Hold the flight please. Passenger is coming.
Al-Risala, January 1988, pp. 29–43
By Maulana Wahiduddin Khan
گیٹ کے نگراں نے بورڈنگ کارڈ کو چیک کر کے پتہ کیا کہ اس جہاز میں ایک غلط مسافر داخل ہو گیا ہے۔ لاؤڈ اسپیکر نے مسافر کو اس کی غلطی سے مطلع کیا۔ اسی کے ساتھ وائرلیس نے دو جہازوں کو مسلسل مربوط رکھ کر اس کو ممکن بنایا کہ مذکورہ مسافر فلائٹ نمبر ۴۲۱ سے اترے اور فلائٹ نمبر ۴۸۴ میں جا کر سوار اور یہ سب کچھ صرف چند منٹ کے اندر انجام پاگیا ـــــــ یہ اجتماعی کوشش یا ہم آہنگ عمل کا نتیجہ تھا۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ اجتماعی عمل میں برکت ہے۔
دہلی سے چند ہی گڑھ تک کی پرواز میں ہمارے نیچے زمین ہموار دکھائی دے رہی تھی۔ جموں کی قریبی فضا میں پہنچے تو زمین اونچی نیچی نظر آنے لگی۔ یہ پہاڑی ابھار تھے جو دور سے اس طرح دکھائی دے رہے تھے جیسے کہ بے شمار اونٹ اپنی کو ہانیں بلند کیے ہوئے کھڑے ہوں ۔ زمین میں کچھ ہموار علاقے ہیں اور کچھ پہاڑی علاقے ۔ دونوں میں کچھ کمیاں ہیں اور دونوں میں کچھ خوبیاں ہیں۔ سب کی سب ایک انداز کی ہوتی تو اس میں کچھ خصوصیات ہوتیں اور کچھ خصوصیات نہ ہوتیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے تنوع کا اصول جاری کر کے ہماری زمین کو ہر قسم کے حسن کا خزانہ بنا دیا ہے۔ میں یکسانیت کا اصول جاری ہوتا تو وہ انسان کے لیے ہر قسم کے حسن کا مجموعہ نہیں بن سکتی تھی ۔
اس سے پہلے ۱۹۸۲ء میں میں نے جموں کے اس سرسبز و شاداب علاقہ کا ایک مختصر سفر کیا تھا۔ اس وقت کا ایک تاثر میری ڈائری میں حسب ذیل الفاظ میں درج ہے ۔
انسان زمین کے اوپر ایک تضاد ہے۔ وہ حقیقتوں کی دنیا میں حقیقتوں کو نظر انداز کر کے رہنا انسان کو ایک نہایت حسین اور مکمل دنیا دی گئی ہے۔ مگر وہ اس طرح یہاں رہتا ہے جیسے وہ اپنی دنیا کی تردید کر رہا ہو۔
انسان کھلے ہوئے آسمان کے نیچے بند ذہن کے ساتھ جینا چاہتا ہے۔ لطیف ہواؤں کے درمیان اس کو صرف کیفِ اخلاق کے ساتھ رہنا پسند ہے۔ اونچے پہاڑوں کے پڑوس میں وہ چھوٹے چھوٹے مسائل میں الجھا ہوا ہے۔ سرسبز و شاداب درختوں کے ماحول میں وہ ٹھنڈھ بنا ہوا نظر آتا ہے۔ دریاؤں اور چشموں کی روانی کے درمیان وہ جمود و تعطل کی تصویر بنا ہوا ہے ۔
اس صورتِ حال کی سب سے زیادہ عبرت ناک مثال وہ لوگ ہیں جن کو مسلمان کہا جاتا ہے۔ ۱۹۸۲ء کو میں جموں اسٹیشن پر ٹرین کے انتظار میں بیٹھا ہوا تھا۔ دو مسلمان میرے پاس آئے جو غالباً کشمیری تھے۔ ایک نے کہا ” مولانا صاحب ، مجھے ایک مسئلہ بتائیے۔ لبنان میں فلسطینی بھائیوں کا خون ہو رہا ہے۔ ہوں کہ ان کے خون کے صدقہ کے طور پر ایک بکرا ذبح کروں “ دوسرے نے کہا ” میں فلسطین جانا چاہتا ہوں ، مجھے بتائیے کہ فلسطین جانے کا راستہ کیا ہے“۔ دونوں مجھ سے مشورہ چاہتے تھے، مگر میں ان کو کوئی مشورہ نہ دے سکا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میرے دماغ میں الفاظ کا ذخیرہ ختم ہو گیا ہے اور اب میرے پاس ان سے کہنے کے لئے کچھ نہیں ہے۔
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی شاید سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ خیالی پرواز میں سب سے آگے ہیں اور حقیقی عمل میں سب سے پیچھے ۔ ان کو سیاست میں صرف نعرہ پسند ہے ، ادب میں شاعری اور دین میں مسلمانوں نے نہ اپنی مقدس کتاب سے کچھ سیکھا اور نہ دنیا کے تجربات سے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اصغر و اکابر کی تمام فوج خوش فکری کے خول میں بند ہے۔ اپنے فکری خول سے باہر کی حقیقتوں کی اسے خبر ہی
