Al-Risala · May 1988

صبر کی راہ سے اضافہ

Al-Risala, May 1988, pp. 28–29

By Maulana Wahiduddin Khan

ایمان میں اضافہ کا دوسرا ذریعہ وہ ہے جس کو صبر کہا جاتا ہے ۔ صبر کا مطلب ہے جمنا ۔ کے سامنے جب ایسی صورت حال آئے کہ دین پر قائم رہنے کے لیے اسے قربانی دینی ہو ، اسے اپنے جذبات کو کچلنا پڑے ، خدا کا خوف اسے مجبور کر دے کہ وہ اپنی سوچ کو موڑ کر خدائی سوچ کے تابع کرے اس قسم کا ہر عمل صبر ہے اور جب آدمی اس قسم کا عمل کرتا ہے تو وہ خدا کے حق میں اپنی قوت ارادی کو بڑھاتا ہے ، وہ خدا کے تعلق کا نیا تجربہ کرتا ہے ۔

اسلام کی ابتدائی تاریخ میں اسی قسم کی ایک مثال صلح حدیبیہ کا واقعہ ہے ۔ تمام تر دشمن کی یک طرفہ شرائط پر کی گئی تھی ۔ چنانچہ صحابہ کرام اس پر سخت برہم تھے ، ان کا دل و دماغ کسی طرح تیار نہ تھا کہ اس قسم کی ذلت آمیز صلح پر راضی ہو جائیں ۔ مگر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ اس وقت اللہ کی مرضی یہی ہے تو سب نے جذبات کے طوفان کے باوجود اپنے آپ کو اس کے آگے جھکا دیا۔ انھوں نے اپنے دماغ کا سانچہ خود اپنے ہاتھوں سے توڑ دیا۔ اس کا فوری فائدہ انھیں یہ ملاکہ ان کے ایمان میں اضافہ ہو گیا۔ قرآن میں اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہے :

هو الذي انزل السكينة فى قلوب المؤمنين وہ اللہ ہی ہے جس نے مومنین کے دل پر المين

لیزدادوا ایماً مع ایمانهم

حد حدیبیہ کے موقع پر دشمن نے صلح کی مک اتارا تا ایمان کے ساتھ ان کا ایمان اور زیادہ ہو جائے ۔

طر وفشر میں پیش نہیں تھیں۔ صحابہ حب اللہ کی خاطر ان حدیبیہ کے موقع پر دشمن کے ساتھ ایک طرفہ سر میں بین میں ھیں ۔ صحابہ جب الہی حاضر ان ایک طرفہ شرطوں پر راضی ہوئے تو انھوں نے ایمان کا تجربہ کیا ۔ پہلے اگر انھوں نے اللہ کو بطور ایک خارجی واقعہ کے مانا تھا تو اب انھوں نے اللہ کو اپنی نفی کی قیمت پر مانا ۔ اس واقعہ کے ذریعہ انھوں نے اس ایمان کا تجربہ کیا کہ کہ اپنی بڑائی ختم ہو تب بھی وہ خدا کے حکم کو مانیں ۔ اپنی خواہشات پامال ہوں تب بھی وہ خدا کے طریقہ کو نہ چھوڑیں ۔ اپنا ذہنی سانچہ ٹوٹے تب بھی وہ اپنی رائے کو خدا کی رائے کے تابع کریں۔ یہ ہے ایمان پر ایمان کا اضافہ ۔

Printed page