Al-Risala · May 1988

ایک حدیث

Al-Risala, May 1988, pp. 29–33

By Maulana Wahiduddin Khan

اضافہ ایمان کے اس معاملہ کو ایک حدیث قدسی میں تمثیل کے انداز میں واضح کیا گیا ہے اس کے الفاظ یہ ہیں :

اِذا ‌ابْتَلَيْتُ عبدي المومن نصبر فلم يَشْتكنی الى عُوّادِهِ اطلقتُهُ مِنْ إسارى ثم ابدلتُهُ لحماً خيراً مِن لحمه و ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، جب میں اپنے مومن بندے کو تکلیف میں مبتلا کرتا ہوں پھر وہ صبر کرتا ہے ، وہ حال پوچھنے والوں سے شکایت نہیں کرتا تو میں الجمة بين يدي دماً خيراً من دمه ثم يستأنف ( رواه الحاكم عن ابي هريرة )

تكتب درهم كتاب مردا آدم وتكلم اس کو اپنی قید سے آزاد کر دیتا ہوں ۔ پھر میں اس کے گوشت کو زیادہ بہتر گوشت سے بدل دیتا ہوں اور اس کے خون کو زیادہ بہتر خون سے بدل دیتا ہوں ۔ پھر وہ از سرِ نو عمل کرنے لگتا

کہ حالات میں بھی جوت وروق، سالم ہے، مرجھایا آدمی، ایسا کرتا ہے تو وہ اس حقیقت کا تجربہ کرتا ہے کہ جو حق اس نے پایا ہے وہ ہر دوسری چیز سے زیادہ بڑا ہے ۔ ہر دوسری چیز کو کھونا نا قابل برداشت ہے ، مگر حق کو کھونا اس کے لیے قابل پ دات نہیں ۔

اس تجربہ سے پہلے حق اگر اس کی نگاہ میں بہت سی چیزوں میں سے ایک چیز تھا تو اب حق اس کے تمام چیزوں سے زیادہ بڑا اور قیمتی بن جاتا ہے ۔ ایسی آزمائش کے موقعہ پر جو شخص صبر کا ثبوت دے اس کے اندر ایک نئی شخصیت ابھر آتی ہے ۔ اس کے بعد وہ اپنے اندر ایک نئے انسان کا تجربہ کرتا ہے اس کا خون اب نیا خون اور اس کا گوشت اب نیا گوشت بن جاتا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں اس کے کردار میں نئی جان آجاتی ہے ۔ اس کا عمل ایک نئے انسان کا عمل بن جاتا ہے ۔

حضرت یعقوب علیہ السلام ایک پیغمبر تھے ۔ ان کے یہاں پہلی بیوی سے دو اولاد ہوئی ۔ یوسف ، دوسرے بن یمین ۔ یہ دونوں بھائی ابھی چھوٹے تھے کہ ان کی ماں کا انتقال ہو گیا ۔ کے بعد حضرت یعقوب نے دوسرا نکاح کیا جس سے دس لڑکے پیدا ہوئے ۔ سوتیلے بھائیوں کو شکایت ہوئی کہ ان کے والد یوسف کو زیادہ مانتے ہیں ۔ چنانچہ وہ حضرت یوسف کے دشمن ہو گئے ۔ حضرت یوسف کی عمر تقریباً ۱۶ سال تھی کہ ان کے سوتیلے بھائی ان کو ایک سنسان مقام پر لے گئے اور وہاں ان کو ایک اندھے کنویں میں ڈال دیا ۔ اس کے بعد انھوں نے آپ کے ایک کپڑے کو جانور کے خون میں رنگا اور اس کو اپنے والد کو دکھا کر کہہ دیا کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا ۔ حضرت یعقوب اپنے بیٹوں میں سے حضرت یوسف کو سب سے زیادہ مانتے تھے ۔ قدرتی طور پر ان کو اس کا بے حد صدمہ ہوا ۔ حتیٰ کہ غم سے ان کی آنکھیں سفید ہو گئیں ۔ درد ناک حادثہ پر انھوں نے کسی قسم کا رد عمل ظاہر نہیں کیا ۔ قرآن کے مطابق انھوں نے اس پر صبر کر لیا اور زبان سے صرف یہ کہا :

إنما أشكو بثي وحزني إلى الله میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد صرف اللہ سے کرتا ہوں ۔

