Al-Risala · April 1988

ملت کا المیہ

Al-Risala, April 1988, pp. 24–28

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک لڑکا باہر سے اپنے گھر میں آتا ہے اور اپنے باپ سے کہتا ہے کہ فلاں لڑکے نے مجھے گالی باپ فوراً غصہ ہو جاتا ہے اور باہر نکل کر اس لڑکے سے جھگڑنے لگتا ہے جس کے خلاف اس کے بیٹے نے شکایت کی تھی۔ اس کے برعکس ایک اور باپ ہے۔ اس کا لڑکا باہر سے منہ بنائے ہوئے آیا اور محلے کے لڑکے کے بارے میں شکایت کی کہ اس نے مجھے گالی دی ہے۔ دوسرے لڑکے کے خلاف کچھ نہیں کہا۔ اس نے صرف اپنے بیٹے کو سرزنش کی کہ تم ایسے لڑکوں کے پاس کیوں گئے۔ کیا تمہارے پاس کرنے کا کوئی اور کام نہ تھا۔

وہ باپ یقیناً جھوٹا باپ ہے جو ہر معاملہ میں اپنے بیٹے کی حمایت کرتا ہے۔ ایسے باپ کے لڑکوں کا انجام یہ ہوتا ہے کہ وہ آوارہ ہو جاتے ہیں۔ وہ نہ کوئی ہنر سیکھتے اور نہ تعلیم حاصل آخر کار وہ دادا گیری کا پیشہ اختیار کر لیتے ہیں تاکہ اپنی نالائقی کو دوسروں کے اوپر اس کے برعکس دوسرا باپ سچا باپ ہے۔ اس کے لڑکے خود تعمیری کی راہ پر لگتے وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اور پھر ترقی کر کے اپنا مستقبل بھی بناتے ہیں اور اسی کے ساتھ اپنی قوم کا مستقبل بھی۔

ہندوستان کے مسلمانوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ ان کے تمام لیڈر، خواہ وہ بے ریش ہوں یا باریش، سب کے سب اپنی قوم کے حق میں صرف " جھوٹے باپ " ثابت ہوئے ہیں۔ نصف صدی سے کہی زیادہ مدت سے جو کچھ کر رہے ہیں، اس کا خلاصہ ایک لفظ میں یہ ہے کہ مسلمانوں کو یک طرفہ طور پر بے قصور بتا کر ایڈمنسٹریشن کو یک طرفہ طور پر قصور وار ٹھہرانا ہمارے تمام لیڈر بلا استثناء مسلمانوں کے معاملہ میں مسلسل یہی روش اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یہ روش کسی قوم کے لیے ہلاکت سے کم نہیں۔ اس کا نقصان تمام فرقہ وارانہ فسادات میں ہونے والے مجموعی نقصان سے بھی سیکڑوں گنا زیادہ ہے۔ قوم کے قاتل کا لقب اگر صحیح طور پر کسی کے اوپر چسپاں ہوتا ہے تو وہ بلاشبہ یہی مسلم لیڈر ہیں جو قوم کی خیر خواہی کے نام پر قوم کے سب سے بڑے بد خواہ بنے ہوئے ہیں۔

اس قسم کی قومی وکالت قوم کے حق میں حوصلہ کشی کے ہم معنی ہے۔ اس روش کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس نے مسلمانوں سے عمل کا جذبہ چھین لیا ہے۔ اس دنیا میں ہر گروہ ہر حال میں مسائل سے دوچار ہوتا ہے۔ یہ گروہ اگر مسائل کی ذمہ داری خود قبول کرے تو اس کے اندر عمل کا جذبہ ابھرے گا۔ اس کے برعکس اگر وہ اپنے مسائل کی ذمہ داری دوسروں کے اوپر ڈال دے تو قدرتی طور پر اس کے اندر عمل کا محرک ختم ہو جائے گا۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی گروہ کے مسائل کا ذمہ دار دوسروں کو بتانا اس گروہ کو بے عملی کا سبق دینا ہے ، اور ہمارے تمام لیڈر مسلسل یہی مجرمانہ فعل انجام دے رہے ہیں۔ ہر معاملہ میں ایڈمنسٹریشن (انتظامیہ) کو ملزم ٹھہرانا بظاہر بہت خوش کن معلوم ہوتا ہے۔ مگر قوم کو اس کی یہ مہنگی قیمت دینی پڑتی ہے کہ اس کا جذبہ عمل سرد پڑ جاتا ہے۔ اس کے افراد کے اندر یہ مزاج بن جاتا ہے کہ ہم جن کمیوں اور خرابیوں سے دوچار ہیں، اس کے ذمہ دار ہم خود نہیں ہیں بلکہ کچھ دوسرے لوگ ہیں جو ہمیں ان کمیوں اور خرابیوں میں مبتلا کیے ہوئے ہیں۔ یہ نفسیات جن لوگوں کے اندر پیدا ہو جائے وہ " اپنی تعمیر آپ " کی تڑپ سے خالی ہو جاتے ہیں، اور جو لوگ اپنی تعمیر آپ کی تڑپ سے خالی ہو جائیں ان کے لیے مقابلہ کی اس دنیا میں ناکامی کے سوا کوئی اور چیز

