Al-Risala · April 1988

عہد جدید کی ترقیات کا سہرا حاملین قرآن کے سر ہے

Al-Risala, April 1988, pp. 36–42

By Maulana Wahiduddin Khan

اصل تقریر کی رپورٹ تو بڑی حد تک صحیح تھی ، مگر اس کی مذکورہ سرخی تقریر کی اصل روح کے مطابق نہ تھی ۔ اگر میں خود اس کی سرخی قائم کرتا تو اس کے الفاظ یقیناً دوسرے ہوتے ۔ کیوں کہ اس سرخی میں قومی فخر کی نفسیات جھلک رہی ہے ۔ جب کہ میں نے اپنی تقریر میں اصلاً قرآنی تعلیمات کی عظمت کو بیان کیا تھا نہ کہ کسی قوم کے شاندار کارناموں کو ۔

افکار کے ہندی ایڈیشن میں نسبتاً زیادہ بہتر رپورٹنگ نظر آئی۔

خانقاہ مجددیہ میں بہت قدیم سے یہ روایت ہے کہ ہر اتوار کو ۱۲ بجے دن میں ایک مجلس اس مجلس کو پہلے حضرت شاہ محمد یعقوب مجددی رحمۃ اللہ علیہ خطاب فرمایا کرتے تھے اب ان کے جانشین حضرت پیر سعید میاں صاحب قبلہ اس سے خطاب فرماتے ہیں۔ ۲۹ نومبر کو چنانچہ حسب معمول لوگ کافی تعداد میں جمع ہوگئے ۔ حضرت پیر سعید میاں صاحب قبلہ کے حکم سے میں نے اس مجلس میں ایک تقریر کی ۔ تقریر کا موضوع تعلق باللہ تھا۔ میں نے اپنی ایک گھنٹہ کی تقریر میں شکر اور عبادت کی حقیقت بیان کی۔ اس کا اور دوسری تقریروں کا ٹیپ بھوپال کے بعض اصحاب کے پاس موجود ہے ۔

۲۹ نومبر کو نماز ظہر کے بعد قدسیہ بیگم کی مسجد میں ایک نشست ہوئی ۔ اس میں الرسالہ کے قارئین اور شہر کے باشعور مسلمان شریک ہوئے ۔ اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ۔ اس ملک میں مسلمانوں کا المیہ، ایک لفظ میں یہ ہے کہ مسلمان پانے سے آغاز کرنا چاہتے ہیں ، جب کہ اس دنیا میں زندگی کا راز یہ ہے کہ کھونے سے آغاز کیا جائے ۔ کھیت سے فصل لینے کے لیے پہلے اپنے دانہ کو زمین میں دفن کرنا پڑتا ہے ۔ فائدہ حاصل کرنے کے لیے پہلے اپنے سرمایہ کو دکان میں لگا دینا پڑتا ہے ۔ ایک رہائشی مکان کا مالک بننے کے لیے پہلے یہ کرنا پڑتا ہے کہ اپنی اینٹوں کو بنیاد میں دفن کر دیا جائے ۔ دنیا میں زندگی کا قانون ہے۔ مگر مسلمان اس قانون الہی کو الٹی طرف سے چلانا چاہتے ہیں ۔ چاہتے ہیں کہ کھوئے بغیر پائیں اور دیے بغیر حاصل کریں ، تو مسلمانوں کو جاننا چاہیے کہ ایسا کبھی ہونے والا نہیں۔ مسلمان اپنی اس الٹی جدوجہد میں آزادی کے بعد چالیس سال ضائع کر چکے اگر وہ مزید چالیس ہزار سال تک اپنی یہ الٹی کوشش جاری رکھیں تب بھی انھیں کچھ ملنے والا نہیں ۔ تقریر میں اس نقطۂ نظر کو حوالوں اور مثالوں سے واضح کیا گیا ۔ بھوپال میں میرا قیام خانقاہ مجددیہ میں تھا۔ حضرت مولانا پیر سعید میاں صاحب مجددی کے روحانی فیض اور بابرکت کلمات سے مستفید ہونے کا موقع ملا ۔ حضرت مولانا نے حضرت شاہ محمد یعقوب صاحب مجددی کے بہت سے نہایت قیمتی ملفوظات سنائے۔ ایک ملفوظ یہ تھا :

