Al-Risala · March 1988

Man is only a personality. Nothing beyond that.

Al-Risala, March 1988, pp. 46–50

By Maulana Wahiduddin Khan

یعنی آدمی صرف ایک شخصیت ہے، اس کے آگے اور کچھ نہیں۔ موجودہ مسیحی مذہب کی بنیاد الوہیت مسیح کے عقیدہ پر قائم ہے مگر انسان کی عقل میں کسی طرح یہ بات نہیں آتی کہ ایک شخص جو ایک عورت کے پیٹ سے پیدا ہوا وہ خدا یا خدا کا بیٹا تھا۔ اگر آپ مسیحیت کو مانیں تو آپ کو عقل سے دست بردار ہونا پڑتا ہے اور اگر عقل کو مانیں تو مسیحیت سے۔

تریوند رم سے واپسی میں ایئر پورٹ پر اٹلی کے ایک سیاح سے ملاقات ہوئی۔ اپنا نام اسٹیفا نو گرا فینی (Stefano Garaffini) بتایا۔ وہ اٹلی کے شہر فرنز (Firenze) کے رہنے والے ہیں۔ چھٹی میں اپنی بیوی کے ساتھ سیاحت کے لئے نکلے ہیں۔ ابتدائی تعارف کے بعد میں نے ان سے اس طرح کے سوالات کرتا رہا: کیا آپ خدا کو مانتے ہیں، کیا آپ مذہب میں عقیدہ ان سے گفتگو کے بعد خیال آیا کہ ہمارے پاس ایک چھپا ہوا دو ورقة ہونا چاہیے جو اس طرح کے لوگوں کو فوری مطالعہ کے لئے دیا جا سکے۔ اس میں مختصر اور واضح انداز میں اسلام کا تعارف کیا گیا ہو۔ ان شاء اللہ مرکز کی طرف سے اس قسم کا دو ورقة چھاپنے کی کوشش کی جائے گی۔ ۱۳ دسمبر کو تریوند رم ایئر پورٹ پر تین ہندو نوجوانوں سے ملاقات ہوئی۔ ان کے ”لیڈر“ سنیو بھار گو اتھے جو نئی دہلی میں انڈین ایئر لائنز کالونی میں رہتے ہیں۔ ان سے بہت دیر تک باتیں یہ لوگ مکمل طور پر ہندوؤں کی نئی نسل کے نمائندہ تھے۔ ان کی گفتگو کا خلاصہ میرے نزدیک یہ تھا کہ ہندو نوجوانوں کا بگاڑ محض وقتی ہے نہ کہ دائمی اور ابدی۔ سنیو بھار گو انے کہا کہ ایک سادہ مثال لیجئے ۔ ایک شخص بس میں سفر کر رہا ہے۔ اس کے پاس ایک روپیہ کا پھٹا ہوا نوٹ ہے۔ اگر وہ اس نوٹ کو فولڈ کر کے بس کنڈکٹر کو دے تو وہ اس کو لے لے گا۔ اور اگر وہ اسی نوٹ کو دکھا کر دے تو کنڈکٹر کبھی بھی نہیں لے گا اور اس کو بس سے اتار دے گا۔ یہ تجربات ہیں جو جدید نسل کو بگاڑ

سنیو بھار گو انے کہا کہ میری ایج کے ہر آدمی کا نیچر یہ ہوتا ہے کہ وہ غلط کو غلط سمجھتا ہے اور اس سے لڑنا چاہتا ہے۔ مگر جیسے جیسے اس کا تجربہ بڑھتا ہے ، وہ دیکھتا ہے کہ غلط کو غلط بتانے میں وہ خود غلط ہورہا ہے تو اب اس میں ایک تبدیلی آنا شروع ہوتی ہے۔ نیچر کی سطح پر درست ہونے کے باوجود اوپر کی سطح پر وہ ایک نیا انسان بن جاتا ہے۔ ان کی تفہیم کے مطابق، جدید بھارتی نوجوان کے تین دور نچر، فرسٹریشن ، چینج۔

جدید ہندوستانی نوجوان کی جارحیت جس کے خلاف ہمارے لیڈر فریاد کرتے رہتے ہیں، وہ محض اوپر ی بگاڑ کا نتیجہ ہے۔ اپنے اندر اب بھی وہ وہی فطرت لئے ہوئے ہے جو خدا نے ہر ایک کے اندر پیدا اگر ہم حکمت اور اخلاق کے ذریعہ اس کی اندرونی فطرت کو جگا سکیں تو یہاں بھی وہی واقعہ

ظهور میں آئے گا جس کو قرآن نے ان لفظوں میں بیان کیا ہے ۔ فَا ذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيّ حَمِيم (حم السجدة ٣٤)

