Al-Risala · June 1988

ایک سفر

Al-Risala, June 1988, pp. 26–47

By Maulana Wahiduddin Khan

حلقۂ الرسالہ کی دعوت پر ستنا اور ریوا کا سفر ہوا۔ یہ دونوں مدھیہ پردیش کے شہر ہیں۔ اس سے پہلے بگھیل کھنڈ کے لئے برطانویے کے پولیٹیکل ایجنٹ کا صدر مقام (۱۹۲۱۔ ستنا ضلع میں، شہر سے قریب ایک تاریخی گاؤں بھر ہت (Bharhut) ہے۔ بدھوں کے ایک استوپا کے کھنڈرات ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ابتداءً اشوک کے زمانہ میں ۲۵۰ ق م میں تعمیر کیا گیا۔ اس کے بعد دوسری صدی عیسوی میں اس کی مزید توسیع ہوئی۔ یہاں بہت سے کتبات ہیں۔ یہاں بڑی تعداد میں تاریخی مورتیاں اور سنگ تراشی کے نمونے پائے گئے ہیں جن میں سے کچھ الہ آباد کے میوزیم میں ہیں اور کچھ کلکتہ کے میوزیم میں محفوظ کر دئے

یہ تاریخی استوپا صدیوں سے لا معلوم پڑا ہوا تھا، پہلی بار اس کو میجر جنرل الکزینڈر کننگھم (Alexander Cunningham) نے ۱۸۷۳ء میں دریافت کیا۔ موجودہ زمانہ میں ایشیائی قوموں کے تاریخی آثار اور علمی نوادر کا پتہ لگانے اور انہیں محفوظ کرنے کا کام زیادہ تر مغربی لوگوں نے کیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مغربی قوموں کے غلبہ کاراز ان کی یہی افادیت ہے نہ کہ محض ظلم محض کی بنیاد پر کبھی کوئی قوم غلبہ اور ترقی کا مقام حاصل نہیں کر سکتی۔ ریوا تعلیم کے اعتبار سے، ستنا سے آگے ہے۔ سابق راجہ نے ۱۸۵۹ میں ریوا کو اپنی راجدھانی قرار دیا تھا۔ اس وقت سے ریوا کی اہمیت کافی بڑھ گئی ۔ ۱۹۶۸ میں یہاں پرتاپ سنگھ یونیورسٹی قائم ہوئی۔ بندھو گڑھ میں ۲۰۰۔ ۲۰۰ء کے زمانہ کے کتبات موجود ہیں۔ راجپوتوں نے یہاں ۱۹۰۰ء میں اپنی اسٹیٹ قائم کی تھی جو آزادی کے بعد ختم ہوگئی۔ ۲ مارچ ۱۹۸۸ کی شام کو 150 آپ سے روانگی ہوئی ۔ یہ ٹرین نظام الدین اور جبلپور کے درمیان چلتی ہے۔ پہلے اس کا نام قطب ایکسپریس تھا۔ حال میں اس کا نام بدل دیا گیا ہے۔ گاڑی وہی ہے ، مگر اب اس کا نام مہا کوشل ایکسپریس ہے۔ دوسرے ملکوں کے لوگ جانتے ہیں کہ اگر حقیقت کو بدلنا ہے تو انھیں خود حقیقت کو بدلنا پڑے گا۔ مگر ہندستان اور پاکستان کو یہ

انوکھی خوش قسمتی حاصل ہے کہ یہاں حقیقت کو بدلنے کے لئے یہ کافی ہے کہ الفاظ بدل دئے جائیں۔ ہندوستان میں ایک لفظ کے بدلنے سے " قطب ایکسپریس " " مہاکوشل ایکسپریس " ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں معمولی لفظی تبدیلی سے "کرشن نگر " اچانک " اسلام نگر " بن جاتا ہے۔ تاہم زمانہ شاید اپنی سست رفتاری کی بنا پر ان ملکوں کی بلند پروازی کا ساتھ نہ دے ہندوستان اور پاکستان الفاظ کے اعتبار سے اپنے ترقیاتی سفر کے آخری زینہ پر پہنچ چکے ہیں، مگر واقعہ کے اعتبار سے دیکھئے تو ابھی وہ پہلے زینہ پر بھی اپنا قدم جمانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ مانک پور سے ٹرین آگے بڑھی تو ۲۸ مارچ کا سورج نکل رہا تھا۔ صبح اور شام کی تقسیم زمین کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔ مگر بظاہر وہ سورج کی گردش سے پیدا ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔ بطلیموس (Ptolemy) سے لے کر کو پر نیکس (Copernicus) تک تقریباً دو ہزار سال ایسے گزرے ہیں کہ انسان اسی غلط فہمی میں مبتلا رہا کہ صبح وشام کا فرق سورج کی گردش کا کرشمہ ہے۔ مثال کے ذریعہ شاید انسان کو یہ سبق دیا جا رہا ہے کہ چیزوں کو ظاہری صورت (Face value) پر نہ لو بلکہ گہرائی تک جا کر اصل حقیقت معلوم کرو۔ کیوں کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ حقیقت کچھ اور ہوتی ہے اور ظاہر میں کچھ اور دکھائی دیتی ہے۔

