Al-Risala · May 1988

تاخیر نعمت بن گئی

Al-Risala, May 1988, pp. 39–20

By Maulana Wahiduddin Khan

قدیم مکہ کے لوگوں نے اسلام کے خلاف جو تدبیریں کیں ان میں سے ایک تدبیر یہ تھی کہ انھوں نے اپنے دو خاص آدمی ، نضر بن حارث اور عقبہ بن ابی معیط مدینہ بھیجے ۔ وہ وہاں یہودی علماء سے ملے اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حال بیان کیا۔ انھوں نے کہا کہ تم لوگ اہلِ تورات ہو ، ہم تمہارے پاس آئے ہیں تاکہ تم ہمارے آدمی کے بارہ میں بتاؤ۔ یہود نے کہا کہ تم لوگ ان سے چند چیزوں کی بابت سوال کرو۔ اگر وہ ان کے بارہ میں بتا دیں تو وہ واقعی خدا کے پیغمبر ہیں اور اگر وہ نہ بتا سکیں تو وہ صرف باتیں بنانے والے ہیں ۔

( فَإِنْ أَخْبَرُكُمْ بِهِنَّ فَهُوَ نَبِيُّ مُرْسَلٌ وَالْآخَرُ رَجُلٌ مُتَقُولُ ) ان باتوں میں سے ایک سوال اس شخص کے بارے میں تھا جو مشرق سے لے کر مغرب تک پہنچا۔ دوسرا سوال ان نوجوانوں کے بارے میں تھا جو غار میں جا کر سو گیے ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سوالات کو سنا تو فرمایا : اخبركم غداً عما سألتم جن چیزوں کے بارے میں تم نے پوچھا ہے ان کے بارے میں تم کو میں کل بتاؤں گا ۔ آتا ہے کہ آپ نے یہ فرمایا مگر ان شاء اللہ نہ کہا۔ آپ کو خیال تھا کہ حضرت جبریل کل آئیں گے تو ان سے پوچھ کر بتا دوں گا۔ مگر خلاف معمول حضرت جبریل کل کے دن نہ آئے ۔ حتیٰ کہ پندرہ دن گزر گیے اور حضرت جبریل نہ آئے ۔

یہ بے حد نازک معاملہ تھا۔ یہودی علماء نے جن شخصیتوں کی بابت سوال کیا تھا وہ اس وقت عام لوگوں کے لیے سراسر نامعلوم شخصیتیں تھیں۔ ان کا ذکر صرف یہود کے بعض نوشتوں میں تھا۔ اس وقت تک پریس کا دور نہیں آیا تھا ، یہ نوشتے صرف بعض یہودی علماء کے پاس تھے ۔ لوگوں کو ان کی مطلق کوئی خبر نہ تھی ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ان کی بابت اس وقت کسی قسم کی کوئی اطلاع نہ تھی ۔

مکہ کے مشرکین ہر روز آپ سے پوچھتے ۔ اور آپ سوال کا جواب نہ دے پاتے۔ اس طرح مکہ کے مخالفین کو موقع مل گیا کہ وہ آپ کا مذاق اُڑائیں اور لوگوں سے کہیں کہ یہ سچے پیغمبر نہیں ہیں۔ اگر وہ سچے پیغمبر ہوتے تو یقیناً خدا انھیں بتا دیتا اور وہ سوال کا جواب دیدیتے۔

یہ ظاہر یہ ایک ایسا واقعہ تھا جو اسلام کے خلاف تھا۔ یہ اسلام کی صداقت کو مشتبہ کر رہا تھا۔ مگر یہاں بھی "عصر" کے اندر ایک "یسر" چھپا ہوا تھا۔ وحی کا رکنا اور مخالفین کا اس کو استعمال کرکے پروپیگنڈا کرنا اپنے اندر ایک روشن پہلو رکھتا تھا۔ اس طرح یہ ہوا کہ سارے مکہ میں اسلام ایک سوالیہ نشان بن ہر گھر میں اس کا چرچا ہو پہنچ گیا۔ پوری آبادی کے اندر سننے کی فضا پیدا ہوگئی۔ پندرہ دن وحی رکنے کے بعد حضرت جبرئیل سورہ الکہف لے کر آئے جس میں مذکورہ سوالات کا تفصیلی جواب تھا۔ عام حالت میں یہ سورہ اترتی تو اس کا اترنا لوگوں کو زیادہ قابلِ توجہ واقعہ نہ آتا مگر اب وہ اتری تو سارا مکہ اس کو سننے کے لیے کان لگائے ہوئے تھا۔ چنانچہ اس کے اترتے ہی وہ سارے مکہ میں پھیل گئی۔ ہر آدمی اس کو جاننے کے لیے دوڑ پڑا کہ دیکھیں " محمد " نے ان سوالات کا کیا جواب دیا ہے ــــ جو چیز بظاہر اسلام کے غیر موافق تھی وہ اسلام کے موافق بن گئی۔

Printed page