Al-Risala · June 1988

مومنانہ طریقہ

Al-Risala, June 1988, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

ابن عبد البر اندلسی (م ۴۶۳ هـ) نے ایک واقعہ ان الفاظ میں نقل کیا ہے : ابن جبير (ص ۴۴)

روينا ان طاوسا ووهب بن منبه التقيا۔

فقال طاوس لوهب يا ا با عبد الله، بلغنی فقال ماهو قال تقول ان الله حمل قوم لوط بعضهم على بعض۔

قال اعوذ بالله - شم سكتا ۔ هل اختصما، قال لا۔

(جامع بيان العلم وفضله ، الجزء الثاني، صفحه ۹۵) ہم سے بیان کیا گیا ہے کہ طاؤس اور وہب بن منبہ ایک دوسرے سے ملے۔ طاؤس نے وہب سے کہا کہ اے ابو عبد اللہ ، آپ کے بارہ میں مجھے ایک سنگین بات پہنچی ہے۔ انھوں نے پوچھا کہ وہ کیا طاؤس نے کہا یہ کہ آپ کہتے ہیں کہ اللہ ہی نے تو قوم لوط کے بعض کو بعض کے اوپر چڑھایا۔ بن منبہ نے کہا کہ اللہ کی پناہ ۔ پھر دونوں چپ میں نے راوی سے پوچھا ، کیا دونوں میں راوی نے جواب دیا کہ نہیں ۔ سوال دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک سچا سوال، دوسرے جھوٹا سوال۔ سچا سوال کرنے والا واقعی سائل ہوتا ہے۔ وہ ایک بات کی حقیقت جاننا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے آدمی کو چپ کرنا اس کو اپنے سوال کا جواب مطلوب تھا، اور جب اس کو اپنے سوال کا جواب مل گیا تو وہ خاموش ہو گیا ۔

چھوٹے مسائل کا معاملہ اس سے مختلف ہوس کا مقصد حقیقت کو جاننا نہیں ہوتا ملک ہونے کے حاسل کا معاملہ اصل سے مختلف ہے۔ اس کا مقصد حقیقت ہو جا تا ہے یا باطلہ شخص ثانی کو غلط ثابت کرنا ہوتا ہے۔ اگر وہ اپنے سوال کا جواب پا کر چپ ہو جائے تو اس کا اصل مقصد حاصل نہیں ہوتا ۔ اس لیے وہ ہر جواب کے بعد نئے شوشے نکال لیتا ہے _______ کبھی غیر متعلق باتیں چھیڑتا ہے۔ کبھی دلیل سے ہٹ کر عیب جوئی کا طریقہ اختیار کرتا ہے ۔ کبھی تلخ کلامی سے مخاطب کو زیر کرنا چاہتا ہے ۔ کبھی دھاندلی اور تمسخر کا انداز اختیار کرتا ہے ۔ جو لوگ اس طرح دوسرے کو غلط ثابت کرنا چاہیں ، وہ خود اپنے آپ کو غلط ثابت کرتے بروته ، با اثر ، مہر اور ہیں نہ کہ کسی دوسرے شخص کو ۔

Printed page