Al-Risala · July 1988

مسلمانوں کا مسئلہ

Al-Risala, July 1988, pp. 16–27

By Maulana Wahiduddin Khan

۱۵ مئی ۱۹۸۳ کو میں مراد آباد میں تھا۔ وہاں میری دو تقریریں ہوئیں۔ موضوع تھا، دینی تقاضے۔ اور دوسری کا موضوع تھا، تعمیر ملت ۔ تعمیر ملت کے موضوع پر جب تقریر ختم ہوئی تو ایک صاحب اٹھے جو نہایت سنجیدہ اور پڑھے لکھے آدمی معلوم ہوتے انھوں نے دو سوالات کئے ۔

پہلا یہ کہ آپ نے تعمیر ملت کے موضوع پر جو کچھ کہا ہے وہ سب اسباب کی باتیں ہیں مگر مراد آباد کا تجربہ اس سے مختلف ہے۔ مراد آباد کے فساد (۱۹۸۰) کے آخری مرحلہ میں مسلمان اس طرح گھر گئے کہ ان کے سامنے کوئی راستہ باقی نہ رہا۔ انھوں نے سوچا کہ اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ دعا کی جائے۔ چنانچہ مسلمانوں نے مل کر دعا کی اور اس کے بعد اچانک صورت حال بدل گئی اور شہر میں امن قائم ہو گیا ۔ دوسرا سوال یہ کہ اگر سارا معاملہ اسباب کا ہے تو اس میں مسلمان اور غیر مسلمان سب برابر ہیں، پھر مسلمان کا وہ امتیاز کیا ہے جو خیرامت کی حیثیت سے انھیں دیا گیا ہے۔

پہلے سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ میں نے جو بات کہی اس کا تعلق قانون عام (الرعد۱۱) سے ہے اور آپ نے جو بات کہی اس کا تعلق قانون اضطرار (النمل ۶۲) سے۔ اس میں شک نہیں کہ کوئی شخص یا کوئی گروہ جب ایسے حالات میں گھر جائے جہاں بظاہر اس کے لئے نکلنے کا کوئی راستہ نہ ہو اور وہ دل سے خدا کو پکارے تو خدا اس کی مدد کرتا ہے (یونس ۲۳۔ ۲۲) مگر جیسا کہ قرآن میں صراحت ہے، حالت اضطرار میں مدد کا تعلق ہر ایک سے ہے، خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلمان کسی اضطراری واقعہ سے عمومی قانون اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

میں نے جو بات کہی وہ فساد سے پہلے کی ہے۔ اور آپ جو بات کہہ رہے ہیں وہ فساد کے بعد فساد کے بعد جب ہنگامی حالت پیدا ہو چکی ہو، اس وقت کیا کرنا ہے، یہ ایک الگ مگر فساد ہونے سے پہلے حالات کو معتدل رکھنے کے لئے کیا کیا جائے، یہ بالکل مختلف مسئلہ ہے۔ مسلمانوں نے موجودہ زمانہ میں برداشت کو کھو دیا ہے۔ وہ ذرا سی بات پر بھڑک اٹھتے ہیں ۔ یہی عدم برداشت کا مزاج تمام فسادات کا اصل سبب ہے۔ جب تک کہ اس مزاج کو دور نہ کیا جائے کسی بھی دوسری تدبیر سے فسادات کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ مسلمان پچھلے ۲۵ سال

سے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کو اقلیتی کردار دینے کی لڑائی لڑ رہے تھے۔ یہ لڑائی حکومت اور حکمراں پارٹی سے تھی۔ بالآخر ۱۹۸۲ء میں ان کو نئے ایکٹ کے تحت اقلیتی کردار دے دیا گیا۔ کی لڑائی بدستور جاری ہے۔ فرق یہ ہے کہ پہلے اس لڑائی کا نشانہ نئی دہلی تھا، اب اس لڑائی کا نشانہ خود ان کا مسلمان وائس چانسلر ہے اس سے پہلے ہندوستان کے بیشتر مسلمانوں نے تقسیم ملک کی مانگ کی۔ اس مانگ کے لئے ان کی سب سے بڑی دلیل یہ تھی کہ مشترک ہندوستان میں ملک کا اکثریتی فرقہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے۔ اس مطالبہ کے مطابق ان کو پاکستان دے دیا گیا۔ مگر ان کے شکایتی ذہن نے اپنی شکایت کے لئے نیا نشانہ تلاش کر لیا۔ اب مشرقی پاکستان کو یہ شکایت ہوگئی کہ مغربی پاکستان اس کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے۔ دوبارہ خود اپنے درمیان ایک بھیانک لڑائی ہوئی جو اس پر ختم ہوئی کہ مشرقی پاکستان نے مغربی پاکستان سے علیحدگی اختیار کر لی۔ تاہم ۱۹۸۳ء کے واقعات بتاتے ہیں کہ اصل مسئلہ بدستور باقی ہے۔ اب سندھ کے مسلمانوں کو پنجاب کے مسلمانوں سے شکایت ہے کہ وہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک کرتے ہیں۔ یہ لڑائی جاری ہے اور کچھ نہیں معلوم کہ وہ کہاں جا کر ختم ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ ہر بات میں ان کا بے برداشت ہو جانا ہے۔ وہ اپنے اس مزاج کو ختم نہ کریں ان کے لئے زمین تنگ رہے گی، خواہ وہ ایک ملک کا معاملہ ہو یا دوسرے ملک کا۔ دوسرے سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ مسلمان اپنے تقرر کے اعتبار سے بلاشبہ خیر امت ہیں اور اس حیثیت سے ان کے ساتھ خدا کا ایک امتیازی معاملہ ہے۔ خدا نے مسلمانوں کے لئے اپنی ایک خصوصی مدد مقدر کی ہے جو اس نے دوسروں کے لئے مقدر نہیں کی۔ مگر اس خصوصی مدد کا استحقاق خیر امت کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری انجام دینے پر ہے نہ کہ صرف کسی مسلم نسل سے تعلق ہونے کی بنا پر۔

