ان مع العسر يرا بے شک شکل کے ساتھ آسانی ہے
Al-Risala, May 1988, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
ابن جریر نے ایک روایت ان الفاظ میں نقل کی ہے:
خرج النبي صلی اللہ علیہ وسلم یوماً مسروراً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز نکلے ۔ وهو يضحك وهو يقول: لن یغلب عسر خوش تھے اور ہنس رہے تھے اور یہ فرما رہے تھے یسرین لن یغلب عسر لیسرین فان کہ ایک مشکل دو آسانیوں پر غالب نہیں آسکتی، مع العسر ان مع العسر! ایک مشکل دو آسانیوں پر غالب نہیں آسکتی۔
کیوں کہ قرآن میں ہے کہ بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے، بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔
یہ آیت موجودہ دنیا میں خدا کے قانون کو بتا رہی ہے، اس دنیا کو بنانے والے نے اس کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں جب بھی آدمی کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو اس کے سامنے مشکلات آتی ہیں۔ ہر مشکل میں آسانی کا پہلو بھی موجود ہوتا ہے۔ یہاں ہر ڈس ایڈوانٹیج میں ایڈوانٹیج چھپا ہوا ہوتا ہے اس لیے یہاں آدمی کو یہ کرنا چاہیے کہ جب بھی مشکل پیش آئے تو وہ مشکل میں چھپی ہوئی آسانی کو دریافت کرے، وہ ڈس ایڈوانٹیج میں ایڈوانٹیج کو پالے۔ یہی اس دنیا میں کامیابی کا راز ہے۔ جو لوگ اس راز کو دریافت کر سکیں وہ کامیاب ہیں اور جو لوگ اس راز کو دریافت نہ کر سکیں وہی وہ لوگ ہیں جو ناکام ہو گئے۔