Al-Risala · June 1988

دنیا سے آخرت لینا

Al-Risala, June 1988, pp. 13–14

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں قارون کا قصہ بیان ہوا ہے۔ ارشاد ہوا ہے کہ وہ حضرت موسیٰ کی قوم سے تعلق پھر فرعون سے مل کر اس نے کافی دولت کمائی۔ اس کے خزانوں کا یہ حال تھا کہ ” ان کی کنجیاں طاقت ور آدمیوں کی ایک جماعت مشکل سے اٹھا سکتی۔ اس دولت سے قارون کے اندر فخر اور گھمنڈ پیدا ہو گیا ۔ اس وقت کچھ صالح بندوں نے اس کو نصیحت کی کہ دولت پر فخر نہ اللہ نے تجھ کو جو کچھ دیا ہے اس سے آخرت کا طالب بن اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھول (وابتغ فيما آتاك الله الدار الآخرة ولا تنس نصيبك من الدنيا ، القصص ، 7 ) اس کی تفسیر کے سلسلہ میں مفسرین کے کچھ اقوال یہ ہیں :

وقيل ‌معناه واطلب بدنياك آخرتك اور کہا گیا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنی دنیا فان ذلك حظ المومن منها کے ذریعہ آخرت چاہو۔ کیونکہ یہی اس سے مومن کا (تفسیر النسفی) حصہ ہے۔

یعنی ما تحصل بھا آخرتك فان حقيقة یعنی دنیا سے وہ چیز لینا نہ بھولو جس سے تم اپنی نصيب الانسان من الدنيا ان يعمل آخرت حاصل کر سکو۔ دنیا سے انسان کا اصل للآخرة فان الدنيا مزرعة الآخرة۔ كذا حصہ یہ ہے کہ وہ آخرت کے لیے عمل کرے۔ قال مجاهد وابن زيد ۔ وقال السدی دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ مجاہد اور ابن زید کا نصيبك من الدنيا الصدقة وصلة الرحم قول یہی ہے۔ اور سدی نے کہا کہ دنیا سے وقال على رضي الله عنه لاتنس صحتك و تمہارا حصہ صدقہ اور صلہ رحمی ہے۔ قوتك وشبابك وغناك ان تطلب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم اپنی صحت اور اپنی قوت فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم اور اپنی جوانی اور اپنی دولت کے معاملہ میں یہ اغتنم خمسا قبل خمس ، حياتك قبل نہ بھولو کہ تم اس کے ذریعہ سے آخرت چاہو۔ موتك وصحتك قبل سقمك وفراغك رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ چیز

قبل شغلك وشبابك قبل هرمك و سے پہلے پانچ چیز کو غنیمت جانو۔ اپنی موت سے پہلے غناك قبل فقرك۔ ومال الحسن اپنی زندگی کو۔ اپنی بیماری سے پہلے اپنی صحت امران يتقدم الفضل ريمك ما يغنيه کو۔ اپنی مشغولیت سے پہلے فراغت کو۔ یعنی ما يكفيه ۔ اپنے بڑھاپے سے پہلے اپنی جوانی کو۔ (التفسيري المظہری) محتاجی سے پہلے اپنی دولت مندی کو۔ بصری نے کہا کہ یہاں یہ حکم دیا گیا ہے کہ حقیقی ضرورت کے بقدر مال روک کر ضرورت سے زیادہ کو

موجودہ دنیا جو انسان کو دی گئی ہے، وہ آخرت کی کمائی کرنے کے لیے دی گئی ہے۔ جس شخص نے دنیا میں آخرت کے فائدہ والا کام کیا، اس نے دنیا سے آخرت کا حصہ لیا۔ برعکس جو شخص دنیا میں صرف دنیا کے فائدہ والا کام کرتا رہا۔ اس نے دنیا سے آخرت کا حصہ وہ موت کے بعد دوسری دنیا میں اس طرح پہنچے گا کہ وہاں اس کے لیے کچھ نہ ہوگا۔ یہ انجام صرف عام دنیا داروں کا نہیں ہوگا۔ یہی انجام ان لوگوں کا بھی ہوگا جو بظاہر دین والے کام کرتے ہیں۔ مگر اس سے ان کا مقصد دنیوی فائدہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ دین کا کام کرکے اگر کوئی شخص مال، قیادت، شہرت، عزت، بڑائی چاہے تو اس نے بھی گویا دنیا سے اپنی آخرت کا حصہ نہیں لیا۔ وہ بھی آخرت میں اتنا ہی نامراد ہوگا جتنا بدنام قسم کے دنیا دار، بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ ۔

خاتونِ اسلام (نیا ایڈیشن)

خاتونِ اسلام کا پہلا ایڈیشن غیر معمولی طور پر مقبول ہوا اور بہت جلد ختم ہوگیا۔ اس کا دوسرا ایڈیشن چھپ کر تیار ہے۔ دوسرے ایڈیشن میں تقریبا۔ اصفحات کا اضافہ کیا گیا ہے۔ مزید معلومات کے لیے دفتر سے رابطہ قائم فرمائیں۔ منیجر مکتبہ الرسالہ

Printed page