یہ اسلام نہیں
Al-Risala, April 1988, pp. 3–5
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک مقام پر رمضان کے زمانہ میں فساد ہو گیا۔ وہاں کے ایک صاحب سے ۲۵ دسمبر ۱۹۸۹ کو میری ملاقات ہوئی۔ میں نے واقعہ کی تفصیل پوچھی۔ انھوں نے بتایا کہ رات کا وقت تھا۔ مسلمان مسجد میں تراویح کی نماز پڑھ رہے تھے۔ اتنے میں سڑک سے شور و غل سنائی دیا۔ کہ دوسری قوم کے لوگوں کی شادی پارٹی گزر رہی ہے اور جگہ جگہ رک کر گاتی بجاتی ہے۔ اس وقت مسجد سے نکل کر کچھ مسلمان سٹرک پر آئے اور جلوس والوں سے کہا کہ آپ لوگ یہاں شور نہ کریں۔ کیوں کہ مسجد کے اندر ہماری نماز ہو رہی ہے۔ مگر وہ لوگ نہیں مانے۔ اس پر تکرار ہوئی یہاں تک کہ بڑھتے بڑھتے فساد ہو گیا۔
میں نے کہا کہ یہ تو آپ لوگوں کا طریقہ ہے۔ اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ اس معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ کیا تھا۔ میں نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ ابتدائی زمانہ میں مکہ پر بیت اللہ پر مشرکین کا قبضہ تھا۔ وہ لوگ رسول اللہ کو اور آپ کے ساتھیوں کو طرح طرح سے ستاتے اسی میں سے ایک یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب جب بیت اللہ میں جاتے تو وہ لوگ وہاں آکر شور و غل کرتے۔ وہ سیٹی بجاتے اور تالیاں پیٹتے اور کہتے کہ ہمارا عبادت کا طریقہ ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے:
وما كان صلاتهم عند البيت الا مكاء و اور بیت اللہ کے پاس ان کی نماز اس کے سوا تصدية فذوقوا العذاب بما كنتم کچھ نہ تھی کہ سیٹی بجانا اور تالی پیٹنا۔ تو اب عذاب تكفرون (الانفال ۳۵) چکھو اپنے انکار کی وجہ سے۔
اس آیت کی تشریح کے سلسلے میں چند تفسیروں کے حوالے یہ ہیں:
عن ابن عمر انه قال ۔ انهم كانوا يصنعون حضرت عبد اللہ بن عمر نے کہا کہ مکہ کے مشرکین اپنے خدودهم على الارض ويصفقون ويصفرون رخسار زمین پر رکھتے اور تالی بجاتے اور سیٹی ويصنعون ذالك ليخلطوا بذلك على النبی بجاتے۔ وہ ایسا اس لیے کرتے تھے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم صلاته ۔ وقال الزهری صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو گڈ مڈ کردیں۔
مستهزؤن بالمومنين ۔
تفسير ابن كثير)
ذَلِكَ انهم كانوا يطوفون بالبيت عراة وهم شبكون بين اصابعهم يصفرون فيها و يصفقون وكانوا يفعلون نحو ذالك اذا قرأ رسول الله صلى الله عليه وسلم في صلوته يخلطون عليه (تفسير نسفى )
ى ما كانت عبادة المشركين وصلاتهم عند لبيت الحرام الا تَصْفَيرا وتصفيقا وكانوا يفعلونهما اذا صلى المسلمون ليخلطوا عليهم
(صفوة التفاسير )
زھری نے کہا کہ وہ مسلمانوں کا مذاق اڑانے کے لیے ایسا کرتے تھے۔
وہ بیت اللہ کا ننگے طواف کرتے اور وہ انگلیوں میں انگلیاں ڈال کر اس میں سیٹی بجاتے اور تالیاں وہ ایسا اس وقت کرتے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں قرآن پڑھتے ، وہ گڈ مڈ کرنا چاہتے تھے۔
یعنی بیت اللہ الحرام میں مشرکین کی عبادت اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ وہ سیٹی بجاتے اور تالیاں اور یہ دونوں کام وہ اس وقت کرتے جب کہ مسلمان نماز پڑھتے تاکہ ان کی نماز کو گڈ مڈ کر دیں۔
عن سعيد قال : كانت قريش يعارضون النبي صلى الله عليه وسلم في الطواف يستهزؤن به يصفرون ويصفقون - وقال مقاتل كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا صلى في المسجد قام رجلان عن يمينه فيصفران ورجلان عن يساره فيصفقان ليخلطوا على النبي صلى الله عليه وسلم صلوته ۔
حضرت سعید نے کہا کہ قریش طواف کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آتے۔ آپ کا مذاق اڑاتے ، وہ سیٹی بجاتے اور تالی اور مقاتل نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد حرام میں نماز پڑھتے تو آپ کے دائیں طرف دو آدمی کھڑے ہوجاتے اور دونوں سیٹی بجاتے اور دو آدمی آپ کے بائیں طرف کھڑے ہوجاتے اور تالیاں بجاتے تاکہ رسول اللہ پر آپ کی نماز کوگڑ بڑ کردیں ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ۱۳ سال تک رہے ۔ وہاں مسلسل آپ کے ساتھ وہ سلوک کیا جاتا رہا جس کا ذکر اوپر کے اقتباسات میں آیا ہے۔ مگر کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آپ اس کے
خلاف کوئی احتجاج یا کوئی جوابی کاروائی کریں ۔ آپ اس قسم کی تمام باتوں پر یک طرفہ طور پر صبر کرتے رہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس زمانہ میں اہل ایمان کی ایک تعداد جمع ہوگئی تھی ۔ یہ لوگ نہایت بہادر اور جاں نثار تھے۔ مگر ایک بار بھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو لے کر مشرکوں پر ہجوم کریں یا ان کو شور و غل سے روکنے کے لیے کوئی جوابی عملی کاروائی کریں ۔
مشرکوں کے شور و غل پر آپ کا چپ رہنا خوف کے تحت نہیں تھا بلکہ منصوبہ کے تحت تھا۔ دنیا کا قانون یہ ہے کہ یہاں ایک کام کو کرنے کے لیے دوسرے کام کو چھوڑنا پڑتا ہے ۔ آپ خدا کے پیغام کی پیغام رسانی کرنا چاہتے تھے ، اس لیے آپ نے ضروری سمجھا کہ جھگڑے اور ٹکراؤ والی باتوں سے اپنے آپ کو دور رکھیں ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کی ان تمام باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف دعوت و تبلیغ کی محنت میں لگے رہے ۔ یہاں تک کہ وہ وقت آیا کہ اللہ تعالیٰ نے حالات میں تبدیلی فرمائی ۔ اس کے بعد مشرکین کے شور کا بھی خاتمہ ہوگیا اور خود مشرکین کا بھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد کے اندر گھس کر شور و غل کیا جاتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے اس کے خلاف کوئی جوابی کاروائی نہیں کی ۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ مسجد کے قریب کی سڑک پر کوئی جلوس شور کرتا ہوا گزرے تو وہ اس سے لڑنے کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ اگر اسلام وہ ہے جو رسول اللہ نے کیا تو مسلمان جو کچھ کر رہے ہیں وہ اسلام نہیں ۔ اور اگر اسلام وہ ہے جو موجودہ زمانہ کے مسلمان کر رہے ہیں تو رسول اللہ نے جو کچھ کیا وہ اسلام نہیں تھا ۔ اب مسلمانوں کو اختیار ہے کہ وہ دونوں میں سے جس بات کو چاہیں اپنے لیے پسند کرلیں ۔