یہ طبی اصول ہے کہ جب مرض شدید ہو جاتا ہے تو علاج پہلے ہلکی دوا سے شروع کیا جاتا ہے کیوں کہ مرض کی شدت کا اثر دل، دماغ اور اعضائے رئیسہ پر بھی ہوتا ہے اس لیے اگر علاج میں تیز دوا دیدی جائے تو دل، دماغ اور دیگر اعضائے رئیسہ پر ناقابل برداشت اثر مرتب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ لہذا علاج ہلکی دوا سے شروع کیا جاتا ہے پھر حسب ضرورت بتدریج دوا کو تیز کیا جاتا ہے۔ یہی طبی اصول ہے۔

اسی طرح اصلاح نفس میں بھی یہ اصول قائم رکھنا ضروری ہوتا ہے کہ اگر فساد نفس شدید ہو اور طغیانی کی حد تک پہنچ گیا ہو تو طریقہ اصلاح نرم انداز میں شروع کرنا چاہیے۔ اس کا ثبوت قرآں مجید سے حاصل ہورہا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے کہ: اِذْهَبَا إِلَى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى (طہ ۴۴) تم دونوں موسیٰ وہارون) فرعون کے پاس جاؤ بے شک وہ سرکشی پر پہنچ گیا ہے۔ پس اس سے نرم بات کہنا تا کہ وہ نصیحت قبول کرے یا اللہ سے ڈرے۔

یہ اصلاح کی لازمی شرط ہے۔ مگر اس پر عمل کرنے کے لیے صبر و برداشت کی بے پناہ مقدار درکار ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے صبر کی متاع کھودی ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ وقت کے " فراعنہ" کے مقابلہ میں اس اصول کو استعمال نہیں کر پاتے۔

حضرت مولانا نے حضرت شاہ رؤف احمد صاحب (۱۲۵۳ - ۱۲۰۱ھ) کی فارسی کتاب ارکان اسلام" کا ایک صفحہ بتایا جو کہ حسب ذیل تھا :

بزرگی فرموده است که چهار ہزار اشتر کتاب خواندیم و از آنجمله چهار سخن اختیار کردیم۔ یکے آنکہ اے نفس آنچه ترا حق تعالیٰ منع کرده است از آن باز آ و إلا از ملک او بدر شو۔ اے نفس اگر طاعتِ او میکنی بکن و الا روزی او مخور۔ سوم آنکہ اے نفس بر قسمت خویش راضی باش و الا خدائے دیگر طلب کن تا ترا بیشتر دهد۔ چہارم آنکہ اے نفس اگر قصدِ گناہ داری اول جائے بہم رساں کہ ترا حق تعالی نہ بیند و إلا مکن ایک بزرگ نے فرمایا ہے کہ چار ہزار اونٹ کے بوجھ کے برابر میں نے کتا بیں پڑھیں اور ان سے میں نے چار باتیں حاصل کیں ۔ ایک یہ کہ اے انسان، اللہ نے تجھ کو جس چیز سے منع کر دیا ہے

اس کو نہ کر، ورنہ تو اس کے ملک سے باہر چلا جا۔ دوسرے یہ کہ اے انسان، اگر تو اللہ کی اطاعت کرتا ہے تو کر، ورنہ اس کا رزق نہ کھا۔ تیسرے یہ کہ اے انسان، اپنی قسمت پر راضی ہو جا، ورنہ اپنے لیے دوسرا خدا حاصل کر تا کہ وہ تجھ کو زیادہ دے۔ چوتھے یہ کہ اے انسان، اگر تو گناہ کرنا چاہتا ہے تو ایسی جگہ تلاش کر جہاں خدا تجھ کو نہ دیکھے ورنہ گناہ نہ کر۔