آخر ایسے لوگوں کو کیا مشورہ دیا جائے جو فلسطین جیسے سنگین مسئلہ میں اپنا حصہ ادا کرنے کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس کے لئے ایک بکرا ذبح کر دیں۔ یا اپنی انتہائی بے خبری اور بے مائیگی کے باوجود یہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ کسی طرح فلسطین پہنچ جائیں تو وہاں لڑ کر وہ اس کا سارا مسئلہ حل کر دیں گے۔
جموں ریاست جموں و کشمیر کی سرمائی راجدھانی ہے۔ یہاں ڈوگرہ راجپوت کی حکومت تھی۔ ۱۹ ویں صدی میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اس پر قبضہ کر لیا۔ رنجیت سنگھ کے انتقال کے بعد دوبارہ گلاب سنگھ کا قبضہ ہو گیا۔ اب یہ ریاست دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے ۔
جموں کی ابتدائی تاریخ کے بارے میں یہ روایت ہے کہ راجہ جمونے ایک مرتبہ اس علاقہ میں شکار کے دوران دیکھا کہ ایک شیر اور بکری ایک ہی تالاب میں اکٹھے پانی پی رہے ہیں۔ راجہ اس سے بہت متاثر ہوا۔ اس نے اس مقام کو مقدس سمجھتے ہوئے یہاں ایک نئے شہر کا سنگ بنیاد رکھ دیا اور اس کو جمبونگری کا نام دیا۔ بعد کو یہ مقام جموں کے نام سے مشہور ہو گیا ۔ اور راجہ جمبو لوچن کی راجدھانی قرار پایا ۔
1947 تک واقعہ یہ علاقہ ایسا ہی تھا۔ یہاں مختلف فرقے اور مختلف طبقے کے لوگ محبت کے ساتھ مل جل کر رہتے تھے۔ مگر ۱۹۴۷ کے " انقلاب " نے صورت حال بدل دی اور وہ بدستور اب تک بدلی ہوئی ہے ۔
میرے پاس انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کا ۱۹۸۷ کا ایڈیشن ہے ۔ اس میں جموں و کشمیر کا ذکر دو مقام ایک مائیکرو پیڈیا جلد پنجم (صفحہ ۵۱۲) میں ، اور دوسرے میکرو پیڈیا جلد ۱۰ (صفحہ ۲۹) میں۔ اس سفر کے دوران میں نے چاہا کہ جموں کے بارے میں ضروری معلومات حاصل کروں۔ اس کو کھولا تو دونوں مقامَات پر ایک مشترک منظر تھا۔ دونوں مقامات پر ابتدائی پیراگراف تقریباً ایک ایک انچ کے بقدر مٹایا ہوا تھا۔ (ملاحظہ ہو نقشہ اگلے صفحہ پر) مطبوعہ سطروں پر اتنی گہری سیاہی پھيري ہوئی تھی کہ کسی طرح بھی ان سطروں کا پڑھنا ممکن نہ تھا۔ غور کرنے کے بعد اندازہ ہوا کہ یہ ہند سرکار کے حکم سے مٹایا گیا ہے۔ غالباً اس میں کچھ ایسے الفاظ تھے جو ہند سرکار کے نزدیک قابل اعتراض تھے۔ قیاس کی تصدیق اس سے ہوتی ہے کہ انسائیکلو پیڈیا کی جلدوں میں ابتدائی صفحہ پر اسٹیمپ کے ذریعہ بعد کو یہ الفاظ ثبت کیے گیے ہیں :
The external boundaries of India as depicted in the maps are neither correct not authentic. (انڈیا کی بیرونی سرحدیں جو نقشوں میں دکھائی گئی ہیں وہ نہ صحیح ہیں اور نہ مستند )۔
انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا ہندوستان کی تمام قابل ذکر لائبریریوں میں پائی جاتی ہے۔ یہ ادارہ اپنی اس کتاب کے ذریعہ ہندوستان سے ہر سال کروڑوں روپیہ حاصل کرتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ کتاب (اسی نوعیت کی دوسری کتابوں کی طرح ، مغربی علم کی برتری کی ایک خاموش تبلیغ ہے۔ وہ ہندوستان کے اوپر ایک قسم کا فکری حملہ (Intellectual invasion) ہے۔ یہ فکری حملہ اتنا قوی ہے کہ وہ خود " جموں اینڈ کشمیر " کے اس آرٹیکل میں بھی بالواسطہ طور پر موجود ہے جس کی چند سطروں پر مہیا ہی پھیر کر ہند سرکار اپنے کو فتح مند سمجھ رہی ہے۔ اس سلسلہ میں آرٹیکل ان چند شعروں پر مشتمل ہیں۔ پیر مرشد رحمہ اللہ کی حسب ذیل سطریں ملاحظہ ہوں :
چاروں طرف پھیلا ہوا ہے ۔
In the early 1970s, after a quarter of a century, the "Kashmir problem" remained intractable. Although there was a clear Muslim majority in the state before the 1949 partition and its economic, cultural, and geographic continuity with the Muslim-majority area of the Punjab could be convincingly demonstrated, the accidents of history have resulted in a division of territory that has no rational basis (Vol. 10, p. 32).
