زمانہ با تو نسازد تو با زمانہ ستیز
Al-Risala, June 1988, pp. 47–40
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے کہا کہ میں جو کچھ کہتا ہوں، قرآن و حدیث کے حوالہ سے کہتا ہوں، اور آپ لوگ اس کے جواب میں مقولہ اور شعر پیش کر رہے ہیں۔ جب کوئی بات قرآن و حدیث کے حوالہ سے کہی جائے تو آدمی کو چاہئے کہ اس کے جواب میں قرآن و حدیث پیش کرے۔ اور اگر اس کے پاس قرآن و حدیث نہ ہو تو
حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے بعد کے زمانہ میں ایک بار کسی مسئلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول لوگوں کو سنایا۔ انہوں نے اس کے جواب میں کہا کہ ابو بکر و عمرؓ نے تو ایسا اور ایسا کہا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس غضب ناک ہوگئے ۔ انہوں نے فرمایا: قریب ہے کہ تمہارے اوپر
آسمان سے پتھر برسیں۔ میں کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ، اور تم کہتے ہو کہ ابو بکر و عمر نے کہا ، قال ابن عباس ، يوشك ان تنزل عليكم حجارة من السماء۔ رسول الله صلى الله عليه وسلم وتقولون قال ابوبكر وعمر)
ایک صاحب نے کہا کہ آجکل اردو اخباروں اور رسالوں میں آپ کے خلاف لکھا جا رہا ہے ، مگر آپ ان کا جواب نہیں دیتے۔ میں نے کہا کہ اگر کوئی شخص واقعی معنوں میں دینی یا علمی تنقید پیش کرے تو ہم ضرور اس کے بارے میں لکھیں گے۔ مگر آجکل جو تحریریں ہمارے خلاف چھپ رہی ہیں ان میں کوئی دینی یا علمی دلیل نہیں۔ قرآن کی اصطلاح میں یہ سب لغو تحریریں ہیں اور لغو بات کے سلسلہ میں ، ہمیں اعراض کرنے اور درگزر کرنے کا حکم دیا گیا ہے (المؤمنون ۳ ، الفرقان ۷۲) سورہ القصص (۵۵) میں اہل ایمان کی ایک جماعت کا ذکر ہے۔ کچھ لوگوں نے ان کے دین کا مذاق اڑایا ، اور ان کے ساتھ جہالت کی۔ انھوں نے اس کا براہ راست جواب نہیں دیا۔ بلکہ یہ کہہ کر ان سے الگ ہو گئے کہ ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال تم کو سلام ، ہم بے سمجھ لوگوں سے الجھنا نہیں چاہتے۔
میں نے ان مخالفانہ تحریروں کو پڑھا تاکہ ان میں اگر واقعی کوئی بات ہو تو اس کی وضاحت کی جائے مگر میں نے پایا کہ یہ تمام تحریریں بالکل غیر سنجیدہ ہیں۔ ان میں استہزاء ، بے بنیاد الزام اور لفظی سب وشتم کے سوا اور کچھ نہیں۔ پھر ایسی لغو باتوں کا کیا جواب دیا جائے۔ اس قسم کے لغو کلام سے تو صرف اعراض ہی کیا جا سکتا ہے۔
مدھیہ پردیش ایک ہندی ریاست ہے۔ یہاں ۹۵ فی صد لوگ ہندی ہی میں لکھتے اس بنا پر یہاں کے لوگوں نے شدت سے مطالبہ کیا کہ الرسالہ کا ہندی ایڈیشن جاری کیا جائے۔ اس سلسلہ میں مزید بات یہ سامنے آئی کہ الرسالہ کا ہندی ترجمہ کرنے کی ضرورت صرف یہ کیا جائے کہ اردو الرسالہ ہی کو ہندی رسم الخط میں شائع کیا جائے۔ یہ بات مجھے بہت درست معلوم ہوتی ہے۔ میں نے ہندوؤں اور مسلمانوں سے ملاقاتوں کے دوران محسوس کیا کہ یہ لوگ خواہ اردو کو پڑھ نہ سکیں مگر وہ کم از کم آسان اردو کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ مثلاً بار ایسوسی ایشن کے اجتماع (۲۹ مارچ) میں ۹۹ فی صد ہندو صاحبان تھے اور سارا ہال
پوری طرح بھرا ہوا تھا۔ مگر میری اردو تقریر کو ہر آدمی نے پوری طرح سمجھا۔ اسی طرح دوسرے اجتماعات میں بھی ہندو صاحبان اور ہندی داں لوگ تھے، مگر کسی ایک شخص نے بھی یہ شکایت نہیں کی کہ آپ کی زبان سمجھ میں نہیں آئی۔
