Al-Risala · April 1988

موقع شناسی

Al-Risala, April 1988, pp. 17–20

By Maulana Wahiduddin Khan

غزوہ احد شوال ۳ھ ہیں پیش آیا۔ اس جنگ میں ابتداءً مسلمان غالب رہے۔ مگر بعد کو انھیں شکست ہوئی۔ تقریباً ستر اصحاب شہید ہوئے۔ جب مسلمان منتشر ہوگئے تو دشمنوں کا ہجوم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھا۔ انھوں نے آپ کے اوپر پتھر پھینکنے شروع کیے۔ بن قمہ اور عقبہ بن ابی وقاص وغیرہ نے آپ پر اس زور کے ساتھ پتھر مارے کہ آپ کا چہرہ لہولہان سامنے کا دانت ٹوٹ گیا۔ لوہے کی خود کی دو کڑیاں آپ کے رخسار میں اندر تک گھس گئیں۔ بعد کو ابو عبیدہ بن الجراح نے ان کڑیوں کو اپنے دانتوں سے پکڑ کر کھینچا تو ان کے دو دانت ٹوٹ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہو کر ایک پہلو پر گرپڑے۔ اس وقت آپ نے پہاڑ کے ایک گڑھے میں پناہ لی تاکہ آپ دشمنوں کی نظر سے اوجھل ہو جائیں۔ لوگوں نے آپ کو نہیں دیکھا تو مشہور ہوگیا کہ آپ شہید ہوگئے۔ اس خبر سے آپ کے اصحاب میں زبردست سراسیمگی پھیل گئی۔ حالت میں جو مختلف واقعات پیش آئے ان میں سے ایک یہ تھا :

قال ابن اسحاق : وكان اول من عرف رسول الله صلی الله علیه وسلم بعد الهزيمة وقول الناس قُتِلَ رسول الله صلی الله علیه وسلم ـ كما ذكر ابن شهاب الزهری ـ كعب بن مالك ، قال : عَرَفْتُ عينيه الشريفتين تزهران من تحت المِغْفَرِ ، فناديتُ بأعلى صوتی يا معشر المسلمين ابشروا ، هذا رسول الله صلی الله علیه وسلم ، ناشار الى رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان أَنْصِتْ " سيرة ابن هشام صفحه ۳۱ ابن اسحاق کہتے ہیں ۔ اور پہلا شخص جس نے شکست کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانا اور لوگوں کے اس قول کے بعد کہ آپ قتل کر دیے گئے، جیسا کہ ابن شہاب زہری نے بیان کیا، وہ کعب بن مالک ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ میں نے آپ کی دونوں آنکھوں کو خود کے اندر سے چمکتے ہوئے دیکھا اس وقت میں نے بلند آواز سے پکارا، اے مسلمانو، تمہارے لیے خوش خبری ہو۔ یہ میں اللہ کے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف اشارہ فرمایا کہ چپ رہو۔ صحابی نے اس وقت جو جملہ کہا تھا اس کو الگ کر کے دیکھیے۔ انھوں نے صرف یہ کہا تھا کہ

مسلمانوں، تمہیں خوش خبری ہو، اللہ کے رسول یہاں موجود ہیں۔ بظاہر یہ ایک صحیح اور معصوم جملہ بلکہ وہ ایک ایسا جملہ ہے جس پر کہنے والے کو ثواب ملنا چاہیے اور اس کی تعریف میں اَحْسَنْتَ اور صَدَقْتَ کا غلغلہ بلند ہونا چاہیے ۔ مگر عملاً اس کے برعکس ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے انہیں چپ رہنے کے لیے کہا۔ اور وہ بھی زبان سے نہیں کہا بلکہ اشارہ سے کہا۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے اس وقت نہ خود بولنا پسند فرمایا اور نہ یہ چاہا کہ کوئی دوسرا شخص اس موقع پر بولے۔ مذکورہ موقع پر کیوں ایسا ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بولنے سے منع فرمایا۔ وجہ یہ تھی کہ اس وقت آپ دشمنوں کی نگاہ سے اوجھل تھے۔ چوں کہ اس وقت آپ شدید زخمی تھے، اس لیے آپ کا لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہنا ہی قرین مصلحت تھا۔ اگر وہ لوگ جان لیتے کہ آپ یہاں گڑھے میں ہیں تو وہ ہجوم کر کے وہاں آتے اور آپ کے اوپر مزید پتھر برسانا شروع کر دیتے ۔ ایسے نازک موقع پر چپ رہنا زیادہ بہتر تھا نہ کہ بولنا۔

اسی کا نام موقع شناسی ہے۔ عملی کارروائی ہمیشہ حالات اور مواقع کے لحاظ سے کی جاتی جس کارروائی میں حالات اور مواقع کی رعایت شامل نہ ہو وہ خودکشی ہے نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی عملی کارروائی ۔

حالات کبھی یکساں نہیں رہتے ، ان میں بار بار تبدیلی ہوتی ہے، اس لیے طریق عمل میں بھی بار بار تبدیلی کی ضرورت پیش آتی ہے۔ کبھی ایک مقصد کو اعلان کے ساتھ حاصل کیا جاتا ہے کبھی اسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ اخفاء کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ آدمی مجبور ہوتا ہے کہ فریق ثانی کے ساتھ مقابلہ کرے ، کبھی زیادہ کامیاب تدبیر یہ ہوتی ہے کہ آدمی اپنے آپ کو مقابلہ کے میدان سے ہٹا دے۔ کبھی پانے کی کوشش کا نام پانا ہوتا ہے اور کبھی پانا اس کا نام ہوتا ہے کہ کھونے کو برداشت کر لیا جائے۔