ہند سرکار نے ۳۰ جلدوں کی اس کتاب کی جن چند سطروں پر اعتراض کیا تھا، اگر اس کے ناشرین اس اعتراض کو نہ مانتے اور ان سطروں کو مٹانے پر راضی نہ ہوتے تو یقین تھا کہ اس کتاب کی درآمد ہندوستان میں بند کردی جائے ۔ مگر انھوں نے اس اعتراض کو بلا بحث قبول کرتے ہوئے اس کو مٹا دیا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے لیے اپنی کتاب کی درآمد کا وسیع دروازہ کھل گیا ۔ بعض اوقات اپنی لکھی ہوئی سطروں کو خود اپنے ہاتھ سے مٹانا پڑتا ہے تاکہ وہ دوبارہ زیادہ وسیع دائرہ میں لکھی جائیں ۔ یہ زندگی کا اہم ترین رازہے اگر چہ بہت کم لوگ ہیں جو اس راز کو جانیں ، اور اس سے بھی کم وہ لوگ ہیں جو اس پر عمل کرنے کا حوصلہ کر سکیں ۔ جموں وکشمیر ہندوستان کی واحد ریاست ہے جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے ۔ علاقہ میں مسلمان ۹۰ فی صد ہیں ۔ جموں کے علاقہ میں مجموعی طور پر ۳۰ فی صد ہیں ۔ اور پوری ریاست جموں وکشمیر میں تقریباً ۶۵ فی صد ۔ مزید یہ کہ اس ریاست کو دستور ہند کی دفعہ ۳۷۰ کے تحت مخصوص تحفظاتی درجہ ملا ہوا ہے ۔
اس اعتبار سے جموں وکشمیر کے مسلمانوں کے لیے یہاں ترقی کا خصوصی راستہ کھلا ہوا تھا۔ میرا اندازہ ہے کہ جموں وکشمیر کے مسلمان اپنی اس خصوصی حیثیت کا وہ فائدہ حاصل نہ کر سکے جو وہ حالات کے اعتبار سے حاصل کر سکتے تھے ۔ اس کا واحد سبب وہی ہے جس کو مذہب کی اصطلاح میں عدم قناعت کہا جاتا ہے ۔ یہاں کے مسلمانوں کے لیے عملاً جو چیز قابلِ حصول تھی ، اس پر وہ قانع نہیں ہوئے۔ اور جو چیز عملاً قابلِ حصول نہ تھی، اس کے پیچھے دوڑتے رہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انھوں نے " نا ممکن " کے تعاقب میں " ممکن " کو بھی کھو دیا ۔
ماضی کو بھلا کر حال پر قانع ہونا ، مستقبل کی تعمیر کا واحد راز ہے ۔ لوگ ماضی کو بھلا نہیں پاتے ، اسی لیے وہ حال کے امکانات کو بھی استعمال نہیں کر پاتے ۔ یہ تبصرہ موجودہ زمانہ کے تمام مسلمانوں پر صادق آتا ہے ، خواہ وہ اقلیتی علاقہ کے مسلمان ہوں یا اکثریتی علاقہ کے مسلمان ۔ کچھ لوگوں نے بتایا کہ پونچھ میں دیوبندی اور بریلوی کے درمیان جھگڑا ہو گیا ۔ حتیٰ کہ پولیس کو مداخلت کرنی پڑی ۔ گفتگو کے دوران میں نے پوچھا کہ بریلوی حضرات کس قسم کی باتیں کرتے ہیں جس کے ذریعہ وہ مسلم عوام کو دیوبندیوں کے خلاف بھڑکانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں ۔
نے بتایا کہ مثلاً ایک بریلوی مقرر کھڑا ہو کر کہہ دے گا: دیکھو قرآنی آیت "ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تاخر" کا ترجمہ دیوبندی عالم نے اس طرح کیا ہے: "تاکہ اللہ تمہارے سب اگلے اور پچھلے گناہوں کو معاف کر دے"۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے محبوب پیغمبر بھی گنہگار تھے۔ جو شخص خدا کے محبوب پیغمبر کو گنہگار بتائے وہ کیسے مسلمان ہو سکتا ہے۔ اس قسم کی باتوں سے امت میں تفریق پیدا ہوتی ہے ، مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا یہ تضاد عجیب ہے کہ ایک طرف ہر ایک اتحاد کی بات کر رہا ہے۔ دوسری طرف ہر ایک مذکورہ نوعیت کی ایک یا دوسری بات لے کر امت کو ٹکڑوں ٹکڑوں میں بانٹ رہا ہے۔
حافظ عبد الرحمٰن (پیدائش: 1940) نے اپنی زبان میں کہا " یہ جو 1947 ہوئی، وہ اسلام کے اندر کا ووٹ بن گئی ۔ انھوں نے بتایا کہ پہلے ہندوؤں اور مسلمانوں میں کوئی نفرت نہیں تھی۔ اس وقت مذہبی تعصب نہیں تھا۔ کوئی مسلمان فقیر / بزرگ آگیا تو ہندو مسلمان سب اس کی عزت حتیٰ کہ بہت سے غیر مسلم اس کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیتے تھے اور کوئی برا نہیں مانتا اس وقت لوگ سادہ تھے۔ کوئی بھید بھاؤ نہیں تھا۔ اب محاذ آرائی ہونے لگی۔ اس کی وجہ سے ماضی کے تمام امکانات برباد ہو گئے۔ اگر پہلے والے حالات جاری رہتے تو اب تک کیا سے کیا ہو گیا ہوتا۔
