Al-Risala · April 1988

ایک سفر

Al-Risala, April 1988, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن ہندی سوسائٹی آف انڈیا کی دعوت پر بھوپال کا سفر ہوا۔ ۲۸ نومبر 1987 کی شام کو دہلی سے بھوپال پہنچا، اور ۲۹ نومبر کی شام کو وہاں سے واپسی ہوئی ۔

۲۸ نومبر کو جب میں انڈین ایرلائنز کی فلائٹ نمبر 419 میں داخل ہوا تو اچانک مجھے خیال آیا کہ ہندوستان کے موجودہ وزیر اعظم مسٹر راجیو گاندھی سیاست میں آنے سے پہلے انڈین ایرلائنز کے ایک پائلٹ تھے ۔ وہ عام طور پر دہلی اور بھوپال کے درمیان جہاز چلاتے تھے۔ ان کو ابھی اس قابل نہیں سمجھا گیا تھا کہ انڈین ایرلائنز کی زیادہ لمبی پرواز ان کے حوالے کی جائے یا وہ ایر انڈیا کی انٹرنیشنل پروازوں کی کمانڈ کریں۔ مگر جمہوری سیاست کے قانون نے پورے ملک کا ”جہاز“ ان کے ہاتھ میں دے دیا۔ جمہوری نظام کا یہ معاملہ بھی کیسا عجیب ہے ۔

جہاز میں ایک صاحب داخل ہوئے ۔ ان کو رخصت کرنے کے لیے پولیس کے کئی آدمی آئے ہوئے تھے ۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ کوئی بڑے سرکاری افسر ہیں۔ اتفاق سے ان کی سیٹ میرے پاس تھی ۔ وہ میری نشست سے ملی ہوئی نشست پر بیٹھ گئے ۔ جلد ہی بعد انھوں نے اپنا بیگ کھولا اور اس میں سے ایک موٹی کتاب نکال کر پڑھنے لگے ۔ میں نے ایک نظر ڈالی تو کتاب کا نام یہ تھا :

Printed page