موجودہ دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے یہ حکمت اتنی زیادہ ضروری ہے کہ اللہ کے پیغمبر کو بھی اس کی رعایت کرنی پڑی ، پھر دوسرے لوگ اس کی رعایت کیے بغیر کیسے کوئی حقیقی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں ۔

علیہ وسلم قال : إنَّ اللهَ يَرفَعُ بِهذا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ اللہ اس کتاب (قرآن) الكِتابَ أَقواماً وَيَضَعُ بِهِ آخَرينَ کے ذریعہ کچھ لوگوں کو اٹھاتا ہے اور کچھ دوسرے (رواه مسلم) لوگوں کو گرا دیتا ہے ۔

اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہو سکتا کہ کسی گروہ کے پاس قرآن کی محض موجودگی وہ چیز ہے جو اس کو ترقی اور کامیابی کے اعلیٰ درجہ پر پہنچا دیتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو موجودہ زمانہ کے مسلمان ہرگز تباہی اور بربادی کا شکار نہ ہوتے ۔ کیوں کہ آج مسلمانوں کے پاس ہر جگہ قرآن موجود ہے ۔ آج پریس کا دور ہے ۔ قرآن کے نہایت صحیح نسخے کروڑوں کی تعداد میں چھپ کر ساری دنیا میں پھیل گیے ہیں ۔ کوئی گھر اور کوئی مسلم بستی ایسی نہیں ہے جہاں قرآن کے نسخے لوگوں کے پاس موجود نہ ہوں ۔

پھر اس حدیث کا کیا مطلب ہے ۔ کیوں کر ایسا ہوتا ہے کہ قرآن کے ذریعہ کوئی قوم اوپر اٹھتی ہے ، اور دوسری قوم قرآن کے ذریعہ سے گر کر تباہ ہو جاتی ہے ۔ جواب یہ ہے کہ یہ نتیجہ قرآنی نقطہ نظر کو اختیار کرنے یا نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے ۔ جو لوگ قرآنی نقطۂ نظر کو اختیار کریں وہ اس دنیا میں کامیاب ہوتے ہیں ، اور جو لوگ قرآنی نقطۂ نظر کو اختیار نہ کریں وہ ناکام و نامراد ہو کر رہ جاتے ہیں ۔

قرآن میں زندگی کی تمام حقیقتیں بتا دی گئی ہیں ۔ چنانچہ ارشاد ہے :

لَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ ہم نے تمہاری طرف ایک کتاب اتاری جس میں (الانبیاء (۱۰) تمہارا ذکر ہے ۔

اس آیت میں ” ذکر “ سے کیا مراد ہے ، اس سلسلہ میں ہم دو حوالے نقل کرتے ہیں : (فيه ذكركم) اى ذكرما تحتاجون اليه یعنی ان تمام باتوں کا تذکرہ جو دین کے معاملہ

من امر دینکم (التفسیر المظہری) فيه ذكر دینکم میں تمہیں درکار ہیں۔ قرآن میں تمہارے دین کا بھی و دنیاکم (تفسیر النسفی) ذکر ہے اور تمہاری دنیا کا بھی۔

ایک حدیث میں ہے کہ حضرت جبرئیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ آئندہ فتنے ہوں گے۔ آپ نے فرمایا کہ اے جبریل، پھر اس کا حل کیا ہے۔ حضرت جبرئیل نے کہا کہ اللہ کی کتاب۔ اس میں آپ سے پہلے کی خبر ہے اور اس میں آپ کے بعد کی خبر ہے اور اس میں فیصلہ موجود ہے (نزل جبريل عليه السلام علی عہد رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبره انها ستكون فتن ۔ قال فما المخرج منها يا جبریل ۔ قال كتاب الله ۔ فيه نبأ ما قبلكم و نبأ ما هو كائن بعدكم وفيه الحكم بينكم، جامع الاصول، جزر ۸، صفحه ۴۶۴) جب قرآن کی حیثیت یہ ہے تو ہم کو چاہیے کہ ہم اپنے مسائل کے لیے قرآن کو دیکھیں اور اسی کے اندر اس کا حل تلاش کریں۔ قرآن کے اندر جب تمام باتیں ہیں تو یقیناً اس کے اندر ہمارے موجودہ سنگین مسائل کا بیان بھی ہونا چاہیے، اور یہ بھی کہ ان مسائل کا واقعی حل کیا ہے۔ میں دیکھنا چاہیے کہ وہ ہمارے مسائل کے بارہ میں ہمیں کیا نقطہ نظر دیتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ قرآن میں تمام مسائل کے بارہ میں اعلیٰ رہنمائی موجود ہے۔ رہنمائی کو پانے کے لیے صرف قرآن کو پڑھ لینا کافی نہیں، اس کے لیے ضروری ہے کہ قرآن کو اس کامل آمادگی کے ساتھ پڑھا جائے کہ جو رہنمائی قرآن میں ملے گی اس کو میں بے چون و چرا قبول کر لوں گا۔ قرآن کی رہنمائی ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنی ذات کی نفی کی قیمت پر قرآن سے رہنمائی حاصل جو قرآن کی رہنمائی کو ماننے کے لیے اس طرح تیار ہوں کہ قرآن اگر ان کی سوچ کی تصدیق نہ کرے تو وہ پکار اٹھیں کہ ”میں غلطی پر تھا" مفاد یا ذاتی وقار کا سوال جن کے لیے سچائی کو مان لینے میں رکاوٹ نہ بنے۔

سچائی کو پانے کے لیے اپنے آپ کو جھوٹا کرنا پڑتا ہے۔ جو شخص اپنے جھوٹ کو کو جھوٹ کہنے کا حوصلہ نہ کرے وہ اس دنیا میں سچائی کو پانے والا بھی نہیں بنتا۔

Printed page