قرآن : ایک تاریخی معجزہ
Al-Risala, July 1988, p. 4
By Maulana Wahiduddin Khan
قدیم یونان میں جو کتابیں یونانی زبان میں لکھی گئیں ، ان میں دو کتابیں بہت مشہور ہیں ۔ (Illiad) اور دوسرے اوڈیسی (Odyssey) ایلڈ ایک مفروضہ جنگ کی کہانی بیان کرتی ہے اور اوڈیسی ایک مفروضہ سفر کی داستان ہے ۔ لٹریری اہمیت کی بنا پر ان کتابوں کے ان گنت ترجمے کیے گیے ہیں ۔ دونوں کتابوں کے بارے میں عجیب بات یہ ہے کہ ان کے مصنف کا نام قطعیت کے ساتھ معلوم نہیں ۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ان کتابوں کا مصنف ہومر (Homer) ہے جس کا زمانہ غالباً نویں صدی یا آٹھویں صدی قبل مسیح تھا ۔ تاہم ہومر کے بارے میں تاریخی معلومات تقریباً نہیں کے برابر ہیں : Virtually nothing is known about the life of Homer (Vol. V, p. 103). محققین نے اس مفروضہ پر بھی زبردست اعتراضات کیے ہیں کہ یہ کتابیں فی الواقع ہومر کی تصنیف ہیں ۔ مثلاً اسموئل بٹلر (۱۹۰۲ ۔ ۱۸۳۵ء) کا خیال ہے کہ اوڈیسی ایک عورت کی لکھی ہوئی ہے ۔ اسی طرح ایلڈ کے بارہ میں کہا گیا ہے کہ وہ کئی مرحلوں میں مختلف افراد کی کوششوں سے مرتب ہوئی (1017-8/EB) قدیم زمانہ کی کتابوں کا عام طور پر یہی حال ہے ۔ ان کے بارے میں معلومات اتنی کم ہیں کہ ان کے ذریعہ ان کی کوئی واضح تاریخی تصویر نہیں بنتی ۔
دور قدیم کی کتابوں میں قرآن واحد کتاب ہے جس کی ہر بات معلوم اور مسلم ہے ۔ جس کی واقعیت تاریخ کے ہر معیار پر پوری اترتی ہے ۔ جو مکمل طور پر ایک تاریخی کتاب ہے ۔ اترنا شروع ہوا، ۶۱۰ء میں ۔ کس کے اوپر اترا ، محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب کے اوپر ۔ پیدا ہوئے اور کہاں وفات پائی ، ۵۷۱ء میں مکہ میں پیدا ہوئے اور ۶۳۲ء میں مدینہ میں وفات قرآن کی زبان کیا تھی ، عربی زبان ۔ شروع میں قرآن کے کاتب کون لوگ تھے ، ابو بکر بن ابی قحافہ، عمر بن الخطاب، عثمان بن عفان ، علی بن ابی طالب ، زبیر بن العوام ، زید بن ثابت ، عامر بن فہیرہ، ابو ایوب انصاری، ابی بن کعب ، معاویہ بن ابی سفیان ، عبداللہ بن مسعود، وغیرہ ۔
اسی طرح قرآن اور صاحب قرآن کے بارہ میں جو بھی تاریخی سوال کیا جائے ، اس کا واضح جواب یقینی طور پر موجود ہو گا ۔ جب کہ دور قدیم کی کسی دوسری کتاب کو یہ خصوصیت حاصل نہیں ۔