یہ ذمہ داری دعوت و تبلیغ کی ذمہ داری ہے۔ دعوت و تبلیغ سے مراد مسلمانوں کے درمیان اصلاحی کام نہیں ہے۔ بلکہ غیر مسلموں تک خدا کا پیغام پہنچانا ہے۔ مسلمانوں کی اصلاح بھی ایک کرنے کا کام ہے اور اس کو ضرور کیا جانا چاہئے۔ مگر غیر مسلموں کے مقابلہ میں مسلمانوں کی مدد کا وعدہ کبھی بھی مسلمانوں کے درمیان اصلاحی کام کرنے سے پورا نہیں ہو سکتا۔ یہ وعدہ صرف اس وقت پورا ہوگا جب کہ غیر مسلموں کے درمیان دعوت الی اللہ کا کام کیا جائے اور اس کو اس کے تمام آداب و شرائط کے ساتھ انجام دیتے ہوئے اتمام حجت کی حد تک پہنچایا جائے۔

قیادت کا دیوالیه‌ پن ضبط کروں میں کب تک آہ چل رے خامہ بسم اللہ بابری مسجد اور رام جنم بھومی (اجو دھیا) کا جھگڑا سو سال سے بھی زیادہ پرانا ہے۔ اپنی موجودہ شکل میں یہ جھگڑا یکم فروری ۱۹۸۶ء کو شروع ہوا جب کہ فیض آباد کے ڈسٹرکٹ جج، کرشن موہن پانڈے، کے عدالتی حکم کے تحت مقامی پولیس نے بابری مسجد کے دروازہ کا تالا کھول دیا جو ۱۹۴۹ء سے بند چلا آ رہا تھا۔ اس کے نتیجہ میں یہ عمارت عملاً ہندوؤں کے قبضہ میں چلی گئی ۔ یہ واقعہ بلاشبہ غلط تھا۔ مگر اس کے بعد مسلمانوں نے جو کچھ کیا وہ یقینی طور پر اس سے بھی زیادہ غلط تھا۔ کیوں کہ وہ سنتِ رسولؐ کے خلاف تھا۔ قدیم مکہ میں ٔخدا کے مقدس ترین خدا خانہ کو بت خانے میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہ اسی نوعیت کا سخت تر مسئلہ تھا۔ مگر اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں نے ان طریقوں میں سے کوئی طریقہ اختیار نہیں کیا جو موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے سیاست پسند لیڈروں کی پیروی میں اختیار کیا ہے ۔ کعبہ کے مذکورہ مسئلہ کو رسول اللہ نے قومی لڑائی کا عنوان نہیں بنایا بلکہ اپنی ساری توجہ انسانی ضمیر کو جگانے پر لگا دی ۔ بابری مسجد کا مسئلہ پیدا ہونے کے بعد مسلمانوں نے یہ کیا کہ انھوں نے بند، گرفتاری، دھرنا، ریلی، ایجی ٹیشن، جلسوں اور تقریروں کے ہنگامے جاری کر دیئے ۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ جب کہ مشرکین نے خانہ کعبہ میں بت داخل کر رکھے تھے، آپ نے ان مشرکین کے دلوں میں توحید کو داخل کرنے کی مہم شروع کر دی ۔ یہ طریقہ خدا کی صراطِ مستقیم کے مطابق تھا۔ کو صدقِ صد کامیابی حاصل ہوئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتی کوششوں سے لوگوں کے سینے توحید خانے بن گئے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسجد بھی آخر کار بت خانے کے بجائے توحید خانہ میں تبدیل ہو گئی ۔

بابری مسجد کے معاملہ میں مسلمانوں نے جو ہنگامہ بر پا کیا ہے وہ سراسر ایک قومی ہنگامہ ہے۔ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔ یہ استحصال پسند لیڈروں کی پیروی میں ہے نہ کہ خدا کے پیغمبر کی پیروی میں ۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاملہ میں مسلمانوں کو خدا کی مدد نہ مل سکی ۔ ان کے ان ہنگاموں سے

