The Secret Wars of the CIA
Al-Risala, April 1988, pp. 32–33
By Maulana Wahiduddin Khan
(سی آئی اے کی خفیہ جنگیں) میں نے سوچا کہ لوگ سی آئی اے کے خفیہ عمل کو جاننے کے شائق ہوتے ہیں مگر فرشتوں کے خفیہ عمل کو جاننے کا کسی کو شوق نہیں ۔ سی آئی اے کے خفیہ عمل کو جاننا آدمی کو صرف ایک تفریحی معلومات دیتا ہے ۔ لیکن اگر آدمی اس عمل کو جان لے جو فرشتے خفیہ طور پر ہر ایک کے چاروں طرف کر رہے ہیں تو وہ تڑپ اٹھے اور اس کی ساری زندگی کچھ سے کچھ ہو جائے ۔
ایک گھنٹے کی پرواز کے بعد ہمارا جہاز بھوپال کی فضا میں پہنچا اور نیچے اترنا شروع ہوا ۔ اب رات ہو چکی تھی ۔ میں نے کھڑکی سے نیچے کی طرف دیکھا تو چاروں طرف بجلی کے قہقہے بے شمار
تعداد میں جگ مگ کر رہے تھے۔ بالکل وہی منظر تھا جو رات کے وقت کھلے آسمان میں ستاروں کی جگمگاہٹ سے پیدا ہوتا ہے۔ تھوڑی دیر کے لیے ایسا معلوم ہوا گویا ہمارا جہاز تاروں بھرے آسمان میں اتر رہا ہو۔
ایک لمحہ کے لیے یہ واقعہ میرے لیے زندگی کے وسیع تر سفر کی تمثیل بن گیا۔ ہم میں سے ہر شخص دنیا سے آخرت کی طرف سفر کر رہا ہے۔ ہر ایک کا "جہاز" تیزی سے رواں ہے تاکہ وہ بالآخر" "آسمان" میں اتر جائے ۔ مگر لوگ صرف پہلے سفر کو جانتے ہیں۔ دوسرے سفر کو جاننے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ ایر انڈیا کے انفلائٹ میگزین نمسکار (جون ۱۹۸۷) میں ایک مضمون حسب ذیل عنوان کے ساتھ شامل ہے :