مسلم قیادت کی اس مجرمانہ روش کی ایک مثال علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہے۔ میں مسلسل یہ منظر دکھائی دیتا ہے کہ وہاں جو شخص بھی وائس چانسلر ہو کر جاتا ہے۔ شروع میں اس کا استقبال کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد جلد ہی وہ معتوب ہو جاتا ہے۔ اس کے خلاف یونیورسٹی کے مسلم طلبہ ایجی ٹیشن چلاتے ہیں۔ اس ایجی ٹیشن میں مسلم صحافت اور مسلم قیادت بلا استثناء ان کا ساتھ دیتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وائس چانسلر کو بدنامی کا داغ لے کر یونیورسٹی کو خیر باد کہنا پڑتا ہے۔

ایسا کیوں ہوتا ہے۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ وائس چانسلر جب علی گڑھ پہنچ کر قریب سے حالات کو دیکھتا ہے تو وہ پاتا ہے کہ اس " قومی ادارہ " میں بہت سی اندرونی خرابیاں ہیں جو اس کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ وہاں ایسے " نو نہالان ملت " گھسے ہوئے ہیں

جن کو پڑھنے سے زیادہ دادا گیری سے دلچسپی ہے ۔ وغیرہ وغیرہ ۔

وائس چانسلر اس قسم کے عناصر کے خلاف ضروری کارروائی کرتا ہے تاکہ یونیورسٹی کے فاسد عضو کا آپریشن کر کے اس کے بقیہ جسم کو صحت مند بنا سکے ۔ اب جن افراد پر اس اصلاحی عمل کی زد پڑتی ہے ، وہ " اسلام خطرہ میں " اور " یونیورسٹی کا افلیتی کردار خطرہ میں " جیسے جذباتی نعرے لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ وہ اپنے ذاتی مسئلہ کو ایک ملی مسئلہ بنا دیتے ہیں ۔ ہنگامہ بازی کا طریقہ اختیار کر کے یونیورسٹی کی تعلیمی فضا کو درہم برہم کر دیتے ہیں ۔ جب ایسا ہوتا ہے تو ہر بار تمام مسلم قائدین ، خواہ وہ بے ریش قیادت سے تعلق رکھتے ہوں یا باریش قیادت سے ، دوبارہ اسی سبق کو دہرانا شروع کر دیتے ہیں جس کو وہ دوسرے مسلم معاملات میں دہراتے رہے ہیں ۔ وہ وائس چانسلر کو " ایڈ منسٹریشن " کا نمائندہ فرض کر لیتے ہیں اور طلبہ کو " مسلم ملت " کا نمائندہ ۔ اور پھر بلا تحقیق مسلم طلبہ کو معصوم قرار دے کر یک طرفہ طور پر وائس چانسلر کو ملزم ٹھہرانے لگتے ہیں ۔ وہ اپنے الفاظ کے تمام کارتوس اس کے اوپر خالی کر دیتے ہیں ۔