معاملہ صرف نازک تر ہوتا چلا گیا ، وہ کسی بھی درجہ میں حل نہ کیا جا سکا۔

اس معاملہ میں مسلمانوں کو کم سے کم جو کرنا تھا وہ یہ تھا کہ یکم فروری ۱۹۸۶ کے بعد بھی وہ اسی طریقہ پر قائم رہتے جس پر وہ اس سے پہلے قائم تھے۔ یا دوسری سیکڑوں مسجدوں کے بارے میں آج بھی جس طریقہ کو وہ عملاً اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یعنی مذکورہ غلط فیصلہ کو قانون اور گفت و شنید کے ذریعہ حل کرنے کی کوشش کرنا۔ اور بالفرض اگر اس طرح کوئی حل سامنے نہ آئے تب بھی لازماً اسی پر قائم رہنا۔ کیوں کہ یہ ہرگز عقل مندی نہیں ہے کہ کوئی شخص آپ کی ایک چیز پر قبضہ کرلے اور آپ عدالت سے انصاف نہ پارہے ہوں ، تو آپ اپنے گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کر لیں۔

مسلمانوں کے استحصال پسند لیڈروں نے اس مسئلہ کو اس طرح ابھارا جیسے کہ وہ اسی کے منتظر ہوں، انھوں نے انتہائی جذباتی تقریریں کرکے مسلمانوں کا خون گرما دیا۔ وہ اس مسئلہ کو سڑک پر لے آئے۔ نے اس کو اتنا زیادہ بڑھایا کہ وہ پورے ملک میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان شدید ترین قومی تناؤ کا سبب بن گیا۔ اس طرح انھوں نے نہ صرف اجودھیا کو بلکہ پورے ملک کو اشتعال کی بھٹی کے کنارے کھڑا کر دیا۔ اسی کا براہ راست نتیجہ میرٹھ اور ملیانہ کا درد ناک فساد تھا۔ ان فسادات میں لیڈر صاحبان کا تو کچھ نہیں بگڑا، البتہ بے شمار مسلم خاندان برباد ہو کر رہ گئے ۔

مرکزی رابطہ بابری مسجد کمیٹی (بابری مسجد موومنٹ کو آرڈی نیشن کمیٹی) کے چیئرمین کا ایک انٹرویو افکار ملی (۳۱ مئی ۱۹۸۸) میں چھپا ہے۔ اس کا ایک سوال و جواب یہ ہے :

سوال ملک کے باشعور طبقوں کا کہنا ہے کہ دونوں قو میں بالمشافہ گفتگو سے مسئلہ کے کسی حل پر پہونچ کیا اس مسئلہ کو گفتگو کے ذریعہ حل کرنے کی کوشش کی گئی۔ جواب لگاتار ایسی کوششیں ہوئیں اور ہر سطح پر ہوئیں۔ لیکن ابھی تک کوئی واضح نتیجہ نہیں نکلا۔ میرے ذاتی تجربہ کے مطابق ، یہ بات سراسر خلاف واقعہ ہے ۔ کم از کم ایک بار اس قسم کی اعلیٰ سطحی میٹنگ میں میں خود شریک رہا ہوں ۔ میں نے پایا ہے کہ نام نہاد مسلم لیڈروں کا رویہ ان مواقع پر انتہائی غیر معقول ہوتا ہے۔ ان میٹنگوں میں مسلم نمائندے بالکل وکیلانہ اور مناظرانہ بحث کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ حالاں کہ نازک اور حساس مسائل میں وکیلانہ اور مناظرانہ طریقہ صرف مسئلہ کو مزید پیچیدہ بناتا ہے ، وہ کسی بھی درجہ میں اس کو حل نہیں کرتا ۔

یہاں میں ایک خصوصی میٹنگ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو نئی دہلی کے وٹھل بھائی پٹیل ہاؤس میں ۷ مارچ ۱۹۸۷ء کو ہوئی تھی۔ یہ میٹنگ بابری مسجد (اجو دھیا) کے مسئلہ پر تھی۔ ایک طرف بابری مسجد تحریک کے ذمہ داران تھے اور دوسری طرف ہند و شخصیتیں ۔ ہندو جانب سے جو افراد شریک ہوئے ، ان میں ایک ممتاز نام مہنت اوید ناتھ کا ہے جو رام جنم بھومی مکتی یگیہ سمیتی کے صدر ہیں۔ راقم الحروف بھی خصوصی دعوت کے تحت اس میٹنگ میں موجود تھا۔

