All are enemies of Islam
Al-Risala, March 1988, pp. 41–46
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے کہا کہ آپ کا فرمانا ہے کہ سب اسلام دشمن ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ سب اسلام دوست
آپ کی شکل یہ ہے کہ آپ معاملہ کو اس کے ظاہری پہلو (Face value) پر دیکھ رہے ہیں۔ اور میں معاملہ کو اس کی حقیقت کے اعتبار سے دیکھ رہا ہوں۔ یہ وہی فرق ہے جو خود پیغمبر کے زمانہ میں بھی موجود تھا۔ اس وقت عرب کے بیشتر لوگ پیغمبر کے سخت ترین مخالف بنے ہوئے تھے۔ معلوم ہوتا تھا کہ یہ سب کے سب اسلام کے دشمن ہیں۔ مگر بعد کو لوگوں نے دیکھا کہ حالات بدلے اور انہیں لوگوں نے اسلام کی صف میں شامل ہو کر اسلام کی تاریخ بنائی۔ یہ سب کچھ آج بھی ممکن ہے ، بشرطیکہ ہم پیغمبر اسلام والے طریقہ پر چلنے کے لئے تیار ہوں۔
ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بڑے جوش سے کہا: میں قرآن کو مانتا ہوں مگر میں حدیث کو نہیں مانتا۔ میں نے پوچھا کیوں۔ انہوں نے کہا کہ حدیث میں ایسی ایسی باتیں ہیں جو سمجھ میں نہیں آتیں۔ میں نے کہا کوئی مثال دیجئے۔ انہوں نے مثال میں وہ حدیث پیش کی جس میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو ہریرہ سے کہا کہ جاؤ لوگوں کو خوش خبری دے دو کہ جو شخص لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی دے وہ جنت میں جائے گا۔ حضرت عمر راستہ میں مل جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت ابو ہریرہ اس طرح کہہ رہے ہیں تو ان کو پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور کہا کہ ایسا مت کیجئے ، ورنہ لوگ اسی پر بھروسہ کر لیں گے ( اذ اُبیتکلوا ) آپ نے حضرت عمر کی رائے سے اتفاق کر لیا۔
میں نے کہا کہ یہ حدیث انتہائی با معنی ہے۔ اصل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات فرمائی تھی وہ باعتبار حقیقت تھی۔ مگر حضرت عمر کو اندیشہ ہوا کہ لوگ اس کو باعتبار الفاظ لے لیں گے اور محض تلفظ کلمہ کو جنت کا زینہ سمجھنے لگیں گے۔ حالانکہ اصل چیز حقیقت کلمہ ہے نہ کہ تلفظ کلمہ۔ یہ عین وہی بات ہے جو خود قرآن میں ساتویں پارہ کے شروع میں بیان ہوئی ہے۔
۱۰ دسمبر کو دن کا کھانا حکومت مالدیپ کی طرف سے جزیرہ بانڈوس (Bandos) پر تھا۔ دو موٹر بوٹ کے ذریعہ کانفرنس کے شرکاء جزیرہ پر پہنچائے گئے۔ یہ سفر دن میں ہوا۔ جسمانی سفر کے ساتھ روحانی سفر کی منازل بھی خدا کی توفیق سے طے ہوتی رہیں۔ مالدیپ کی اقتصادیات کا انحصار، مچھلی کے بعد ٹورسٹ انڈسٹری پر ہے۔ اس لئے یہاں کی ہر چیز سیاحت رخی انداز میں بنائی گئی ہے۔ بانڈوس جزیرہ پر بھی سیاحوں کے ذوق کے
مطابق ایک ہوٹل بنایا گیا ہے۔ اسی ہوٹل میں دوپہر کا کھانا کھایا گیا۔
