Al-Risala · May 1988

Thank God for the Asians. They're bringing back

Al-Risala, May 1988, pp. 10–11

By Maulana Wahiduddin Khan

ایشیائی امریکی گروہ کو دوسرا فائدہ یہ ملا کہ جب انہوں نے معاشی عزت حاصل کی تو ان کی تہذیب بھی لوگوں کی نظر میں با عزت بن گئی۔ ان کی قومی روایات امریکیوں کی نظر میں محترم بن گئیں ۔ یہ ایشیائی امریکی لوگ کنفیوشش کو اپنا مذہبی پیشوا مانتے ہیں ۔ جب ایشیائی امریکیوں کی ایک قابل تعریف خصوصیت امریکہ کے سامنے آئی تو انہوں نے ان کی اس خصوصیت کو ان کے قومی بزرگ (کنفیوشش) سے جوڑ دیا۔ ایشیائی امریکیوں کے ممتاز عملی نے امریکیوں کی نظر میں ان کے مذہب اور ان کی تہذیب کو قابل توجہ بنا دیا۔ اسپان کی رپورٹ کے مطابق، نیو یارک یونیورسٹی کے صدرنٹ نے کہا کہ جب میں اپنے ایشیائی طلبہ کو دیکھتا ہوں تو مجھے یقین ہوتا ہے کہ ان کی کامیابی زیادہ تر کنفیوشش کی تعلیمات کا نتیجہ ہے :

ایشیائی مهاجرین کا مقابلہ جہاں عام امریکیوں سے پیش آتا ہے ، وہ ان کے مقابلہ میں زیادہ لائق (Overqualified) ثابت ہوتے ہیں ۔ اس طرح وہ عام امریکیوں کے لیے ایک ہھیز یا چیلنج بن گئے ہیں ۔ وہ امریکی نوجوانوں میں محنت کا نیا جذبہ ابھارنے کا ذریعہ ثابت ہورہے ہیں ۔ ایشیائی مہاجرین نے ممثبت طور پر اپنا ذاتی مسئلہ حل کیا تھا ، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ امریکی سماج کا اپنا مسئلہ بھی حل ہو گیا ۔

ایشیائی مهاجرین نے امریکہ میں صرف ایک نسل کے اندر وہ کامیابی حاصل کی ہے جس کو عام طور پر لوگ تین نسلوں میں حاصل کرتے ہیں ۔ ان کی اس غیر معمولی کامیابی نے امریکہ میں ایک نئی اصطلاح پیدا کی ہے جس کو ایشیائی اخلاقیات عمل (Asian work ethics) کہا جاتا اب وہاں کہا جانے لگا ہے کہ اگر اعلی ترقی حاصل کرنا ہے تو ایشیائی اخلاقیات عمل کو اختیار

یہی دروازہ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے بھی زیادہ بڑے پیمانے پر کھلا ہوا ہے۔ اگر ان قومی جھگڑوں کو چھوڑ دیں جن میں ان کے سطحی لیڈروں نے انھیں بے فائدہ طور پر الجھا رکھا ہے ، اور وہ اسلام کے دیئے ہوئے ابدی اصولوں پر اپنی زندگی کی ثبت تعمیر شروع کر دیں تو

اس ملک میں وہ نئے انقلاب کا ذریعہ بن سکتے ہیں ۔ اس طرح مسلمان نہ صرف اپنا مسئلہ حل کریں گے بلکہ وہ اس ملک کو ایک نیا معیار دیں گے جس کو ایک ایک لفظ میں (Muslim work ethics) (مسلم اخلاقیات) کہا جا سکتا ہے ۔ اور جب ایسا ہوگا تو مسلمان اس ملک میں سرمایه (Asset) بن جائیں گے جو کہ اس وقت ملک کے لیے صرف ایک بوجھ (Liability) بنے ہوئے ہیں ۔ ہندوستان کے مسلمان ابھی تک تہذیبی تشخص (Cultural identity) حاصل کرنے کے لیے مطالباتی تحریکیں چلانے میں مشغول رہے ہیں ۔ میرے نزدیک اس قسم کی تمام کوششیں سراسر بے فائدہ ہیں ۔ کیوں کہ تہذیبی تشخص اپنی داخلی قوت سے قائم ہوتا ہے ، وہ مطالبہ کرکے حاصل نہیں کیا جاتا ۔

زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ مسلمان اخلاقی تشخص کو اپنا نشانہ بنائیں ۔ اسلامی اخلاق اختیار کرنے کو اپنا نشان امتیاز قرار دیں ۔ مسلمان اگر اخلاقی حیثیت سے اپنا تشخص قائم کرسکیں تو وہ تہذیبی حیثیت سے بھی اپنے آپ اپنا تشخص پالیں گے جس کے لیے وہ بے فائدہ طور پر مطالباتی مہم چلانے میں مشغول ہیں ۔ میوات کا سفر میوات کے تاریخی علاقہ پر بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ مگر میوات کا سفر اپنی نوعیت کی منفرد کتاب ہے۔ وہ سادہ معنوں میں صرف ایک علاقہ کا تذکرہ نہیں ، وہ ۲۰ سالہ مشاہدہ کا ایک تحریری براہ راست طور پر اگرچہ وہ علاقہ میوات کی ایک تصویر ہے۔ مگر بالواسطہ طور پر وہ پوری ملت اسلامیہ سے تعلق رکھتی ہے۔ وہ سفر نامہ کی زبان میں ملت کے حال کا جائزہ اور اس کے مستقبل کی تعمیر کا نقشہ ہے۔

Printed page