اس صورت حال کا سب سے بڑا نقصان خود یونیورسٹی کو پہنچا ہے ۔ اس نے مسلم یونیورسٹی کے تعلیمی معیار کو مسلمہ طور پر پست کر دیا ہے ۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ اب خود اچھے مسلم خاندانوں کے طلبہ کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی " سیکنڈ چوائس " بن چکی ہے ۔ یعنی اب وہ مسلم یونیورسٹی میں صرف اس وقت داخلہ لیتے ہیں جب کہ انھیں کسی اور یونیورسٹی میں داخلہ نہ ملا ہو ۔ کہ وہ مسلم لیڈر جو اخباری بیان میں مسلم یونیورسٹی کے چیمپین بنے ہوئے نظر آتے ہیں ، وہ بھی اپنے بیٹے بیٹیوں کی تعلیم کے لیے مسلم یونیورسٹی کے بجائے دوسری یونیورسٹیوں کو زیادہ پسند کرتے ہیں ۔

یہ طریقہ جو ہمارے لیڈروں نے اسلام کے نام پر اختیار کر رکھا ہے ، وہ اسلام تو کیا ہوگا وہ غیر اسلام بھی نہیں ہے ۔ کیوں کہ اسلام خوف خداوندی کی زمین پر کھڑا ہوتا ہے اور غیر اسلام حقیقت پسندی کی زمین پر ۔ اور مذکورہ بالا روش کا تعلق نہ خوف خدا سے ہے اور نہ حقیقت پسندی سے ۔

ہندوستان دستور نے مذہبی اقلیتوں کو یہ خصوصی حق دیا ہے کہ وہ حکومت کی اعانت پر اپنے تعلیمی ادارے قائم کر سکیں ۔ اس رعایت کا اطلاق جن مذہبی اقلیتوں پر ہوتا ہے، ان میں سے دو اقلیتیں خاص ہیں۔ ایک مسلمان ، دوسرے عیسائی ۔ چنانچہ دونوں نے اپنے تعلیمی ادارے قائم کیے ہیں جن کو حکومت کے خزانہ سے باقاعدہ طور پر مالی امداد دی جاتی ہے ۔ مگر دونوں اقلیتوں میں انتہائی نمایاں فرق ہے۔ مسلمانوں نے " اقلیتی ادارہ " کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ اس میں مسلم اقلیت کو خصوصی رعایت دی جائے ۔ مثلاً مسلمان لڑکے کے کم نمبر لائیں، حتی کہ فیل ہو جائیں تب بھی انھیں جگہ دی جائے ۔ کسی مسلمان طالب علم کو داخلہ سے محروم نہ کیا جائے ۔ عیسائی حضرات نے اپنے اقلیتی اداروں میں اس کے بالکل برعکس اصول کی پیروی کی۔ یہ کوشش کی کہ اپنے ادارہ کو اعلیٰ ترین تعلیمی معیار پر ترقی دیں۔ مسلمانوں نے اقلیتی ادارہ کا مطلب اقلیتی رعایت کا ادارہ سمجھا تھا۔ مگر عیسائی حضرات نے اقلیتی ادارہ کو اقلیتی آئیڈیل کا ادارہ بنانے پر ساری توجہ لگادی۔ انھوں نے داخلہ کے معاملہ میں حد درجہ سختی اور اصول پسندی کا طریقہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عیسائی تعلیمی ادارے ملک کے سب سے زیادہ اچھے ادارے سمجھے ان کے معیار کے بارہ میں یہ کہنا کافی ہوگا کہ وہ " کرسچین اسکول " ہے۔ ایک طرف مسلمانوں کے تعلیمی ادارے ہیں جو کمتر معیار کے لیے نمونہ بن گئے ہیں ۔ طرف عیسائی حضرات کے تعلیمی ادارے ہیں جو سارے ملک میں بر تر معیار کا نمونہ بنے ہوئے ہیں، حتی کہ اب خود صاحب حیثیت مسلمان بڑی بڑی فیس ادا کر کے اپنے بچوں کو عیسائی تعلیمی اداروں میں داخل کرتے ہیں اور ان کو وہاں کا طالب علم بنا کر فخر محسوس کرتے ہیں ۔ مسلمانوں کا یہ مزاج میرے نزدیک علمی خود کشی کے ہم معنی ہے۔ مسلمان اگر آج کی دنیا میں با عزت زندگی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انھیں اپنے اداروں کو رعایت کی بنیاد پر نہیں بلکہ اصول کی بنیاد پر چلانا ہوگا۔ اور اس پر حد درجہ سختی کے ساتھ عمل کرنا ہوگا تا کہ مسلمانوں کے ادارے اعلیٰ معیار کا نمونہ بنیں۔ حتی کہ سارے ملک میں وہ طالبِ ابن علم کے لیے " فرسٹ چوائس " بن جائیں ۔ نہ کہ " سکنڈ چوائس " یا " تھرڈ چوائس " جیسا کہ آج وہ عملاً بنے

اکثر ایسا ہوا ہے کہ علیگڑھ کے وائس چانسلر کو سفیر یا گورنر بنا دیا گیا۔ اس بنا پر کہا جاتا ہے کہ جو شخص بھی یونیورسٹی میں وائس چانسلر ہو کر آتا ہے، اس کا ذہن یہ بن جاتا ہے کہ نئی دہلی کو زیادہ سے زیادہ خوش کرے تاکہ آئندہ کے لیے اس کی اعزازی سیٹ محفوظ ہو جائے۔ کے وائس چانسلر کے لیے نئی دہلی کو خوش کرنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ وہ یونیورسٹی کا اسٹینڈرڈ بڑھانے کے نام پر داخلوں میں میرٹ کا اصول جاری کر دے۔ چوں کہ ہندو طلبہ تعلیم میں آگے ہیں اس لیے اس اصول کو جاری کرنے کا نتیجہ عملاً یہ ہوتا ہے کہ یونیورسٹی کے تمام اہم شعبوں (سائنس، انجینئرنگ، طب) پر ہندو طلبہ قابض ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ مسلم یونیورسٹی میں ہر سال مسلمانوں کا تناسب گھٹتا جا رہا ہے۔ اس بنا پر علی گڑھ میں مسلمانوں کو رعایتی داخلے ملنے چاہئیں، ان حضرات کو شاید معلوم نہیں کہ پاکستان (سندھ) میں بھی ہندو طلبہ وہاں کے سائنس اور انجینئرنگ اور طب کے شعبوں پر چھائے ہوئے ہیں۔ پھر پاکستان میں کس وائس چانسلر کی "غداری" کی بنا پر ایسا ہو رہا ہے۔

میرے نزدیک اس قسم کا مطالبہ زندگی کا مطالبہ نہیں بلکہ موت کا مطالبہ ہے۔ یہ حقیقت واقعہ سے لڑنا ہے، اور حقیقت واقعہ سے لڑنے والا صرف اپنا سر توڑتا ہے۔ وہ حقیقت واقعہ میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کرتا۔ یہ بالکل یقینی ہے کہ مسلمانوں کے مطالبہ اور احتجاج کے باوجود یونیورسٹی میں یہ عمل جاری رہے گا، جیسا کہ وہ اب تک جاری رہا ہے۔ خواہ یونیورسٹی کا وائس چانسلر خود احتجاجی مہم کے کسی لیڈر کو کیوں نہ بنا دیا جائے ۔ یہ ایک ناقا بل عمل مطالبہ ہے، اور ناقابلِ عمل مطالبہ اس دنیا میں کبھی واقعہ نہیں بنتا۔

یہ مقابلہ کی دنیا ہے۔ یہاں کسی کو زندگی کا مقام صرف استحقاق ثابت کرنے پر ملتا ہے۔ اس دنیا میں صرف وہ شخص کامیاب ہوتا ہے جس کا حال یہ ہو کہ رعایت کی بنیاد پر حق نہ ملے تو وہ امتیاز کی بنیاد پر اپنا حق وصول کرے۔ دنیا اگر اس کو برابری (Equal) کی سطح پر قبول نہ کر رہی ہو تو وہ برابری سے زیادہ (More than equal) کی سطح پر اپنی حیثیت کو منوائے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ حقیقت کو بدلنے کے بجائے خود اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش کریں۔ علی گڑھ میں اگر مسلمان طلبہ کم ہو رہے ہیں تو انھیں اپنی محنت کو بڑھا کر اس کمی پر قابو پانا چاہیے۔ احتجاج اور مطالبہ کے ذریعہ یہ مسئلہ کبھی حل ہونے والا نہیں۔ ۲۸ / رسالہ اپریل ۱۹۸۸ء

Printed page