Al-Risala · April 1988

حکمت دعوت

Al-Risala, April 1988, pp. 14–15

By Maulana Wahiduddin Khan

لکُلِ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَکاًهُمْ نَاسِکُوْهٗ فَلَا يُنَازِعُنَّکَ ہر امت کے لیے ہم نے ایک طریقہ ٹھہرادیا تو وہ اسی فِی الْاَمْرِ وَادْعُ إِلٰی رَبِّکَ اِنَّکَ لَعَلٰی هُدًی مُّسْتَقِیْمِ طرح عمل کرتے ہیں۔ پس وہ تم سے اس امر میں وَ اِنْ جَادَلُوْکَ فَقُلِ اﷲُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۔ جھگڑا نہ کریں۔ اور تم اپنے رب کی طرف بلاؤ، بیشک اﷲُ يَحْکُمُ بَیْنَکُمْ يَوْمَ الْقِیَامَةِ فِیْمَا کُنْتُمْ فِیْهِ تم سیدھی راہ پر ہو۔ اور اگر وہ تم سے جھگڑا کریں تو تَخْتَلِفُوْنَ - کہو کہ اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو۔ (الحج ۶۷-۶۹) تمہارے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کر دے گا جس چیز میں تم اختلاف کرتے تھے۔

اس آیت کے شانِ نزول کے سلسلہ میں یہ روایت آئی ہے کہ وہ اس وقت اتری جب کہ مشرکوں ( بدیل بن ورقاء بشر بن سفیان، یزید بن خنیس) نے اہلِ ایمان سے کہا کہ تمہارا کیا حال ہے کہ جس جانور کو تم نے مارا اس کو تم کھاتے ہو اور جس جانور کو خدا نے مارا اس کو تم نہیں کھاتے، یعنی مردار کو ( نزلت حين قال المشرکون للمسلمین ما لکم تاكلون ما قَتَلَهُتم ولا تاكلون ما قتل الله یعنی المیتۃ ، تفسیر النسفی ، الجزء الثالث، صفحہ ۱۱۰)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عرب میں تشریف لائے تو عرب کے لوگ معروف معنوں میں بے دین انھوں نے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کے نام پر ایک ڈھانچہ اختیار کر رکھا تھا۔ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیمات اس مذہبی ڈھانچے سے ٹکراتی تھیں۔ (مثلاً ان کے مروجہ مذہب میں مردار جائز تھا، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو حرام بتاتے تھے) اس طرح کے اختلافات کی بنا پر وہ آپ سے بدکتے تھے۔ وہ اپنے آپ کو بزرگوں کے راستہ پر چلنے والا کہتے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے بزرگوں سے ہٹ کر نیا راستہ نکالا ہے۔ اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ہدایت دی گئی کہ آپ ان ظواہر میں نہ الجھیں۔ لوگ اس قسم کی چیزوں کو لے کر بحث کرتے آئیں، ان سے اعراض کرتے ہوئے اصل صراطِ مستقیم (دعوت الی اللہ) پر قائم رہیں۔ داعی کو چاہیے کہ وہ اپنے مدعو کے سامنے ہمیشہ اساسی تعلیمات

رکھے، وہ ظاہری امور اور فروعی اختلافات میں اس سے نہ اُلجھے۔

آیت میں فلا يُنَازِعُنَّكَ فِي الْاَمْرِ کا فقرہ ہے اس کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ اس امر میں وہ تم سے جھگڑا نہ کریں۔ یہاں خطاب کا رخ بظاہر فریق ثانی کی طرف ہے۔ مگر یہ ایک اسلوب ہے۔ اصل مخاطب خود فریقِ اول ہے۔ یعنی ظاہر کلام کے اعتبار سے مدعو سے کہا جا رہا ہے کہ وہ جھگڑا نہ کریں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے یہاں یہ کہا گیا ہے کہ تم ان سے جھگڑا نہ کرو۔ عربی میں اگر یہ کہا جائے کہ لا یضربنّك زید تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ زید کو منع کیا گیا کہ وہ تم کو نہ مارے ۔ بلکہ خود مخاطب سے کہا گیا کہ تم یک طرفہ احتیاط کے ذریعہ اس کی کوشش کرو کہ زید تم کو مارنے نہ پائے : قال الزجاج معنی قوله (لا ينازعنك) لا تنازعهم زجاج نے کہا کہ لا یُنازعنّک کا مطلب یہ ہے کہ كما يقال لا يخاصنّك فلان ۔ ای تم خود ان سے نزاع نہ کرو۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے لا تخاصمه - وهذا جائز فيما يكون بين فلاں آدمی تم سے مخاصمت نہ کرے، یعنی تم اس سے اثنين - وذلك لان المنازعة و مخاصمت کی نوبت نہ آنے دو۔ یہ اس وقت کے المخاصمة لا تتم الا باثنين فاذا ترك لیے ہے جب کہ نزاع دو آدمیوں کے درمیان ہو۔ احد هما ذهبت المخاصمة ۔ اس لیے کہ نزاع اور جھگڑا دو آدمیوں کے بغیر (التفسير المظهري، المجلد السادس، صفحه (۳۴۶) نہیں ہو سکتا۔ پس جب دونوں میں سے ایک شخص نزاع چھوڑ دے تو جھگڑا اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔

اس قرآنی حکم کا واضح مطلب یہ ہے کہ جو شخص خدا کے دین کی دعوت دینا چاہتا ہو، اس پر لازم ہے کہ وہ دعوت کے ساتھ نزاع کو جمع نہ کرے۔

داعی اور مدعو کے درمیان اگر نزاع کی فضا ہو تو مدعو کبھی کھلے ذہن کے ساتھ داعی کی بات نہیں سنے گا۔ اس لیے داعی کو یک طرفہ طور پر یہ ذمہ داری لینی پڑتی ہے کہ صبر اور اعراض کا طریقہ اختیار کر کے اپنے اور مدعو کے درمیان معتدل فضا کو باقی رکھے تا کہ مدعو اس کی باتوں پر ہمدردانہ غور کر سکے۔

ہر نزاع ختم ہو سکتی ہے، بشرطیکہ ایک فریق اس کو بلا شرط ختم کر دے۔

Printed page