حضرت یعقوب پر جو غم پڑا تھا وہ بظاہر انسانوں کی طرف سے آیا تھا مگر اس کے بارہ میں وہ جو کچھ کہنا چاہتے تھے اس کو انھوں نے خدا سے کہنا شروع کر دیا ۔ اپنی توجہ کو انھوں نے انسانوں سے ہٹا کر خدا کی طرف کر لیا ۔ اس طرح انھوں نے اس اعلیٰ حقیقت کا تجربہ کیا کہ واقعات خواہ بظاہر انسانوں کی طرف سے پیش آئے ہوں مگر حقیقت وہ خدا کی اجازت کے تحت ہوتے ہیں ۔ اور وہی تنہا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ آدمی کے کھو نے کی تلافی کر سکے ۔

ہجرت کے تیسرے سال غزوۂ احد پیش آیا۔ اس جنگ میں ابتداءً مسلمانوں کو فتح ہوئی تھی، مگر بعد کو ایک غلطی کی وجہ سے فتح شکست میں تبدیل ہوگئی اور مسلمانوں کو زبر دست جانی اور مالی اس پر تبصرہ کرتے ہوئے قرآن میں کہا گیا ہے :

فَاَثَابَكُمْ غماً بغم لكيلا تحزنوا پھر اللہ نے تم کو رنج پر رنج دیا تاکہ جو کچھ تم سے على ما فاستكم ولا ما اصابكم والله خبير کھویا جائے یا جو مصیبت تم پر پڑے اس پر بما تعملون (آل عمران ۱۵۳) تم غم گین نہ ہو۔

احد کی جنگ میں شکست رسول کی موجودگی میں ہوئی تھی۔ وہ براہ راست اللہ کے علم میں تھی۔ مگر اللہ نے اس کو ہونے دیا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کے شعورِ ایمان میں اضافہ ہو ۔ اندر یہ طاقت پیدا ہو کہ وہ کھونے کو برداشت کر سکیں۔ وہ ایک چیز کو کھو کر جانیں کہ دوسری اس سے زیادہ بڑی چیز اب بھی ان کے پاس موجود ہے اور وہ ان کا عقیدہ ہے۔

ایمان کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ آدمی دنیا کو کھونے کے بعد بھی خدا کو نہ کھوئے ۔ نقصان اس کے لیے اس تجربہ کا ذریعہ بن جائے کہ فانی چیزوں کے درمیان ایک ایسی چیز بھی موجود ہے جو کبھی فنا نہ ہو جو کبھی آدمی سے کھوئی نہ جائے۔ دنیا کے کھونے کو برداشت کر کے اپنے اندر اس قسم کا احساس زندہ کرنا گویا ایک قسم کا ذہنی سفر کرنا ہے۔ یہ اپنے آپ کو مزید آگے کی طرف لے جانا ہے۔ جو شخص اس غیر فانی سرمایہ کو پالے وہ محرومیوں کی اس دنیا میں کبھی احساس محرومی سے دوچار نہ ہوگا۔ غزوۂ بنی المصطلق 6 ھ) کے بعد مدینہ کے کچھ شر پسندوں نے ایک معمولی واقعہ کو شوشہ بنایا اور اس کو غلط رخ دے کر حضرت عائشہ صدیقہؓ پر نعوذ باللہ جھوٹا الزام لگایا۔ عائشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ اور حضرت ابوبکر کی صاحبزادی تھیں ۔ قدرتی طور پر حضرت ابوبکر کو اس کا بے حد رنج ہوا۔ کسی باپ کے لیے اس سے زیادہ تکلیف کی بات اور کوئی نہیں کہ اس کی پاکباز لڑکی پر بدکاری کا جھوٹا الزام لگایا جائے ۔

اس جھوٹی مہم میں مدینہ کے ایک سادہ لوح مسلمان بھی شریک ہوگئے تھے جن کا نام مسطح بن اثاثہ تھا ۔ یہ حضرت ابوبکر کے ایک غریب رشتہ دارتھے اور حضرت ابو بکر ان کی ماہانہ امداد کیا کرتے تھے ۔ حضرت ابو بکر صدیق نے شدت احساس کے سخت قسم کھائی کہ اب میں مسطح کی کوئی مدد

نہیں کروں گا ۔ اس پر قرآن میں یہ آیت اتری :

