ذہنیت کا فرق
Al-Risala, January 1988, pp. 13–14
By Maulana Wahiduddin Khan
۴ نومبر 1987 کو لاہور میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ریلائنس کپ کے لیے کرکٹ اس میچ میں پاکستان کی ٹیم ہار گئی۔ یہ خبر بہت سے پاکستانیوں کے لیے اتنی سخت ثابت ہوئی کہ ان پر دل کا دورہ پڑ گیا۔ حتیٰ کہ بعض افراد اس صدمہ کو برداشت نہ کر سکے اور حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے انتقال کر گئے (ٹائمز آف انڈیا ۸ نومبر 1987) یہی بات ہندوستان میں اس وقت پیش آئی جب کہ اگلے دن ۵ نومبر کو بمبئی میں انگلینڈ کے مقابلہ میں ہندوستان کی ٹیم ہار گئی۔ ہندوستان میں کسی کے حرکت قلب بند ہونے کی اطلاع تو البتہ ایک اور شکل میں یہاں بھی موتیں واقع ہوئیں۔ دونوں طرف کے پرستاروں کے درمیان ایک سے زیادہ مقامات پر ٹکراؤ ہو گیا۔ اور وہ ناخوش گوار چیز پیش آئی جس کو ہندوستان ٹائمز (۹ نومبر 1987) نے بجاطور پر میچ فسادات (Match riots) کا نام دیہے۔ ۹ نومبر کی ایک ملاقات میں اس کا ذکر مسٹر شکیل احمد خاں (پیدائش ۱۹۱۴) سے ہوا۔ انھوں نے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے ، اور آج کل عرب امارات کی ایک فرم میں چیف انجینئر انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اس معاملہ میں میرا طریقہ بالکل الگ ہے ۔ میں کبھی شکست کے احساس سے دوچار نہیں ہوتا۔ کیوں کہ جیتنے والی ٹیم کو میں اپنی ٹیم سمجھتا ہوں : I never lose, winning team is my team. یہی وہ چیز ہے جس کو موجودہ زمانہ میں اسپورٹس مین شپ (Sportsmanship) کہا باعتبار مفہوم اس کو ہنر پسندی کہہ سکتے ہیں۔ یہ صحت مند ذہن کی علامت ہے۔ ذہن کے مطابق اصل چیز کھیل ہے نہ کہ کھیلنے والا۔ صحیح اسپورٹس مین اسپرٹ یہ ہے کہ آدمی کی نگاہ ہنر پر ہو۔ وہ یہ دیکھے کہ کھیل کیسا کھیلا گیا ، نہ یہ کہ کون شخص کھیلا ۔ ۱۹۸۷ کے " انقلاب " کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ ہندوستان اور پاکستان میں اس صحت مند مزاج کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ یہاں کے لوگ ہنر مندی سے محظوظ نہیں ہو پاتے ۔ وہ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ جیتنے والا کون ہے اور ہارنے والا کون ۔ اپنی قوم کا آدمی جیتے تو وہ خوشی مناتے
ہیں، اور اگر اتفاق سے دوسری قوم کا آدمی جیت جائے تو غم سے نڈھال ہوا جاتے ہیں ۔ یہ صحت مند ذہنیت نہیں، یہ مریضانہ ذہنیت ہے۔ جن لوگوں کا یہ مزاج ہو وہ کبھی کوئی اعلیٰ کامیابی حاصل نہیں کر سکتے ۔ ان کے اندر قومی خود غرضی تو خوب ترقی کرے گی، مگر ان کے درمیان سائنٹفک مزاج کبھی ترقی نہیں کر سکتا ۔ وہ مزاج جس کا ایک نمونہ موجودہ زمانہ میں جاپان نے پیش یعنی یہ کہ آدمی قوم پسند یا فرقہ پسند نہ ہو بلکہ وہ معیار پسند ہو۔ جن لوگوں کے اندر یہ صفت ہو، وہ جب کوئی کام کرتے ہیں تو ان کی ساری توجہ معیار (Quality) پر ہوتی ہے۔ اپنا کام اس طرح کرتے ہیں کہ اس کے بارے میں وہ اعلیٰ معیار سے کم تر کسی چیز پر راضی نہیں
جاپانیوں کی یہی خصوصیت ہے جس کی بنا پر ان کے لیے یہ ممکن ہو کہ وہ اپنی مصنوعات کو نقص بدرجہ صفر (Zero-defect) کے درجہ تک پہنچا سکیں ۔ اور اپنے بڑھے ہوئے معیار کی بنا پر ساری دنیا کی مارکیٹ پر قبضہ کر لیں ۔
اسرائیل کے قیام سے پہلے کی بات ہے، ایک مسلم پہلوان اور ایک یہودی پہلوان میں کشتی کا مقابلہ ہوا۔ اس مقابلہ میں مسلمان کامیاب رہا ۔ اس نے یہودی پہلوان کو نٹوں کے اندر گرا دیا۔ بظاہر یہودی پہلوان کے لیے یہ بڑی ذلت کی بات تھی ۔ مگر اس نے فوراً اٹھ کر مسلم پہلوان کو گلے سے لگا لیا۔ اس نے کہا : میں تمہاری ذات کی نہیں بلکہ تمہارے فن کی قدر تم نے جس فن کاری کے ساتھ مجھے گرایا ہے وہ اتنا اعلیٰ ہے کہ میں نے اس کا تصور بھی نہیں کیا تھا ۔
کسی قوم میں اسپورٹس مین اسپرٹ کا ہونا یا نہ ہونا کوئی جزئی بات نہیں۔ اس کا تعلق اس قوم کے پورے کردار سے ہے ۔ اس کا ظہور زندگی کے تمام معاملات میں ہوتا ہے۔ کا ذہن آدمی کو اپنے حریف سے صرف نفرت کرنا سکھاتا ہے۔ حریف کی خوبیاں بھی اس کو برائی کی صورت میں نظر آتی ہیں ۔ یہ چیز اس کو ہر اعتبار سے پست کر دار بنا دیتی ہے۔ اس کے برعکس دوسرا مزاج آدمی کو معیار پسند بناتا ہے اس سے آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ۔ اس کے اندر ایک ایسا انسان ابھرتا ہے جس کے لیے دشمن کا عمل بھی مفید سبق حاصل کرنے کا ذریعہ بن جائے ۔