انھوں نے ایک شخص مسٹر گنیش ایم اے ) کا قصہ بتایا۔ ان کو اسلام سے سخت نفرت تھی۔ اسی نفرت کی وجہ سے انھوں نے اسلام پر کتابیں پڑھیں۔ وہ ابتداء نفرت کا شکار تھے۔ وہ " رنگیلا رسول" کی باتیں دہراتے تھے۔ مگر مطالعہ کے بعد ان پر اسلام کی سچائی آشکار ہو گئی۔ حافظ عبد الرحمٰن صاحب سے اپنی روداد بیان کرتے ہوئے انھوں نے کہا " مگر اب میں کیڑا مسلمان ہوں" ان کا نیا نام عبد الاحد ہے۔ اب وہ راجستھان میں رہتے ہیں ۔
موجودہ مسلمانوں کا مزاج یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اسلام کے خلاف کچھ کہے تو فوراً اس کو اسلام کا مستقل دشمن سمجھ لیتے ہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ ہمیشہ بہت ہی کم ہوتے ہیں جو کسی چیز کے ابدی دشمن ہوں۔ بیشتر لوگ ناسمجھی میں کوئی رائے قائم کر لیتے ہیں۔ اگر ان کی ناسمجھی کو دور کر دیا جائے تو عین ممکن ہے کہ جو شخص آج بظاہر دشمن نظر آتا ہے، وہ کل کے دن دوست
اور حامی بن جائے ۔
جموں میں ہر سال ربیع الاول کے موقع پر میلاد النبی کا جلوس نکالا جاتا ہے۔ یہ جلوس روایتی شان کے ساتھ جموں شہر کے مختلف علاقوں میں گھومتا ہوا جامع مسجد پہنچتا ہے۔ یہاں " اسلامی جھنڈے " کو سلامی دی جاتی ہے۔ جھنڈے کی شان میں ایک نظم پڑھی جاتی ہے۔ اس تقریب کے بعد ظہر کی نماز ہوتی ہے اور ظہر کی نماز کے فوراً بعد جلسہ شروع ہوجاتا ہے ۔
میں نے دیکھا تو جلوس میں کافی مسلمان شریک تھے ۔ ابتدا ء میں نے سمجھا کہ یہ سب جموں شہر کے مسلمان ہیں۔ مگر پوچھنے پر معلوم ہوا کہ اس میں جموں شہر کے لوگ پانچ فیصد یا دس فی صد ورنہ زیادہ تر لوگ اطراف کے دیہاتوں سے آئے ہوئے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ ایسا کیوں ایک صاحب نے بتایا کہ اس قسم کے جلوسوں میں عام طور پر " شرفاء اور معززین " شریک نہیں ہوتے ۔ عوام اور جاہل قسم کے مسلمان ہی زیادہ شریک ہوتے ہیں ۔ اور یہی صورت حال ہر جگہ پائی جاتی ہے ۔
جلوسوں کی اسی نوعیت کی وجہ سے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جلوس کے بعد فساد شروع ہو جاتا میں ذاتی طور پر جلوس کی سیاست کا قائل نہیں ، مگر جو لوگ جلوس کے طریقہ میں یقین رکھتے ہیں ، انھیں سب سے پہلے شرفاء مسلمین کو شرکت جلوس کے لیے آمادہ کرنا چاہیے ۔ اس سے پہلے جلوس نکالنا اس مقصد کے لیے مفید نہیں ہوسکتا جس کے لیے جلوس نکالا جاتا ہے۔ جلسہ کی دو نشستیں ہوئیں ۔ ایک ظہر اور عصر کے درمیان ۔ اور دوسری نشست نماز مغرب کے بعد ۔ کئی مقررین کی تقریریں ہوئیں ۔ میں نے دن کی نشست میں مختصر طور پر سیرت کے اخلاقی پہلو پر گفت گو کی ۔ شام کی نشست میں مفصل خطاب کیا۔ اس خطاب کا موضوع سیرت کا عالمی اور آفاقی پہلو تھا۔ شام کے جلسہ کی کارروائی ٹیلی ویژن پر بھی دکھائی گئی ۔ ۶ نومبر کو جمعہ کا دن تھا۔ لوگوں کی فرمائش پر یہاں کی جامع مسجد میں " نماز " کے موضوع پر ایک خطاب ہوا۔ وسیع مسجد پوری کی پوری بھری ہوئی تھی۔ معلوم ہوا کہ ان نمازیوں میں بیشتر تعداد تعلیم یافتہ حضرات کی تھی ۔ جموں شہر پوری ریاست جموں و کشمیر کا تجارتی مرکز ہے۔ مگر یہاں کی تجار توں میں مسلمانوں کا کوئی قابل ذکر حصہ ہیں۔ یہاں مسلمانوں کی چند معمولی دکانیں نہیں۔ تمام بڑی بڑی تجارتیں
99 فی صد سے بھی زیادہ ہندو صاحبان کے قبضہ میں ہیں۔ حتی کہ سیرت النبی کے جلسہ کے لیے جوٹنٹ لگایا گیا تھا، میں نے دیکھا تو اس پر انگریزی میں لکھا ہوا تھا : "را ماٹنٹ اینڈ لائٹ ہاؤس" شہر میں گھومتے ہوئے میں نے دو دکانی بڑی بڑی بلڈنگیں دیکھیں ۔ یہ دونوں بلڈنگیں مسلم اوقاف کے محکمہ کی ہیں۔ یہ دونوں اہم مقامات پر ہیں اور ان میں بہت سی دکانیں بنی ہوئی ہیں۔ اس خالص "مسلم جائیداد" میں بھی زیادہ تر دکانیں غیر مسلم صاحبان کی تھیں ۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ اوقاف والوں نے دکان کو الاٹ کرنے کے لیے " ایڈوانس " رقم کی شرط لگا رکھی تھی ۔ اپنی اقتصادی کمزوری کی وجہ سے ایڈوانس رقم کی شرط پوری نہ کر سکے ۔ اس لیے زیادہ تر دکانیں غیر مسلم صاحبان کے قبضہ میں چلی گئیں ۔
