بربادی کے باوجود
Al-Risala, April 1988, pp. 12–13
By Maulana Wahiduddin Khan
"ہر نا کامی میں ایک ننی کامیابی کا امکان چھپا ہوا ہوتا ہے" یہ ایک ابدی اصول ہے۔ کی تاریخ میں اس اصول کے بہت سے عملی نمونے پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک نمونہ یہ ہے کہ اٹھھویں صدی میں جن ممسلمانوں کے اوپر اسپین کے دروازے بند کیے گیے تھے، انہیں کے ذریعہ افریقہ کے بربری قبائل میں اسلامی دعوت کے دروازے کھلے۔
پروفیسر ٹی ڈبلیو آرنلڈ نے اس سلسلہ میں لکھا ہے کہ بربری قبائل کے لوگ اپنے پہاڑوں کے حصار میں بندتھے اور اپنی خود مختاری کے دلدادہ تھے۔ اس لیے انھوں نے اپنے یہاں عربی عناصر کے داخلہ کو کامیابی سے روکا۔ اور اس بناپر ان کو سلمان بنانے میں بہت دشواریاں حائل ہوئیں۔ مادریہ سلسلہ کی ایک خانقاہ (ساقیہ الحمراء) کے صوفیوں نے ان کے یہاں ایک تبلیغی مشن قائم کرنے کوشش کی تھی مگر انھیں اس مقصد میں کامیابی نہ ہوسکی ۔
بربری قبائل کے درمیان اسلام کے لیے راستہ ہموار کرنے کا سہرا اندلسی مسلمانوں کے سر ہے۔ جو سقوط غرناطہ (۱۴۹۲ء) کے بعد اسپین سے نکال دیے گیے تھے۔ اور اس کے بعد افریقہ آکر اسی خانقاہ میں پناہ گزیں ہوئے تھے۔ خانقاہ کے شیخ نے دیکھا کہ یہ لوگ تبلیغ کے اس دشوار کام کے لیے بہت موزوں ہیں جس کو سر انجام دینے میں ان کے اپنے مریدوں کی کوششیں ناکام رہی تھیں۔ اس کار خیر پر روانہ کرنے سے پہلے انھوں نے ان کو ان الفاظ میں مخاطب کیا : " ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم اسلام کی مشعل ان ملکوں میں لے جائیں جو برکات اسلام کی نعمت سے محروم ہو چکے ہیں۔ ان بد قسمت قبائل کے ہاں نہ تو مدارس ہیں اور نہ کوئی شیخ ہے جو ان کے بچوں کو اصول اخلاق اور محاسن اسلام کی تعلیم دے سکے ۔ یہ لوگ جانوروں کی طرح رہتے ہیں جن کو نہ خدا کا علم ہے، نہ دین کا۔ لہذا میں نے ارادہ کیا ہے کہ اس ناگوار صورت حال کی اصلاح کے لیے تمہاری دینی حمیت اور نور ایمان سے درخواست کروں تاکہ یہ کوہستانی لوگ اپنی قابل رحم جہالت کی دلدل میں غلطاں و پیچاں نہ رہیں اور ہمارے دین کی شاندار صداقتوں سے باخبر ہو جائیں۔ جاؤ اور ان کے ایمان کی بجھتی ہوئی آگ کو ہوا دو اور اس کی دبی ہوئی چنگاریوں کو دوبارہ
اپنے پہلے مذہب یعنی عیسائیت کی جس ضلالت سے وہ اب تک آلودہ ہیں، اس سے ان کو پاک کرو اور ان کو یہ سمجھاؤ کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین میں عیسائیت کے برعکس میل کچیل اللہ تعالیٰ کی نظروں میں مقبول نہیں ہے۔ میں تم سے یہ بات پوشیدہ نہیں رکھنا چاہتا کہ تمہارے کام میں بہت سی دشواریاں ہیں لیکن تمہاری ناقابل تسخیر حمیت اسلامی اور حرارت ایمانی خدا کے فضل و کرم سے تمام مشکلات پر غالب آئے گی۔ جاؤ، اور اس بد نصیب قوم کو خدا اور اس کے رسول کی طرف دوبارہ لاؤ جو اس وقت جہالت اور کفر کی دلدل میں پھنسی ہوئی ہے ۔ نجات کا پیغام پہنچاؤ۔ خدا تمہارے شامل حال رہے اور تمہاری مدد فرمائے۔ یہ مبلغ پانچ پانچ، چھ چھ کی جماعتوں میں مختلف اطراف میں روانہ ہوگئے۔ وہ پھٹے پرانے کپڑے پہنے اور ہاتھ میں عصا لیے چل دیے اور انھوں نے پہاڑوں کے سنسان اور غیر آباد مقامات انتخاب کر کے وہاں کے غاروں میں چٹانوں کے درمیان خانقاہیں قائم کیں۔ قبائل کے درمیان ان کی پرہیزگاری اور عبادت گزاری کا چرچا ہونے لگا۔ چنانچہ یہ قبائل جلد ہی ان کے ساتھ راہ و رسم پیدا کرنے لگے۔ ان مبلغوں نے آہستہ آہستہ اپنے علم طب اور صنائع و حرفت اور تمدن کے دیگر فوائد کی بدولت بربری قبائل کے ہاں اپنا مطلوبہ اثر و رسوخ قائم کر لیا اور ہر ایک خانقاہ اسلامی تعلیم کا مرکز بن گئی۔ ان نو واردوں کے علم و فضل کی کشش سے بہت سے طالب علم ان کے گرد و پیش جمع ہوگئے، اور کچھ عرصے کے بعد یہی طالب علم اپنے ابنائے وطن میں اسلام کی تبلیغ کرنے لگے، یہاں تک کہ ان کا مذہب ان قبائل کے تمام علاقوں اور صحرائے الجزائر کی بستیوں میں “ پریچنگ آف اسلام، صفحہ ۳۵-۱۴۲ پروفیسر آرنلڈ کا مذکورہ اقتباس بتاتا ہے کہ قدیم اسپین کی تاریخ سے دو قسم کے واقعات وابستہ ہیں ۔ ایک یہ کہ عیسائیوں نے انھیں اسپین سے ظالمانہ طور پر نکالا۔ دوسرے یہ کہ ان نکلے ہوئے مسلمانوں نے باہر آ کر اسلام کا ایک عظیم کارنامہ انجام دیا۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ان میں سے ہر شخص ”پہلے اسپین“ کو جاننے کا ماہر بنا ہوا ہے، ”دوسرے اسپین کو جاننے والا ان کے درمیان کوئی نہیں ۔ کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جنہیں اندھیرے تو خوب نظر آئیں، مگر اجالے ان کو دکھائی نہ دے سکیں۔