اس موقع پر دونوں طرف کے لوگوں نے اپنا اپنا نقطہ نظر بیان کیا۔ اکثر ہندو صاحبان نے مصالحت کے انداز میں تقریر کی۔ مہنت اوید ناتھ نے واضح اور متعین انداز اختیار کیا۔ انھوں نے کہا کہ بابری مسجد ہمارے نزدیک رام جنم بھومی پر بنائی گئی ہے۔ مسجد تو آپ دوسری جگہ بھی بنا سکتے ہیں مگر جنم بھومی تو وہیں رہے گی جہاں کہ وہ ہے۔ اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ یہ جگہ ہم کو واپس دے دی جائے تاکہ ہم اس کو اس کی ابتدائی صورت میں تعمیر کر سکیں۔ مسلم نمائندے حسب معمول اس طرح تقریر کرتے رہے جیسے کہ وہ مسلمانوں کی طرف سے محض قومی وکیل بن کر اس مجلس میں شریک ہوئے ہیں۔

اجودھیا کے اس جھگڑے نے جو شدت اور نزاکت اختیار کر لی ہے ، اس کے پیش نظر اس معاملہ میں کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ دونوں فریقوں کو فیصلہ کی ایسی مشترک بنیاد پر لایا جائے جس سے دونوں اتفاق کر سکیں ۔ قومی وکالت اور جارحانہ مناظرہ والا انداز کسی بھی درجہ میں حل کا دروازہ کھولنے والا میں بن سکا۔

مذکورہ میٹنگ میں جب دوسرے لوگ بول چکے تو حاضرین کے اصرار پر میں نے ایک مختصر تقریر سب سے پہلے میں نے یہ کہا کہ مسجد کا معاملہ اسلام نہیں بے حد نازک ہے۔ مسجد کا مسئلہ یہ ہے کہ جو مسجد ایک بار بن جائے وہ ہمیشہ کے لیے مسجد ہے۔ اس کو نہ اس کی جگہ سے ہٹایا جا سکتا اور نہ کسی طرح اسے ختم کیا جا سکتا ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مسجد اگر واقعی وہ مسجد ہے تو مسلمان اپنے عقیدہ کی رو سے کبھی اس کو چھوڑنے پر راضی نہیں ہو سکتے۔

مگر اسی کے ساتھ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ مسجد ایک مقدس عبادت خانہ ہے۔ اس لیے مسجد کی تعمیر لازماً جائز زمین پر ہونا چاہیے ۔ اگر غصب کی ہوئی زمین پر مسجد بنائی جائے تو اسلامی فقہاء کا کہنا ہے کہ ایسی مسجد میں نماز جائز نہیں لا تجوز فیہ الصلوة)

جہاں تک غیر مذاہب کے عبادت خانہ کو ڈھا کر اس کی جگہ مسجد بنانے کا سوال ہے، تو اصولاً یہ اسلام کے بالکل خلاف ہے ، مذاہب کے عبادت خانوں کو ڈھانا ، قرآن کے مطابق ایک ظالمانہ فعل ہے (رائج ۴۰ ) خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق کے زمانہ میں شام و فلسطین کے عیسائی علاقے اسلامی مملکت میں شامل ہوئے ۔ اس وقت ان کے لیے جو عہد نامے لکھے گئے ، ان میں دوسری باتوں کے ساتھ یہ بھی درج تھا کہ ان کے مذہبی امور میں کوئی دخل اندازی نہ کی جائے گی ( لا يحال بينهم و بين شرائعهم ) اہل فلسطین کے معاہدہ میں یہ بھی درج کیا گیا کہ ان کے گرجا میں رہائش نہ کی جائے گی اور نہ ان کو ڈھایا جائے گا اور نہ ان میں کچھ کمی کی جائے گی ( لا يسكن كنائسهم ولا تُهدم ولا ينتقص منها )

ان تمہیدی باتوں کے بعد میں نے کہا کہ اجودھیا کی بابری مسجد کے بارے میں ہمارے سامنے دو مطالبے ہیں۔ اور دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ مسلمان کہتے ہیں کہ یہ شروع سے مسجد ہے ۔ ہندو کہتے ہیں کہ وہ پہلے رام جنم استھان تھی۔ بعد کو اُسے توڑ کر مسجد بنا یا گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان فیصلہ کی بنیاد کیا ہو ۔

میں نے کہا کہ یہ ایک کھلی ہوئی بات ہے کہ صرف دعویٰ اور مطالبہ کی بنیاد پر اس کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا ۔ فیصلہ کے لیے کسی دوسری چیز کو بنیاد بنانا پڑے گا جو ان دونوں سے الگ ہو یہ دوسری چیز صرف ایک ہو سکتی ہے ، اور وہ تاریخ ہے ۔ اس مسئلہ کو ختم کرنے کی واحد معقول صورت یہ ہے کہ دونوں فریق اس پر راضی ہو جائیں کہ تاریخ کا جو فیصلہ ہو گا اس کو دونوں فریق بلا بحث قبول کر لیں گے ۔

پھر میں نے کہا کہ آپ حضرات اگر اصولی طور پر اس بات کو مان لیں تو پھر میری تجویز ہے کہ مسلّمہ تاریخ دانوں کا ایک بورڈ بنایا جائے ۔ یہ بورڈ خالص تاریخی حقائق کی روشنی میں معاملہ کا جائزہ لے اور تاریخی شہادتوں کی بنیاد پر وہ جس رائے پر پہنچے اس کے مطابق وہ اس کا فیصلہ دونوں فریق پیشگی اقرار نامہ کے مطابق ، اس کے پابند ہوں کہ مذکورہ بورڈ کا جو فیصلہ ہوگا اس کو ہر دو فریق مزید بحث کے بغیر مان لیں گے ۔

