Unilateralism is Best
Al-Risala, June 1988, pp. 40–24
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر یک طرفہ طریقہ پر عمل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آدمی کے دل میں انسانوں کے لئے محبت اور خیر خواہی کا دریا بہہ رہا ہو۔ چوں کہ لوگ نفرت میں اور ردعمل میں جیتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ وہ یکطرفہ طریقہ پر عمل نہیں کر پاتے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات سے بتایا کہ آپ نے قدیم عرب
میں اسی یکطرفہ طریقہ پر عمل کیا اور زبردست کامیابی حاصل کی۔
تقریر کے بعد ایک مسلمان بھائی ملے۔ انھوں نے کہا کہ میں فیض آباد کا رہنے والا ہوں، یہاں بزنس کے سلسلے میں آیا تھا۔ پروگرام کی خبر سن کر یہاں آگیا۔ میں آپ کی بات سے بہت متاثر ہوا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ کی ایک تقریر فیض آباد میں رکھی جائے ۔ وہاں آپ جیسے رہنماؤں کی سخت
اس جلسہ کے صدر مسٹر شیام سندر شرما (ایڈیٹر دیش بندھو) تھے۔ انھوں نے آخر میں اپنی صدارتی تقریر کی اور کہا کہ میں نے اپنی زندگی میں پہلی بار اسلام پر اتنی اعلیٰ تقریر سنی ہے۔ اپنے غیر معمولی تاثر کا اظہار کیا۔
ستنا سے قریب پنّا ہے جہاں ہیرے کی کانیں ہیں۔ یہاں بھی الرسالہ جارہا ہے۔ پنا سے آٹھ آدمی ستنا آئے اور پروگرام میں شریک رہے۔ وہ لوگ مجھ کو پنّالے جانا چاہتے تھے مگر وقت کی کمی کے باعث میں وہاں نہ جا سکا۔ انھوں نے بتایا کہ پنا میں باشعور طبقہ برابر الرسالہ کا مطالعہ کر رہا ہے اور اس سے اثر قبول کر رہا ہے۔ وہاں کی ایجنسی کے تحت انگریزی الرسالہ بھی جارہا ہے۔ ہندو تعلیم یافتہ استاد نے انگریزی الرسالہ پڑھ کر کہا کہ الرسالہ ایک ایشوری دین ہے، اس کے ذریعے خدا نے اپنے بندوں کی رہنمائی کا انتظام کیا ہے۔
خطابِ عام کے علاوہ، قیام گاہ پر لوگ جمع ہوتے رہے اور مختلف دینی اور علمی موضوعات پر اظہارِ خیال کا موقع ملا۔ ستنا کی ایک مجلس میں ایک صاحب نے جماعت تبلیغ پر کچھ شخصی اور جزئی نوعیت کے اعتراضات کئے ۔ میں نے کہا کہ اعتراض کا یہ طریقہ صحیح نہیں۔ یہ ایک قسم کی سائیڈ ٹریکنگ ہے۔ سائیڈ ٹریکنگ کبھی کسی آدمی کے لئے مفید نہیں ہوتی۔ کسی مشن کے سلسلہ میں ہمیشہ یہ دیکھنا چاہئے کہ اس کا اصل مقصد کیا ہے ، اور اصل مقصد کی روشنی میں اس پر رائے قائم کرنا چاہئے۔ جزئی شوشوں اور شخصی قصوں کے پیچھے دوڑنا ایک غیر اسلامی فعل ہے، یہ طالب حق کا طریقہ نہیں۔ پھر میں نے کہا کہ اس وقت ملت میں دو قسم کی کوششیں چل رہی ہیں۔ ایک کو میں اپنے الفاظ میں خارج اور نیٹڈ کہوں گا، اور دوسری کو داخل اور ینٹڈ۔ میرے مطالعہ کے مطابق تبلیغی جماعت واحد جماعت ہے جس کو داخل اور ینٹڈ تحریک کہا جا سکتا ہے۔ اس ایک کے سوا جتنی بھی تحریکیں ملت