میں نے سوچا کہ مسلم اوقاف کی بلڈنگ پر ہندو صاحبان کا قبضہ کسی تعصب کی بنا پر نہیں ہو سکتا پھر وہ کیا چیز ہے جس نے غیر مسلم صاحبان کو یہ موقع دیا کہ وہ ایک مسلم جائیداد پر قابض ہو جائیں۔ اس کا جواب ایک لفظ میں "انٹرسٹ" ہے۔ یہ دنیا انٹرسٹ کا کھیل ہے۔ ہر آدمی اپنے مفاد کے تحت عمل کرتا ہے ۔ محکمہ اوقاف کو مالی فائدہ اس میں نظر آیا کہ وہ اپنی دکانیں غیر مسلم صاحبان کو دے ۔ اس لیے اس نے اپنی دکانیں غیر مسلم صاحبان کو دے دیں۔ اس کے برعکس اگر وہ دیکھتے کہ مسلمانوں کو دینے میں فائدہ ہے تو وہ اپنی دکانیں مسلمانوں کے حوالے کرتے ۔ مسلمان اگر اس ناگزیر شرط کو پورا نہ کر سکیں تو وہ یقینی طور پر ناکام رہیں گے ، خواہ وہ مسلم اقلیت کے ملک میں ہوں یا مسلم اکثریت کے ملک میں ۔ رعایت کی بنیاد پر کبھی کوئی قوم اس دنیا میں کھڑی نہیں ہو سکتی ۔ ایک صاحب ایک کتاب لائے جس کا نام " انوار الانتباہ " تھا۔ اس میں عجیب و غریب قسم کی طلسماتی باتیں درج تھیں ۔ اس کتاب کا خلاصہ یہ تھا کہ بزرگوں سے مدد مانگنا جائز ہے ۔ شیخ الاسلام شہاب بریلی سے استفتاء ہوا کہ عام لوگ جو سختیوں کے وقت انبیاء و مرسلین اور اولیاء و صالحین سے فریاد کرتے اور یا رسول اللہ ، یا علی ، یا شیخ عبدالقادر جیلانی اور ان کے مثل کلمات کہتے ہیں ۔ جائز ہے یا نہیں ، اور اولیاء بعد انتقال کے مدد فرماتے ہیں یا نہیں ۔ انھوں نے جواب دیا کہ بیشک انبیاء و مرسلین اور اولیاء و علماء سے مدد مانگنی جائز ہے اور وہ بعد انتقال بھی مدد فرماتے ہیں " ایک واقعہ " ان الفاظ میں درج تھا : ایک بار حضرت سیدی مدین بن احمد شمونی نے وضو
فرماتے ہیں ایک کھڑاؤں بلاد مشرق کی طرف پھینکی۔ سال بھر بعد ایک شخص حاضر ہوئے اور کھڑاؤں ان کے پاس تھی۔ انھوں نے حال عرض ک کہ جنگل میں ایک بد وضع نے ان کی صاحبزادی پر دست درازی لڑکی کو اس وقت اپنے باپ کے پیر و مرشد حضرت سیدی مدین کا نام یا د نہ تھا۔ کی : يا شيخ ابی لاحظنى اے میرے باپ کے پیر مجھے بچایئے) یہ ندا کرتے ہی وہ کھڑاؤں آئی۔ لڑکی نے نجات پائی۔ وہ کھٹراؤں ان کی اولاد میں اب تک موجود ہے ، صفحہ ۱۶ - اسی قسم کے خرافاتی عقائد اور جھوٹے قصے کہانیاں ہیں جن میں موجودہ زمانہ کے مسلمان جی یہ مسلمان ایک خود ساختہ اسلام پر قائم ہیں نہ کہ اس اسلام پر جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی طرف سے لائے تھے۔
۴ نومبر کو لاہور میں ریلائنس ورلڈ کپ ۱۹۸۷ کے لیے پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کرکٹ کا سیمی فائنل تھا۔ میں جموں کے بازار میں نکلا تو ہر دکان پر لوگ ٹیلی ویژن کے اوپر بھیڑ لگائے ہوئے کچھ لوگ اس حال میں راستہ چل رہے تھے کہ انھوں نے اپنے کان کے ساتھ ٹرانسٹر لگا یہاں تک کہ سوا یا پانچ بجے چاروں طرف سے پٹاخے کی آوازیں آنے لگیں ۔ معلوم ہوا کہ پاکستان ہار گیا ہے اور آسٹریلیا ۱۸ رن سے جیت گیا۔ اس خوشی میں ہندو صاحبان پٹاخے چھوڑ رہے ہیں۔
اگلے دن ۵ نومبر کو دوسرا منظر تھا۔ آج بھی دوبارہ سیمی فائنل کا مقابلہ تھا۔ ہندوستان اور انگلینڈ کے درمیان ہو رہا تھا۔ سہ پہر کے وقت میں یہاں کے ایک مسلم محلہ میں تھا کہ اچانک پٹاخہ کی آوازیں آنے لگیں ۔ معلوم ہوا کہ آج ہندوستان ہار گیا ہے اور انگلینڈ 35 رن سے جیت گیا ہے۔ اب مسلمانوں کی خوشی کی باری تھی ۔ آج کے دن مسلمان پٹاخے چھوڑ رہے تھے۔ میں نے ایک مسلمان سے کہا۔ یہ سراسر حماقت ہے۔ آخر مسلمان ایسی احمقانہ حرکت کیوں کرتے انھوں نے جواب دیا۔ اس کے ذمہ دار ہندو صاحبان ہیں۔ وہ لوگ پاکستان کی ہار پر خوشی اس کے رد عمل میں مسلمان بھی ہندوستان کی ہار پر خوشی منارہے ہیں۔ میں نے کہا اگر یہی وجہ ہے تو ایسا کرنے سے ہندو صاحبان کا یہ ذہن مزید بڑھے گا اور مسئلہ پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتا چلا جائے گا۔ ہندو پٹاخہ بازی کا جواب مسلم پٹاخہ بازی نہیں ہے۔ اس کا حل صرف یہ ہے کہ
ہندو پٹاخہ چھوڑیں تو مسلمان پٹاخہ نہ چھوڑیں۔ اس کے بعد ہندو پٹاخہ بازی اپنے آپ ختم ہو جائے گی۔ ان مواقع پر مسلمان اگر اس چیز کا مظاہرہ کرتے جس کو "اسپورٹس مین اسپرٹ" کہا جاتا ہے تو وہ ملک میں ایک مفید روایت کو رواج دینے کا کریڈٹ پاتے۔ اس کے برعکس رد عمل کا مظاہرہ کرکے وہ صرف اس چیز کا اضافہ کر رہے ہیں جس کو ہندوستان ٹائمز (۷ نومبر، ۱۹۸۷) نے میچ فسادات (Match riots) کا نام دیا ہے۔
