Al-Risala · January 1988

Starve the problems, feed the opportunities.

Al-Risala, January 1988, pp. 27–28

By Maulana Wahiduddin Khan

ہندوستان کے مسلمان اپنے لیڈروں کی رہنمائی میں احتجاجی طریقہ پر عمل کرتے رہے ہیں ۔ اس کے مقابلہ میں میں تعمیری طریقہ اختیار کرنے کا داعی ہوں ۔ یہی بات مذکورہ مضمون میں بھی کہی گئی ہے ۔ مطبوعہ ریکارڈ کے مطابق ، یہ بات میں نے پہلی بار انجمن تعلیمات دین کے ایک جلسہ میں پیش کی تھی جو ۲۱ اکتوبر ۱۹۶۰ کو گونڈہ میں ہوا تھا اور جس میں مولانا ابو الحسن علی ندوی اور قاضی عدیل عباسی وغیرہ شریک تھے ۔ ۶۶-۱۹۶۵ کے دوران میں نے یہی بات ندائے ملت لکھنؤ کے صفحات میں پیش کی ۔ ۱۹۷۷ سے ۱۹۷۴ تک میں اس کو الجمعیتہ ویکلی (دہلی) میں پیش کرتا رہا اب ۱۹۷۷ سے یہی بات ماہنامہ الرسالہ کے صفحات میں پیش کر رہا ہوں ۔

ٹائمز آف انڈیا کے مذکورہ مقالہ میں بھی میں نے یہی بات کہی ہے ۔ یہ موجودہ حالات کے اعتبار سے عین اسلامی بات ہے ۔ اور یہ وہی بات ہے جس کا ایک اعلیٰ نمونہ خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں صلح حدیبیہ کی صورت میں ملتا ہے ۔ مقالہ کا حسب ذیل پیراگراف میرے نقطہ نظر کا خلاصہ ہے :- In this world (of competition) it is only those who stop railing against defeat and accept it with a view to doing something positive about the situation who can ultimately succeed. We should never lose sight of the fact that a strategic retreat makes it possible to return to the fray. Such tactics were very well understood by the Muslims 1,400 years ago when they drew up the peace treaty of Hudaibiya which, although apparently over-conciliatory towards the opponent, ultimately permitted the Islamic mission to go

یعنی یہ دنیا مقابلہ کی دنیا ہے ۔ یہاں جو لوگ شکست کے خلاف شکوہ شکایت چھوڑ دیں اور حالات کے بارہ میں کچھ مثبت کام کرنے کی خاطر اس کو مان لیں ، وہی آخر کار کامیاب ہوتے ہیں ۔ ہمیں کبھی اس حقیقت کو بھولنا نہیں چاہیے کہ تدبیری طور پر پیچھے ہٹنا، دوبارہ میدان مقابلہ میں آنے کو ممکن بناتا ہے ۔ اس حکمت عملی کو چودہ سو سال پہلے مسلمانوں نے بہت اچھی طرح سمجھ لیا تھا جب کہ انھوں نے حدیبیہ کے صلح نامہ کو تیار کیا تھا۔ یہ صلح اگر چہ بظاہر دشمن سے بہت زیادہ جھک کر کی گئی تھی۔ مگر آخر کار اس نے اسلامی مشن کو یہ موقع دیا کہ وہ کسی رکاوٹ کے بغیر آگے بڑھتا چلا جائے ۔

ٹائمس آف انڈیا کے مذکورہ مضمون میں ایک ذیلی سرخی ان الفاظ میں قائم کی گئی تھی : یعنی تدبیری واپسی۔ یہ عین وہی بات ہے جو خود قرآن (الأنفال (۱۶) میں کہی گئی ہے۔ نے تشویہ حقائق کے اصول کے تحت یہ کیا کہ اس نے صرف لفظ Retreat کو لے لیا اور دوسرے لفظ Strategic کو حذف کر دیا۔ یعنی جو چیز "تدبیری واپسی" کے طور پر کہی گئی تھی اس کو صرف " واپسی " بنا کر پیش کر دیا۔

یہ وہی طریقہ ہے جس کے ذریعہ کسی نے قرآن سے یہ حکم نکال لیا تھا کہ " نماز کے قریب نہ جاؤ" اور اس عجیب و غریب قرآنی تعلیم کا ماخذ یہ تھا کہ اس نے قرآن کی ایک آیت کو ادھوری شکل میں قرآن میں کہا گیا تھا کہ : لا تَقْرَبُوا الصَّلَوةَ وَأَنْتُمْ سُكارى - (النساء (۴۳) اس نے سادہ طور پر یہ کیا کہ آیت کے آخری لفظ کو حذف کر دیا اور کہا کہ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ لا تَقْرَبُوا الصَّلوة اگر یہ کوئی طریق استدلال ہے تو اس طرح ہر بات ثابت کی جا سکتی ہے ، خواہ وہ کتنی ہی زیادہ الٹی بات کیوں نہ ہو ۔

Printed page