Al-Risala · May 1988

مخالفت سے رفع ذکر

Al-Risala, May 1988, pp. 37–39

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ سے مکہ میں اسلام پھیل گیا اور لوگوں میں اس کا چرچا ہونے یہاں ابن ہشام نے یہ الفاظ لکھے ہیں : ثم دخل الناس في الاسلام أرسالاً من الرجال والنساء حتی فشا ذكر الاسلام بمكة ، وتُحدث به ، صفحه ۴۷ ، ۲ (پھر عورتوں اور مردوں کی ایک جماعت اسلام میں داخل ہو گئی ، یہاں تک کہ اسلام کا ذکر مکہ میں پھیل گیا اور اس کا چرچا کیا جانے لگا ۔

قریش نے جب یہ دیکھا کہ اسلام کی رفتار دن بدن بڑھ رہی ہے تو ان کے سردار ولید بن مغیرہ کے مکان پر جمع ہوئے ۔ انھوں نے یہ مشورہ کیا کہ حج کا موسم قریب آگیا ہے اور تمام عرب کے قبائل مکہ میں جمع ہوں گے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ محمد کی باتوں سے متاثر ہو جائیں۔ اس لیے ہمیں پہل کر کے آنے والے قبائل

سے کوئی ایسی بات مکہی دینی چاہیے کہ وہ محمد کی طرف سے بدگمان ہو جائیں اور ان کی طرف دھیان نہ دیں۔ اس سلسلہ میں مختلف سرداروں نے مختلف رائیں دیں۔ آخری مشورہ کے بعد یہ طے ہوا کہ عرب کے خود جب حج کے موسم میں کہ میں جمع ہوں تو تمام سرداران کے درمیان کے درمیان کے در میان قومی تفریق پیدا کرنے والا تاکہ لوگوں کو ان سے دور رکھنے کی کوشش کریں۔

اس وقت مکہ میں اسلام بہت کمزور حالت میں تھا۔ ایسی حالت میں مکہ کے تمام سرداروں کا متفق ہو کر اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ کرنا بظاہر ایک مایوس کن بات تھی۔ عرب کے قبائل پر مکہ کے سرداروں کا بردست اثر تھا۔ اس لیے ان کا متفقہ طور پر اسلام کے خلاف کھڑا ہونا بظاہر یہ معنی رکھتا تھا کہ لوگ اسلام سے بدک جائیں اور اس کے پیغام کو سننے کے تیار نہ ہوں۔

مگر یہ واقعہ کا ایک پہلو تھا۔ اس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ اس طرح اسلام کی زبردست تشہیر ہو گئی۔ اتنے بڑے پیمانے پر لوگوں نے اسلام کو جان لیا جن کو بتانا اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ممکن مکہ کے سردار اگر چہ اسلام کی مخالفت میں بولتے تھے۔ مگر انسان کی یہ نفسیات ہے کہ جس چیز کی مخالفت کی جائے اس کے بارے میں اس کے اندر تجسس (Curiosity) پیدا ہوتا ہے۔ وہ سنی ہوئی بات پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ مزید اس کے بارے میں جاننا چاہتا ہے۔ چنانچہ اسلام کو جاننے کے لیے ان کے اندر مزید اشتیاق

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قدرتی طور پر سرداروں کی اس مخالفانہ مہم پر غم زدہ تھے۔ مگر قرآن نے اس واقعہ کے دوسرے پہلو کو لیا اور قرآن میں یہ آیت اتری:

وَرَفَعْنَالَكَ ذَكْرَكَ (اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کیا) قریش کی مہم ایک اعتبار سے مخالفانہ پروپیگنڈے کی مہم تھی۔ مگر دوسرے اعتبار سے وہ اسلام کا چرچا کرنے کی مہم تھی۔ قرآن نے دوسرے پہلو کو لیتے ہوئے بتایا کہ اس مہم کے تاریک پہلو میں ایک روشن پہلو چھپا ہوا ہے۔ جو چیز ایک پہلو سے مخالفانہ پروپیگنڈا ہے وہ دوسرے پہلو سے رفع ذکر ہے۔ تم اس دوسرے پہلو کو جانو اور اس کو استعمال کرو۔ اس طرح اس وقت کے مسلمانوں کو سوچ کی ایک مثبت لائن مل گئی۔ انھوں نے محسوس کیا کہ قریش کے پیدا کیے ہوئے تجسس کو وہ اسلام کی تبلیغ کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ چنانچہ وہ پہلے سے زیادہ متحرک جو لوگ قریش کے پروپیگنڈے کی وجہ سے اس سوال سے دو چار تھے کہ "یہ نیا دین کیا ہے"

ان کو بتایا کہ اسلام کا اصل پیغام یہ ہے۔ اس طرح اچانک اسلام کا رفع ذکر ہو گیا۔ مسلمانوں کی اپنی کوشش سے برسوں میں جتنا اسلام پھیلا تھا ، دشمنوں کی مخالفت کے بعد وہ اس سے کئی گناہ زیادہ مقدار میں گھوڑے دنوں میں پھیل گیا ۔

Printed page