Al-Risala · June 1988

یہ حاملینِ اسلام

Al-Risala, June 1988, p. 3

By Maulana Wahiduddin Khan

صلح حدیبیہ کا واقعہ 6ھ میں پیش آیا۔ اسی سال کے آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اطراف عرب کے حاکموں اور بادشاہوں کو دعوتی خطوط روانہ کیے۔ انھیں میں سے ایک خط وہ تھا جو دحیہ کلبی کے ذریعہ شاہ روم ہرقل (Heraclius) کے نام بھیجا گیا۔ یہ مسیحی تھا اور نہایت ذہین اور حقیقت پسند آدمی تھا۔ ہرقل اس وقت فلسطین میں تھا۔ اس زمانہ میں عرب کے لوگ تجارت کی غرض سے اس علاقہ میں جایا کرتے تھے۔ چنانچہ ہرقل نے تحقیق حال کے لیے کچھ عربوں کو بلوایا جن میں ابوسفیان بن حرب بھی ہرقل نے ترجمان کے ذریعہ ان سے گفتگو کی۔ ایک روایت کے مطابق، گفتگو کا ایک حصہ یہ تھا: قال اخبرنی یا اباسفیان۔ فقال هُوَ ساحر کذاب ہرقل نے کہا کہ اے ابوسفیان مجھے محمد کے بارے میں فقال هرقل انی لا اُرید بتاؤ۔ ابوسفیان نے کہا کہ وہ جادوگر اور جھوٹے ہیں، شتمه ولکن كيف نسبه فيکم ۔ کیف وہ پیغمبرنہیں۔ ہرقل نے کہا میں تم سے ان کی سب وشتم عقله ورأيه سُنا نہیں چاہتا۔ بلکہ مجھے یہ بتاؤ کہ ان کا حسب نسب (سيرۃ ابن کثير، المجلد الثالث، صفحه ۵۰۳) کیا ہے، ان کی سمجھ کیسی ہے اور ان کی رائے

ہرقل ایک ”کافر“ تھا۔ وہ کافر ہی رہا اور کافر ہی مرا۔ مگر اُس کو اس سے دل چسپی نہیں تھی کہ کہ کوئی شخص اس کے حریف کے بارہ میں برے الفاظ بولے اور وہ اس کو سن کر خوش ہو۔ بلکہ اس کی دل چسپی اس میں تھی کہ وہ جانے کہ جو شخص اس کا حریف بن کر ابھرا ہے، وہ خاندانی شرافت اور ذہنی صلاحیت کے اعتبار سے کیسا ہے، وہ صاحب رائے ہے یا نہیں۔

اس کے مقابلہ میں موجودہ حاملینِ اسلام کو دیکھئے ۔ ان کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے حریف کے خلاف کوئی بھی لغویات سننے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ کوئی کمینہ آدمی اگر ان کے مفروضہ حریف کے خلاف جھوٹے مضامین شائع کرے تو اس کو روکنا تو درکنار، وہ اس کو لطف لے کر پڑھیں گے اور ان کے معتقدین اس کو ہر طرف پھیلائیں گے۔ کیسے عجیب ہیں وہ حاملینِ اسلام جو حاملین کفر کے اخلاقی معیار پر بھی پورے نہ اتریں۔

Printed page