جن اور عملیات
Al-Risala, January 1988, pp. 20–44
By Maulana Wahiduddin Khan
عوام میں یہ عقیدہ پھیلا ہوا ہے کہ جنات انسانوں کے اوپر قابو پالیتے ہیں اور انھیں پریشان یہ عقیدہ بالکل لغو ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کے لیے کوئی بُنیاد موجود نہیں۔ قرآن سے ثابت ہے کہ شیطان جنوں میں سے ایک جن ہے (فسجدوا الا ابليس كان من الجن ، الكهف ۔ ۵ ) اور شیطان کے بارہ میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ اس کو انسانوں کے اوپر کوئی عملی اختیار حاصل نہیں :
ان عبادی ليس لك عليهم سلطان الأمن جو میرے بندے ہیں ، ان پر تیرا کوئی زور نہیں مگر اتبعك من الغاوين ( الحجر ۴۲ ) وہ جو تیری راہ چلا بھٹکے ہوئے لوگوں میں سے ۔ یہی بات قرآن میں دوسرے مقام پر ان الفاظ میں ہے کہ شیطان کو ان لوگوں پر کوئی اختیار نہیں جو ایمان والے ہیں اور اللہ پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ شیطان کا اختیار صرف ان لوگوں پر ہے جو اس کو اپنا دوست بنائیں (اِنَّهٗ ليس له سلطان على الذين آمنوا وعلى ربهم يتوكلون ۔ سلطانه على الذين يتولونه ، النحل )
غیر اہل ایمان پر بھی شیطان کو عملی یا جسمانی اعتبار سے کوئی اختیار نہیں۔ ان پر بھی اس کو صرف بہکانے کا اختیار ہے۔ جو لوگ معرفت حق سے خالی ہوں اور جو توہم پرستی میں مبتلا ہوں ان کو بہکانے میں شیطان کامیاب ہوجاتا ہے۔ یہی اس کی آخری حد ہے۔ چنانچہ قیامت کے دن شیطان اپنے پیروؤں سے کہے گا کہ مجھے تمہارے اوپر کوئی اختیار نہ تھا۔ الا یہ کہ میں نے تمہیں پکارا تو تم نے میری بات سنی ( وما كان لى عليكم من سلطان الا ان دعوتكم فاستجبتم لى، ابراهيم ) سورہ ابراہیم کی مذکورہ آیت ( ۲۲ ) کی تشریح علامہ ابو البرکات عبد اللہ بن احمد بن محمود النسفی نے ان الفاظ میں کی ہے :
وما كان لى عليكم من سلطان ) من تمہارے اوپر مجھے سلطان نہ تھا " کا مطلب یہ ہے سلط و اقتدار ( الا ان دعوتکم ) کہ تمھارے اوپر مجھے کوئی تسلط اور اقتدار حاصل لكنى دعوتكم الى الضلالة بوسوستی وتزيینی نہ تھا۔ " الا یہ کہ میں نے تمہیں پکارا"۔ یعنی میں نے
(فَاسْتَجَبْتُ لَهُ، فَاسْرَعْتُم اجابتِی) تم کو گمراہی کی طرف وسوسہ اور تزئین کے ذریعہ التفسیر النسفی، الجز الثانی، صفحه ۲۶۰ بلایا۔ " تو تم نے میری پکار پر لبیک کہا " یعنی تم میری پکار پر دوڑ پڑے۔
شیطان کیا ہے، وہ ایک جن ہے۔ بلکہ وہ جنوں کا سردار ہے۔ قرآن کے مطابق اس کو انسان کے اوپر کوئی عملی یا جسمانی اختیار حاصل نہیں۔ جب قرآن کا بیان یہ ہے تو ایسے تمام خیالات باطل اور لغو ہیں جن میں یہ فرض کیا گیا ہو کہ شیطان (یا جنات) آدمی کے اوپر آتے ہیں اور وہ انسان کو جسمانی طور پر مغلوب کرکے اس کو اپنے قابو میں کر لیتے ہیں۔ شیطان (یا جنات) آدمی کو صرف بہکا سکتے ہیں، اس سے زیادہ کچھ اور کرنے پر وہ قادر نہیں۔
اسی طرح یہ خیال بھی سراسر لغو ہے کہ انسان عملیات کے ذریعہ جنوں کو مسخر کر لیتا ہے او ران سے بڑے بڑے کام لیتا ہے۔ قرآن وحدیث کے پورے ذخیرہ میں اس قسم کے عقیدہ کے لیے کوئی بنیاد موجود نہیں۔ جنات کی تسخیر کا عقیدہ دراصل یہود کی خرافات ہے۔ یہ یہود سے دوسرے قوموں میں بھی آگیا ہے۔ یہود نے حضرت سلیمان کے معاملہ کی غلط تشریح کرکے جن کی تسخیر اور عملیات کافن ایجاد کیا اور اس کو بے بنیاد طور پر مذہبی حیثیت دیدی۔
