڈ دیا جس میں ان کا حسب ذیل پتہ لکھا ہوا تھا : Shogo Katakura, 33, Udagawa-Cho, Shibuya-Ku Tokyo 150, Japan. Phone 81-3-4622221 وہ پیدائشی طور پر بدھسٹ ہیں۔ مگر خدا اور مذہب کے بارہ میں زیادہ یقین نہیں رکھتے۔ بعدِ موت کے بارہ میں مشتبہ ہیں۔ میں نے کہا کہ ایک برطانوی مصنف نے لکھا ہے کہ جاپان کی جدید نسل کے اندر میٹریلزم سے بے اعتمادی پیدا ہورہی ہے ، وہ کہہ رہے ہیں ہمارا کلچر تو صرف مرچنٹ کلچر ہے ، زندگی کے لئے صرف اتنا ہی کافی نہیں۔
انھوں نے کہا کہ یہ صحیح ہے۔ انھوں نے بتایا کہ دوسری جنگ کے بعد جاپان میں زندگی بہت
مشکل ہوگئی تھی۔ کھانا اور کپڑا جیسا ضروری سامان بھی بہت کم ملتا تھا۔ چنانچہ جاپانیوں میں شدت سے کمانے کا جذبہ پیدا ہوا۔ اب موجودہ جاپانی کا پاس سب کچھ بافراط موجود ہے تو اس کو احساس ہورہا ہے کہ صرف مادی ساز و سامان کافی نہیں۔ چنانچہ جاپان میں ایسے افراد کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے جو سب کچھ ہوتے ہوئے بھی سادہ زندگی گزارتے ہیں۔ اور مادیت سے آگے کسی اور چیز کی تلاش کر رہے ہیں۔
جاپان کے لوگوں کو اسلام سے متعارف کیا جائے تو وہاں بہت تیزی سے اسلام پھیل مگر یہ کام صرف جاپانی زبان میں ممکن ہے کیوں کہ جاپان میں ایسے لوگ بہت کم ہیں جو جاپانی کے سوا کوئی اور زبان بخوبی جانتے ہوں۔
ایک صاحب سے گفتگو کے دوران یہ مسئلہ زیر بحث آیا کہ موجودہ زمانہ میں جو مسلم رہنما اٹھے، ان کے ساتھ اتنے زیادہ لوگ جمع ہوگئے جو کبھی کسی پیغمبر کے ساتھ بھی جمع نہیں ہوئے تھے، حتیٰ کہ پیغمبر اسلام کے ساتھ بھی نہیں۔ اس کا سبب کیا ہے۔
میں نے کہا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ پیغمبر کی دعوت ہمیشہ داخل رخی ہوتی ہے اور موجودہ زمانہ کے رہنماؤں کی دعوت خارج رخی تھی۔ یہی وہ فرق ہے جس نے دونوں کے پیروؤں کی تعداد میں اتنا زیادہ فرق پیدا کر دیا۔ اگر آپ ایسی تحریک اٹھائیں جس کی زد آدمی کی اپنی ذات پر پڑتی ہو، جو خود اپنے اندر تبدیلی کا تقاضا کرتی ہو تو آپ کو بہت کم ساتھ دینے والے ملیں گے، کیوں کہ احتساب خویش انسان کے لئے سب سے زیادہ مشکل چیز ہے۔ اس کے برعکس اگر آپ ایسی تحریک اٹھائیں جس کی زد دوسروں کے اوپر پڑتی ہو، جس میں دوسروں کے خلاف جھنڈا اٹھانے کا موقع ملتا ہو تو آپ کے ساتھ بھیڑ کی بھیڑ جمع ہو جائے گی۔ کیوں کہ احتساب غیر انسان کی محبوب ترین چیز ہے۔ ڈاکٹر حسن القوتلی (پیدائش ۱۹۳۱) لبنان سے آئے تھے۔ کھانے کی میز پر ایک بار ان کے ساتھ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ ہمارے ساتھیوں کے درمیان ایک مسئلہ پر کئی دن تک بحث وہ مسئلہ یہ تھا کہ قرآن خدا کا مکمل کلام ہے یا جزئی کلام ۔ اس سوال کی بنیا د یہ تھی کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اگر تمام سمندر سیاہی بنا دئے جائیں اور خدا کے کلمات لکھے جائیں تو سمندر ختم ہو جائیں گے، مگر خدا کے کلمات ختم نہ ہوں گے ( الکہف ۱۰۹ ) گویا خدا کے کلمات غیر محدود ہیں جبکہ
قرآن محدود کتاب ہے۔ اسی طرح قرآن میں ہے کہ ادعو نی استجب لكم (البقره ۱۸۶) اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا کا کلام جاری ہے ، وہ ختم نہیں ہوا۔
میں نے پوچھا کہ پہر آپ لوگوں نے کس رائے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس پر اتفاق کیا کہ : إن كلام الله في القرآن هو كلام الله بالمجمل، أما كلامه بالتفصيل فهو موجود في الكون (قرآن میں اللہ کا کلام مجمل ہے ، اس کا تفصیلی کلام کائنات میں موجود