ایک صاحب سے گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ مسلمانوں کو حقیقت پسند بننا چاہیے۔ پسندی ہی اس دنیا میں کامیابی کا راز ہے، خواہ آپ ہندوستان میں ہوں یا کسی دوسرے ملک میں۔ میری یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آئی۔ اگلے دن معلوم ہوا کہ ریلائنس کپ کے میچ کے زمانہ میں وہ تمام دن گھر پر بیٹھے ہوئے کمنٹری سنتے رہتے ہیں۔ بجلی آ رہی ہے تو ٹیلی ویژن پر اور اگر بجلی نہیں ہے تو ٹرانسٹر پر۔ میں نے سوچا کہ جن لوگوں کا ذہن سطحی چیزوں میں اتنا زیادہ مشغول ہو وہ آخر کوئی گہری بات کس طرح سمجھ سکتے ہیں۔
جموں میں محکمہ اوقاف نے ایک نہایت وسیع اور شاندار جامع مسجد تعمیر کی ہے۔ صدر الدین قاسمی اس مسجد کے امام ہیں۔ ان کے حالات کو قریب سے جاننے کا اتفاق ہوا۔ احساس یہ ہے کہ ائمہ کی جماعت کے لیے وہ ایک نمونہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
مسجد کے امام کو عام طور پر بہت کم تنخواہ ملتی ہے۔ اس لیے ہر امام کے سامنے یہ مسئلہ رہتا ہے کہ وہ اپنی آمدنی کو کس طرح بڑھائے۔ عام طور پر ائمہ یہ کرتے ہیں کہ وہ یا تو تعویذ گنڈے کا کاروبار شروع کر دیتے ہیں۔ یا متولیوں اور بڑے لوگوں کی خوشامد اور حاضر باشی کے ذریعہ مزید فوائد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ ائمہ مسلمانوں کے اختلاف اور نزاع کو بڑھا کر اپنی اہمیت ثابت کرتے ہیں تاکہ اس کے ذریعہ سے کچھ فائدے حاصل کر سکیں۔ مولانا صدر الدین قاسمی نے اس قسم کی کوئی تدبیر نہیں کی۔ اس کے بجائے انھوں نے اپنے دو بھائیوں کی مدد سے تجارت کا سلسلہ شروع کر دیا۔ ۲۰ سالہ محنت کے نتیجہ میں آج یہاں ان کی دو کامیاب دکانیں وجود میں آچکی ہیں۔ ایک کپڑے کی اور دوسری کتابوں کی۔ ایک بھائی کپڑے کی دکان پر بیٹھتے ہیں اور دوسرے بھائی کتابوں کی دکان پر۔ تجارت کا یہ راستہ ہر امام کے لیے کھلا ہوا ہے۔ اپنے حالات کے لحاظ سے ہر امام اپنے مقام پر
کوئی تجارت شروع کر سکتا ہے اور محنت اور استقلال کے ذریعہ اس میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ عبدالمجید صاحب یہاں کی ایک مقبول شخصیت ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اب تو وہ بزنس میں لگ مگر اس سے پہلے وہ سیاست میں دلچسپی رکھتے تھے اور مقامی الیکشن میں حصہ لے کر یہاں کے کونسلر بھی منتخب ہوئے۔ میں نے پوچھا کہ جموں شہر میں مسلمانوں کی تعداد بمشکل ۵ فی صد ہوگی، پھر آپ کس طرح یہاں کے الیکشن میں کامیاب ہوئے تھے۔
انھوں نے مسکرا کر کہا کہ میری پالیسی وہی ہے جس کا آپ رسالہ میں سبق دیتے ہیں۔ سب سے یکساں طور پر خوش اخلاقی کے ساتھ ملتا ہوں۔ یہ اللہ کا فضل ہے کہ سب کے ساتھ میرے اچھے تعلقات ہیں۔ چنانچہ الیکشن میں جس طرح مسلمانوں نے مجھے ووٹ دیا، ہندوؤں نے بھی بڑی تعداد میں مجھ کو ووٹ دیا اور میں کامیاب ہو گیا۔ اگرچہ میرے مقابلے میں ایک ہندو امیدوار بھی تھا۔ جموں میں عبدالمجید صاحب کے لیے جو موقع تھا، وہی موقع مسلمانوں کے لیے پورے ملک میں ہے۔ بشرطیکہ وہ اس کو جانیں اور سلیقہ اور ہوش مندی کے ساتھ اس کو استعمال کر سکیں۔ عبدالمجید صاحب نے کہا کہ چلئے آپ کو شہر کی سیر کرا دیں ۔ ان کے ساتھ روانہ ہو کر میں وہاں پہنچا جس کو " باغ بہو " کہا جاتا ہے۔ یہاں ایک پرانا قلعہ تھا۔ اس کے آس پاس کی زمین کو ترقی دے کر اس کو پر فضا تفریحی مقام بنا دیا گیا ہے۔
یہاں قلعہ کے پاس ایک صاف ستھری مسجد نظر آئی ۔ معلوم ہوا کہ اس مسجد کو غالباً تین سو سال پہلے یہاں کے ہندو راجہ نے بنوایا تھا۔ یہ ایک علامت ہے کہ قدیم زمانہ میں یہاں کوئی ہندو مسلم مسئلہ میں نے مسجد کو اندر جا کر دیکھا ۔ اس کی از سر نو آرائش کی گئی ہے ۔ میں نے تلاش کیا کہ کہیں اس کا ابتدائی سن تعمیر لکھا ہوا ہو تو اس کو نوٹ کروں ۔ ایک بورڈ نظر آیا۔ قریب جا کر دیکھا تو اس پر " شاہی مسجد " کے ساتھ " ۱۹۷۶ء " لکھنے کا اہتمام تو ضرور کیا گیا تھا، مگر وہاں مسجد کا سن تعمیر درج نہ تھا۔ مسلمانوں میں روایتی ذوق ضرورت سے زیادہ پایا جاتا ہے، مگر تاریخی ذوق ان کے اندر بقدر ضرورت بھی نہیں۔