انسان اگر سنجیدگی کے ساتھ سوچے تو وہ خدا کی اطاعت کرنے پر مجبور ہے ۔ اس کے سوا کوئی اور راستہ اس کے لیے ممکن ہی نہیں۔

جلسہ میں شرکت کے بعد میں اپنی قیام گاہ (خانقاہ مجددیہ) واپس آچکا تھا کہ اچانک ایک صاحب آئے ۔ بظاہر وہ بالکل سیدھے سادے قسم کے معلوم ہوتے تھے ۔ انھوں نے مجھے ایک بند کاغذ دیا اور اس کے بعد فوراً واپس چلے گئے۔ انھوں نے نہ مزید کچھ کہا اور نہ وہاں ٹھہرے ۔ ان کے چلے جانے کے بعد میں نے کاغذ کو کھولا تو اس پر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے ، حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی طرف سے سلام قبول ہو!

اوپر میں نے جو کچھ نقل کیا ، اس سے زیادہ مجھے اس کے بارے میں اور کچھ نہیں معلوم ہے۔ ایک صاحب ملے۔ انھوں نے اپنا تعارف اس طرح کرایا کہ وہ الرسالہ کے مستقل قاری ہیں اس کے بعد انھوں نے عام طرز کی لمبی چوڑی باتیں شروع کر دیں اور دیر تک بولتے رہے۔ کہا: آپ الرسالہ کے قاری نہیں ہیں۔ آپ نے ابھی وہ چیزیں پڑھی ہیں جو آدمی کو بولنے والا الرسالہ کا قاری تو وہ ہے جس پر چپ لگ جائے ، جو الرسالہ پڑھنے کے بعد یہ محسوس کرے کہ اس کے پاس الفاظ کا ذخیرہ ختم ہو چکا ہے، اور اب اس کے پاس بولنے کے لیے

ایک مجلس میں اسلامی دعوت پر گفتگو تھی۔ میں نے کہا کہ اہم ترین بات یہ ہے کہ ہم یہ جانیں کہ ہمارا تعلق دوسری قوموں سے داعی اور مدعو کا تعلق ہے ۔ نہ کہ حریف اور رقیب کا ایک صاحب نے کہا کہ یہ کوئی خاص بات نہیں ۔ آج کل تو سبھی لوگ دعوت اور داعی اور مدعو کی بات کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ دعوت کسی تقریری مظاہرہ کا نام نہیں ۔ دعوت ایک سنجیدہ ترین عمل ہے۔ دعوت کی اصل بندوں کی خیر خواہی ہے۔ مدعو کو محبوب بنانا پڑتا ہے

اس کے بعد ہی دعوت کے عمل کا آغاز ہوتا ہے۔

یہاں جن صاحبان سے ملاقات ہوئی، ان میں سے ایک مسٹر راج تیواری ہیں ۔ سے الرسالہ انگریزی پڑھ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ الرسالہ نے تو مجھ کو بدل کر رکھ دیا۔ نے کہا کہ مجھ کو آپ ایک آدمی نہ سمجھیے ۔ میرے جیسے بے شمار لوگ ہیں جو کسی سچے پیغام کے منتظر ہیں۔ بس آپ سیٹی بجادیجئے ، اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ یہاں مسافروں سے لدی ہوئی ایک پوری گاڑی چل پڑی ہے ۔

ایک مجلس میں میں نے کہا کہ کسی بات کو واقعی طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی پیشگی طور پر کچھ باتوں کو جانتا ہو۔ مثلاً اگر میں کہوں کہ ” میں دہلی سے آیا ہوں “ تو آپ کو پہلے سے اس کا علم ہونا چاہیے کہ ” دہلی “ کیا ہے۔ اگر آپ ” دہلی “ سے واقف نہ ہوں تو آپ میرے جملہ کو ٹھیک طور پر سمجھ نہیں سکتے۔