یہاں ریلوے لائن کے دونوں طرف دور تک کھلے ہوئے جنگل تھے۔ ان جنگلات میں کثرت سے ڈھاک کے درخت نظر آئے۔ ڈھاک ایک معمولی درخت ہے۔ مگر اس کے پھول نہایت حسین ہوتے ہیں۔ لکڑی کے ٹھنٹھ جیسے تنے پر لال رنگ کے حد درجہ خوشنما پھول لدے ہوئے تھے۔ یہ منظر گویا تقسیم خداوندی کی بے نیازی کو بتا رہا تھا۔ خدا چاہے تو لکڑی کے ایک ٹھنٹھ کو حسین پھولوں سے ڈھک دے، اور ایک بظاہر شاداب درخت کو بے پھول کر کے چھوڑ دے۔ خدا کے یہاں انعامات کی تقسیم کا معیار اس سے مختلف ہے جو انسانوں نے اپنے درمیان رائج کر رکھا ہے۔ میں نے جس روٹ پر سفر کیا، اس کی صورت کچھ اس طرح ہے کہ مانک پور تک ٹرین ایک رخ پر چلتی ہے، اس کے بعد انجن آگے سے نکال کر پیچھے کی طرف جوڑ دیا جاتا ہے ، اور ٹرین انگریزی کے حرف وی (V) کی شکل میں الٹے رخ پر دوڑنے لگتی ہے۔

مانک پور کے بعد جب ہماری گاڑی "پیچھے کی طرف" چلنے لگی تو اس کو دیکھ کر مجھے خیال

آیا کہ زندگی کے سفر کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ ہر آدمی آگے کی طرف جانا چاہتا ہے۔ مگر اس دنیا کا نظام کچھ اس ڈھنگ پر بنا ہے کہ یہاں کبھی آگے بڑھنے کے لئے پیچھے ہٹنا پڑتا ہے ، جیت کو حاصل کرنے کے لئے ہار کو قبول کرنا پڑتا ہے۔ کوئی ممتاز کام کرنے کے لئے گم نامی کی حیثیت پر راضی ہو نا یہی اس دنیا کا قانون ہے۔ اس دنیا میں جو لوگ ” پس پائی “ پر راضی نہ ہوں وہ کبھی ” انتقام “ کی سعادت حاصل نہیں کر سکتے۔

پہلی بار میں غالباً ۱۹۶۱ میں ستنا آیا تھا۔ اس وقت میرے چھوٹے بھائی اے ۔ ایم خان انجینئر یہاں ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ میں پرنسپل تھے ، میری والدہ ان کے ساتھ مقیم تھیں۔ والدہ سے ملاقات کے لئے میں نے رام پور سے ستنا کا سفر کیا تھا۔

مجھے یاد ہے کہ روزانہ شام کو میں تنہا ٹہلنے کے لئے نکلتا تھا اور ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ دور تک چلا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ میرے چاروں طرف صرف قدرت کا ماحول میری ہمنوائی کے لئے باقی رہتا تھا۔ شہر کے باسیوں سے میں صرف الفاظ کی زبان میں بات کر سکتا تھا۔ میرے قریب ایک ایسی دنیا ہوتی تھی جس سے الفاظ کے بغیر کلام ہوتا ہے۔ اور جب مخاطب اور متکلم غیر ملفوظ کلام میں مشغول ہوں تو لذت کلام بے حساب گنا حد تک بڑھ جاتی ہے ، کیوں کہ ملفوظ کلام محدود ہوتا ہے اور غیر ملفوظ کلام غیر محدود۔

اس علاقہ کا اس سے پہلے میں ایک اور سفر کر چکا ہوں۔ یہ سفر اصلا سیونی کے جلسۂ سیرت میں شرکت کے لئے تھا۔ اس سلسلہ میں میں ایک روز کے لئے جبل پور بھی ٹھہرا تھا۔ سیونی شہر ہے ، امیں آباد ہوا۔ جبل پور مدھیہ پردیش کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے ۔ ۱۸۷۱ء میں مرہٹوں نے جبل پور کو اپنا صدر مقام بنایا تھا ۔ یہاں پانچویں صدی کے بدھ مت ، ہندو اور جین مذہب کے تاریخی

اس سفر کا کوئی سفر نامہ لکھا نہیں جا سکا تھا۔ اب مجھے تاریخ کی تلاش ہوئی۔ مگر اس کی تاریخ مجھے یاد نہیں تھی۔ پرانے کاغذات کو دیکھا تو اس میں اتفاق سے وہ پوسٹر مل گیا جس میں سیونی کے جلسہ سیرت کے منتظمین نے میرے نام کے ساتھ جلسہ کا اعلان شائع کیا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ سیرت کا یہ جلسہ ۱۴۔ ۱۶ فروری ۱۹۸۱ کو ہوا تھا۔ اس تجربہ کے بعد اس پرانے مقولہ کی حکمت سمجھ میں آئی