مزید میں نے کہا کہ اس بورڈ (یا تاریخی عدالت ) میں حکومت کا بھی ایک باضابطہ نمائندہ موجود ۲۱ ا رسالہ جولائی ۱۹۸۸ء

ہو، تا کہ فیصلہ کے بعد اس کے عملی نفاذ کی یقینی ضمانت ہو سکے ۔

میری تقریر تمام لوگ بیحد غور کے ساتھ سنتے رہے ۔ جب وہ ختم ہوئی تو بہت اویندراتھ اور ان کے ساتھیوں نے کہا کہ ہم کو یہ بات منظور ہے۔ اس انداز پر بات کو آگے بڑھایا جائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ مولانا صاحب (راقم الحروف) سے میں تفصیلی گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ان کے بتائے ہوئے راہ عمل پر چلا گیا تو یہ مسئلہ خوش اسلوبی کے ساتھ حل ہو جائے گا۔ بات یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ عین اس وقت بابری مسجد رابطہ کمیٹی کے چیئر مین، جو کہ ایم پی بھی ہیں، مشتعل ہو کر چلنے لگے۔ وہ اتنے زور زور سے بول رہے تھے کہ یہ سمجھنا مشکل تھا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں بمشکل میں اتنا سن سکا کہ "ہم اس تجویز پر راضی نہیں ہیں "

اس گفتگو کے موقع پر جماعت اسلامی کی طرف سے بھی اس کے ایک ذمہ دار بزرگ مگر ناقابل فہم سبب کے تحت وہ مکمل طور پر خاموش رہے۔ یہاں تک کہ چیئر مین صاحب کی چیخ پکار کے ساتھ میٹنگ برخاست ہو گئی ۔

میرے لیے یہ بات ناقابل فہم ہے کہ مسلم لیڈروں نے میری مذکورہ بات سے اختلاف کیوں کیا۔ جب کہ اپنے اعلان کے مطابق ، وہ خود اسی قسم کے با عزت حل کی تلاش میں ہیں۔ بظاہر اس کی وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے کہ "کریڈٹ" کے مسئلے نے انھیں اس اختلاف پر مجبور کیا۔ وہ اپنے سیاسی مزاج کے تحت ایک ایسے حل پر راضی نہ ہو سکے جس کا کریڈٹ ان کے سوا کسی اور کو مل رہا ہو۔ مسٹر گووند مکھوٹی (صدر دہلی بار ایسوسی ایشن) نے بابری مسجد کے مسئلہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے :

" اس قضیہ کا فیصلہ کسی بھی عدالت میں نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے آسان صورت یہ ہے کہ ہندو اور مسلمان دونوں فرقہ کے روشن خیال لوگ خلوص دل سے اس مسئلہ کا حل نکالنے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھیں۔ اور تاریخی حقائق کی روشنی میں اس کا فیصلہ کریں۔ " افکار ملی ، 37۱ مئی ۱۹۸۸، صفحہ ۳ اس میں شک نہیں کہ اس معاملہ میں یہی سب سے زیادہ قابل عمل بات ہے۔ جس قضیہ سے عوامی جذبات اتنے زیادہ وابستہ ہوں یا وابستہ کر دیئے جائیں ۔ اس کو محض عدالتی حکم کے ذریعہ ختم نہیں کیا جا سکتا۔ یکم فروری ۱۹۸۶ کو فیض آباد کی عدالت نے ایک حکم دیا تھا۔ مگر اس کا انجام یہ ہوا کہ ہندوؤں

نے اس کو مانا، اور مسلمانوں نے اس کو نہیں مانا ۔ اسی طرح کوئی دوسری عدالت اس سے مختلف حکم دے تو مسلمان اس کو مانیں گے مگر ہندو اس کو نہیں مانیں گے ۔ اور پھر مسئلہ جہاں تھا وہیں باقی رہے گا ۔ ایسے ہی نازک اجتماعی معاملات کے لیے حکم اور ثالث کا اصول مقرر کیا گیا ہے ۔ یہ "عدالت" کی وہ قسم ہے جس میں دونوں فریق پیشگی اقرار کے ذریعہ اس پر راضی ہو جاتے ہیں کہ وہ اس کے فیصلہ کو مانیں گے ، خواہ وہ ان کے موافق ہو یا ان کے خلاف ۔ اوپر ہم نے 27 مارچ ۱۹۸۷ کی مشترک میٹنگ کی روداد درج کی ہے ، وہ بتاتی ہے کہ ڈیڑھ سال پہلے یہ مسئلہ مکمل طور پر اس قسم کے ایک باعزت حل کے قریب پہنچ گیا تھا ۔ یہ گویا " تاریخ کی عدالت " کو حکم بنانے کے ہم معنی تھا۔ مگر اٹھیں سیاست باز لیڈروں نے اس حل کو واقعہ بننے نہیں دیا جو اس مسئلہ کو حل کرنے کے نام پر لیڈری کے میدان میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے لیے دوڑ لگا رہے ہیں ۔