کے اندر چل رہی ہیں ، وہ تقریبا بلا استثناء خارج اور مینٹڈ ہیں ۔ اس کے بعد میں نے وہ حدیث سنائی جس میں بتایا گیا ہے کہ " قلب " کی اصلاح پورے " جسم " کی اصلاح کا ذریعہ ہے ۔ اور قلب کا بگاڑ پورے جسم کے بگاڑ کا ذریعہ ۔
یہ ہے وہ اصلی فرق تبلیغی جماعت اور دوسری جماعتوں میں پایا جاتا ہے ۔ نہ کہ شخصی اور جزئی باتیں جو آپ نے فرمائیں ۔ پھر میں نے کہا کہ میں نے قرآن و حدیث کا جو مطالعہ کیا ہے ، اس کے مطابق میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ داخل اور مینٹڈ طریقہ ہی پیغمبرانہ طریقہ ہے ۔ اس کے برعکس خارج اور مینٹڈ سرگرمیوں میں جو لوگ مشغول ہیں وہ سراسر غیر پیغمبرانہ ہیں ۔ اس قسم کی خارجی سرگرمیوں سے نہ اب تک کوئی حقیقی دینی کام ہوا ہے اور نہ آئندہ ہو سکتا ہے ۔ جو لوگ ان خارجی سرگرمیوں سے اعلیٰ نتائج کی امید کر رہے ہیں وہ ببول کے درخت سے آم کی فصل کی امید کئے ہوئے ایسی امید خدا کی اس دنیا میں کبھی پوری ہونے والی نہیں ۔
ستنا میں ایک اندوہناک تجربہ سامنے آیا ۔ ایک مسلمان بزرگ مجھ سے ملے ۔ وہ ساٹھ سال کی عمر میں اسی سال کے معلوم ہو رہے تھے ۔ بدن پر معمولی کپڑا تھا ۔ اور سوکھے چہرے پر ہڈیاں نمایاں ہو رہی انھوں نے کہا : " حضرت ، میرے لئے دعا فرمائیں "۔ میں نے کہا ، اللہ آپ کی مدد فرمائے ۔ انھوں نے بتایا کہ میرے یہاں دو بچیاں ہیں ۔ ان کی شادی کا مسئلہ سر پر ہے ۔ پیسہ سے ہوتی ہے ۔ مگر میرے پاس پیسہ نہیں ۔ چار بڑے لڑکے ہیں ۔ وہ اچھی کمائی کر رہے ہیں ، لیکن سب کے سب مجھ سے الگ ہیں ۔ ان سے کسی مدد کی امید نہیں ۔ مجھے ان کے حالات سن کر بہت دکھ ہوا۔ اور اپنے دل میں دیر تک ان کے لئے دعا کرتا رہا ۔
یہ مسلمان در حقیقت موجودہ مسلم سماج کی تصویر تھا۔ موجودہ مسلم سماج اپنوں کے ظلم اور خود غرضی اور غیر شرعی رسم و رواج کے نیچے پس رہا ہے ۔ مگر کوئی مسلمان اپنےان ستم رسیدہ بھائیوں کا ساتھ دینے البتہ غیروں کی طرف سے اگر شریعت میں مداخلت کا کوئی شور اٹھ مل جائے تو ساری قوم جوش و خروش سے بھر جاتی ہے ۔ اپنوں کی ہزاروں گنا بڑی مداخلت سے شریعت اسلامی کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں مگر اس قسم کی باتوں پر مسلمانوں کے درمیان کوئی حرکت پیدا نہیں ہوتی ۔ قوم کے سطحی لیڈروں نے بھی قوم کے مزاج کے ساتھ سمجھوتہ کر رکھا ہے ۔ وہ مسلم سماج کے داخلی