اسی نشست میں ان سے لبنان کے حالات پر گفتگو ہوئی تو وہ فوراً لبنانی عیسائیوں کی شکایت کرنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ عیسائی ہم پر مسلسل ظلم کر رہے ہیں۔ وہ مسلمانوں کو ھر قسم کا نقصان پہنچا رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ قرآن کے بارہ میں ایک غیر متعلق بحث میں آپ اور آپ کے ساتھیوں نے کئی دن صرف کر دئے ۔ مگر عیسائی مسئلہ کا جواب آپ نے قرآن میں تلاش نہیں کیا۔ وہ براہ راست آپ سے تعلق رکھتا ہے۔ پھر میں نے آیات اور احادیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا دار الامتحان ہے، یہاں ہر آدمی کو آزادی حاصل ہے۔ اس بنا پر یہاں ہر ایک اپنے امکان کے بقدر استغلال میں لگار ہتا ہے۔ لبنان کے عیسائی علم اور ثقافت کے میدان میں مسلمانوں سے آگے بڑھے ہوئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ مسلمانوں کا استغلال کر رہے ہیں۔ کا حل شکایت اور فریاد نہیں۔ اس کا حل صرف یہ ہے کہ مسلمانوں کو ترقی کے راستوں میں آگے بڑھایا جائے ۔ اس کے بعد یہ مسئلہ اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔
۱۰ دسمبر کی شام کو مالدیپ کے صدر مامون عبد القيوم سے اجتماعی ملاقات ہوئی۔ اور انگریزی دونوں زبانیں روانی کے ساتھ بولتے ہیں۔ وہ مطالعہ کا ذوق رکھتے ہیں اور انھوں نے میری عربی کتابیں قاہرہ میں تعلیم کے زمانہ میں پڑھی ہیں۔ مالدیپ کے وزیروں اور اعلیٰ عہدیداروں میں اکثر لوگ انگریزی کے ساتھ عربی زبان بھی بخوبی جانتے ہیں۔ ایک صاحب نے کہا : ”مالدیپ موجودہ زمانہ میں واحد مسلم ملک ہے جہاں مولویوں کی میں نے کہا کہ آپ کی بات صرف جزئی طور پر صحیح ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کا ہر مسلم حکمراں خواہ وہ بظاہر بے ریش ہو، اندر سے وہ ”مولوی “ ہی تھا۔ مگر مسلم قائدین
کی جھوٹی مخالفانہ سیاست نے ہر مولوی حکمراں بنا دیا۔
استاذ محمود احمد گفتار (۲۰ سال) دمشق سے آئے تھے۔ وہ وہاں مفید دینی کام کر رہے دوسرے بہت سے مسلم نوجوانوں کی طرح ان کا انجام بھی یہ ہو سکتا تھا کہ جہاد کے نام پرحکمرانوں سے بے معنی جنگ کریں اور پھر ناکام ہو کر دنیا کو یہ خبر دیں کہ یہ حکمراں اسلام اور اسلامی تحریکوں کے دشمن ہیں۔ ان کی خوش قسمتی تھی کہ ان کو ایسا باپ ملا جو واقعی معنوں میں حکیم تھا۔ اس نے ان کو صحیح ترین مشورہ دیا۔ اور سعادت مند بیٹے نے اس مشورہ کو قبول کر لیا۔
دكتور الشیخ احمد گفتار (المفتی العام للسورية، رئيس المجلس الافتاء الاعلى) نے اپنے لائق بیٹے کو بتایا کہ کوئی حقیقی کام کرنے کے لئے لازمی طور پر حکمت درکار ہوتی حکمت کے بغیر نہ دین کا کوئی کام کیا جا سکتا اور نہ دنیا کا۔ حکمت کیا ہے، حکمت یہ ہے کہ مطلوب کام مطلوب وقت پر اور مطلوب شکل میں کیا جائے ( الحكمة : فعل ما ينبغى ، فى الوقت الذي ينبغي ، وعلى الشكل الذي ينبغي )
شیخ گفتار کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں ہمارے لئے لازم ہے کہ ہمارا بنیادی کام دعوت کے میدان میں ہو۔ ہم سیاسی لوگوں سے جھگڑا نہ کریں تاکہ دعوت اسلامی کے مواقع ضائع نہ ہو جائیں ( يجب ان يكون عملنا الاساسي في ميدان الدعوة ولا نتناحر مع السياسيين حتى لا تضيع على الدعوة الاسلامية الفرض )
شیخ گفتار کے صاحبزادہ محمود احمد گفتار کی زبان سے میں نے یہ باتیں سنیں تو میں نے کہا کہ بلاشبہ یہی حکیمانہ طریقہ ہے اور اسی کا نام اسلام ہے۔ اس کے سوا جو کچھ آج اسلام کے نام پر کیا جا رہا ہے وہ محض بے معنی لیڈری ہے جس کی کوئی قیمت نہ دین کے اعتبار سے ہے اور نہ دنیا کے اعتبار سے۔
ایک صاحب نے اپنی پر جوش تقریر میں کہا کہ غیر مسلم تنظیموں اور غیر مسلم حکومتوں میں ایک اور دوسرے کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ سب کے سب اسلام کے دشمن ہیں۔