پیرایہ صدارت میں چہیتی ربط
Al-Risala, June 1988, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں مشرکین کے بارہ میں کہا گیا ہے کہ اللہ نے جو کھیتی اور چو پائے پیدا کیے ہیں، ان میں سے انھوں نے اللہ کا کچھ حصہ مقرر کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ حصہ اللہ کا ہے ، ان کے گمان کے مطابق ، اور یہ حصہ ہمارے شریکوں کا ہے۔ پھر جو حصہ ان کے شریکوں کا ہوتا ہے وہ تو اللہ کو نہیں پہنچتا اور جو حصہ اللہ کے لیے ہے وہ ان کے شریکوں کو پہنچ جاتا ہے۔ کیسا برا فیصلہ ہے جو یہ لوگ کرتے ہیں ( الانعام ۱۳۶ )
آدمی زبان سے کہتا ہے کہ میں اللہ کو مانتا ہوں۔ مگر اس کے دل میں حقیقی اہمیت اور عظمت دوسری چیزوں کی بیٹھی ہوئی ہوتی ہے۔ اس کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ اللہ اور غیر اللہ میں ٹکراؤ پیش آتا ہے۔
قدیم عرب کے مشرکین بظاہر اللہ کا اقرار کرتے تھے ، مگر ان کے دلوں میں سب سے زیادہ "برائی اپنے بتوں کی بیٹھی ہوئی تھی۔ چنانچہ وہ ایسا کرتے تھے کہ مویشی یا پیدا وار یا نذرونیاز کی تقسیم میں کچھ حصہ خدا کا نکالتے اور کچھ حصہ بتوں کا۔ اس تقسیم میں اگر کسی وجہ سے خدا کی طرف زیادہ آجاتا اور بتوں کی طرف کم تو اس کو لے کر فوراً بتوں کی طرف ڈال دیتے ۔ لیکن اگر معاملہ اس کے برعکس یعنی خدا کا حصہ گھٹ جائے اور بتوں کا حصہ بڑھ جائے ۔ تو وہ ایسا کرتے کہ بتوں کی طرف سے نکال کر اس کو خدا کے حصہ میں ڈالیں۔
یہ صرف قدیم مشرکوں کا قصہ نہیں ، یہی معاملہ ہر شخص کے ساتھ پیش آتا ہے ، اس فرق کے ساتھ کہ قدیم مشرکین یہ معاملہ پتھروں کے ساتھ کرتے تھے ، آج کا انسان یہی معاملہ دوسرے دوسرے ” بتوں “ کے ساتھ کرتا ہے۔
آج کے انسان کا یہ حال ہے کہ دیانت داری اور دنیوی مفاد میں ٹکراؤ ہو تو وہ دیانت داری کو دنیوی مفاد کے خانہ میں ڈال دیتا ہے۔ وہ ایسا نہیں کرتا کہ دنیوی مفاد کو دیانت داری کے خانہ میں ڈالے۔ اس کی وجہ دوبارہ ان کا وہی " بڑا فیصلہ " ہے جو پہلی صورت میں تھا۔ وہ خدا کے حق میں کمی سے بے خوف ہیں۔ اور غیر خدا کے حق میں کمی کرنے سے ڈرتے ہیں کہ وہ ہلاک ہو جائیں گے ۔