بھوپال کا سفر مختصر ہونے کے باوجود خدا کے فضل سے کافی مفید رہا اور اس کا کریڈٹ تمام تر ڈاکٹر حمید اللہ ندوی کو جاتا ہے ۔ وہ دس برس سے پابندی کے ساتھ الرسالہ کو پھیلا رہے ہیں ۔ اور انھوں نے تقریباً پورے بھوپال کے لوگوں کو الرسالہ کے مشن سے متعارف کرا دیا ہے۔ چنانچہ میں بھوپال پہنچا تو وہاں وہ ذہنی پس منظر پوری طرح موجود تھا جو الرسالہ کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے ۔ اس چیز نے بھوپال کے سفر کو توقع سے زیادہ کامیاب بنا دیا۔ ایک صاحب نے اخبار ریڈینس (۲۹ نومبر، 1987) پیش کیا اور کہا کہ دیکھیے خود مسلمان ہی اسلام کو مٹانے پر تلا ہوا ہے، پھر ہم غیروں سے کیا امید کر سکتے ہیں ۔ اس اخبار کے ایک مضمون میں بتایا گیا تھا کہ جموں اور کشمیر کے مسلم وزیر اعلیٰ اسلام دشمن ہیں ۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ کشمیر میں اسلام پسند جماعت نے ایک سو سے زیادہ اسلامی اسکول قائم کر رکھے ہیں اور ڈاکٹر فاروق عبداللہ ان کو طاقت سے بند کر دینا چاہتے ہیں :

The Chief Minister has received his anti-Islamic legacy from his late father who struck a deadly blow to the Islamic education in 1975. میں نے کہا کہ یہ ایک غیر حقیقت پسندانہ اندازِ فکر ہے۔ اور اسی غیر حقیقت پسندانہ اندازِ فکر

نے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو برباد کر رکھا ہے۔

عربی کا ایک مقولہ ہے : تُعْرَفُ الْاَشْيَاءُ بِاَضْدَادِهَا (چیزیں اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں) مذکورہ واقعہ میں بھی اس کا ایک ضد پایا جاتا ہے ۔ آپ اس کے ضد کو ملا کر دیکھیے، اس کے بعد ہی آپ اس معاملہ میں صحیح رائے قائم کر سکتے ہیں۔ ایک طرف یہ واقعہ ہے کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ اسلام پسند جماعت کے اسلامی اسکولوں کو بند کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ دوسری طرف ہمارے سامنے یہ واقعہ آتا ہے کہ یہی ڈاکٹر فاروق عبداللہ مسلم یونیورسٹی علیگڑھ جاتے ہیں اور وہاں وہ یونیورسٹی کے لیے پانچ لاکھ روپیہ سالانہ کے عطیہ کا اعلان کرتے ہیں۔ تاکہ غریب مسلم طلبہ کو مدد دے کر انھیں تعلیم میں آگے بڑھایا جا سکے (اخبار نو ۵ نومبر 1987) اب سوچنے کی بات ہے کہ ایک ہی شخص کیوں ایسا کرتا ہے کہ ایک طرف وہ کشمیر کی " اسلامی درسگاہ" کو کچلنا چاہتا ہے اور دوسری طرف وہی شخص علی گڑھ کی " اسلامی درسگاہ " کی ترقی کے لیے گراں قدر مستقل رقم پیش کر رہا ہے۔ اس کا راز یہ ہے کہ علی گڑھ کی اسلامی تعلیم گاہ اس کی سیاسی حریف نہیں۔ جب کہ کشمیر کی اسلامی تعلیم گاہ ریاست کے الیکشن ۱۹۷۵ اور اس کے بعد موجودہ الیکشن ( مارچ 1987) میں اس کی سیاسی مخالفت کا اڈا بنی رہی ۔ یہ عین وہی چیز ہے جس کی روایت سب سے پہلے اس ملک میں اس شخص نے قائم کی جس کو آپ سب لوگ " عالمگیر رحمتہ اللہ علیہ" کہتے ہیں۔ اور نگ زیب عالم گیر نے کچھ عبادتخانوں کو جاگیریں دیں اور دوسرے عبادتخانے ایسے بھی ہیں جن کو اس نے ڈھادیا۔ اس فرق کا سبب یہی تھا کہ جو عبادتخانہ صرف عبادتخانہ تھا۔ اس کے ساتھ اور نگ زیب عالمگیر نے تعاون کا معاملہ کیا۔ اور جو عبادتخانہ اس کی سیاسی مخالفت کا اڈہ بنا ہوا تھا اس کو اس نے منہدم کرادیا۔

