Al-Risala · May 1988

اختلاف امت

Al-Risala, May 1988, pp. 16–14

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہود ۷۱ فرقوں میں بٹ گئے ۔ نصاری ۷۲، فرقوں میں بٹ گئے ۔ اور میری امت ۷۳، فرقوں میں بٹ جائے گی ( افترقت اليهود علی احدی وسبعين فرقة وافترقت النصارى علی اثنتين وسبعين فرقة ۔ ستفرق امتی علی ثلاث وسبعين فرقة)

علماء سنت نے اس حدیث کی صحت پر کلام کیا ہے ۔ تاہم ، جیسا کہ المقبلی نے اپنی کتاب العلم الشامخ میں لکھا ہے ، اس بارے میں کثیر روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں جو ایک دوسرے کو مضبوط کرتی ہیں ، اس لیے اس کے اصل مفہوم میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا (حدیث افتراق الامة الی ثلاث وسبعين فرقة رواياته كثيرة يشد بعضها بعضاً بحيث لا تبقى ريبة في حاصل معناه )

اکثر لوگوں نے ۷۳، کی تعداد کو حسابی گنتی کے معنی میں لیا ہے ، چنانچہ انہوں نے مسلم فرقوں کی فہرست بنانے کی کوشش کی ہے ۔ مثلاً ابن حزم شہرستانی نے اپنی کتاب الملل والنحل میں ان کی تعداد ۷۲، بتائی ہے ۔ الاشعری نے مقالات الاسلامیین میں ان کی تعداد ایک سو سے زیادہ تک شمار کی ہے ۔ الخوارزمی کے نزدیک ان فرقوں کی تعداد ۷۲، ہے (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ڈاکٹر محمد عمارة کی کتاب الخلافة ونشأة الاحزاب الاسلامية ) مگر حقیقت یہ ہے کہ حدیث میں ۷۳، کا لفظ تعداد کی کثرت بتانے کے لیے آیا ہے نہ کہ تعداد کی حد بتانے کے اس لیے ہمیں تعداد کا شمار کرنے کے بجائے اختلاف کی اصل حقیقت پر غور کرنا چاہیے ۔ صحابہ کی رائے ان مسألة الخلاف بين المسلمين ارقت اميرالمومنين عمر بن الخطاب في لحظة

رد ابن عباس قائلا، یا امیر المومنین انما انزل عَلَيْنَا القرآن فقر آناه وعلمنا فیما انزل، وانه سیکون بعد نا أقوام يقرأون القرآن ولا يدرون فيما نزل، فيكون لكل قوم رأى. فاذا كان لكل قوم فيه رأي لاختلفوا فَإِذَا اختلفوا اقتتلوا ـ تقول الرواية ان سيدنا عمر بن جزا بن عباس وخرج سيدنا علي : فانصرف ابن عباس و نظر عمر فيما قال فجر فه .... فأرسل اليه وقال : اعد علی ما قلته فأعاد عليه فعرف عمر قوله .. يوسف القرضاوى ـ العمدة الاسلامية ص ۸۹ نقلاً عن

مسلمانوں کے باہمی اختلاف کے معاملے نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فکر میں مبتلا کر دیا۔ آپ سے سوال کرتے رہے کہ یہ امت کیوں کر مختلف اور متفرق ہو جائے گی جب کہ اس کا پیغمبر ایک ہے جیسا کہ روایات بتاتی ہیں ، انھوں نے اس سوال کو عبداللہ بن عباس کے سامنے رکھا اور ان سے کہا کہ یہ امت کیسے مختلف ہو جائے گی جب کہ آس کا پیغمبر ایک ہے اور اس کا قبلہ ایک ہے اور اس کی کتاب ایک ہے۔ عبداللہ بن عباس نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اے امیر المومنین ہمارے اوپر قرآن اترا، پھر ہم نے اس کو پڑھا اور یہ جانا کہ وہ کس بارہ میں اترا ہے۔ اور ہمارے بعد ایسے لوگ ہوں گے جو قرآن کو پڑھیں گے مگر وہ نہیں جانیں گے وہ کس بارہ میں اترا ہے۔ چنانچہ ہر ایک کی الگ الگ رائے ہو جائے گی ، اور جب ہر ایک کی الگ رائے ہوگی تو وہ اختلاف کریں گے اور جب اختلاف کریں گے تو آپس میں لڑیں گے۔ روایت کہتی ہے کہ حضرت عمر نے عبداللہ بن عباس کو جھڑک دیا اور حضرت علی نے بھی ان کو ڈانٹا۔ واپس چلے گیے۔ پھر حضرت عمر نے ان کے قول پر غور کیا تو وہ سمجھ گیے۔ حضرت عمر نے دوبارہ انھیں بلایا اور کہا کہ اپنے قول کو دہراد۔ انھوں نے دہرایا۔ حضرت عمر ان کے قول کو سمجھ گیے اور اس کو پسند کیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے جو بات کہی اور حضرت عمر نے جس کی تصدیق فرمائی، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کو پڑھنے کے دو درجے ہیں۔ ایک ہے معرفت کے ساتھ پڑھنا، اور دوسرا ہے معرفت کے بغیر پڑھنا۔ جو شخص معرفت کی سطح پر قرآن کو پڑھے ، وہی قرآن کو حقیقی طور پر سمجھے گا، اور جو شخص معرفت کے بغیر قرآن کو پڑھے وہ پڑھنے کے باوجود قرآن کو سمجھنے سے قاصر رہے گا۔

Printed page