To put it plainly, they work harder.
Al-Risala, May 1988, pp. 8–9
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ لوگ تعلیم کو اپنے لیے کامیابی کا ٹکٹ (Ticket to success) سمجھتے ہیں۔ امریکہ کا تعلیمی نظام ان کے لیے کامیابی کا یقینی ٹکٹ ثابت ہوا ہے۔ اس ٹکٹ کو حاصل کرنے کے لیے انھوں نے جو قیمت ادا کی ہے وہ ایک لفظ میں امتیاز (Excellence) ہے۔ اپنے اس عمل سے انھوں نے امریکہ میں نمونہ کی اقلیت (Model minority) کا درجہ حاصل کر لیا ہے۔ تاہم امریکہ میں ان کے لیے راستہ بالکل کھلا ہوا نہیں تھا۔ ان کو نسلی امتیاز اور حقارت آمیز سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکی نوجوان ان کا مذاق اڑاتے اور ان کو زرد خطرہ (Yellow peril) کہتے۔ حتی کہ جسمانی طور پر مارنے پیٹنے کے واقعات بھی ہوتے رہے۔ مگر ایشیائی امریکیوں نے اس کے مقابلہ میں کسی بھی قسم کا رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ وہ شکایت اور احتجاج کے طریقہ سے مکمل پرہیز کرتے رہے۔ اس کے جواب میں انھوں نے جو کچھ کیا وہ صرف یہ تھا کہ انھوں نے اپنی محنت کی مقدار بڑھادی۔ ان کے والدین نے ان کے جذبات کو جوابی اشتعال سے بچایا اور اس کو جوابی محنت کے رخ پر ایشیائی خاندانوں میں تعلیم ایک قسم کا ہوس (Obsession) بن کر چھا گئی۔ امریکیوں کے گھروں کی فضا یہ ہو گئی کہ اگر ان کا لڑکا ۸۰ فی صد نمبر لائے تو وہ کہیں گے کہ ۸۵ فی صد اور اگر لڑکا 85 فی صد نمبر لائے تو اس کا باپ کہے گا کہ تم ۹۰ فی صد بھی تو لا سکتے
کسی گروہ کو مسائل کا سامنا ہو تو اس کے لیے اپنے مسئلہ کو حل کرنے کی دو صورتیں ایک وہ جس کا نمونہ ہم کو ہندوستان میں نظر آتا ہے۔ یعنی مطالبہ اور احتجاج۔ طریق کار پر چلنے میں بیک وقت دو نقصانات ہیں۔ ایک یہ کہ اصل مسئلہ حل ہونے کے بجائے اور پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ اس دنیا میں ہر چیز عمل کے ذریعہ ملتی ہے نہ کہ مطالبہ کے ذریعہ۔ اور جو چیز عمل کے ذریعہ ملتی ہو اس کو مطالبہ کے ذریعہ حاصل کرنے کی کوشش کرنا اس کو دور سے دور تر کر دینا ہے۔ دوسری بات یہ کہ ایسا گروہ دوسروں کی نظر میں بے عزت ہو جاتا ہے۔ احتجاج کا مطلب اپنے مسائل کا بوجھ دوسروں کے اوپر ڈالنا ہے، اور کون ہے جو اپنے مسائل کا بوجھ دوسروں کے اوپر ڈالنے کے بعد دوسروں کی نظر میں حقیر اور بے عزت نہ ہو جائے۔
اس کے برعکس مثال امریکہ کے ایشیائی امریکی گروہ کی ہے۔ انھوں نے اپنے مسئلہ کا حل یہ دریافت کیا کہ وہ اس کی ساری ذمہ داری خود قبول کریں۔ وہ اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہوں۔ آخری حد تک پر امن رہتے ہوئے دوسروں سے زیادہ محنت کریں۔ ان کا تجربہ بتاتا ہے کہ اس طرح عمل کرنے کے نتیجہ میں ان کا مسئلہ مکمل طور پر حل ہو گیا ، بلکہ انھوں نے اپنے عددی تناسب سے زیادہ بڑا حصہ اپنے لیے پا لیا۔
منفی رویہ اختیار کرنا گویا اپنے مسئلہ کا بوجھ دوسرے کے سر پر ڈالنا ہے ، اور مثبت رویہ کا مطلب اپنے مسئلہ کی ذمہ داری خود قبول کرنا۔ اس لیے مثبت رویہ اختیار کرنے کا مزید فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے لوگ سماج میں کوئی پیچیدگی پیدا کرنے کا سبب نہیں بنتے ۔ چنانچہ ایشیائی امریکیوں نے جب مثبت انداز سے اپنے مسئلہ کو حل کرنے کی راہ نکالی تو وہ امریکی سماج میں مزید مساندوں کو ظہور میں لانے کا ذریعہ بن گئے ۔
اول یہ کہ انھوں نے امریکی نوجوانوں کے درمیان مسقت الہ و مسابقت کی فضا پیدا کی۔ نوجوان جو اپنے کو محفوظ سمجھ کر محنت میں کمی کرنے لگے تھے ، ان کے اندر یہ جذبہ ابھر آیا کہ اگر انھیں زندہ رہنا ہے اور ترقی کرنا ہے تو ان کو بھی ایشیائیوں کی طرح زیادہ محنت کرنی پڑے گی ۔ ٹائم کی رپورٹ کے مطابق ، خود امریکی دانشوروں کو اعتراف کرنا پڑا کہ ایشیائی امریکیوں نے ہمارے نوجوانوں کی سستی کو ختم کر کے ان کو از سر نو چست بنا دیا ہے۔ ہمارے سماج میں ان کی موجودگی ہمارے لیے ایک عظیم رحمت ہے: