Al-Risala · April 1988

ایک مثال

Al-Risala, April 1988, pp. 22–23

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانہ میں جو مسلم مصلحین اٹھے وہ زیادہ تر حالات کے رد عمل میں اٹھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں وہ رأفت اور ہمدردی بہت کم پائی جاتی ہے جو پیغمبر کے کلام میں کامل طور پر موجود اس کی ایک مثال مشہور مسلم مصنف کی اس کتاب میں نظر آئی جو انھوں نے پردہ (حجاب) کے موضوع پر لکھی ہے۔ پردہ کی اہمیت پر کلام کرتے ہوئے انھوں نے اپنی کتاب کو ان الفاظ پر ختم کیا ہے :

"میں کہتا ہوں کہ ہندوستان کے احوال پردے کی تخفیف کے نہیں، اور زیادہ اہتمام کے مقتضی کیوں کہ آپ کے نظام معاشرت کی حفاظت کرنے والے دوستوں گر چکے ہیں اور اب تمام دارو مدار صرف ایک ہی ستون پر ہے۔ تمدن اور معیشت اور سیاست کے مسائل آپ کو جل کرنے ہیں تو سر جوڑ کر بیٹھیے، غور کیجیے۔ اسلامی حدود کے اندر اس کے حل کی دوسری صورتیں بھی نکل سکتی ہیں، مگر اس بچے کھچے ستون کو، جو پہلے ہی کافی کمزور ہو چکا ہے اور زیادہ کمزور نہ بنائیے۔ میں تخفیف کرنے سے پہلے آپ کو کم از کم اتنی قوت پیدا کرنی چاہیے کہ اگر کوئی مسلمان عورت بے نقاب ہو تو جہاں اس کو گھورنے کے لیے دو آنکھیں موجود ہوں، وہیں ان آنکھوں کو نکال لینے کے لیے پچاس ہاتھ بھی موجود ہوں"

یہ واضح طور پر رد عمل کی نفسیات کے تحت نکلا ہوا کلام ہے۔ کیوں کہ کسی بگڑی ہوئی معاشرت کو صالح معاشرت بنانے کا کام یقینی طور پر حکمت اور تدریج کے ساتھ کرنا ہو گا نہ یہ کہ ہم مصلحین کے اندر یہ مزاج بنائیں کہ جہاں ایک مرد کی آنکھ کسی عورت پر اٹھے، تم فوراً اس کی دونوں آنکھیں نکال کر اس کو ہمیشہ کے لیے اندھا کر دو۔

جو داعی مثبت نفسیات کے تحت اٹھے، اس کا طریقہ اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اس کا نمونہ ہے۔ یہاں میں ایک مماثل واقعہ کا حوالہ دیتا ہوں۔ حجۃ الوداع کے سلسلہ میں جو واقعات حدیث کی کتابوں میں آئے ہیں۔ ان میں سے ایک واقعہ سب ذیل الفاظ میں منقول ہوا ہے :

الفضل ينظر إِلَيْهَا وَتَنْظُرُ الیہ فجعل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم يصرف وجہ الفضل الی الشق الاخر - (رواہ البخاری و مسلم)

حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم نحر کے موقع پر فضل بن عباس کو اپنی سواری کے پیچھے بٹھالیا تھا۔ وہ خوبصورت بالوں والے اور پرکشش شخصیت والے آدمی تھے۔ اس دوران قبیلہ خثعم کی ایک عورت آپ سے مسئلہ پوچھنے کے لیے آئی فضل بن عباس اس کی طرف دیکھنے لگے اور وہ عورت فضل بن عباس کی طرف دیکھنے لگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فضل بن عباس کا چہرہ دوسری طرف پھیرنے لگے ۔ اوپر موجودہ زمانہ کے ایک مسلمان مصنف کا جو اقتباس نقل کیا گیا ہے وہ رد عمل کی نفسیات سے نکلے ہوئے کلام کی مثال ہے اور پیغمبر اسلام کا مذکورہ واقعہ مثبت نفسیات کے تحت ظاہر ہونے والے رویہ کی مثال۔

اسلام کی خدمت کے لیے اٹھنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک صورت یہ ہے کہ آدمی اسلام کی ابدی تعلیمات سے متاثر ہو کر اٹھے ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ اس قسم کے مسائل سے متاثر ہو کر اٹھے جو موجودہ زمانے میں مسلمانوں کو سیاسی اور تہذیبی شکست کے نتیجہ میں پیش آئے۔ آدمی کے اندر ایجابی نفسیات ہوگی۔ اور ثانی الذکر آدمی کے اندر سلبی نفسیات ۔ پہلا آدمی اس جذبہ سے سرشار ہوگا کہ خدا کی جس آفاقی رحمت سے وہ آشنا ہوا ہے، اس میں دوسروں کو حصہ دار اس کے برعکس دوسرا آدمی اس جذبہ میں کھول رہا ہوگا کہ جن لوگوں نے اس کو نقصان اور شکست سے دوچار کیا ہے، ان پر اپنی ساری طاقت کے ساتھ ٹوٹ پڑے۔

بدقسمتی سے موجودہ زمانہ کے مصلحین ملت دوسری قسم سے تعلق رکھتے تھے، یہی وجہ ہے کہ انھوں نے لوگوں کو " اندھا " بنانے کی مثالیں قائم کیں۔ وہ لوگوں کو " بینا " بنانے کی مثال نہ کرسکے۔

Printed page