باغ بہو کے قریب ایک جگہ بہت بڑے پیمانے پر کھدائی اور تعمیر کا کام ہو رہا تھا۔ معلوم ہوا کہ ریلوے لائن کی توسیع کی جا رہی ہے ۔ 1947 میں دہلی سے صرف پٹھان کوٹ تک ریلوے لائن
اس کے بعد اس کو بڑھا کر جموں تک پہنچایا گیا۔ اب مزید ۴۵ میل کی توسیع کے ذریعہ اس کو ادھم پور تک لے جایا جا رہا ہے ۔ یہ پورا راستہ اونچے پہاڑوں اور گہری کھائیوں سے بھرا ریلوے لائن کا بہت بڑا حصہ پلوں اور سرنگوں کے درمیان سے گزرے گا۔ بعد کشمیر کے علاقہ میں جس رفتار سے کام ہو رہا ہے ، اس کو دیکھتے ہوئے یہ قیاس کچھ زیادہ بعید نہیں کہ ایک دن یہ ریلوے لائن دہلی سے براہ راست سری نگر تک پہنچا دی جائے گی ۔ اس کی "قیمت" کا ہے، اور ہندوستان بہر حال اس کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ راستہ میں ایک "چھتری" نظر آئی۔ ایک پہاڑی پر بیٹھنے کی جگہ بنا کر اس کے اوپر خاص طرح کی چھتری بنی ہوئی تھی ۔ محکمہ سیاحت کی طرف سے اس علاقہ میں اس قسم کے بہت سے تفریحی مقامات بنائے گئے ہیں۔ اوپر چڑھ کر ہم لوگ کچھ دیر تک وہاں بیٹھے ۔ چاروں طرف سر سبز پہاڑوں کا منظر پھیلا ہوا تھا۔ دور جموں شہر نیچا اونچا بسا ہوا دکھائی دے رہا تھا ۔ قدرت کے اس ماحول میں آدمی خدا کی تجلیات میں گم ہو جاتا ہے۔ دل نے کہا کہ زندگی کے تقاضے اگر مجبور نہ کریں تو میں خدا کی اس حسین دنیا میں کھو جاؤں اور پھر کبھی اس سے باہر نہ آؤں ۔
مگر موجودہ دنیا میں انسان سے یہ مطلوب نہیں۔ چڑیاں اگر اس سرسبز دنیا میں اڑیں تو وہ ان کے لیے زندگی کی سرگرمیوں کے ہم معنی ہے۔ لیکن انسان اگر ایسا کرے تو وہ اس کے لیے زندگی سے فرار کے ہم معنی بن جائے گا ۔
جب ہم لوگ چھتری کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے ، اس وقت میری نظر نیچے کی سڑک پر گئی۔ سڑک کے کنارے ایک پتھر لگا ہوا تھا جس پر یہ انگریزی الفاظ لکھے ہوئے تھے : Drive with care. احتیاط کے ساتھ گاڑی چلاؤ) میں نے سوچا کہ سڑک بظاہر خاموش ہے ۔ مگر وہ کتنی بڑی حقیقت کا اعلان کر رہی ہے ۔ زندگی بھی ایک سڑک کی مانند ہے۔ یہاں ہم اکیلے نہیں چل رہے ہیں ۔ ہماری طرح دوسرے بہت سے لوگ اس پر اپنی گاڑیاں دوڑا رہے ہیں ۔ ایسی حالت میں محفوظ سفر کا واحد یقینی طریقہ یہی ہے کہ ہر آدمی چوکنارہے : ہر آدمی احتیاط کے ساتھ اپنی گاڑی چلائے ۔ (رسالہ جنوری ۱۹۸۸ء)
سڑکوں سے گزرتے ہوئے راستہ میں کئی جدید طرز کی کالونیاں دکھائی دیں۔ کھلے مکانات، صاف ستھری زندگی۔ میں نے پوچھا کہ ان کالونیوں میں مسلمان کتنے ہوں گے، جواب ملا کہ ایک بھی نہیں۔ "مسلمان تالاب کھٹیکان سے نکلنا پسند نہیں کرتے۔ " یہی ذہنیت اکثر مقامات پر مسلمانوں کی ہے۔ مگر میں اس کو مسلمانوں کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتا ہوں۔ اس طرح مسلمان بیک وقت دو چیزوں سے محروم ہو رہے ہیں۔ ایک، ذہنی وسعت۔ اور دوسرے، جدید مواقع سے فائدہ اٹھانا۔
واپسی میں جب ہم قدیم جموں کے علاقہ میں پہنچے تو ایک جگہ سڑک کے ایک طرف چند ٹھیلے کھڑے ہوئے تھے۔ اس بنا پر وہاں سڑک تنگ ہوگئی تھی اور صرف ایک ہی گاڑی کے گزرنے کا راستہ باقی تھا۔ اتفاق سے عین اسی وقت سامنے کی سڑک پر ایک اور گاڑی آگئی۔ ایک لمحہ کے لیے دونوں گاڑیاں رک گئیں۔ اس کے بعد سامنے والے ڈرائیور نے اپنی گاڑی پیچھے کی طرف چلا کر ایک کنارے کھڑی کر دی۔ اب ہماری گاڑی کے لیے راستہ کھل گیا ۔ ہم تیزی سے گزر گئے ۔ کے بعد دوسری طرف کی گاڑی بھی روانہ ہو کر آگے چلی گئی ۔
کبھی آگے بڑھنے کے لیے پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔ جن لوگوں کی ڈکشنری میں صرف آگے بڑھنے کا لفظ لکھا ہوا ہو، پیچھے ہٹنے کا لفظ ان کی ڈکشنری میں درج نہ ہو، ایسے لوگوں کے لیے اس دنیا میں اپنی منزل پر پہنچنا مقدر نہیں۔
ایک مسلمان ایک ادارہ کی طرف سے اس کی ایک شاخ کا مقامی انچارج تھا۔ اس نے فریب دہی کے ذریعہ اس کی اس عمارت پر غاصبانہ قبضہ کر لیا۔ اب وہ اپنے نا جائز قبضہ کو جائز ثابت کرنے کے لیے جھوٹا پروپیگنڈہ کرنے میں مشغول ہے۔