کہ ــــــــــ داشْتَہ آید بکار ۔

تحریر بھی اللہ تعالیٰ کی بڑی عجیب نعمت ہے ۔ تحریر کے ذریعہ یہ ممکن ہے کہ واقعات کو اس طرح منضبط کیا جا سکے کہ لمبی مدت گزرنے کے بعد بھی وہ عین اپنی سابقہ صورت میں محفوظ رہیں ۔ قرآن میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تعلیم بالقلم کو انسانوں کی ہدایت کا ذریعہ بنایا ۔ موجودہ زمانہ میں قلم یا تحریر کے اس فن میں بے شمار ترقیاں ہو چکی ہیں ، مگر عجیب بات ہے کہ قلم کے اعلیٰ استعمال میں سب سے پیچھے وہ لوگ ہیں جنہوں نے سب سے پہلے دنیا کو قلم کی قوت کار از بیت یا نہ تھا۔ سفر عام طور پر دو قسم کے ہوتے ہیں ، تفریح یا تجارت ۔ مگر تیسری زیادہ اہم قسم اس میں چھوٹ گئی ہے ۔ اور وہ ہے عبرت ۔ اسلامی سفر وہ ہے جو عبرت کا سفر ہو ۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی اسی اعلان کے ساتھ اپنے گھر سے نکلے کہ وہ عبرت حاصل کرنے کے لئے باہر جا رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آدمی عبرت پذیری کے ذہن کے تحت سفر کرے تاکہ ہر سفر اس کے لئے سبق کا ذریعہ بن جائے ۔

اصل یہ ہے کہ سفر انسانی شخصیت کی توسیع ہے ۔ ایک شخص جو اپنے گھر پر نظر عبرت کے ساتھ رہ رہا ہو، جب وہ باہر نکلے گا تو اس کا سابقہ ذہن وہاں بھی کام کرتا رہے گا۔ جو شخص مفاد پرست ہو ، اس کا سفر بھی اس کے لئے مفادات کی تلاش کے ہم معنی ہو جائے گا۔ ایک بیرونی سفر میں میں نے ایک صاحب کو دیکھا کہ وہ اخبار والوں کو تلاش کرتے پھر رہے تھے تاکہ وہاں پہنچنے کے ساتھ اپنی آمد کی خبر اور اپنا انٹرویو چھپوا کر مقامی طور پر متعارف ہو سکیں۔ موجودہ زمانہ میں بیشتر لوگوں کا حال ہے ، کچھ لوگ نام و نمود کے اس ذاتی شوق کی تسکین برہنہ انداز میں کرتے ہیں اور کچھ لوگ پردہ داری کے ساتھ اسے انجام دیتے ہیں ۔

عام طور پر سفر میں میں اس طرح نکلتا ہوں کہ میرے ساتھ ایک چھوٹے سے بیگ کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا ، حتی کہ ایک گلاس بھی نہیں۔ ایک بار میں کسی سفر پر نکلا تو اتفاق سے میرے ساتھ ایک چھوٹا لوٹا بھی تھا ۔ مزید اتفاق یہ کہ یہ لوٹا بغیر ٹوٹی والا تھا۔ ایک مسلمان بزرگ نے اس کو دیکھ کر کہا: اس قسم کا لوٹا ہندو تہذیب کی علامت ہے ، آپ مسلمان ہیں ، آپ کو ٹوٹی دار لوٹا اپنے ساتھ رکھنا

مسلمان پچھلے سو برس سے اسی قسم کے جھگڑوں میں مشغول ہیں۔ اور اس کو تہذیبی شناخت (Cultural identity) کا خوبصورت نام دئے ہوئے ہیں۔ مسلم قائدین اس معاملہ میں اس انتہا پر پہنچ گئے ہیں کہ وہ تہذیبی شناخت کے نام پر حکومت کے خلاف مطالبا تی مہم چلا رہے ہیں۔ تہذیبی شناخت کسی گروہ کی اندرونی حالت کا اظہار ہے ، وہ خارجی مطالبہ سے حاصل کی جانے والی حقیقت یہ ہے کہ مسلمان کی پہچان اس قسم کی تہذیبی پہچان نہیں۔ مسلمان کی اصل پہچان اخلاقی پہچان ہے مسلمان اپنے کردار سے پہچانا جاتا ہے نہ کہ خارجی علامتوں سے۔ قدیم مکہ میں پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب داڑھی رکھتے تھے اور پگڑی اور تہمد پہنتے تھے۔ عین یہی طریقہ وہاں غیر مسلموں کا بھی تھا۔ رسول اللہ نے ایسا نہیں کیا کہ غیر مسلموں سے الگ اپنی ” تہذیب “ مقرر کریں۔ نے مسلمانوں کے لئے جس امتیازی شناخت کی تلقین کی وہ یہ تھی کہ وہ ایک خدا کے پرستار نہیں۔ اور ناراضگی دونوں حالتوں میں حق پر قائم رہیں۔ جو کچھ اپنے لئے پسند کرتے ہیں وہی دوسروں کے لئے بھی پسند کریں۔ دوسروں کے لئے ان کے دل میں سلامتی اور خیر خواہی کا جذبہ ہو نہ کہ بغض اور حسد اور انتقام کا۔ مسلمان اگر یہ ” پہچان “ کھودیں تو دوسری کسی پہچان کا چھیننا بننا انھیں خدا کی نظر میں محبوب نہیں بنا سکتا۔