مرکزی رابطہ بابری مسجد کمیٹی کے چیئرمین صاحب کا ایک انٹرویو افکار ملی (۳۱ مئی ۱۹۸۸) میں چھپا اس کا ایک سوال و جواب یہ ہے :

سوال: تحریک بازیابی بابری مسجد کی اب تک کی کارکردگی کے بارہ میں آپ کا کیا تبصرہ ہے ۔ جواب دوسال میں سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ آج ملک کے ایجنڈے پر بابری مسجد کا مسئلہ ہے۔ حکومت آخری دم تک اس کو مقامی مسئلہ کہتی رہی ہے ۔ لیکن آج حکومت تسلیم کرتی ہے کہ یہ ملکی مسئلہ ہے ۔ اس طرح ہم اسے ملکی سطح پر لے آئے ۔

یہ بلاشبہ صرف ایک غیر سنجیدہ لفاظی ہے کہ بابری مسجد کا مسئلہ آج ملکی ایجنڈے پر ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ بابری مسجد کا مسئلہ آج ملکی تشدد کی فہرست پر ہے۔ اس تحریک نے ایک مقامی نزاع کو ایک ملکی نزاع بنا دیا ہے ۔ عام حالت میں جو چیز صرف ایک قصبہ کے ہندوؤں اور مسلمانوں میں تناؤ کا سبب بن سکتی تھی ، اس کو پورے ملک کے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تناؤ کا سبب بنا دیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ "چیئرمین صاحب " نے جس چیز کو اپنی تحریک کی سب سے بڑی کامیابی قرار دیا ہے ، وہی اس کی سب سے بڑی ناکامی ہے ۔

" "اجودھیا " اور " رام جنم بھومی " ہندو عقیدہ کے مطابق ان کے مقدس مقامات ہیں ۔ قوم کے لیے انتہائی حساس اشو کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ایسے نازک اور حساس سوال کو مقامی کش مکش الارسال - جولائی ۱۹۸۸

کے دائرہ سے نکال کر ملکی کش مکش کے دائرہ میں لانا، مجرمانہ حد تک ایک غلط فعل ہے۔ مزید یہ کہ یہ اصل مسئلہ کے حل میں رکاوٹ بھی ہے۔ کیوں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پورے ملک کے ہندوؤں کو اپنی مخالفت پر کھڑا کر دیا جائے۔ دور جمہوریت میں اس توسیع کے معنی کیا ہیں، اس کو ہر آدمی سمجھ سکتا ہے۔ میں ذاتی طور پر دہلی کی کم از کم نصف درجن مسجدوں کو جانتا ہوں جو ۱۹۴۷ کے بعد اغیار کے قبضہ میں چلی گئی تھیں ۔ بعض مسلمانوں کے دل میں ان کا درد پیدا ہوا۔ خوش قسمتی سے یہ لوگ لیڈر نہیں تھے ۔ چنانچہ انھوں نے خالص مقامی انداز میں اس کی بازیابی کی کوشش شروع کی ۔ نہ جلسہ جلوس کی دھوم مچائی۔ اور نہ اخبارات میں بیانات شائع کیے ۔ بس خاموش انداز میں دفتری اور قانونی کارروائی کرتے رہے۔ انھیں اس کام میں مقامی ہندوؤں کا بھی موثر تعاون ملا۔ ان میں سے کئی مسجدوں کا رقبہ بابری مسجد سے بہت زیادہ بڑا تھا ۔ مگر یہ تمام مسجدیں مکمل طور پر مسلمانوں کے قبضہ میں آگئیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ جذباتی تقریریں کر کے ایک مسجد کو مقامی اشو کے بجائے ملکی استو بنانا سستی لیڈری حاصل کرنے کی کوشش تو ہو سکتی ہے، مگر وہ مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش ہر گز نہیں۔ اجودھیا کی بابری مسجد تحریک کے ”چیئر مین“ کے جس انٹرویو کا ذکر اوپر ہوا ، اس کا ایک حصہ یہ ہے : سوال کیا مسلم قائدین اجودھیا مارچ میں شریک ہوں گے، یا مسلم قائدین گھر میں بیٹھیں گے اور عوام مارچ میں نقصان اٹھائیں گے ۔

جواب ترتیب پر منحصر ہے۔ میں نے تو کوئی ایسی فوج نہیں دیکھی جس میں جنرل بھی آگے جاکر لڑتا ہے۔ کسی کا یہ کہنا احمقانہ ہے کہ صرف قائدین آگے چلے جائیں۔ یہایہ کہنا کہ محض عوام ہی آگے رہیں قائدین آگے نہ آئیں (افکار علی گڑھ مئی ۱۹۸۸ ، صفحہ ۴۲)

