Al-Risala · June 1988

ہر قسم کے مواقع

Al-Risala, June 1988, pp. 7–8

By Maulana Wahiduddin Khan

۲۶ فروری ۱۹۸۸ کی صبح کو دہلی کے تمام اخبارات کے پہلے صفحہ کی نمایاں سرخی یہ تھی: ہندوستان کے پہلے میزائل کا کامیاب تجربہ ۔ ۲۵ فروری کو پارلیمنٹ میں تالیوں کی گونج کے درمیان وزیر اعظم راجیو گاندھی نے اعلان کیا کہ ہندوستان نے زمین سے زمین پر مار کرنے والا میزائل (پر تھوی) تیار کر لیا ہے اور اس کا کامیاب تجربہ بھی کیا جا چکا ہے۔ یہ میزائل مکمل طور پر ہندوستانی ٹکنالوجی سے تیار کیا گیا ہے۔ وہ خالص دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا رینج ۲۵۰ کلومیٹر ہے۔ اس طرح اب ہندوستان ان چار ملکوں (امریکہ، روس، فرانس، چین) میں شامل ہو گیا ہے جو خشکی پر مار کرنے والے میزائل بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس میزائل کے بارہ میں جو خبریں آئی ہیں، ان میں سے ایک خبر ہندوستان ٹائمس (۲۶ فروری ۱۹۸۸) کے مطابق یہ ہے کہ پرتھوی میزائل حیدر آباد کے دفاعی تحقیقی ادارہ (DRDO) کی لیبارٹری میں تیار کیا گیا ہے۔ یہ کام سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے انجام دیا ہے جو ڈاکٹر ابو الکلام کی ماتحتی میں کام کر رہی تھی :

The ‘Prithvi’ missile was fabricated at the Defence Research and Development Laboratory at Hyderabad under a team of scientists headed by Dr. Abul Kalam. دفاعی ریسرچ کا کام بے حد نازک کام ہے۔ اس شعبہ میں کام کرنے کے لیے ایسے افراد کا انتخاب کیا جاتا ہے جو بیک وقت دو صلاحیتیں رکھتے ہوں۔ اعلیٰ فنی مہارت، اور قابل اعتماد شخصیت۔ اس قسم کے ایک ممتاز عہدہ کے لیے "ڈاکٹر ابو الکلام" کا انتخاب بہت بڑا سبق دیتا ہے۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے ہر قسم کی ترقی کے مواقع پوری طرح کھلے ہوئے ہیں۔ اگر وہ اپنے اندر لیاقت پیدا کریں تو وہ ملک کے انتہائی اعلیٰ شعبوں میں بھی اونچے مناصب حاصل کر سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں اصل قیمت لیاقت کی ہے۔ لیاقت کا ثبوت دینے کے بعد آدمی ہر جگہ عزت پالیتا ہے اور لیاقت کا ثبوت نہ دینے کی صورت میں ہر جگہ بے عزت ہو کر رہ جاتا ہے۔

ضلع حسن (کرناٹک) میں ایک گاؤں ہے جس کا نام تھپر گڑھ ہے۔ یہاں ایک شخص لچھ نائک نامی تھا جو ایک جھونپڑے میں رہتا تھا، اور چوکیداری کا کام کرتا تھا۔ اس کے چار بچے اس نے طے کیا کہ وہ اپنی تین لڑکیوں کو دیوی چندیشوری پر بھینٹ چڑھادے۔ ۱۹۸۸ کو وہ دیوی کی مورت لے کر آیا۔ اس کی پوجا کی اور اس کے بعد اپنی تین لڑکیوں (ڈیڑھ سال، تین سال، تیرہ سال) کو درانتی سے ذبح کر دیا۔ اس کے لڑکے راج کمار (۸ سال) نے مزاحمت کرنی چاہی تو اس پر بھی حملہ کر دیا جس کے نتیجہ میں اس کا دایاں ہاتھ کٹ گیا۔ اس مجنونانہ حرکت کے بعد وہ بھاگ کر باہر چلا گیا ۔ چار دن بعد اس کی لاش آم کے ایک اکیلے درخت سے لٹکی ہوئی

مذکورہ خطلی کی بیوی علی تھما (۳۵ سال) کو چیف منسٹر ریلیف فنڈ سے ۵ ہزار روپیہ دیا گیا انڈین ریڈ کراس سوسائٹی نے اس کو ایک ہزار روپیہ دیا ہے۔ اب وہ اپنے لڑکے کے مستقبل کے بارہ میں منصوبہ بنا رہی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ اس کے بچے کو تعلیم حاصل کرنا چاہیے وہ اس کے لیے تیار ہے کہ بیٹے کی تعلیم کے لیے اگر اس کو ساری زندگی کام کرنا پڑے تو وہ ساری زندگی اس کے لیے کام کرے گی۔ اس کو بیوہ کی حیثیت سے ۵۰ روپیہ ماہوار پنشن ملنے کی امید ہے۔ اتنی ہی ماہانہ رقم اس کے بیٹے کو معذوری کے وظیفہ کے طور پر ملے گی۔ راج کمار جس کے دائیں ہاتھ کی پانچوں انگلیاں کٹ چکی ہیں، اب اپنے بائیں ہاتھ سے لکھنا سیکھ رہا ہے (ٹائمز آف انڈیا ۲۸ اپریل ۱۹۸۸)

علی تھما کا سب کچھ لٹ چکا تھا۔ اب بظاہر یہ ہونا چاہیے تھا کہ وہ بھی خودکشی کرلے، یا اپنے بیٹے کو لے کر رونے اور ماتم کرنے میں مشغول ہوجائے۔ مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ سب کچھ بھلا کر مثبت عمل کا منصوبہ بنایا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اپنے معذور بیٹے کے مستقبل کی تعمیر کی صورت میں اس نے اپنے لیے ایک مقصد پالیا۔

با مقصد آدمی کبھی محروم نہیں ہوتا، اس دنیا میں محروم وہ ہے جو مقصد سے محروم ہوجائے۔

Printed page