Bhopal: Old and New
Al-Risala, April 1988, pp. 33–36
By Maulana Wahiduddin Khan
سات صفحہ کے اس مضمون میں مسلم بھوپال کے بارے میں دلچسپ معلومات ہیں۔ اس کا صفحہ ۴۵ سب سے زیادہ سبق آموز ہے۔ اس صفحہ پر شہر بھوپال کا ایریل فوٹو دیا گیا ہے۔ اس تصویر میں بھوپال کی تاج المساجد اس طرح نمایاں طور پر ابھری ہوئی نظر آتی ہے جیسے کہ چھوٹے چھوٹے پیڑوں کے باغ میں یوکلپٹس کے دو اونچے درخت کھڑے ہوئے ہوں ۔
بھوپال ایرپورٹ پر اترا تو وہاں دوسرے صاحبان کے علاوہ حضرت قبلہ پیر سعید میاں مجددی مدظلہ العالی بھی موجود تھے۔ یہ دیکھ کر بہت شرمندگی ہوئی۔ کیوں کہ وہ میرے لیے اور تمام لوگوں کے لیے بزرگ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ واپسی کے وقت بھی وہ از راہ عنایت ایرپورٹ پر دوبارہ ان کی بزرگانہ حیثیت کی بنا پر میں زیادہ اصرار بھی نہیں کر سکتا تھا۔ میرا قیام بھی حضرت قبلہ مدظلہ العالی کی خانقاہ مجددیہ ہی پر رہا۔ دوران قیام کے تجربات اور فیوض کا کچھ تذکرہ اگلے صفحات میں درج ہے ۔
ایک مرتبہ میں نے ایک صاحب کا "سفر نامہ بھوپال" پڑھا۔ انہوں نے لکھا تھا: "شہر میں داخل ہوتے ہی پہلی نظر دو بلند میناروں پر پڑتی ہے جو اس شہر کی عظمت اور وقار کے اکلوتے گواہ ہیں۔ انہیں دیکھ کر ذہن میں اسلامی بھوپال کی تاریخ رقص کرنے لگتی ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ تاج المساجد کے دو مینار سے شہر کے سب سے بلند عمارتی نمونے
اپنی بلندی کے اعتبار سے وہ پورے شہر کی فضا پر چھائے ہوئے ہیں۔ مگر یہ مینار سے بھوپال کے اسلامی دور میں نہیں بنے۔ وہ آزادی کے بعد اس کے سیکولر دور میں، یا زیادہ سخت الفاظ میں، اس کے ہندو دور میں بنائے گئے ہیں۔ اس لحاظ سے ان بلند میناروں کا اصل پہلو یہ نہیں ہے کہ وہ یہ یاد دلاتے ہیں کہ بھوپال کیا تھا، بلکہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ بھوپال کیا ہے۔ یہ مینار نے ماضی کی یادگار کے طور پر نہیں کھڑے ہوئے ہیں، بلکہ وہ مسلمانوں کو علامتی طور پر بتاتے ہیں کہ آج بھی اس ملک میں ان کے لیے یہ موقع کھلا ہوا ہے کہ وہ اپنی عظمت کا مینار بے روک ٹوک تعمیر کر سکیں ۔ وہ حال کے امکان کو بتاتے ہیں نہ کہ صرف گزرے ہوئے ماضی کو۔ ایک صاحب جو شاعر ہیں، انھوں نے بھوپال پر گفت گو کرتے ہوئے کہا : شہر بھوپال کو یہ اعزاز میسر ہے کہ اس نے اپنے سینہ پر قیامت سے پہلے ایک قیامت جھیلی ہے۔ زہریلی قیامت جو ایک ہی رات میں ہزاروں بے گناہوں کی دردناک موت کا سبب بنی اور لاکھوں لوگوں کو زہر آلود کر گئی ۔ قدیم روایتوں اور تہذیب کے اس شہر نے جدید سائنسی دور کے اس تحفہ کو کمال تحمل سے اپنے سینہ پر جھیلا اور کسی سے شکوہ تک نہیں کیا ؟ مذکورہ صاحب کی مراد گیس کے اس حادثہ سے تھی جو بھوپال میں ۳ دسمبر ۱۹۸۴ کو پیش میں نے کہا کہ آپ نے صحیح فرمایا۔ مگر اس کلام میں "اعزاز" اور "جھیلا" جیسے الفاظ میرے ذوق کے مطابق نہیں ۔ اگر میں اس کو کہوں تو میں یوں کہنا پسند کروں گا کہ : اس شہر کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس نے قیامت سے پہلے ایک قیامت کا تجربہ کیا ۔
۲۸ نومبر کی شام کو ٹیگور ہال میں عمومی جلسہ تھا۔ علماء اور رہنماؤں کی بڑی تعداد جمع تھی۔ وسیع ہال پوری طرح بھرا ہوا تھا۔ مختلف لوگوں نے اپنے اپنے انداز میں تقریریں کی۔ کی تقریروں کا موضوع قرآن اور اس کی تعلیمات تھا۔ مسٹر روی پرکاش ماتھر دسابق وائس چانسلر بھوپال یونیورسٹی ) بھی اسٹیج پر موجود تھے۔ مگر میں ان کی تقریر سن نہ سکا۔ میری تقریر کا عنوان قرآن کا عالمی پیغام تھا ۔ میں نے قرآن اور سنت کی روشنی میں تفصیل کے ساتھ اظہار خیال کیا۔ پورا ہال مکمل طور پر بھرا ہوا تھا۔ عوام اور خواص سب نے اس سے غیر معمولی اتفاق کا اظہار کیا۔ جناب پر یم نارائن گپتا ایڈوکیٹ نے اس کو " آسمانی آواز "
