خاتمہ میں نیا آغاز
Al-Risala, May 1988, pp. 41–43
By Maulana Wahiduddin Khan
عصر میں ٹیر کے اسی امکان کی ایک مثال حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ ہے۔ قصہ ابتداء اسود القصص معلوم ہوتا ہے ۔ مگر قرآن کے الفاظ میں بالآخر وہ احسن القصص بن گیا۔ یوسف کے دشمنوں نے جہاں آپ کی تاریخ ختم کرنی چاہی تھی ، وہیں آپ کے لیے ایک شاندار تر تاریخ
کے امکانات پیدا ہو گئے ۔
حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی میں یہ نئے امکانات کیسے پیدا ہوئے ۔ اس کی طرف قرآن میں ان لفظوں میں اشارہ ملتا ہے : وقال ادخلوا مصر ( یوسف ۹۹ ) وجاء كم من البدو (یوسف ۱۰) اس آیت میں اشارہ ہے کہ حضرت یوسف اور ان کے خاندان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ایک خاص احسان یہ تھا کہ وہ ان کو دیہات سے نکال کر مصر جیسے متمدن ملک میں لایا اور وہاں کی راجدھانی میں ان کے قیام کے اسباب پیدا کیے۔
حضرت یوسف علیہ السلام فلسطین کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے ۔ عام حالات میں وہ اسی گاؤں میں پڑے رہتے ۔ ان کی اعلیٰ صلاحیتیں گاؤں کے حالات میں اپنے ظہور کا راستہ نہ پاتیں۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ نوجوانی کی عمر میں آپ کے سوتیلے بھائیوں کو آپ سے ضد ہو گئی۔ ان کی ضد یہاں تک پہنچی کہ وہ ایک روز آپ کو دور جنگل میں لے گئے اور آپ کو ایک اندھے کنویں میں ڈال دیا۔ بظاہر یہ ایک زبردست ناکامی کا واقعہ تھا۔ مگر اس ڈس ایڈوانٹج میں ان کے لیے ایک ایڈوانٹج نکل آیا۔ وہ ایک تجارتی قافلہ کے ہاتھ لگ گئے جو مصر کی راجدھانی کی طرف تجارت کے لیے جا رہا تھا۔ آپ کی پرکشش شخصیت کو دیکھ کر ان تاجروں کو دل چسپی ہوئی ۔ کیوں کہ انہیں امیدہوئی کہ وہ آپ کو مصر کے بازار میں فروخت کر کے کچھ رقم حاصل کر سکتے ہیں ۔ چنانچہ انھوں نے حضرت یوسف کو اپنے قافلہ میں شامل کر لیا اور ان کو لے جاکر مصر کی راجدھانی میں ایک سرکاری افسر کے ہاتھ فروخت
حضرت یوسف کا کنویں میں ڈالا جانا بظاہر ایک ناپسندیدہ واقعہ تھا۔ مگر اسی ناپسندیدہ واقعہ کے اندر سے یہ امکان نکل آیا کہ وہ معمولی دیہات سے نکل کر ترقی یافتہ شہر میں پہنچیں ۔ اس طرح ان کی صلاحیتوں کے استعمال کے لیے زیادہ وسیع میدان حاصل ہو ۔ چنانچہ یہی ہوا۔ گاؤں میں وہ صرف بکریاں چرایا کرتے تھے ۔ مگر مصر میں آخر کار وہ ملک کے اقتدار تک پہونچادئے
حضرت یوسف کا واقعہ بتاتا ہے کہ اس دنیا میں اسود القصص بھی احسن القصص بن سکتا ہے۔ بشرطیکہ آدمی تقویٰ اور صبر کا ثبوت دے ۔ تقویٰ آدمی کو سنجیدہ بناتا ہے۔ اور صبر سے
آدمی کے اندر انتظار کی طاقت پیدا ہوتی ہے ۔ اور یہی دونوں چیزیں زندگی میں فیصلہ کن حیثیت رکھتی سنجیدگی آدمی کو حقیقی اور درست رائے قائم کرنے میں مدد دیتی ہے اور انتظار کی طاقت آدمی کو اس قابل بناتی ہے کر وہ بے فائدہ قسم کے عاجلانہ اقدام سے بچتا رہے ۔ یہاں تک کہ وہ محفوظ طور پر اپنی منزل تک پہنچ جائے ۔