شام کو ہم بجے ٹرین مجھ کو لے کر دہلی سے روانہ ہوئی۔ رات بھر چلنے کے بعد اگلے دن 6 بجے ستنا کا اسٹیشن سامنے تھا۔ اب سفر کی مدت پوری ہو چکی تھی۔ دروازہ کھلا اور میں ٹرین سے باہر نکل کر ” دوسری دنیا “ میں آگیا۔

تکمیل سفر کا یہ تجربہ میرے ذہن میں تکمیل عمر کا تجربہ بن گیا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میرا سفر حیات آخری مرحلہ میں پہنچ گیا ہو اور میں دنیا سے نکل کر آخرت کے عالم میں داخل ہورہا ہوں یہ لمحہ ہر آدمی پر آنے والا ہے۔ دنیا کا سفر شاید اسی لئے کرایا جاتا ہے کہ آدمی آخرت کے اصل سفر کو یاد کرے ، وہ عارضی واقعہ میں مستقل واقعہ کی تصویر دیکھ لے ، اور آخرت سے دوچار ہونے سے پہلے آخرت کی تیاری کرلے۔

ستنا میں میرا قیام جناب اقبال احمد صاحب ایم اے کے یہاں تھا۔

ستنا سے مجھے ریوا جانا تھا۔ یہ سفر روڈ کے ذریعہ طے ہوا۔ ہمارے ایک نوجوان ساتھی گاڑی چلا رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ سڑک پر جب سامنے سے کوئی گاڑی آتی ہے تو وہ اپنی گاڑی سائیڈ میں کرلیتے ایک طرف سے سامنے والی گاڑی گزر جاتی ہے اور دوسری طرف سے ہماری گاڑی۔ ملک کی سڑکوں پر ہر روز کروروں بار پیش آتا ہے اور بے شمار لوگ اس کو دیکھتے ہیں۔ آدمی اس کو " ٹریفک " کا ایک واقعہ سمجھتا ہے۔ کوئی شخص اس کو وسیع تر زندگی سے نہیں جوڑتا۔ حالاں کہ اس دنیا میں جو ٹریفک کا اصول ہے وہی زندگی کا اصول بھی ہے۔ اس دنیا میں دوسرے کو راستہ دینا پڑتا ہے اس کے بعد ہی اپنے لئے راستہ ملتا ہے۔ جو لوگ دوسروں کو راستہ دینے پر راضی نہ ہوں، ان کے لئے اپنا راستہ پانا بھی مقدر نہیں۔

ریوا میں میرا قیام جناب نعیم الدین صاحب نہار کے یہاں تھا۔ گاڑی قیام گاہ پر رکی۔ میں باہر نکلا تو عین اسی وقت سڑک پر دو ہندو نوجوان سائیکل سوار وہاں آگئے۔ انھوں نے فوراً اپنی سائیکل روک دی، اور نرمی سے کہا " سر، تھوڑا سائیڈ " یہ ریوا کے انسان سے میرا پہلا تعارف تھا۔ یہاں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تعلقات نہایت اچھے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کا احترام یہاں وہ فرقہ وارانہ مسائل نہیں جو یوپی جیسے علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ اس فرق پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ اس کی اصل جڑ مسلم بادشاہوں کی تاریخ ہے۔ علاقے مسلم بادشاہت کے مرکز تھے، جہاں ان کی یادگاریں ہیں، جہاں ان کے دور کی روایتیں موجود ہیں، وہاں کے مسلمانوں کے ذہن ابھی تک اسی " شاندار ماضی " میں اٹکے ہوئے ہیں، ان علاقوں کے حالات مسلمانوں کے اندر " پدرم سلطان بود " کی نفسیات کو زندہ رکھتے ہیں۔ اس علاقہ کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ ہے۔ چنانچہ جن علاقوں میں اس نفسیات کے اسباب نہیں ہیں، وہاں کے مسلمانوں کے لئے کوئی مسئلہ بھی نہیں۔

ریوا کے جنگلات کسی زمانہ میں شیر کے لئے مشہور تھے۔ دہلی کے چڑیا گھر کا سفید شیر اسی ریوا کے جنگل سے حاصل کیا گیا تھا۔ ۱۹۵۱ میں ریوا کے جنگل میں ایک سفید شیر پکڑا گیا۔ یہ ۹ ماہ کا بچہ تھا۔ اس کا نام " موہن " رکھا گیا۔ اور راجہ کے محل میں اس کی پرورش ہوئی۔ بڑا ہونے کے بعد ۱۹۵۵ میں۔ ایک عام رنگ کی شیرنی سے اس کا جوڑا ملایا گیا۔ اس کے نتیجہ میں چار بچے پیدا ہوئے مگر وہ