مسائل کے لئے نہیں اٹھتے۔ کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ اس قسم کے مسائل پر انھیں کبھی لیڈری نہیں ملے گی۔ البتہ غیر قوم کی طرف سے مداخلت فی الدین کا کوئی قصہ ہاتھ آجائے تو فورا اس کو لے کر اٹھ جاتے ہیں اور جاہل مسلمانوں کی بھیڑ جمع کرکے اپنی شان قیادت میں اضافہ کرتے ہیں۔ مگر لوگوں کو جاننا چاہئے کہ یہ عین وہی چیز ہے جس کو قرآن میں افتؤمنون ببعض الکتب وتکفرون ببعض (البقرہ (البقره:85) کہا گیا ہے۔ اس قسم کی سرگرمیاں صرف خدا کے غضب کا مستحق بنانے والی ہیں، وہ خدا کے انعام کو کھینچنے والی نہیں۔
۳۰ مارچ ۱۹۸۸ کی شام سناتے دہلی کے لئے روانگی ہوئی۔ ڈبہ میں داخل ہوا تو معلوم ہوا کہ میری برتھ اوپر ہے۔ اشارۃ میری زبان سے نکلا کہ ” لور برتھ “ ہوتی تو زیادہ اچھا تھا۔ مطابق یہ لور برتھ ایک ہندو افسر کے پاس تھی۔ ان سے میں نے کچھ نہیں کہا تھا۔ یہ بات میں نے ان لوگوں سے کہی تھی جو مجھے پہنچانے کے لئے ریلوے اسٹیشن تک آئے تھے۔ ہندو افسر کو میرے احساس کا علم ہوگیا انھوں نے فوراً کہا کہ آپ نیچے کی برتھ لے لیں، میں اوپر چلا جاتا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر آدمی ” انسان “ ہے۔ وہ صرف اس وقت ”غیر انسان “ بن جاتا ہے جب کہ اس کی انا کو چھیڑ دیا جائے۔ میری واپسی دوبارہ قطب ایکسپریس سے ہوئی۔ ۳۰ اور ۳۱ مارچ کی درمیانی رات کو ٹرین میں ایک انوکھا حادثہ پیش آیا۔ سفر کے دوران میں ضرورت کے تحت ٹوائلٹ میں گیا ۔ اس وقت میں چپل پہنے ہوئے تھا۔ اتفاق سے میرے بائیں پاؤں کا چپل، پاؤں سے نکل گیا۔ وہ پھسل کر قدمچہ کے درمیان سوراخ تک پہنچا اور ایک لمحہ میں اس کے اندر داخل ہو کر نیچے گرگیا۔ یہ واقعہ چلتی ہوئی ٹرین میں پیش آیا، اس لئے چپل کو دوبارہ حاصل کرنا ممکن نہ ہوسکا۔
اچانک خیال آیا کہ یہ حادثہ زمین کی کشش کی وجہ سے ہوا۔ اگر زمین میں کشش نہ ہوتی تو چپل جہاں تھا وہیں پڑا رہتا، وہ گر کر نیچے نہ جاتا۔ پھر فوراً ہی میں نے سوچا کہ اگر زمین میں کشش نہ ہوتی تو ٹرین بھی نہ دوڑتی۔ حتی کہ وہ فیکٹری بھی قائم نہ ہوسکتی جہاں جوتے اور چپل بنیں اور کوئی شخص ان کو پہن کر سفر کرے۔ خدا کی دنیا میں ( اور اسی طرح خدا کے دین میں بھی ) مختلف پہلوؤں کے درمیان ایک نازک توازن قائم رکھا گیا ہے۔ جو لوگ توازن کی اس حقیقت کو نہیں سمجھتے وہ عجیب عجیب غلط فہمیوں میں پڑ جاتے ہیں ، دنیا کے بارہ میں بھی اور خود دین کے بارہ میں بھی۔