حضرت سلیمان علیہ السلام بنی اسرائیل کے مشہور پیغمبر اور بادشاہ ہیں ۔ ان کا زمانہ دسویں قبل مسیح ہے۔ انھوں نے تقریباً چالیس سال تک حکومت کی ۔ ان کا پایہ تخت یروشلم تھا، شام و کے علاوہ آپ کی سلطنت کے حدود ایک طرف فرات تک اور دوسری طرف مصر کی سرحد تک پھیلے حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کی سلطنت (۹۳۰ - ۱۰۰۰ ق م ) کانقشہ انسائیکلوپیڈیا برطانیہ (۱۹۸۴) جلد ۱ صفحه ۴۳۳ پر دیکھا جاسکتا ہے ۔
قرآن کے بیان کے مطابق حضرت سلیمان کو غیر معمولی طاقتیں حاصل تھیں ۔ ہوا ان کے تابع جنات ان کے لیے مسخر کر دیے گئے تھے۔ وہ جانوروں کی بولیاں سمجھتے تھے ۔ وہ غیر معمولی واقعات ظہور میں لانے پر قادر تھے۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کو یہ چیزیں پیغمبر کی حیثیت سے دی گئی تھیں۔ مگر یہودیوں میں ایک طبقہ پیدا ہوا جو یہ کہتا تھا کہ سلیمان جو غیر معمولی کام کرتے ہیں وہ سب جادو کے زور پر کرتے ہیں
یہ ذہن یہودیوں میں اتنا بڑھا کہ وہ حضرت سلیمان کی پیغمبری کے منکر ہو گئے۔ وہ کہنے لگے کہ سلیمان جادوگر تھے نہ کہ پیغمبر۔ چنانچہ موجودہ بائبل میں حضرت سلیمان کے بارہ میں جو باب ہے وہ نہ صرف یہ کہ آپ کو پیغمبر کی حیثیت سے پیش نہیں کرتا بلکہ اس کو پڑھ کر آپ کے کردار کے بارہ میں بھی کوئی اونچی تصویر نہیں بنتی :
لما ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم فيما نزل جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ذکر کیا عليه من الله سليمان بن داؤد وعدّه فيمن عد جو سلیمان بن داؤد کے بارہ میں آپ پر اترا تھا من المرسلين . قال من كان بالمدينة من اليهود اور ان کو پیغمبروں میں سے شمار کیا تو مدینہ کے الا تعجبون من محمد يزعم ان ابن داؤد كان یہودیوں نے کہا کہ کیا تم محمد پر تعجب نہیں کرتے۔ نبياً والله ما كان الا ساحرا ان کا گمان ہے کہ ابن داؤد نبی تھے۔ خدا کی قسم (تفسیر ابن کثیر، الجزء الاول ، صفحه ۱۳۷) وہ تو صرف ایک جادوگر تھے۔
یہودیوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم زمانہ میں انہوں نے جادو اور عملیات کا زبردست کاروبار پھیلا رکھا تھا۔ جیوش انسائیکلو پیڈیا میں اس کا تفصیلی ذکر ہے ، اس سلسلہ میں مقالہ نگار نے یہ الفاظ لکھے ہیں :
Adultry and sorcery have destroyed everything, the Majesty of God departed from Israel. Exorcism also flourished. The Greco-Roman world regarded the Jews as a race of Magicians. Jewish Encyclopedia, Vol. VII, p. 255. بدکاری اور جادو نے ہر چیز کو برباد کر دیا تھا۔ خدا کی عظمت اسرائیل سے رخصت ہو گئی تھی۔ پھونک بھی ان کے درمیان کثرت سے پھیلا ہوا تھا۔ یونانی اور رومی دنیا یہود کو جادوگروں کی ایک نسل سمجھنے لگی تھی ۔
جادو اور عملیات کے اس کاروبار کو یقینی ثابت کرنے کے لیے انھیں کوئی حوالہ درکار تھا اور یہ حوالہ انھوں نے حضرت سلیمان کی زندگی میں دریافت کر لیا۔ حضرت سلیمان کے حیرت انگیز واقعات لوگوں کو معلوم تھے۔ یہود نے کہا کہ سلیمان یہ تمام واقعات جادوگری کے زور پر کرتے تھے نہ کہ پیغمبری کے زور پر ۔
بالفاظ دیگر ، یہود نے حضرت سلیمان کو پیغمبروں کی صف سے نکال کر عام انسانوں کی صف میں کھڑا کر دیا۔ اگر وہ انہیں پیغمبر کہتے تو ان کے غیر معمولی واقعات معجزہ قرار پاتے اور معجزہ صرف پیغمبر سے صادر ہوتا ہے۔ عام انسان معجزہ دکھانے پر قادر نہیں ۔ مگر جب انہوں نے حضرت سلیمان کو ایک عام انسان قرار دیا ۔ اور ان کے غیر معمولی واقعات کو جادو بتایا تو ان واقعات کا ظاہر کرنا عام آدمی کے بس کی چیز بن گیا۔ کیوں کہ جادو کے کرشمے عام انسان دکھاتا ہے ، اس کے لیے پیغمبر ہونے کی ضرورت نہیں ۔
قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد کچھ مفاد پرست یہودیوں نے یہ کیا کہ جھوٹے قصے کہانیاں بنا کر انہوں نے مشہور کیا کہ حضرت سلیمان جو غیر معمولی کارنامے کرتے تھے وہ کوئی پیغمبری کا معاملہ نہ تھا ، وہ جادو کا معاملہ تھا ۔ پیغمبر کا معجزہ صرف پیغمبر کے لیے خاص ہوتا ہے۔ وہ ایک استثنائی واقعہ ہوتا ہے جس کو دوسرا عام آدمی دہرا نہیں سکتا۔ اس لیے انہوں نے آپ کے کارناموں کو معجزہ کے بجائے جادو بتایا تاکہ اس کے نام پر اپنا عملیاتی کاروبار جاری کر سکیں۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے :
واتبعوا ما تتلو الشياطين على ملك سليمان (یہود کے ایک گروہ نے آسمانی کتاب پس پشت وما كفر سليمان ولكن الشياطين كفروا ڈال دی) وہ اس چیز کے پیرو بن گئے جو شیاطین يعلمون الناس السحر سلیمان کی بادشاہت پر پڑھتے تھے۔ (البقره ۱۰۲) نے کفر نہیں کیا بلکہ شیاطین نے کفر کیا۔ کو سحر کی تعلیم دیتے تھے۔
اس آیت میں کفر سے مراد سحر ہے جیسا کہ آیت کا اگلا ٹکڑا واضح کر رہا ہے۔ سحر کو کفر اس کی شناعت کی بنیاد پر کہہ دیا۔ جیسے کوئی نوجوان جھوٹ بولے تو کوئی شخص کہے : یہ تم نے کیا شیطانی کی، ایسی شیطانی تو تمہارے باپ نے کبھی نہیں کی تھی۔ حضرت سلیمان کی وفات کے بعد یہودیوں نے آپ کی طرف منسوب کر کے سحر اور عملیات کا کار و بار شروع کر دیا تھا۔ اسی کی بابت فرمایا گیا کہ تم یہ جو سلیمان کی طرف منسوب کر کے کر رہے ہو یہ صرف تمہاری سرکشی ہے ورنہ سلیمان کا تعلق اس قسم کے جادو اور عملیات سے ہرگز نہ تھا۔
حضرت سلیمان علیہ السلام پیغمبر تھے ۔ وہ جو کچھ کرتے تھے ، خدا کی مدد سے کرتے تھے ۔ برعکس سحر نام ہے غیر اللہ میں تصرف کی طاقت فرض کر کے اس کی بنیاد پر باطل کرشمے دکھانے کا مثلاً ستاروں میں تاثیر کا عقیدہ ، جنّات کو مسخر کرنے کا عقیدہ ، وغیرہ ۔ مشرک قوموں اور توہم پرست طبقوں میں اس کا رواج کثرت سے پایا جاتا ہے۔ مگر جب اسلام آیا تو اس نے ان چیزوں کو حرام قرار دیدیا ۔ یہاں سحر (جادو) سے متعلق کچھ حدیثیں نقل کی جاتی ہیں : انی خلقت عبادی حنفاء فاجتباهلتهم حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں الشیاطین عن دینهم ۔
(تفسیر ابن كثیر، الجزء الثالث، صفحه ۴۳۲)
نے اپنے بندوں کو سیدھا اور صحیح پیدا کیا پھر شیطانوں نے ان کو ان کے دین سے
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من اتى عرافاً جو شخص نجومی یا کا ہن کے پاس جائے تو اس نے اركانهافتد كفر بما انزل على محمد اُس چیز کا انکار کیا جو محمد پر اتاری گئی ہے ۔ جس شخص کی زندگی کا اگاڑی اور پچھلا حصہ حد الساحر ضربة بالسيف (تفسیر ابن كثیر، الجزء الاول ، صفحه ۳۴۴)
اِری تو اس نے جادو کیا اور جادو اسلام میں نہیں )
ساحر کی حد اس کو تلوار سے مارنا ہے۔
قرآن وحدیث کی ان تصریحات کی بنا پر فقہاء اسلام نے لکھا ہے کہ جس شخص کا یہ عقیدہ ہو کہ شیاطین اس کے لیے جو چاہے کر سکتے ہیں تو وہ کافر ہے ( من اعتقد ان الشیاطین تفعل له مایشاء فهو کافر، تفسیر ابن کثیر ، الجزء الاول، صفحه ،۱۶) سُ ، پ ، یہ ، د ، سر ۱۹۸۸ الر ساله جنوری