کھانے سے فراغت کے بعد سمندر کے کنارے میں ایک ”چھتری“ کے نیچے بیٹھا ہوا تھا۔ ساحل تھا اور ساحل پر مغربی مرد اور عورتیں نیم برہنہ حالت میں تفریح میں مشغول تھے۔ میں نے سوچا کہ مغربی تقسیم کے مطابق سامانِ حیات کے تین درجے یپیں: ضرورت، راحت، تعیش۔ انقلاب نے مغربی انسان کو موقع دیا کہ وہ ایک کے بعد ایک ان تینوں مراحل سے گزر سکے۔ کے اعلیٰ مرحلہ پر پہنچنے کے بعد بھی اس کو تسکین نہیں ملی۔ چنانچہ اب مغربی انسان اباحیت کا تجربہ کر رہا - یہ اس کی زندگی کا آخری مرحلہ ہے، اس کے بعد کوئی اور مرحلہ نہیں۔ اس کے بعد جو مرحلہ ہے وہ صرف مایوسی کا مرحلہ ہے۔ مغربی زندگی میں اس مرحلہ کا آغاز ہو چکا ہے اور وہ دن بدن بڑھتا جا رہا اس طرح اب وہ آخری وقت آگیا ہے جب کہ انسان کو خدا کے سچے دین کا پیغام پہنچایا جائے اور وہ اس کو اپنے اندرونی اضطراب کا جواب پا کر اسے قبول کرلے۔
۱۱ دسمبر کو جمعہ کا دن تھا۔ جمعہ کی نماز اسلامک سنٹر کی مسجد میں ادا کی۔ یہ سنٹر غالباً مالدیپ کی سب سے زیادہ شاندار عمارت ہے۔ کم از کم صدر مالدیپ کی قیام گاہ سے یقینی طور پر زیادہ شاندار نماز سے فراغت کے بعد جب باہر آئے تو امام کے خطبہ کی فوٹو کاپیاں لوگوں کو تقسیم کی جا رہی امام اپنا خطبہ عربی اور مالد ہی میں پہلے سے لکھ لیتا ہے۔ اس کے بعد اس کی فوٹو کاپی تیار کرلی جاتی ہے اور اس کو نماز کے بعد تقسیم کیا جاتا ہے۔ ایسا ہر جمعہ کو کیا جاتا ہے۔ پہلے دن جب میں مالدیپ میں داخل ہوا تو یہاں کی دنیا مجھ کو بہت پرکشش معلوم ہوئی تھی۔ اتھاہ سمندر کے درمیان جگہ جگہ ابھری ہوئی خشکی اور اس کے اوپر ہرے بھرے درخت، سمندر میں ہر طرف دوڑتی ہوئی کشتیاں، چاروں طرف کھلی ہوئی فضا اور کھلا آسمان، اس طرح کے مختلف مناظر جو یہاں افراط کے ساتھ موجود ہیں وہ کچھ دیر کے لئے آدمی کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتے مگر چند ہی دن کے بعد وہ کیفیت پیدا ہونے لگتی ہے جس کو آجکل کی زبان میں بورڈم Boredom کہا جاتا ہے۔ چنانچہ ۱۲ دسمبر ۱۹۸۷ء کو جب میں مالدیپ سے روانہ ہوا تو تمام ابتدائی کشش ختم ہو چکی تھی۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے لامحدود دنیا چاہتا ہے، یہی وجہ ہے کہ موجودہ محدود دنیا اس کے لئے مستقل خوشی کا سبب نہیں بنتی۔ ابدی مسرت صرف ان انسانوں کے لئے
مقدر ہے جن کو اللہ اپنی رحمتِ خاص سے آخرت کی ابدی جنتوں میں داخل کر دے۔
اس سفر کا ایک عجیب واقعہ ہے جو واپسی میں تریو ندرم انٹرنیشنل ایرپورٹ پر گزرا۔ دہلی کا جہاز لینے کے لئے دوبارہ مجھے یہاں اترنا تھا۔ امیگریشن سے فارغ ہو کر اندر داخل ہوا تو کسٹم کا ونٹر ملنے تھا جہاں لوگوں کے کیبس اور بنڈل کھول کھول کر دیکھے جا رہے تھے۔ پاس کوئی کسٹم والی چیز نہیں تھی، میں نے چاہا کہ میں سیدھا گیٹ پر چلا جاؤں۔ مگر پولیس کے آدمیی نے مجھے روک دیا اور کہا کہ پیچھے جا کر لائن میں کھڑے ہو جائیے۔ یہ بڑا سخت مرحلہ تھا۔ کیوں کہ میں سب سے پیچھے تھا اور لمبی لائن میں مجھے گھنٹوں تک کھڑا رہ کر انتظار کرنا پڑتا۔ اتنے میں کسٹم کے ایک آدمی نے شاید میرا "مولویانہ" حلیہ دیکھ کر خود ہی مجھ کو بلایا اس نے پوچھا کہاں سے آرہے ہیں ۔ نے کہا کہ مالدیپ سے کس لئے گئے تھے۔ میں نے دوبارہ کہا اسلامی کانفرنس میں شرکت کے لئے ۔ اس نے چک کے بغیر کہا کہ جائیے۔
دوسرا شدید تر مرحلہ یہ تھا کہ میری دہلی کی فلائٹ اگلے دن تھی۔ چنانچہ مجھے تقریباً ۲۴ گھنٹے تریو ندرم میں رکنا تھا، راستہ میں میں نے بعض مسافروں سے پوچھا کہ کیا یہاں انڈین ایر لائنز کی طرف سے ٹرانزٹ مسنجر کو ٹھہرانے کا انتظام ہے۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ میں باہر نکل کر لاؤنج میں ایک، کرسی پر بیٹھ گیا اور سوچنے لگا کہ رات کے وقت اس نامعلوم جگہ پر کہاں جاؤں۔ اتنے میں ایک پتلون پوشش ادھیڑ عمر کے آدمی آئے ۔ میں نے ان سے کہ کہ میں ایک ٹرانزٹ مسنجر ہوں..... ابھی بات پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ انھوں نے کہا : اپنا بیگ اٹھا لیجئے اور میرے ساتھ آئے۔ مجھ کو ایرپورٹ کے ایک افسر کے پاس لے گئے اور اس کو میرا معاملہ بتایا :
K.V. Thimothy, Station Duty Officer Air Customs, International Airport, Trivandrum. مذکورہ افسر نے کہا کہ یہ میری ڈیوٹی تو نہیں ہے۔ مگر میں ہوٹل لوسیا کانٹی نینٹل (Luciya Continental) کو ٹیلی فون کر کے پتہ کرتا ہوں۔ چنانچہ انھوں نے فوراً ہی ہوٹل کے نمبر سے ٹیلی فون پر بات کی اور پھر مجھ سے کہا کہ آپ وہاں چلے جائیں۔ آپ کا کمرہ ، کھانا، ٹیکسی کا کرایہ سب انڈین ائیر لائنز کے ذمہ ہوگا۔ مزید انھوں نے پولیس کے ایک آدم کو میرے ساتھ کر دیا اور اس سے کہا کہ
ان کو لے جا کر ٹیکسی پر بٹھاؤ اور ٹیکسی کا نمبر نوٹ کرلو۔ اس میں اتنا اور اضافہ کر لیجیے کہ مذکورہ افسر نے نہ میرا پاسپورٹ مانگا اور نہ میرا ٹکٹ دیکھا۔ اس نے صرف میرے زبانی بیان پر اعتماد کرتے ہوئے یہ پوری کارروائی کی۔
میں نے سوچا کہ جس ملک میں اتنے شریف انسان بستے ہوں، وہاں چند استثنائی واقعات کو لے کر سارے ملک میں ہند ومسلم مسئلہ کھڑا کرنا کتنا بڑا جرم ہے۔ اور افسوس کہ اس ملک کی مسلم قیادت اسی مجرمانہ کام میں پچھلے پچاس برس سے مبتلا ہے۔ اس کو نہ قرآن کی آیتیں اس بے معنی کام سے روکنے والی ثابت ہو رہی ہیں اور نہ مسلمانوں کے حق میں اس پالیسی کے اندوہناک نتائج۔ ہوٹل لوسیا کانٹی نینٹل کا کمرہ نمبر ۴۱۴ ہے۔ میں رات کے وقت سویا ہوا ہوں۔ نیند کھلتی ہے تو میں وقت جاننا چاہتا ہوں ۔ اپنی گھڑی کے بارہ میں مجھے کچھ شبہ ہوتا ہے۔ میں ٹیلیفون کا ریسیور اٹھاتا ہوں۔ اس کے بعد میرے اور ریسپشن کے آدمی کے درمیان مختصر گفتگو ہوتی ہے جو حسب ذیل ہے:
Good Morning, Sir Good Morning, Time please. یہ ایک سادہ سی بات ہے جو ہر ایک کے ساتھ پیش آتی ہے ۔ مگر جب ۱۳ دسمبر کی رات کو اس اجنبی جگہ پر میرے ساتھ یہ واقعہ گزرا تو اچانک مجھے محسوس ہوا جیسے کہ وہ اس آیت کی عملی تفسیر ہو : و اذا سألك عبادي عني فاني قريب اجيب دعوة الداع اذا دعان فليستجيبوا لى وليؤمنوا بي لعلهم يرشدون (البقرة (۱۸۶) اس دنیا کے محسوس واقعات غیر محسوس حقیقتوں کی کہانی بیان کر رہے ہیں۔ مگر اس کو وہی شخص جان سکتا ہے جو اس پر کان لگائے اور خالی الذہن ہو کر اس کو سننے کے لئے تیار ہو ۔
لوسیا ہوٹل میں گیڈینیں (Gideons) کی بائبل رکھی ہوئی تھی۔ یہ بائبل تمام دنیا کے ہوٹلوں میں مفت رکھی جاتی ہے ۔ بائبل کے اس نسخہ میں دوسری باتوں کے ساتھ یہ بھی چھپا ہوا تھا کہ اگر آپ اس علاقہ میں گیڈینیں سے ربط قائم کرنا چاہتے ہیں تو براہ کرم مقامی ٹیلیفون ڈائرکٹری سے معلوم کیجئے!
If you desire to contact Gideons in this area, please consult the local telephone directory. موجودہ زمانہ میں بے شمار نئے امکانات پیدا ہوئے۔ ان میں سے ایک یہ تھا کہ دنیا کے تمام بڑے، بڑے شہروں میں جدید طرز کے ہوٹل بنے ہوئے ہیں جن میں بے شمار انسانی قافلے ٹھہرتے ہیں۔ ٹیلی فون کا نظام قائم ہے اور ڈائرکٹریاں چھپی ہوئی موجود ہیں۔ ان ذرائع نے کسی فکر کی اشاعت کا زبردست نیا امکان پیدا کر دیا تھا۔ مگر ہمارے رہنماؤں نے بے معنی لڑائیوں میں پورا ایک دور ضائع کر دیا۔ ذرائع میں سے کسی ذریعہ کو بھی وہ دین خداوندی کی اشاعت کے لئے استعمال نہ کر سکے۔ بائبل کے اس نسخہ کے شروع میں درج تھا کہ بائبل (3:16 John) میں ایک جملہ ہے جس کو گیارہ سو سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے۔ مذکورہ نسخہ میں چند درجن زبانوں کے ترجمے نقل کئے گئے تھے۔ اس کا عربی ترجمہ ان الفاظ میں درج کیا گیا تھا :
لانه هكذا احب الله العالم حتى بذل ابنه الوحيد لكي لا يهلك كل من يؤمن به بل تكون له الحيوة الابدية ابعیت مسیح کا یہ عقیدہ چرچ کے مطابق، مسیحی مذہب کا اہم ترین عقیدہ ہے۔ عقیدہ پر موجودہ مسیحیت قائم ہے۔ مگر چرچ کے نزدیک وہ جتنا اہم ہے، عام انسان کو وہ اتنا ہی زیادہ غیر اہم معلوم ہوتا ہے۔ اس کا ایک مظاہرہ خود بائبل کے اس نسخہ میں موجود تھا۔ جو لوسیا، ہوٹل میں رکھا ہوا تھا۔ اس کو میں نے الٹ پلٹ کر دیکھا تو اس کے آخری صفحہ پر ایک جملہ درج تھا۔ مسافر کا تاثر تھا جو اس نے " مقدس کتاب " کے آخر میں ثبت کیا تھا۔ اگر چہ وہاں مسافر کا نام نہیں تھا۔ تا ہم اس کا فقرہ بہت با معنی تھا۔ اس نے اپنے قلم سے لکھا تھا :