سب عام شیروں جیسے تھے۔ راس کے بعد دوبارہ ان میں سے ایک شیرنی کا اور موہن کا جوڑا ملایا گیا۔ اس متعلق کے بعد ۱۹۵۸ میں چار بچے پیدا ہوئے اور یہ چاروں سفید تھے ۔ یہ گویا قدرت کا سبق ہے کہ پہلی کوشش میں اگر تمہیں کامیابی نہ ہو تب بھی تم کو نا امید نہ ہونا چاہئے۔ سفید شیر بہت نادر قسم ہے۔ ساری دنیا میں اس وقت تقریباً 70 سفید شیر پائے جاتے ان میں سے ۲۵ شیر صرف ہندوستان میں ہیں۔ سفید شیر عادات و خصائل کے اعتبار سے دوسرے شیروں جیسا ہی ہوتا ہے۔

شیر دودھ والے جانوروں کا شکار کر کے کھاتا ہے۔ وہ بھیڑیا اور سانپ جیسے جانوروں کو نہیں تاہم اس معاملے میں بھی وہ ایک فرق کو ہمیشہ ملحوظ رکھتا ہے۔ اگر آپ شیر کے بارہ میں کوئی کتاب پڑھیں تو شیر کا عالم آپ کو بتائے گا کہ شیر انھیں جانوروں پر حملہ کرتا ہے جن کے تعلق وہ جانتا ہے کہ وہ آسانی کے ساتھ ان پر قابو پا سکتا ہے۔ بڑے جانور ، جیسے ہاتھی، جنگلی بھینسا وغیرہ پر حملہ کرنے سے وہ عام طور پر احتراز کرتا ہے :

Healthy large mammals are generally avoided (IX/1004). یہ شیر کا طریقہ ہے جو خدا کی فطرت گاہ میں تربیت پا کر نکلتا ہے۔ انسان کو خدا نے آزاد کر کے اسے عقل دی دی کہ وہ خود اپنے فیصلے سے صحیح طرز عمل اختیار کرے۔ مگر انسان کمزور ہونے کے باوجود ، اپنے سے طاقت ور پر حملہ کرتا ہے۔ اور پھر جب لازمی نتیجہ کے طور پر برباد ہوتا ہے تو دوسرا جرم یہ کرتا ہے کہ اپنی حماقت کا اعلان کرنے کے بجائے دوسروں کے ظلم اور سازش کا انکشاف کرنے میں مشغول ہو جاتا ہے۔

ریوا میں جن لوگوں سے ملاقات ہوئی ان میں سے ایک پروفیسر اختر حسین نظامی ہیں۔ نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے تاریخ میں ایم اے کیا ہے۔ اس سلسلہ میں وہ ۱۹۴۷ سے ۱۹۳۵ تک علی گڑھ میں رہے ہیں۔ یہ سرسید کے پوتے راس مسعود کا زمانہ تھا۔ انھوں نے بتایا کہ راس مسعود جس زمانہ میں پیدا ہوئے اس وقت علی گڑھ میں ایک انگریز کلکٹر مسٹرر اس (Ross) تھا مسٹر اس کا نام مسعود میں جوڑ کر راس مسعود بنایا گیا۔ راس انگریز سے راس مسعود کے والد (سید محمود) کی دوستی تھی۔ اس انگریز افسر نے سید محمود سے کہا کہ تم اپنے لڑکے کے نام کے ساتھ میرا نام"راس

"راس جوڑ دو تو یہ ہماری دوستی کا مستقل نشان ہوگا۔ چنانچہ مسعود کو راس مسعود کہا جانے لگا۔ دور جدید کی تاریخ میں صرف ایک ہی قابلِ ذکر مسلمان ہیں جنھوں نے حبِ مغرب کو اہمیت کو محسوس کیا اور مسلمانوں کو اس طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی۔ اور وہ سرسید ہیں۔ عمر وپ کی پہنچ صرف مغرب کی تہذیبی تقلید تک ہوگی ، وہ مغرب کی سائنسی تقلید کی اہمیت کو نہ سمجھ تا ہم پہلے شخص کی حیثیت سے سرسید کا گروہ قابلِ معافی ہو سکتا ہے۔ اگر ان کے بعد کوئی دوسرا شخص مسلمانوں میں اٹھتا جو مغربی سائنس کی اہمیت کی طرف مسلمانوں کو متوجہ کرتا تو ابتدائی کمی کی تلافی ہو جاتی مگر بد قسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔ اور مسلمان دور جدید میں دوسری قوموں سے کم از کم سوسال پیچھے ہوگئے ۔ ایک صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ انھوں نے قانون میں اعلیٰ ڈگری لی ہے۔ اس کے بعد وہ پریکٹس کرنے والے تھے۔ اس درمیان میں انھیں الرسالہ اور دوسری کتا بیں مل گئیں۔ انھوں نے ان کا مطالعہ کیا تو وہ بالکل بدل گئے۔ انھوں نے طے کیا کہ اب وہ پریکٹس کرنے کے بجائے " اسلامی قانون اور انسانی قانون " پر ریسرچ کریں گے۔ اور قانون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لے کر اس میدان میں دین کی خدمت کریں گے۔ چنانچہ وہ اس میدان میں سرگرم ہیں۔