اس دنیا میں کوئی بھی شخص اپنے حریفوں کو نہیں بخشتا۔ خواہ وہ سیکولر قسم کے لیڈر ہوں یا مقدس اسلامی رہنما۔ جو لوگ اس دنیا میں کوئی واقعی کام کرنا چاہتے ہیں، ان پر لازم ہے کہ سب سے پہلے زندگی کی اس حقیقت کو جانیں ، اس کے بعد وہ میدان عمل میں اپنا قدم رکھیں ۔ جناب سلیم شمسی صاحب (پیدائش ۱۹۴۶) نے بتایا کہ جس زمانہ میں جن سنگھ کو ختم کر کے بھارتیہ جنتا پارٹی بنائی گئی تھی اٹل بہاری باجپئی مسلم موافق تقریریں کرنے لگے تھے۔ سلیم شمسی صاحب نے ان سے ایک

ملاقات کے دوران کہا کہ پہلے تو آپ مسلم مخالف تقریریں کرتے تھے۔ اب آپ کا لہجہ بدل گیا ہے۔ نے مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے ایسا ہے۔ اٹل بہاری باجپئی نے اس کو سن کر کہا : "میاں ، آدمی نہیں بولتا ، پلیٹ فارم بولتا ہے"

اٹل بہاری باجپئی کے اس جواب پر ایک تاثر یہ ہو سکتا ہے کہ یہ بے اصول سیاست یا زیادہ سخت لفظوں میں منافقت ہے۔ مگر میں نے اس کو سنا تو میرے دل نے کہا کہ ہم کو ان کی اس کمزوری کو مانتے ہوئے یہ کرنا چاہیے کہ ایسا پلیٹ فارم ، وجود میں لائیں جہاں آدمی ہمارے موافق بولنے پر مجبور ہو جائے۔

اس بات کی ایک دلچسپ مثال اسی جلسہ میں شیعہ رہنما جناب پرنس انجم قدر صاحب نے پیش انھوں نے کہا کہ ایک مرتبہ ہمارے شہر میں ایک مشہور سنی عالم آئے۔ ہم نے ان کو اپنے امام باڑہ میں بلا کر استقبالیہ دیا اور ان سے تقریر کرائی۔ وہ تقریر کے لیے کھڑے ہوئے تو انھوں نے اس حدیث کو اپنی تقریر کا موضوع بنایا : تَرَكْتُ فِیْکُمُ الثَّقَلَیْنِ كِتَابَ اللَّهِ وَعِتْرَتِي ۔ اور اہلِ بیت کی فضیلت پر شاندار تقریر کی۔ اس سنی عالم کے شہر والے شیعہ حضرات کو معلوم ہوا تو انھوں نے پرنس انجم قدر صاحب سے کہا کہ یہ سنی عالم ہمارے یہاں تو دوسرے قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ قدر نے جواب دیا : تم ان کے ساتھ جیسا کیا کرتے ہو ویسا وہ تمہارے ساتھ کرتے ہیں، ہم نے ان کے ساتھ جیسا کیا ویسا انھوں نے ہمارے ساتھ کیا ۔ واضح ہو کہ سنی علماء کے نزدیک زیادہ صحیح اور مستند روایت وہ ہے جس کے الفاظ یہ ہیں : تَرَكْتُ فِيْكُمُ أَمْرَينِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُم بِهِمَا كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ رَسُوْلِهِ)

Printed page