ولا يأتل اُولُوا الفضل منكم والسّعة تم میں سے جو لوگ فضل اور وسعت والے ہیں ان يؤتوا أولى القربى والمساكين و وہ اس کی قسم نہ کھائیں کہ وہ اپنے رشتہ دار اور المهاجرين في سبيل الله - وليعفوا مسکین اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کی وليصفحوا - الا تحبون ان يغفر الله لكم مدد نہ کریں گے ۔ چاہیے کہ وہ انہیں معاف والله غفور رحيم . کر دیں اور درگزر کریں ۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ ( النور ۲۲ ) اللہ تم کو معاف کر دے ۔ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔

حضرت ابو بکر نے یہ آیت سنی تو فوراً کہا : خدا کی قسم ہم ضرور چاہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ، تو ہمیں معاف کر دے وَبَلَى وَاللَّهِ إِنَّا نُحِبُّ أَن تَغْفِرَ لَنَا رَبَّنَا ) اس سے پہلے حضرت ابو بکر ایک ایسے " مسطح " کی مدد کر رہے تھے جس سے انھیں کوئی چوٹ نہیں لگی تھی ۔ اب مسطح کی مدد کرنا ایک ایسے شخص کی مدد کرنا تھا جس سے انھیں سخت چوٹ پہونچی تھی ۔ پہلے اگر وہ نفس سے لڑے بغیر مسطح کی مدد کر رہے تھے تو اب ان کے فیصلے کا مطلب یہ تھا کہ وہ نفس سے لڑکر مسطح کی مدد کریں گے ۔ اس طرح انھوں نے سیکھا کہ غصہ کو الگ کر کے ایک شخص کے ساتھ سلوک کریں ۔ انھوں نے جانا کہ صرف معمول کے حالات میں مومنانہ اخلاق نہیں برتنا بلکہ غیر معمولی حالات میں بھی مومنانہ اخلاق برتنا ہے ۔ ان کے اس عمل نے ان کے ایمان کو ایک درجہ اوپر کر دیا ۔

۴ - حضرت عائشہ صدیقہ پر نعوذ باللہ برائی کا جو الزام لگایا گیا ، اس سلسلہ میں مدینہ میں بہت سے واقعات پیش آئے ۔ ان میں سے ایک واقعہ روایات میں اس طرح آیا ہے : عن افلح مولى ابی ایوب قالت له امراته حضرت ابو ایوب انصاری کے غلام افلح کہتے ہیں کہ أم أيوب يا أبا أيوب الا تسمع ما يقول ان کی بیوی ام ایوب نے ان سے کہا کہ اے ابو ایوب الناس في عائشة - قال بلى وذالك کیا آپ نے نہیں سنا کہ عائشہ کے بارے الكذب - افكنت يا أم أيوب فاحشة لوگ کیا کہتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ ہاں ۔

قالت لا والله ۔ قال عائشة جھوٹ ہے۔ اے ام ایوب کیا تم ایسا کروگی۔ واللہ خیر منك ان کی بیوی نے کہا کہ خدا کی قسم نہیں۔ انھوں نے کہا ( تفسیر ابن کثیر ۴۷۳ / ۴ ) کہ پھر عائشہ خدا کی قسم تم سے بہتر ہیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ پر جو الزام لگایا گیا اس کے معاملہ میں ایک طریقہ ان لوگوں کا تھا جن کا حال یہ تھا کہ انھوں نے جو کچھ سنا اس کو بلا تحقیق بیان کرنے لگے۔ مگر حضرت ابو ایوب نے اپنے آپ کو اس سے اوپر اٹھایا۔ انھوں نے معاملے کو اپنی عقل سے جانچا۔ انھوں نے محسوس کیا کہ وہ خود ایسا نہیں کر سکتے اس لیے انھوں نے کہہ دیا کہ عائشہ نے بھی ایسا نہیں کیا۔ یہ ایک شعوری صبر کا واقعہ تھا۔ حضرت ابو ایوب نے جب ایسا کیا تو حدیث کے الفاظ میں ان کا خون زیادہ بہتر خون اور ان کا گوشت زیادہ بہتر گوشت بن گیا۔ ان کے اندر وہ شخصیت پیدا ہوئی جو دوسرے کے معاملے کو اپنا معاملہ بنا کر دیکھے۔ وہ ہر معاملے کو اصول کی روشنی میں جانچے نہ کہ سطحی خواہشات کی روشنی میں ۔

Printed page