بابری مسجد ریلی (۳۰ مارچ ۱۹۸۷) کے بعد سے بار بار مارچ (کوچ) کی تاریخ مقرر کرنے کے لیے نام نہاد قائدین کی میٹنگیں ہوتی تھیں ، مگر ہر بار تاریخ کا تعین کیے بغیر میٹنگ برخواست ہو جاتی عام لوگ یہ خیال کرنے لگے تھے کہ مارچ کی تاریخ کا تعین اس لیے نہیں کیا جا رہا ہے کہ مارچ کے پر خطر اقدام میں لیڈر کو آگے رہنا پڑے گا ۔ اور لیڈر صرف ملت کے بچوں کو یتیم بنانے میں دل چسپی رکھتا ہے، وہ اپنے بچوں کو یتیم بنانا نہیں چاہتا۔

مگر مذکورہ سوال و جواب بتا تا ہے کہ لیڈر کے سیاسی ذہن نے غالباً اس مشکل کا حل دریافت کر لیا ہے۔

اور وہ یہ ہے کہ اگر مارچ ہو تو لیڈر مارچ کا "جنرل" بن جائے ۔ وہ مارچ سے دور کسی محفوظ مقام پر بیٹھ کر مارچ کی رہنمائی کرے ۔ مگر اس قسم کی جھوٹی ہوشیاری لیڈر صاحبان کے کام آنے والی نہیں ۔ کیوں کہ ہر شخص جانتا ہے کہ جنرل ایک منظم فوج کو دوسری منظم فوج سے لڑاتا ہے۔ جب کہ مارچ (کوچ) اس قسم کی لڑائی نہیں ۔ مارچ اصلاً ایک مظاہرہ ہے۔ اور مظاہرہ اس وقت تک نامکمل ہے جب تک لیڈر کی گاڑی اس کے آگے آگے نہ چل رہی ہو ۔

اجودھیا مارچ کا فیصلہ نام نہاد مسلم لیڈروں نے بوٹ کلب ریلی کے موقع پر ۳۰ مارچ ۱۹۸۶ کو کیا تھا۔ اس کے بعد سے مسلسل مسلمانوں کے جذبات اس عنوان پر ابھارے جاتے رہے۔ تک کہ فیض آباد کی میٹنگ (۲۲ مئی ۱۹۸۸) میں "بابری مسجد ایکشن کمیٹی" کے ذمہ داروں نے اعلان کر دیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ ۱۴ اکتوبر ۱۹۸۸ کو طویل مارچ کرکے اجودھیا پہنچیں گے اور ہر قیمت پر بابری مسجد میں داخل ہو کر جمعہ کی نماز ادا کریں گے ۔ کل ہند بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینر (جو کہ ایم پی بھی ہیں) نے ایک پریس کانفرنس میں اس فیصلے کا اعلان کیا (قومی آواز، ۲۳ مئی ۱۹۸۸) یہ فیصلہ بلا شبہ مجنونانہ حد تک غلط ہے۔ اس قسم کا فیصلہ وہی لوگ کر سکتے ہیں جو لیڈری کی ہوس میں اندھے ہو چکے ہوں۔ اور انھیں اپنی لیڈری کے سوا کوئی اور چیز دکھائی نہ دیتی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی نام نہاد قیادت نے بابری مسجد کے بارہ میں جوش دلا کر مسلمانوں کو اب ایک ایسے نازک مقام پر لاکر کھڑا کر دیا ہے جہاں ان کے ایک طرف گہری کھائی ہے اور دوسری طرف خونخوار بھیڑیا ۔

اب ظاہر ہے کہ صرف دو امکان ہے۔ یا تو بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے اعلان کے مطابق 14 اکتوبر ۱۹۸۸ کو اجودھیا مارچ ہو، یا اجودھیا مارچ نہ ہو۔ تاہم دونوں میں سے جو بات بھی ہوگی وہ یقینی طور پر سنگین ترین نتائج پیدا کرے گی ۔ موجودہ صورت حال میں جب کہ دونوں طرف کے لوگوں کے جذبات انتہائی حد تک بھڑک دیئے گئے ہیں، دونوں میں سے کوئی بات بھی سادہ بات نہیں ہوسکتی ۔

اگر مذکورہ اعلان کے مطابق، مسلمانوں کا جتھا مارچ کرتے ہوئے اجودھیا پہنچتا ہے اور بابری مسجد میں داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے تو اس میں شک نہیں کہ اس کو نہایت خونخوار مزاحمت

کا سامنا کرنا ہوگا۔ تقریباً یقینی طور پر کہا جا سکتا تھا کہ موجودہ حالات میں اس قسم کا اقدام میرٹھ اور ملیانہ سے بھی زیادہ برے انجام کی طرف جان بوجھ کر چھلانگ لگانے کے ہم معنی ثابت ہوگا۔ سطحی قسم کے قائدین اس کے بعد "ظلم اور سازش" کے انکشاف میں سرگرم ہو جائیں گے۔ مگر یقینی طور پر یہ مسلم قیادت کے دیوالیہ پن کا ثبوت ہوگا نہ کہ کسی دوسرے کے ظلم اور سازش کا۔

