غلط فہمی
Al-Risala, June 1988, pp. 23–24
By Maulana Wahiduddin Khan
لندن یونیورسٹی کے ڈاکٹر پیٹر ہارڈ ی (Peter Hardy) کی ایک کتاب ہے جس کا نام ہے برطانوی ہند کے مسلمان The Muslims of British India اس کتاب کے ایک باب میں مصنف نے کہا ہے کہ ملک کی تقسیم نے مسلمانوں کے مسئلہ کو حل نہیں کیا۔ یہ بتاتے ہوئے کہ مسلمانوں کے نزدیک اسلام ایک مکمل نظام ہے، انھوں نے موجودہ ہندوستان کے مسلمانوں سے ایک سوال کیا ہے جو ان کے الفاظ میں یہ ہے :
Whether in wanting to be accepted as a fellow-citizen on equal terms with his non-Muslim compatriots he is obeying or disobeying Divine مسلمانوں کا یہ چاہنا کہ وہ اپنے غیر مسلم ہم وطنوں کے ساتھ برابر کی شرائط پر یکساں درجہ کے شہری تسلیم کیے جائیں، یہ خدا کے حکم کی فرماں برداری ہے یا اس کی نافرمانی (ٹائمز آف انڈیا یہ اپریل ۱۹۸۸ء) جو لوگ اسلام کی تعبیر ”مکمل نظام “ کے الفاظ میں کرتے ہیں۔ اور یہ کہتے ہیں کہ یہ مکمل نظام ایک ناقابل تقسیم وحدت ہے، ان کے لحاظ سے یہ سوال بے حد اہم ہے ۔ ان حضرات کے بیانات کے مطابق وہ شخص اسلام کا ناقص پیرو قرار پاتا ہے جو اعتقادی اسلام کو اختیار کرے مگر سیاسی اسلام کو اختیار نہ کرے ۔ ٹھیک اسی طرح جیسے وہ شخص ناقص عبادت گزار ہے جو نماز پڑھے اور روزہ نہ رکھے ۔ اب اگر واقعہ اسلام یہی ہو تو ”ہندو انڈیا یا سیکولر ہندوستان “ میں مسلمانوں کے لیے برابری کا دستوری اور قانونی حق مانگنا کسی طرح جائز نہیں ہو سکتا ۔ کیوں کہ مذکورہ تعبیر کے مطابق یہ ” باطل نظام “ میں حصہ داری کا مطالبہ کرنا ہے ۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ہندوستان کے مسلمان یہ مانگ کرنے لگیں کہ ہم کو ملک کے بت خانوں کے اندرونی نظام میں برابر کا شریک بنایا جائے ۔ حقیقت یہ ہے کہ نام نہاد مفکرین کی مذکورہ اسلامی تعبیر کا لازمی نتیجہ وہی نکلتا ہے جس کی طرف ڈاکٹر ہارڈ ی نے طنزیہ طور پر اشارہ کیا ہے۔ کیوں کہ اس تعبیر کے مطابق مسلمان کسی دوسرے نظام میں صرف باغی کی حیثیت سے رہ سکتے ہیں ۔ وہ ایسے کسی نظام میں وفاداریا شریک کار بن کر نہیں رہ سکتے ۔ مگر اسلام کی یہ تعبیر سراسر خود ساختہ ہے جس سے اسلام بری ہے ۔
یہ نام نہاد "کامل تعبیر" کچھ شاعروں اور انشاپردازوں کے ذہن کی پیداوار ہے، اس کا قرآن وحدیث سے کوئی تعلق نہیں۔
اس موضوع پر راقم الحروف نے اپنی کتاب "تعبیر کی غلطی" میں تفصیلی گفتگو کی ہے۔ دلائل سے اسے رد کر دیا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلام کامل سپردگی (Total Submission) کا نام ہے نہ کہ کامل نظام (Total system) کا۔ ایک شخص جو اللہ پر ایمان لائے اس کو اپنی سوچ، اپنے جذبات، اپنے کردار اور اپنی عبادت گزاری میں کامل طور پر خدا کا فرمانبردار ہونا چاہیے۔ بحیثیت ایک فرد کے اس کو پوری طرح خدا کا بندہ بن کر رہنا چاہیے۔ حتیٰ کہ جو شخص سیاسی اقتدار کی کرسی پر ہو، وہ بھی اپنی انفرادی حیثیت ہی میں اللہ کے یہاں جواب دہ ہے نہ کہ اجتماعی حیثیت میں۔ جہاں تک اجتماعی نظام کا تعلق ہے، اُس کا معاملہ اس سے بالکل الگ ہے۔ علی الاطلاق مطلوب ہیں۔ جب کہ اجتماعی احکام حالات کی نسبت سے مطلوب ہوتے ہیں۔ اگر اپنے انفرادی اختیار کے دائرہ میں اسلامی احکام کو اختیار کر لے تو وہ کامل مسلم ہو گیا۔ اسلام کی تکمیل اس پر منحصر نہیں کہ وہ انفرادی اختیار کے دائرہ سے باہر اجتماعی اختیار کے دائرہ میں بھی لازماً اسلام کی پیروی کرے ۔
اس معاملہ کو زکوٰۃ کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ زکوٰۃ مسلمان کے اوپر اسی طرح فرض ہے جس طرح نماز فرض ہے۔ مگر دونوں کے درمیان ایک بنیادی فرق ہے۔ نماز ایک ایسا حکم ہے جس کی ادائیگی ہر حال میں لازم ہے۔ نماز ایک مسلمان سے کسی حال میں ساقط نہیں ہوتی۔ مگر زکوٰۃ کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ ایک شخص اگر صاحب نصاب ہو تو اس کے لیے زکوٰۃ کی ادائیگی ضروری مگر جو شخص صاحب نصاب نہ ہو اس پر نہ زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہے، اور نہ یہ واجب ہے کہ وہ کمائی کرکے صاحب نصاب بنے تاکہ وہ قرآنی حکم کے مطابق زکوٰۃ ادا کر سکے ۔ مذکورہ ذہن کے لوگ ہندوستان کو غلبۂ کفر کا ملک سمجھتے ہیں۔ مگر یہ سراسر جہالت ہے۔ ایک سیکولر ملک ہے۔ دستور کے مطابق یہاں ہر مذہب کو یکساں طور پر آزادی حاصل ہے۔ یہاں کی حکومت مذہبی امور میں عدم مداخلت کی پابند ہے۔ اس لیے صحیح بات یہ ہے کہ ہندوستان سیاسی اعتبار سے، غلیہ نا طرفداری کا ملک ہے نہ کہ غلبہ کفر کا ملک ۔