ایک تعلیم یافتہ بزرگ میرے قیام کے دوران بار بار آتے رہے اور ہر مجلس میں شریک رہے انھوں نے کہا کہ میرا مسلک یہ ہے کہ میں ہر عالم کی عزت کرتا ہوں اور اسی جذبہ کے تحت آپ کی مجلسوں میں بھی شرکت کرتا رہا ہوں۔ میرا قول ہے کہ لا نفرق بین احد من العلماء (ہم ایک عالم اور دوسرے عالم کے درمیان فرق نہیں کرتے)

۲۸ مارچ کو نماز ظہر کے بعد کھچیا کی مسجد میں اجتماع تھا۔ اس موقع پر میں نے " اللہ اکبر " کی تشریح میں نے کہا کہ یہ لفظ جو روزانہ نمازوں میں بار بار دہرایا جاتا ہے، اس کو آجکل کے مسلمانوں نے ایک تم کا نعرہ بنا لیا ہے جس کو وہ اپنے قومی جھگڑوں اور لڑائیوں میں دوسروں کے خلاف استعمال حالاں کہ " اللہ اکبر " نعرہ احتساب ہے نہ کہ نعرہ جنگ۔ اللہ اکبر کا پیغام یہ ہے کہ خدا بڑا ہے ، اس لئے مجھے چھوٹا بن کر دنیا میں رہنا ہے۔ مگر مسلمانوں نے اس کا مطلب یہ سمجھ رکھا ہے کہ خدا بڑا ہے ، اس لئے مجھے دوسروں کو چھوٹا بنانا ہے۔ جو لفظ حقیقتہ احتسابِ خویش کا عنوان تھا اس کو مسلمانوں نے احتسابِ غیر کا عنوان بنا دیا۔ اس قسم کی تبدیلی صرف فساد پیدا کرتی ہے ، وہ کسی بھی درجہ میں کوئی

اصلاح پیدا نہیں کرتی۔ اس بات کو میں نے مختلف مثالوں کے ذریعہ واضح کیا۔

۲۸ مارچ کی شام کو وینکٹ بھون میں پروگرام تھا۔ اس میں مسلم اور غیر مسلم تعلیم یافتہ لوگ شریک تھے یہ ہال راجہ وینکٹ رمن سنگھ کا بنوایا ہوا ہے جو موجودہ راجہ مارٹن ٹرنگھ (ایم پی) کے والد تھے۔ ہال کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس میں چار شیر بھس بھرے ہوئے (Stuffed) رکھے ہوئے ہیں۔ یہاں میری تقریر کا موضوع " اسلام اور انسانی برابری " تھا۔ اس میں قرآن و حدیث کی تعلیمات بتائی گئیں، اور ان کو مختلف مثالوں سے واضح کیا گیا۔ ایک بنیادی بات میں نے یہ کہی کہ انسانوں کے درمیان ہمیشہ فرق ہوتا ہے، کوئی بڑا ہوتا ہے اور کوئی چھوٹا، کوئی طاقتور ہوتا ہے اور کوئی اسی سے نابرابری کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اس نوعیت کی نابرابری سماج میں ہمیشہ باقی رہے انسانوں کی کاٹ چھانٹ کرکے آپ انہیں برابر نہیں کرسکتے، جیسا کہ کمیونزم نے ناکام طور پر کرنے کی کوشش کی۔

انسانوں کے درمیان برابری قائم کرنے کی عملی صورت صرف یہ ہے کہ ان کے درمیان ایسی ہستی کو کھڑا کردیا جائے جس کے آگے سب اپنے کو چھوٹا محسوس کرنے لگیں۔ خدائے برتر کا عقیدہ یہی کام کرتا کسی سماج میں اگر خدا کی بڑائی زندہ عقیدہ کے طور پر آجائے تو وہاں اپنے آپ برابری اور مساوات کا ماحول قائم ہوجائے گا۔ کیوں کہ انسان آپس میں ایک دوسرے سے بڑے ہیں، مگر خدا کے مقابلہ میں کوئی بڑا نہیں۔

میں نے کہا کہ اس ہال میں چار مردہ شیر موجود ہیں۔ مگر موجودہ حالت میں وہ ہمارے اندر ہلچل پیدا نہیں کرتے۔ لیکن اگر ایسا ہوکہ چار زندہ شیر یہاں داخل ہوکر دھاڑنے لگیں تو معاملہ بالکل دوسرا ہوگا۔ آپس میں لوگ نابرابر ہیں، مگر زندہ شیر کے مقابلہ میں تمام لوگ برابر ۔ ایک لطیفہ ہے کہ کچھ اونٹ آپس میں بحث کر رہے تھے کہ کون زیادہ اونچا ہے۔ چوں کہ ہر ایک میں تھوڑا بہت فرق تھا۔ لئے فیصلہ نہیں ہورہا تھا۔ کسی نے ان اونٹوں کو لے جاکر پہاڑ کے سامنے کھڑا کردیا۔ اب سب اونٹ چپ ہوگئے، کیوں کہ جہاں پہاڑ آجائے وہاں کوئی اونٹ بڑا انہیں رہ جاتا۔