اور اگر لیڈر کا زرخیز دماغ کوئی عذر نکال کر اجودھیا مارچ کو ملتوی یا منسوخ کر دے تو یہ بلاشبہ اس سے بھی زیادہ برا ہے۔ کیوں کہ ۳۰ مارچ ۱۹۸۷ء کی ریلی میں مسلم مقررین نے جس طرح فریق ثانی کو دھمکیاں دی تھیں، اس کے بعد سے اب تک تمام چھوٹے بڑے مسلم قائدین جس طرح چیلنج کی زبان میں بات کرتے رہے، جس طرح جلسوں کی بھیڑ میں بابری مسجد لے کے رہیں گے جیسے "فلک شگاف" نعرے لگائے جاتے رہے، اس کے بعد مارچ کا التواء محض سادہ واقعہ نہیں ہو سکتا۔ مسلمانوں نے الفاظ کے بے پناہ اسراف سے جو ملکی فضا بنائی ہے، اس کے بعد اگر وہ اقدام سے باز رہتے ہیں تو یہ فریق ثانی کی نظر میں سخت ترین بزدلی کا مظاہرہ ہوگا جس کی تلافی مستقبل بعید تک بھی ناممکن ہوگی۔ اس کے بعد وہ ذلت اور حقارت کے ایسے دور میں داخل ہو جائیں گے جس کا اب تک انھوں نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ نااہل قیادت نے ہندوستانی مسلمانوں کو اب ایسے نازک مقام پر لاکر کھڑا کر دیا ہے جہاں ان کے لیے انتخاب (Choice) بربادی اور غیر بربادی میں نہیں ہے، بلکہ ایک بربادی اور دوسری بربادی میں ہے۔ شائد عربی شاعر نے اسی قسم کی نکمی قیادت کے بارہ میں یہ شعر کہا ہے کہ جب کو کسی قوم کا سردار ہو جائے تو وہ ان کو ہلاکت کے گڑھے کی طرف لے جائے گا : إِذَا كَانَ العُرَابُ رَئِيسَ قَوْمٍ سَيَهْدِيهِمْ إِلَى دَارِ البَوَارِ یہاں ہم ہفت روزہ نئی دنیا (۳۱-۹ جون ۱۹۸۸) کا ایک پیراگراف نقل کریں گے۔ اس نے اجودھیا مارچ کے مسئلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے " خود کشی یا جہاد " کے عنوان کے تحت لکھا ہے : " کیا حق ہے اور کیا ناحق، اس سے قطع نظر، آج کے ہندوستان کی حقیقت یہ ہے کہ فاشسٹ اور فرقہ پرست عناصر اس مارچ کے سوال کو لے کر ہندوستان کے امن وامان کو آگ لگانے کی کوشش کریں سید شہاب الدین یا بابری مسجد رابطہ کمیٹی کے کچھ لیڈر کتنی بھی من شانتی کی بات کریں اور گاندھیائی

انداز میں مارچ کرنے کا نعرہ لگائیں، عام آدمی کے ذہن میں اس مارچ کا مطلب ہندومسلم ٹکراؤ ہوگا، جو فاشسٹ طاقتیں ہندوستان سے سیکولزم کا جنازہ نکالنا چاہتی ہیں، مارچ کو بہانہ بنا کر گاؤں گاؤں، قصبہ فساد کرانے اور ہنگامے کرانے کی سازش کریں گی ۔ جس طرح میرٹھ کے قتل عام کے موقع پر مسلم قیادت بے دست و پا نظر آ رہی تھی، اسی طرح اس موقع پر بھی خاموش تماشائی بنی نظر آئے گی، اور کٹے گا، مرے گا، لٹے گا عام مسلمان، غریب مسلمان، بدحال ، بے بس مسلمان ۔ مارچ کے اس فیصلے کے ساتھ مسلم لیڈروں کو اس بات کو سامنے رکھنا ہوگا کہ ان کا موقف کتنا بھی درست کیوں نہ ہو، ان کی حکمت عملی کے نتائج کیا ہوں گے ۔ اور یہ نتائج کے بھگتنے ہوں گے۔ اور سب سے بڑی بد نصیبی تو یہ ہوگی کہ ان سب قربانیوں کے باوجود اس راستہ کو اپنا کر مسلمانوں کو بابری مسجد نہیں مل سکے گی ۔ خود بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے قائد بھی اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں ۔ مولانا روم الدین مہرالدین اللہ تعالیٰ کی یاد ہیں۔ جب کہ حج اگر چہ اسطور خدا کی رغبت اور از: مولانا وحید الدین خاں حج کا سفر خدا کی طرف سفر ہے ۔ تعالیٰ سے ملاقات ہے۔ خود اللہ تعالی تک پہنچ جانا ہے۔ ے تو حج شہود کی سطح پر خدا کی عبادت اوریب حال پر نظر رکھنا ضروری کرنا ہے ۔

Printed page