صفحات ۲۱۸ ہدیہ ۲۵ روپيه
Al-Risala, May 1988, pp. 12–13
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں آئندہ آنے والے زمانہ کے بارہ میں جو خبریں دی گئی ہیں ان میں سے ایک پیشگی خبر وہ ہے جو سورہ نمبر ۴۱ میں ان الفاظ میں آئی ہے :
سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ۔ أَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ آفاق میں اور انفس میں، یہاں تک کہ ان پر کھل جائے کہ یہ حق ہے۔ کیا یہ تیرے رب کے لیے کافی انَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٍ۔
نہیں کہ وہ ہر چیز پر گواہ ہے۔
اس آیت کے مطابق، نزول قرآن کے بعد وہ زمانہ آنے والا ہے جب کہ فطرت کی نشانیوں کا ظہور ہی تبیین حق کے لیے کافی ہو جائے ۔ جب کہ کائنات اور انسان کے بارہ میں علمی انکشافات ہی ان حقائق کو ثابت شدہ بنا دیں جن کی خبر قرآن اور صاحبِ قرآن (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ذریعہ اہلِ عالم کو دی گئی ہے۔
یہی بات حدیث میں ایک اور انداز سے آئی ہے۔ یہاں ہم اس سلسلہ میں صحیح مسلم کی ایک روایت نقل کرتے ہیں :
عن أبي هريرة ، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال : " هل سمعتم بمدينة ، جانب منها في البر، وجانب منها في البحر ، قالوا : نعم يا رسول الله ! قال : " لا تقوم الساعة حتى يغزوها سبعون الفا من بني اسحاق ، فاذا جَاؤُوهَا نزلوا ، فلم يقاتلوا بسلاح ولم يرموا بسهم ، قالوا : لا اله الا الله والله اكبر ، فَيَسْقُطُ احد جانبيها . قال ثور بن زيد الراوى : لا اعلمه الا قال : " الذى في البحر، ثم يقولون الثانية : لا اله الا الله، والله اكبر ، فيقسط جانبها الآخر، ثم يقولون الثالثة ، لا اله الا الله، والله اكبر ، فيفرج لهم ييد خلونها فيغتنمن ، فبيناهم يقتسمون الغنائم اذ جاء هم الصريخ ، فقال : ان الدجال قد خرج ، فيتركون كل شي ويرجعون ۔
جس کا ایک رخ خشکی کی طرف ہے اور اس کا دوسرا رخ سمندر کی طرف ہے ۔ لوگوں نے کہا کہ ہاں اے خدا کے رسول ۔ آپ نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک نہ آئے گی جب تک بنو اسحاق کے ستر ہزار افراد اس سے جنگ نہ کریں ۔ جب وہ لوگ اس شہر تک آئیں گے تو وہ وہاں اتریں گے۔ ہتھیار سے نہ لڑیں گے اور نہ کوئی تیر ماریں گے۔ وہ کہیں گے کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے۔ پس اس کے دور رخوں میں سے ایک رخ گر جائے گا۔ ثور بن زید راوی حدیث نے کہا کہ میں اس کے سوا نہیں جانتا کہ آپ نے فرمایا کہ وہ جو سمندر کی جانب ہے۔ پھر وہ لوگ دوبارہ کہیں گے کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے، پس اس کا دوسرا رخ گر جائے گا۔ پھر وہ لوگ تیسری بار کہیں گے کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے ، پس وہ ان کے لیے کھل جائے گا وہ اس میں داخل ہو جائیں گے اور غنیمت حاصل کریں گے ۔ پس جب وہ غنیمت تقسیم کر رہے ہوں گے ، اسی اثناء میں پکار سنائی دے گی ــ کہہ دینے والا کہے گا کہ دجال نکل آیا۔ وہ ہر چیز چھوڑ دیں گے اور لوٹ آئیں گے ۔
اس روایت کی ذیلی تفصیلات سے ہٹ کر اس کے اصل مدعا کو دیکھیے تو اس کا خلاصہ یہ ہے کہ آئندہ ایسا زمانہ آئے گا جب لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے سے فتح حاصل ہو گی۔ ہتھیار کو استعمال کرنے کی ضرورت نہ ہوگی۔ بلکہ اسلام کی فکری اور نظریاتی طاقت ہی قوموں کو مسخر کرنے کے لیے کافی ہو جائے گی ۔
مذکورہ حدیث میں آخری زمانہ کے ایک واقعہ کا ذکر ہے جس کے لیے حدیث میں "غزوہ" کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ مگر اس کے بعد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غزوہ کی تشریح فرمائی تو کہا کہ وہ نہ کسی ہتھیار سے لڑیں گے اور نہ کوئی تیر چلائیں گے ۔ وہ صرف لاالہ الا اللہ کہیں گے اور ان کے لیے فتح کے دروازے کھلتے چلے جائیں گے ۔
اس سے معلوم ہوا کہ "غزوہ" کا مطلب لازمی طور پر جنگ و قتال نہیں ہے ۔ اور نظریاتی مہم بھی اسلام کے نزدیک غزوہ ہے ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشینگوئی کے مطابق، دور آخر میں غزوہ کی یہی قسم مسلمانوں کے لیے غلبہ اور کامیابی کا سب سے بڑا ذریعہ ہوگی۔