Al-Risala · January 1988

شیطان کی پیروی

Al-Risala, January 1988, pp. 18–19

By Maulana Wahiduddin Khan

روایات میں آتا ہے کہ ایک بار حضرت عمر فاروق مدینہ کی مسجد نبوی میں آئے تو دیکھا کہ صحابہ وہاں بیٹھے ہوئے ہیں اور یہ ذکر کر رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔ اگرچہ اس بات کو بیان کرنے والے صحابہ کرام تھے اور یہ بات مسجد نبوی جیسے مقدس مقام پر بیان ہو رہی تھی، مگر حضرت عمرؓ نے اس سے انکار کیا کہ وہ محض سن کر اس کو مان لیں۔ انھوں نے کہا کہ میں اس کے بارہ میں اس وقت تک کوئی رائے نہیں دے سکتا جب تک خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست دریافت نہ کر لوں۔ چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہائش گاہ پر آئے اور دروازہ پر کھڑے ہو کر آواز آپ سے اجازت لے کر اندر داخل ہوئے اور مذکورہ خبر بیان کر کے اس کی اصل حقیقت آپ نے فرمایا کہ نہیں، میں نے طلاق نہیں دی ہے۔ حضرت عمر اس کے بعد دوبارہ مسجد نبوی میں آئے اور اس کے دروازے پر کھڑے ہو کر بلند آواز سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عورتوں کو طلاق نہیں دی ہے۔ اس پر قرآن میں یہ آیت اتری :

وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا اور جب ان کو کوئی بات امن یا خوف کی پہنچتی ہے بِهِ ۖ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ تو وہ اس کو پھیلا دیتے ہیں۔ اور اگر وہ اس کو مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ رسول تک یا اپنے ذمہ دار اصحاب تک پہنچاتے وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَاتَّبَعْتُمُ تو ان میں سے جو لوگ تحقیق کرنے والے ہیں وہ اس کی حقیقت کو جان لیتے ۔ اور اگر تم پر اللہ کا الشَّيْطَانَ إِلَّا قَلِيلًا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تھوڑے لوگوں

کے سوا تم سب شیطان کے پیچھے لگ جاتے۔

آج کل فساد یا فرقہ وارانہ خبروں کے معاملہ میں تمام مسلمان اس اسلامی تعلیم کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ میری معلومات کے مطابق شاید چند مسلمان بھی اس ملک میں ایسے نہیں ہیں جو ہند و تعصب یا فرقہ وارانہ فساد کی کوئی خبر سنیں تو اس کی پوری طرح تحقیق کریں اور اس کے

تمام متعلقہ پہلوؤں کی جانچ کے بعد اپنی رائے قائم کریں۔ ہر ایک کا یہ حال ہو رہا ہے کہ ہندو یا حکومتی شعبوں کے بارے میں جو کچھ سنا اس کو مان لیا اور فوراً ہی اس کو پھیلانا شروع کر دیا۔ آج کل کسی بات کو پھیلانے کا سب سے بڑا ذریعہ اخبارات ہیں۔ اس اعتبار سے مسلمانوں کے اردو اخبارات کو دیکھئے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اسی ممنوعہ عمل کی ایجنسی بن گئے ہیں۔ نے آج کل بے شمار اخبارات نکال رکھے ہیں، ان اخبارات کا مشترک کاروبار یہی ہے کہ ہندو۔ مسلم مسائل سے متعلق کوئی بات پا جائیں تو فوراً اس کو بڑھا چڑھا کر چھاپیں اور اس کو زیادہ سے زیادہ سنسنی خیز بنا کر لوگوں کے سامنے پیش کریں۔

صحابہ کرام سے تو اس قسم کی ایک معمولی لغزش محض وقتی طور پر ہو گئی تھی۔ اور تنبیہہ کے بعد وہ فوراً پلٹ آئے۔ مگر اس ملک کے مسلمان نصف صدی سے اسی قسم کی صحافت میں گم ہیں۔ اس قسم کو موجودہ زمانہ میں زرد صحافت (ایلو جرنلزم) کہا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے ایک طبقہ نے اس زرد صحافت کو نہایت نفع بخش کاروبار سمجھ کر اختیار کر رکھا ہے۔ مگر انھیں جاننا چاہیے کہ یہ عین وہی جرم ہے جس کو قرآن کی مذکورہ بالا آیت میں اتباعِ شیطان کہا گیا ہے۔ مذکورہ آیت میں کہا گیا ہے کہ جب کوئی اہم خبر ملے تو اس کو رسول کی طرف اور اصحاب امر کی طرف لوٹاؤ۔ اس سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں۔

ایک یہ کہ ایسی ہر خبر کو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین اور آپ کی چھوڑی ہوئی سنت کی روشنی میں جانچنا چاہیے، اور اسی کی روشنی میں اس کے بارہ میں اپنا رویہ متعین کرنا چاہیے۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس طرح کے امور میں وہ سنت رسول کی پابندی کریں نہ یہ کہ قومی جذبات جدھر چلنے کا تقاضا کریں اسی طرف تمام لوگ چل پڑیں۔ دوسری چیز اصحاب امر کی طرف رجوع کرنا ہے۔ اس حکم کی تعمیل اسی وقت ہو سکتی ہے جب کہ مسلمانوں کے درمیان "اصحابِ امر" کا وجود ہو۔ اس لیے مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اس کا اہتمام کریں۔ اگر با اختیار اصحاب امر موجود نہ ہوں تو رضا کارانہ بنیاد پر اپنے درمیان اصحاب امر کو وجود میں لائیں اور تمام اہم امور میں اسی اجتماعی ادارہ کے فیصلہ کی پیروی کریں نہ کہ اپنی انفرادی رائے کی۔

Printed page