جب شیر اور پہاڑ لوگوں کے اونچ نیچ کو ختم کر دیتے ہیں تو وہ خدا جو تمام شیروں کا اور تمام پہاڑوں کا خالق ہے، اس کی موجودگی کا احساس لوگوں کو کتنا زیادہ متاثر کرے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ

نابرابری کو ختم کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ انسانوں کو ان کے خدا کے سامنے کھڑا کر دیا جائے۔ ریلوے سے ستنا کے لئے واپسی بذریعہ روڈ ہوئی ۔ ہماری گاڑی کے ڈرائیور گلاب خاں پیدائش (۱۹۲۶) تھے۔ وہ ستنا کے رہنے والے ہیں۔ اور پچھلے 45 سال سے ڈرائیوری کا کام کرتے میں نے ان سے پوچھا کہ آپ اپنے تجربہ کی روشنی میں بتائیے کہ گاڑی میں ایکسیڈنٹ سے بچنے کی ترکیب کیا ہے۔ انھوں نے کہا :

"آگے کی پوزیشن کو دیکھ کر اپنے کو کنٹرول کرنا چاہئے“۔

اس میں شک نہیں کہ سڑک کی سواری کے لئے محفوظ سفر کا واحد راز یہی ہے۔ مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ زندگی کے وسیع تر سفر کو محفوظ اور کامیاب سفر بنانے کا راز بھی یہی ہے۔ شخص دنیا میں اکیلا نہیں ہے۔ جس طرح وہ خود زندگی کی دوڑ میں ہے، اسی طرح دوسرے لوگ بھی زندگی کی دوڑ لگا رہے ہیں۔ ایسی حالت میں دوسروں کی دوڑ سے سابقہ پیش آنا لازمی ہے۔ دوطرفہ دوڑ میں وہی شخص حادثہ سے بچ سکتا ہے جو سامنے والے کو دیکھ کر اپنے آپ کو قابو میں رکھے۔ ستنا کا ایک بڑا محلہ نذیر آباد کہا جاتا ہے۔ اس محلہ کے ساتھ ایک تاریخ وابستہ ہے جس میں بہت بڑا سبق ہے۔

محلہ کا یہ نام حاجی نذیر احمد مرحوم (۱۹۶۰- ۱۸۷۵) کے نام پر ہے۔ وہ یہاں کے بڑے زمیندار انھوں نے اسٹیشن کے قریب تقریباً پندرہ ایکڑ زمین لوگوں کو مکان بنانے کے لئے مفت دے چنانچہ بہت سے لوگوں نے یہاں مکانات بنائے، جن میں ہندو بھی ہیں اور مسلمان بھی۔ اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ ان لینے والوں نے محطی کے اعتراف کے طور پر محلہ کا نام نذیر آباد رکھ دیا۔ ستنا کی توسیع و ترقی کے ساتھ یہ جگہ اہم ہوتی گئی۔ چنانچہ کچھ فرقہ پرست ہندووں نے یہ تحریک چلائی کہ اس بستی کا نام نذیر آباد کے بجائے مالویہ نگر رکھ دیا جائے۔ انھوں نے اپنے گھروں اور دکانوں پر مالویہ نگر کے بورڈ لگائے۔ خطوط کے پتہ میں مالویہ نگر لکھنا شروع کیا۔ حتیٰ کہ مالویہ نگر کے نام سے یہاں ایک چھوٹا سا ڈاک خانہ کھلوا دیا۔ مگر ان کی ساری کوششوں کے باوجود یہ نام مشہور نہ ہو سکا۔ ایک صاحب نے بتایا کہ ایک بار وہ ستنا کے دھرم شالہ میں گئے۔ وہاں ایک شخص باہر سے اس کے پاس ”مالویہ نگر“ کا پتہ تھا۔ مگر دھرم شالہ میں کوئی شخص اس کو یہ بتانے والا نہیں ملاکہ ”مالویہ

نگر‘‘ کہاں ہے۔ یہی حال اکثر ان خطوط کا ہوتا تھا جس پر مالویہ نگر لکھا ہوا ہوتا تھا۔ غرض فرقہ پرست افراد کی ساری کوششوں کے باوجود مالویہ نگر کا نام رائج نہ ہو سکا۔ اور نذیر آباد بدستور نذیر آباد ہی

اس کی وجہ یہ ہے کہ ’’ مالویہ نگر‘‘ کے حامیوں کے پاس صرف تعصب تھا۔ اس کے مقابلہ میں ’’نذیر آباد‘‘ کے حامیوں کے پاس حقیقت تھی۔ اور جب تعصب اور حقیقت میں ٹکراؤ ہو تو حقیقت باقی رہتی ہے نہ کہ تعصب۔