واپسی کے بعد کانفرنس کے شرکاء میں سے ایک صاحب سے دہلی میں ملاقات ہوئی۔ عبد الحکیم طبیبی ہیں۔ وہ افغانی ہیں اور آجکل سوئٹزرلینڈ میں رہتے ہیں۔ وہ سید جمال الدین افغانی سے بہت متاثر ہیں اور ان کے تاریخی ماہنامہ العروۃ الوثقی کو اسی نام سے عربی اور انگریزی میں جنیوا سے نکال رہے ہیں۔

کانفرنس کے بعد وہ ایک ضرورت کے تحت دہلی آئے اور ہمارے مرکز اور ہمارے کا کم کو بھی یہاں آکر دیکھا۔ انھوں نے کہا کہ آپ یہاں جو کام کر رہے ہیں وہ اتنا اہم ہے کہ اس کے مقابلہ میں کسی ”انٹرنیشنل کانفرنس“ میں شرکت کی کوئی اہمیت نہیں۔

میں نے کہا کہ مجھے اس قسم کی کانفرنسوں میں شرکت سے کوئی دلچسپی نہیں۔ بعض اوقات وہ مجھے اوقاتِ کام تر مصرف معلوم ہوتی ہیں۔ تاہم ایک فائدہ ہے جس کی وجہ سے میں ان کانفرنسوں میں اور وہ تجربہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسرے ممالک کا سفر اور بین اقوامی کانفرنسوں میں شرکت سے جو تجربات حاصل ہوتے ہیں وہ دفتر میں یا لائبریری میں بیٹھ کر حاصل نہیں کئے جاسکتے۔ یہی خاص وجہ ہے جس کی بنا پر میں بیرونی ممالک کا سفر کرتا ہوں۔ میرے یہ تجربات ”سفرنامہ“ کی صورت میں الرسالہ میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ مگر وہ اردو زبان میں ہوتے ہیں، اس لئے آپ جیسے لوگ ان کو پڑھ نہیں سکتے۔ تاہم اب انگریزی الرسالہ میں بھی سفر ناموں کا خلاصہ شائع کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔

جلد دوم تیار جلد اول : سورۃ فاتحہ - سورۃ بنی اسرائیل جلد دوم : سورۃ الکہف - سورۃ الناس قرآن کی بے شمار تفسیریں ہر زبان میں لکھی گئی ہیں۔ مگر تذکیر القرآن اپنی نوعیت کی پہلی تفسیر ہے۔ تذکیر القرآن میں قرآن کے اساسی مضمون اور اس کے بنیادی مقصد کو مرکز توجہ بنایا گیا ہے۔ جزئی مسائل اور معلوماتی تفصیلات کو چھوڑتے ہوئے اس میں قرآن کے اصل پیغام کو کھولا گیا ہے اور عصری اسلوب میں اس کے دعوتی اور تذکیری پہلو کو نمایاں کیا گیا ہے۔ تذکیر القرآن عوام و خواص دونوں کے لیے یکساں طور پر مفید ہے۔ وہ طالبین قرآن کے لیے فہم قرآن کی کنجی ہے۔ ہدیہ جلد اول ۱۰۰ روپیہ جلد دوم ۱۰۰ روپیہ مکتبہ الرساله، نئی دہلی

100/- تذکیرالقرآن جلد اول دین کیا ہے 100/- " " جلد دوم قرآن کا مطلوب انسان 40/- اللہ اکبر تجدیدِ دین 30/- پیغمبر انقلاب اسلام دینِ فطرت 30/- مذہب اور جدید چیلنج تعمیرِ ملت 25/- عظمت قرآن تاریخ کا سبق 25/- الاسلام مذہب اور سائنس 25/- ظہورِ اسلام عقلیاتِ اسلام 20/- اسلامی زندگی فسادات کا مسئلہ 20/- احیاءِ اسلام انسان اپنے آپ کو پہچان 45/- رازِ حیات (مجلد) تعارفِ اسلام 4/- اسلامی دعوت 4/- 4/- خدا اور انسان 4/- 6/- حل یہاں ہے 4/- 2/- سچا راستہ 4/- 4/- دینی تعلیم 4/- 4/- حیات طیبہ 4/- 4/- باغ جنت 4/- 4/- نار جہنم 4/- 25/- صراطِ مستقیم اسلام پندرھویں صدی میں ۔ Rs. 45/- God Arises -/30 خاتونِ اسلام -/25 سوشلزم اور اسلام -/20 اسلام اور عصرِ حاضر -/25 حقیقتِ حج -/20 اسلامی تعلیمات -/15 تبلیغی تحریک -/35 تعبیر کی غلطی -/10 دین کی سیاسی تعبیر The Prophet of Revolution 50/- Religion and Science 35/- Tabligh Movement 20/- The Way to Find God 4/- The Teachings of Islam 5/- The Good Life 5/- The Garden of Paradise 5/- The Fire of Hell 5/- The Ideal Character 4/- Man Know Thyself! इन्सान अपने आपको पहचान 2/- सच्चाई की तलाश 4/-

Printed page