اصل دین
Al-Risala, May 1988, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک صاحب نے پر جوش طور پر لکھا ہے کہ "توحید صرف ذاتی عقیدہ یا انفرادی عبادت کا نام نہیں۔ اس سے بڑھ کر توحید یہ ہے کہ اللہ کی حکمرانی کو تمام انسانوں کے اوپر قائم کیا اللہ کے سیاسی اور اجتماعی قوانین کو سارے عالم میں غالب اور نافذ بنا دیا جائے ۔ بظاہر یہ ایک بے ضرر کلام معلوم ہوتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ بالکل لغو کلام ہے۔ تحریف دین کی حد تک قابل اعتراض ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصنف نے عقیدہ کو محض اقرار اور عبادت کو صرف مراسم پرستش کی ادائیگی کے ہم معنی سمجھا ہے۔ حالاں کہ یہ عقیدہ اور عبادت کی تصغیر ہے۔
عقیدہ سے مراد صرف تلفظ کلمہ یا اقرار لسانی نہیں ہے۔ عقیدہ ایک شعوری سفر کی منزل یا ایک ذہنی انقلاب کی تکمیل ہے۔ عقیدہ ایک عظیم ترین روحانی تجربہ ہے یہ اس نا قابل بیان روحانی حالت کا نام ہے جب کہ ایک بندہ حقیقت اعلیٰ کے سمندر میں نہاتا ہے ، جب وہ ایک ابدی نور سے روشن ہو کر چمک اٹھتا ہے۔
اسی طرح عبادت کو صرف کچھ ظاہری مراسم کی ادائیگی کے ہم معنی سمجھنا ، عبادت سے سراسر نا واقفیت کا ثبوت ہے۔ عبادت اس کائنات کا عظیم ترین واقعہ ہے۔ لرزہ خیز لمحہ کا نام ہے جب کہ عاجز مطلق قادرِ مطلق سے ملاقات کرتا ہے۔ جب کہ ایک با اختیار انسان خود اپنے ارادہ سے اپنے کو بے اختیار بنا لیتا ہے ۔ جب وہ حقیقت واقعہ کا آزادانہ اعتراف کرتے ہوئے اپنے آپ کو ہمہ تن اللہ کے آگے ڈال دیتا ہے۔ عبادت اس کائنات کے اس نادر ترین لمحہ کا نام ہے جب کہ ایک بندہ رب العالمین کے آگے ڈھ پڑتا ہے حالاں کہ وہ ایسا کرنے کے لیے مجبور نہ تھا۔
عقیدہ اور عبادت دین خداوندی کا جزر نہیں، وہ دین خداوندی کی اصل ہیں۔ یہ اصل موجود ہو وہاں لازماً دوسری تمام مطلوب چیزیں بھی موجود ہوں گی۔ جہاں یہ اصل نہیں وہاں بقیہ چیزوں میں سے کوئی چیز بھی پائی نہیں جا سکتی۔