قرار دیتے ہوئے اپنی زبان میں کہا : آکاش وانی سے شبد بلیک بورڈ پر لکھے جارہے تھے اور ہم ان کو پڑھ رہے تھے ۔
دوسرے دن ۲۹ نومبر کی شام کو مجھے واپس آنا تھا۔ منتظمین کی فرمائش پر دوبارہ میں نے دس منٹ کی ایک مختصر تقریر کی۔
ریاست کے ایک ہندو منسٹر (شیو بھانو سولنکی) نے اپنی تقریر میں کہا کہ اسلام میں بہت سی خوبیاں ہیں جن کا مجھ کو ذاتی تجربہ ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسلام سے خود میرے گھر کو ایک فائدہ ہوا۔ میرے ایک لڑکے نے انڈسٹری لگانا چاہا۔ میرے پاس جتنی رقم تھی وہ میں نے ان کو دے دی۔ مگر یہ رقم کم تھی۔ مزید سرمایہ فراہم کرنے کے لیے میں نے اپنے ایک مسلمان دوست سے کہا۔ وہ اس کے لیے تیار ہو گئے ۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے مذہب میں سود لینا حرام اس لیے میں رقم تو دوں گا، مگر سود نہیں لوں گا۔ چنانچہ انھوں نے ہم کو بلا سودی قرض اگر میرا لڑکا بینک سے قرض لیتا تو اس کو کافی سود دینا پڑتا، مگر مسلمان کے ذریعہ اس کو سود کے بغیر قرض مل گیا ۔ اس طرح خود میرے گھر نے اسلام کے ایک فائدہ کا تجربہ کیا۔ اسی طرح انھوں نے کہا کہ میں مسلمانوں کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتا ہوں تو مجھ کو یہ بہت اچھی چیز معلوم ہوتی ہے۔ یہ بہترین یوگا ہے۔ اس سے آدمی کی عبادت بھی ہوتی ہے اور اس کا آسن بھی پورا ہو جاتا ہے۔ نماز سے وہ بھی ملتا ہے جو روح کو ملنا چاہیے اور وہ بھی ملتا ہے، جو سر پر کو ملنا چاہیے ۔
مذکورہ ہندو منسٹر کی تقریر سن کر میں نے سوچا کہ اس ملک میں اگر صرف اتنا کیا جائے کہ ہندو مسلمان زیادہ سے زیادہ ایک دوسرے سے قریب ہوں تو سارا مسئلہ اپنے آپ حل ہو جائے۔ وہ کتنے نادان لیڈر تھے جنھوں نے ہندو مسلم مسئلہ کا حل دوری اور علحدگی میں سوچا ۔ وہ قربت اور تعلق میں زیادہ بہتر طور پر موجود تھا ۔
دہلی کے کرنل زائن صاحب نے ایک مرتبہ گفتگو میں یہ بات کہی تھی کہ ضرورت ہے کہ ایک تنظیم " فرینڈز آف اسلام سوسائٹی" کے نام سے بنائی جائے۔ ہندوستان کے اکثریتی فرقہ میں بے شمار ایسے لوگ ہیں جو بظاہر اگر چہ الگ مذہب رکھتے ہیں مگر انھیں اسلام سے گہری
دل چسپی ہے۔ ایسے تمام لوگ اس میں جڑ جائیں گے ۔ اور اس طرح ایک بہت مفید اور دور رس کام کا آغاز ہو سکے گا۔
مذکورہ منسٹر صاحب کی تقریر سن کر یہ خیال آیا کہ اس قسم کی تنظیم وقت کی اہم ترین ضرورت "قرآن ہندی سوسائٹی آف انڈیا" میں ایک طرف اگر مولانا واجد الحسینی اور جناب فاروق ارگلی جیسے لوگ شریک ہیں تو اسی کے ساتھ اس میں شری رام سہائے یا تری جیسے لوگ بھی خلوص دل کے ساتھ شامل ہیں۔ یہ سوسائٹی اگر " فرینڈز آف اسلام سوسائٹی " والے خواب کی تعبیر بن سکے تو یقیناً یہ ملک و قوم کی بہت بڑی خدمت ہوگی ۔
اس اجتماع میں ملک کے مختلف حصوں سے علماء اور دانشور آئے تھے ۔ راقم الحروف کے نقطہ نظر سے اتفاق کیا۔ ایک مقرر (جناب جاوید حبیب صاحب) نے نہایت کھل کر الرسالہ کے نقطہ نظر کی تائید کی ۔
محمد یوسف بھوپالی ندوہ سے فارغ ہیں اور اب حال میں انھوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے امتیاز کے ساتھ ایم اے کا امتحان پاس کیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ پہلے مجھے الرسالہ سے صرف جزئی دل چسپی تھی۔ مگر پچھلے دو سال سے میں نے الرسالہ کو اور آپ کی کتابوں کو غور کے ساتھ پڑھا ۔ اب تو میں الرسالہ کا عاشق ہو گیا ہوں ۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں الرسالہ ہی کا ایک مشن ہے جو خالص قرآن وسنت کی بنیاد پر مسلمانوں کی رہنمائی کر رہا ہے۔ بھوپال کے ہندی اور اردو اخبارات نے ۲۸ نومبر کی تقریر کی نمایاں رپورٹ شائع کی ۔ روزنامہ افکار ( ۲۹ نومبر ۱۹۸۷) کے صفحہ اول پر اس کی جو رپورٹ شائع ہوئی اس کا عنوان انھوں نے ان الفاظ میں قائم کیا تھا :