Al-Risala · July 1988

حقیقت پسند بنئے

Al-Risala, July 1988, p. 52

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری ان کی منفی ذہنیت ہے۔ وہ دنیا کی تمام قوموں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ وہ غیر اقوام کی تمام کارروائیوں کو اس نظر سے دیکھتے ہیں کہ وہ ان کے خلاف دشمنی کی بنا پر کی گئی ہیں۔ اس منفی ذہن نے ان کی پوری سوچ کو غیر حقیقت پسندانہ بنا دیا ہے۔ کے نیچے ہیں اور اوپر سے پکا ہوا پھل آپ کے سر پر گر پڑتا ہے ، اب اگر آپ یہ سوچیں کہ درخت نے آپ کی ضد میں آپ کے سر پر اپنا پھل گرایا ہے تو کبھی آپ معاملہ کا صحیح حل تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ مثال کے طور پر امریکا فلسطینی مسلمانوں کے مقابلہ میں اسرائیلی یہودیوں کا ساتھ دیتا ہے ۔ تمام دنیا کے مسلمان اس کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ امریکا مسلمانوں کا دشمن ہے اور اس دشمنی کی وجہ سے وہ مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن کا ساتھ دے رہا ہے۔ مگر اصل یہ ہے کہ یہ دنیا مفادات کی دنیا امریکہ اس لئے اسرائیل کا ساتھ دیتا ہے کہ اس سے اس کا مفاد وابستہ ہے نہ کہ محض کسی کی ضد یا دشمنی کی وجہ سے۔

اسرائیل کی مدد سے امریکہ دو طرفہ مفاد حاصل کر رہا ہے۔ ایک یہ ہے کہ اس طرح وہ تیل پیدا کرنے والے خلیجی ممالک کو مسلسل دباؤ کی حالت میں رکھے ہوئے ہے۔ اس صورت حال کی بنا پر یہ ممالک مجبور ہیں کہ وہ امریکہ سے امریکہ کی شرائط پر معاملہ کریں نہ کہ خود اپنی شرائط پر۔ دوسرا فائدہ کاروباری فائدہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں ترقی یافتہ ملکوں کا ایک نہایت محفوظ بزنس یہ ہے کہ وہ کمزور یا غیر ترقی یافتہ ممالک کو امداد کے نام پر قرض دیں اور اس پر ان سے سود وصول کریں۔ امداد کی رقم کی واپسی تو قسطوں میں ہوتی ہے مگر سود کی رقم ہر سال پوری کی پوری ادا کی جاتی ہے۔ ترقیاتی کاموں میں بھی دئے جاتے ہیں مگر ان کی سب سے بڑی مدجدید ہتھیاروں کی خریداری ہے۔ قرضے تو دوسرے ملکوں سے بھی ملتے ہیں مگر جنگی ہتھیاروں کی تجارت امریکہ کی اجارہ داری ہے۔ اور عربوں میں مسلسل جنگ کی حالت کو موقع دے رہی ہے کہ وہ اسرائیل کے ہاتھ قیمتی ہتھیار قرض کی بنیاد پر فراہم کرے اور اس پر اس سے بھاری سود وصول کرے۔ چنانچہ ایک اقتصادی رپورٹ کے مطابق اسرائیل امریکی قرضوں پر سود کی جو رقم ادا کرتا ہے اس کی سالانہ مقدار ۹۱۰ ملین ڈالر ہے۔ ممالک امریکہ سے مہنگے داموں جو ہتھیار خریدتے ہیں ان کی مقدار اس کے علاوہ ہے۔

Printed page