ستنا کا نام ریونیو ریکارڈ میں رگھو راج نگر لکھا ہوا ہے۔ رگھو راج سنگھ یہاں کے راجہ تھے ان کے نام پر راجگان نے اس کا نام رگھو راج نگر رکھا تھا۔ مگر ستنا ریلوے اسٹیشن کا نام چونکہ ستنا تھا اس لئے عوام میں ’’ستنا‘‘ کا لفظ ہی جاری رہا، اور رگھو راج نگر جاری نہ ہو سکا۔ دوسری برعکس مثال مذکورہ بالا محلہ نذیر آباد کی ہے۔ بسانے والے مسلمان کے نام پر اس کا نام نذیر آباد ہے۔ یہاں کے فرقہ پرست عناصر نے اس کا نام ’’ مالویہ نگر‘‘ رکھا اور ہر قسم کی کوشش کی کہ اس کا نام مالویہ نگر مشہور ہو جائے۔ مگر ساری کوشش کے باوجود نذیر آباد نذیر آباد ہی رہا ، وہ مالویہ نگر نہ ہو سکا۔

زندگی میں جو چیز فیصلہ کن بنتی ہے وہ تعصب نہیں، حقیقت ہے۔ حقیقت باقی رہتی ہے، اور تعصب گرد و غبار بن کر فضا میں اڑ جاتا ہے۔ حقائق اگر ’’ رگھو راج نگر‘‘ کے حق میں نہ ہوں بلکہ ’’ ستنا‘‘ کے حق میں ہوں تو ستنا چل جائے گا، رگھو راج نگر نہیں چلے گا۔ اسی طرح حقائق اگر ’’ نذیر آباد‘‘ کے حق میں ہوں ، ’’ مالویہ نگر‘‘ کے حق میں نہ ہوں ، تو نذیر آباد چل جائے گا اور مالویہ نگر فضا میں گم ہو کر رہ جائے گا۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ حقائق کو اپنے موافق بنائے ، کیوں کہ بالآخر جو چیز باقی رہتی ہے وہ حقائق ہیں نہ کہ تعصب اور ظلم۔

ایک صاحب نے بتایا کہ وہ ستنا سے جبل پور کے لئے بذریعہ کار روانہ ہوئے، ان کے پاس چار ’’ رسالہ کیسٹ‘‘ تھے۔ راستہ میں وہ ایک کے بعد ایک کیسٹ لگاتے گئے۔ اور راستہ چلتے ہوئے تمام کیسٹ سن لیا۔ ان کے ساتھ ایک وکیل صاحب بھی سفر کر رہے تھے۔ انھوں نے پہلی بار یہ کیسٹ انھوں نے کہا کہ یہ کیسٹ تو اتنے اثر انگیز تھے کہ پورا راستہ طے ہو گیا اور سفر کا اندازہ ہی نہیں

وہ اس کی فکر سے غیر معمولی طور پر متاثر ہوئے اور الرسالہ کے مستقل قاری بن گئے۔ آج کل کے مشغول انسان کے لئے آڈیو کیسٹ دعوت کا نہایت کار آمد ذریعہ ہے۔ مشغولیت کی وجہ سے الرسالہ کیسٹ کا سلسلہ ایک عرصہ سے بند تھا۔ اب خیال ہو رہا ہے کہ اس کو دوبارہ جاری کر دینا چاہئے۔

ملک کے دوسرے علاقوں کی طرح یہاں بھی خدا کے فضل سے الرسالہ کافی پھیلا ہے۔ جو شخص ایک بار الرسالہ پڑھ لیتا ہے، وہ خود ہی اس کا مبلغ بن جاتا ہے اور اس کو اپنے ماحول میں پھیلانا شروع کر دیتا ہے۔ ستنا کی ایک مسجد میں تذکیر القرآن مسلسل پڑھ کر سنائی جارہی ہے۔ بہت سے غیر مسلم حضرات بھی الرسالہ اور کتابیں پڑھ رہے ہیں۔ مثلاً ٹھا کر لال بکرم جیت سنگھ کے متعلق معلوم ہوا کہ وہ دلچسپی کے ساتھ " پیغمبر انقلاب " کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ پروفیسر کلیم احمد خاں صاحب نے اسلامی مرکز کی تمام چھوٹی بڑی کتابیں منگواکر مجلد کرائی ہیں اور منظم طریقہ سے انہیں دوسروں کو پڑھارہے ہیں۔

ستنا میں ایک صاحب نے میری گفت گو سننے کے بعد کہا کہ آپ صبر اور اعراض کی تلقین کرتے حالاں کہ لقمان حکیم کا قول ہے کہ اتنے میٹھے نہ بنو کہ لوگ تم کو ہڑپ کر جائیں اور نہ اتنے کڑوے بنو کہ لوگ تمہیں تھوک دیں۔ اسی طرح ایک اور صاحب نے کہا کہ آپ ایڈجسٹمنٹ کی باتیں کرتے ہیں حالاں کہ اقبال نے کہا ہے:

Printed page