ان حالات کی روشنی میں ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ موجودہ اردو رسالہ ہی کو رسم الخط بدل کر ہندی میں شائع کیا جائے انشاء اللہ اس پر جلد عمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ایک صاحب سے ملاقات ہوئی جو اسلام کی سیاسی تعبیر سے متاثر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کو سیاسی اور اجتماعی اعتبار سے غالب کرنے کے لئے آپ کے پاس کیا پروگرام ہے۔ آج سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مسلمان غلبۂ کفر کے تحت زندگی گز ار رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ مفروضہ بجائے خود غلط ہے۔ اس ملک میں "کفر" کا اقتدار نہیں ہے بلکہ "سیکولرزم" کا اقتدار ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ یہاں غلبۂ کفر کی حالت نہیں ہے بلکہ غلبۂ نا طرف داری کی حالت ہے۔ حال عین ہمارے حق میں ہے۔ اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اس کو ہمیں بھر پور طور پر استعمال کرنا چاہئے۔ ۲۹ مارچ کی دوپہر کو محمدیہ احسانیہ ہائر سکینڈری اسکول (ستنا) میں پر وگرام تھا۔ شہر کے مسلم اہل فکر اور اعلی تعلیم یافتہ حضرات اکٹھا ہوئے ۔ اس موقع پر علم کی اہمیت پر گفتگو کی گئی۔ میں نے بتایا کہ علم کا تعلق سروس سے محض ثانوی ہے۔ علم بذات خود مطلوب ہے۔ علم سے ذہن وسیع ہوتا ہے۔ آدمی دین کا اور تاریخ کا مطالعہ کرتا ہے اور اس طرح اس قابل بنتا ہے کہ زیادہ گہری واقفیت کے ساتھ زندگی کی منصوبہ بندی کر سکے۔ اس بات کو تاریخ کی مثالوں سے واضح کیا گیا۔ نذیر آباد (ستنا) کی مسجد میں ۳۰ مارچ کو نماز فجر کے بعد درس تھا۔ قرآنی آیات اور احادیث کی روشنی میں دین میں شکر کی اہمیت بتائی گئی اور یہ بتایا گیا کہ دوزخ اور جنت کیا ہے، اور کس قدر ضروری ہے کہ آدمی دوزخ سے بھاگے اور جنت کا حریص بنے۔
۲۹ مارچ کو دن میں ۲ بجے ستنا کے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میں پروگرام تھا۔ وکیل صاحبان سے بھرا ہوا تھا ۔ ڈسٹرکٹ جج اور مجسٹریٹ صاحبان بھی موجود تھے۔ میں نے تقریر شروع کرتے ہوئے ایک واقعہ بیان کیا۔ دہلی میں میری ملاقات ایک وکیل صاحب سے ہوئی۔ وہ فوجداری میں وکالت کرتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ ہم لوگ پورا مقدمہ ایف
آئی آر (F.I.R) چر چلاتے ہیں۔ ہم اس کھوج میں نہیں پڑتے کہ واقعہ کی اصلیت کیا ہے۔ واقعہ کی اصلیت کو دیکھے تو پھر اس کا ٹائر پنکچر ہو جائے گا۔
میں نے کہا کہ آپ لوگ قانون داں ہیں۔ آپ معاملہ کے لیگل پہلو کو دیکھتے ہیں۔ مگر اسلام معاملہ کے اسپرچول پہلو کو دیکھتا ہے۔ وہ آدمی کے اندر کو متاثر کرتا ہے۔ وہ آدمی کے ٹائر کو پنکچر کر دینا
پھر میں نے کہا کہ ہر آدمی کے اندر بیک وقت دو قوتیں ہیں۔ ایک وہ جس کو قرآن میں نفس امارہ کہا گیا ہے ۔ اور دوسرا وہ جس کو نفس لوامہ کہا گیا ہے۔ نفس امارہ دراصل وہی چیز ہے جس کو آج کل انا (Ego) کہا جاتا ہے اور نفس لوامہ سے مراد ضمیر (Conscience) ہے۔ اب یہ آپ کا امتحان ہے کہ آپ دونوں میں سے کس صفت کو جگاتے ہیں۔ اگر آپ نے آدمی کی انا کو جگایا تو اس کی سرکشی آپ کے حصہ میں آئے گی ، اور اگر آپ نے اس کے ضمیر کو جگایا تو اس کے ضمیر کا فیصلہ آپ کے حصہ میں آئے گا۔
27 مارچ کی شام کو مہاویر بھون (ستنا) میں پروگرام تھا۔ ہندو اور مسلمان دونوں بہت بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ تقریر کا موضوع " اسلام اور قیام امن" رکھا گیا تھا۔ میں نے کہا کہ دہلی کے ایک انگریزی اخبار میں حال میں ایک آرٹیکل چھپا تھا ، جس کا عنوان تھا : Bilateralism is Best یعنی دو طرفہ طریقہ بہترین طریقہ ہے۔ دو فریق کے درمیان اختلاف اور شکایت ہو تو دونوں کو نصف نصف ذمہ داری لے کر معاملہ کو ختم کر دینا چاہئے ۔ میں نے کہا کہ یہ بالکل غیر عملی بات ہے۔ دنیا میں "ففٹی ففٹی " کی بنیاد پر کبھی کوئی اختلافی مسئلہ ختم نہیں ہوتا۔ میں نے کہا کہ صحیح طریقہ اس کے صحیح طریقہ یک طرفہ طریقہ ہے :