اس سفر میں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے مذکورہ واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس مسلمان کا کہنا ہے کہ ہمارے اکابر خود غاصبانہ قبضہ کیے ہوئے ہیں۔ اس لیے اگر میں نے بھی ایک غاصبانہ قبضہ کر لیا تو اس میں کیا ہرج ہے۔ میں نے پوچھا کہ اس کی کوئی مثال بتائیے۔ کہا کہ وہ مسلمان اس سلسلہ میں آپ کی مثال پیش کرتا ہے اور کہتا ہے کہ آپ نے جمعیۃ بلڈنگ (دہلی) کے دو کمروں پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے۔
میں نے کہا کہ یہ سراسر جھوٹی بات ہے۔ جمیعہ بلڈنگ کا جو حصہ میرے پاس ہے اس کا میں با ضابطہ کرایہ دار ہوں۔ جمیعہ ٹرسٹ سوسائٹی کے سابق چیئرمین حاجی عبدالعزیز صاحب کی رضامندی سے طرفین کے درمیان ایک تحریری اتفاق نامہ ہوا جس پر دونوں نے دستخط کیے ۔ طرح طرفین کے متفقہ فیصلہ کے تحت اس کی کرایہ داری قائم ہوئی اور میں 1974 سے مسلسل ماہ بہ ماہ اس کا مقررہ کرایہ ادا کر رہا ہوں۔ کوئی بھی شخص ہمارے دفتر میں آکر 1974 سے اب تک کی رسیدیں دیکھ سکتا ہے۔
مذکورہ صاحب میرے جواب سے مطمئن ہو گئے ۔ انھوں نے کہا کہ مجھے صحیح صورت حال کا علم نہ تھا۔ اس مسلمان کا آپ کے خلاف پروپیگنڈا یقیناً ایک بہتان ہے۔ البتہ اگر وہ بھی آپ کی طرح عمارت کے اصل مالک سے اتفاق نامہ کرلے اور اس کے مطابق عمل در آمد کرے تو اس کے بعد اس کے معاملہ کو جائز معاملہ کہا جا سکتا ہے ۔ ورنہ موجودہ صورت حال میں تو وہ خود اپنے اقرار کے مطابق غاصب اور خائن ثابت ہو رہا ہے ۔
ایک صاحب نے لیتھو پر چھپا ہوا ایک اردو اخبار پیش کرتے ہوئے کہا : یہ ابھی ہفت روزہ ہے۔ اب میرا ارادہ ہے کہ اس کو روز نامہ بنا دیا جائے۔ میں نے کہا کہ اصل اہمیت یہ نہیں ہے کہ ہفت روزہ کے بجائے روز نامہ ہو ، اصل اہمیت یہ ہے کہ وہ معیار نامہ اردو زبان میں بے شمار اخبارات نکلتے ہیں، مگر شاید ان میں سے کوئی بھی نہیں جو جدید معیار صحافت کے مطابق ہو۔
میں نے کہا کہ حدیث میں ہے کہ الله جميل ويحب الجمال - اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ جمال و کمال کے اعلیٰ معیار پر ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ آپ جو کام کریں وہ سطح خداوندی کے مطابق ہو۔ آج کل مسلمان جو اخبارات نکال رہے ہیں وہ جدید معیار صحافت کے اعتبار سے سطح انسانی کے مطابق بھی نہیں ، کجا کہ ان کو سطح خداوندی کے مطابق کہا جائے۔ 6 نومبر، ۱۹۸۷ کی سہ پہر کو انڈین ایرلائنس کی فلائٹ ۲۲ ۴ کے ذریعہ دہلی واپسی راستہ میں ہوائی کمپنی کے ماہنامہ سواگت (اکتوبر، ۱۹۸۷) میں ایک مضمون پڑھا۔ یہ مغل یادگاروں کے بارہ میں تھا۔ اس مضمون میں اکبر (۱۶۰۵ - ۱۵۵۶) سے لے کر شاہجہان
(۱۹۵۸ء - ۱۹۷۶ء) تک کی مختلف عمارتوں کی تفصیل درج تھی۔ مضمون نگار مسٹر جگموہن مہاجن نے مغل عمارتوں کا با تصویر تذکرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ مغلوں کے ظہور کے بعد ہندوستان کے فن تعمیر نے ایک نیا انداز اختیار کیا : Indian architecture took on a new aspect with the advent of the Mughals (p. 81). موجودہ مسلمان ماضی کے " لال قلعہ " اور ماضی کے " تاج محل " پر فخر کرتے ہیں۔ مگر آج کے ہندوستان کو وہ کوئی نیا لال قلعہ اور کوئی نیا تاج محل نہ دے سکے۔ مسلمانوں کی اسی کوتاہی میں ان کی تمام محرومیوں کا راز چھپا ہوا ہے۔ 6 نومبر ۱۹۷۹ء کی شام کو میں جموں سے دہلی واپس آیا۔ Evidence of God in Nature and in Science Maulana Wahiduddin Khan by Maulana Wahiduddin Khan This English edition of Mazhab Aur Jadeed Challenge, is an updated version, incorporating considerable additional material. It has also been translated into a number of other languages, including Arabic, French, Turkish, Malay, Serbo-Croatian (Yugoslavian), Sindhi, Tamil, etc., and has come to be accepted as standard work on the Islamic position vis-a-vis modern thought. Price Rs. 45. THE ISLAMIC CENTRE C-29 Nizamuddin West New Delhi - 110 013