ایک سفر
Al-Risala, July 1988, pp. 28–30
By Maulana Wahiduddin Khan
۳ اپریل ۱۹۸۸ء کو سہارن پور سے کچھ صاحبان اسلامی مرکز میں آئے۔ یہ ڈاکٹر محمد اسلم صاحب اور ان کے ساتھی تھے۔ انھوں نے کہا کہ آل انڈیا اردو تعلیمی بورڈ اور فخرالدین علی احمد اکیڈمی کے مشتر کہ فیصلے سے یہ طے کیا گیا ہے کہ محمود علی خاں نیشنل انٹیگریشن ایوارڈ (۱۹۸۸) آپ کو دیا جائے۔ اس مقصد کے لئے ہم سہارن پور میں ۹ اپریل ۱۹۸۸ء کو ایک خصوصی تقریب منعقد کر رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ میں اس قسم کا آدمی نہیں ہوں۔ مجھ کو آپ ایوارڈ نہ دیجئے، مجھ کو آپ دعا دیجئے ۔ تقریباً ایک گھنٹہ تک میں ان کے ذہن کو بدلنے کی کوشش کرتا رہا، مگر وہ کسی قیمت پر راضی نہیں ہوئے۔ یہاں تک کہ مجبوراً مجھے اس پیش کش کو منظور کرنا پڑا۔
ان معاملات میں میرا مزاج اس سے مختلف ہے جس کی کہانیاں مسلمانوں، نیز غیر مسلموں کی مذہبی شخصیتوں کے بارے میں پر فخر طور پر بیان کی جاتی ہیں۔ یعنی ان کو فلاں چیز کی پیش کش کی گئی اور انھوں نے اس کو بے نیازی کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ ذاتی طور پر میں اس روش کو تواضع کے خلاف میرے تمام جاننے والے جانتے ہیں کہ طبعاً میں گمنامی میں رہنا پسند کرتا ہوں۔ اعزاز سے مجھے بیزاری کی حد تک وحشت ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میں اس کو ذہنی پستی کی علامت سمجھتا ہوں کہ کوئی شخص دوسروں کی طرف سے ملنے والے اعزاز پر خوش ہو یا اس کا طالب بنے۔ کے اعزازات کی طلب بلا شبہ مومنانہ نفسیات کے خلاف ہے۔ مگر یہ بات بھی مومنانہ نفسیات کے خلاف ہے کہ آدمی اس قسم کی پیش کش کو اصرار کے باوجود ٹھکرادے۔ کیوں کہ یہ اس تواضع کے مطابق نہیں جو اس دنیا میں مومن و مسلم کا اصل سرمایہ ہے۔
جیمس رسل لاول (James Russel Lowell) نے کہا ہے کہ وہ چیز جس کو لوگ بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں وہ اعزاز ہے خواہ وہ جنازہ کے ماتمی جلوس کی پیشوائی کیوں نہ ہو : What men prize most is a privilege, even it be that of chief mourner at a funeral. یہ اعزاز پسندی تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ تاہم اصل مطلوب، اعزاز والے چینہ کو رد کرنا نہیں بلکہ
اعزاز پسندی کی نفسیات کو رد کرتا ہے۔ اور تجربہ بتاتا ہے کہ یہ دوسری چیز اکثر ان لوگوں میں مزید اضافے کے ساتھ موجود ہوتی ہے جو تمغہ اعزاز کو رد کرنے کے چیمپئن بنتے ہیں۔ کیوں کہ اعزاز کو رد کرنا عوام کی نظر میں انھیں مزید برتر اعزاز کا درجہ عطا کر دیتا ہے۔
سہارن پور دہلی سے ۱۶۵ کلومیٹر کے فاصلہ پر مغربی یوپی میں واقع ہے۔ یہ شہر ۱۳۴۰ء میں آباد اس وقت کے ایک مسلم بزرگ شاہ ہار ان چشتی کے نام پر اس کا نام " شاہ ہار ان پور " رکھا گیا جو بعد کے استعمال میں سہارن پور ہوگیا۔ ہندوؤں کا تیرتھ استھان ہر دوار اسی ضلع میں واقع ہے۔ عربی درس گاہ دار العلوم دیو بند بھی اسی ضلع میں ہے جو ابتدا ء ۶۱۸۶۶ میں قائم ہوئی تھی۔ سہارن پور میں مظاہر العلوم کے نام سے ایک بڑا تعلیمی ادارہ موجود ہے۔ چھوٹے چھوٹے دینی مدارس در جنوں کی تعداد میں اس کے علاوہ ہیں۔ سہارن پور شہر کی آبادی تقریباً ۵ لاکھ ہے جس میں مسلمانوں کی تعداد ۳۰ فی صد بتائی جاتی ہے۔ تعلیمی اور معاشی اعتبار سے یہاں کے مسلمان نسبتاً اچھی حالت میں ہیں۔ رڑ بھی اسی ضلع میں ہے جہاں ہندوستان کی پہلی انجینئرنگ یونیورسٹی قائم ہوئی۔ رڑکی کے تصور سے مجھے ایک واقعہ یاد آگیا۔ ایک صاحب ہیں جنھوں نے ۱۹۵۵ میں بی ایس سی (انجینئرنگ) کیا تھا۔ اس وقت ہندوستان میں صرف رڑکی میں ایم اے (انجینئرنگ) کا کورس تھا۔ مزید یہ کہ اس وقت یہ کورس صرف ایک سال کا تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ اب آپ رڑکی کی انجینئرنگ کالج میں داخلہ لے لیں اور انجینئرنگ میں ماسٹر ڈگری کا کورس کر لیں۔ مگر انھوں نے میرا مشورہ نہیں مانا اور ملازمت میں چلے گئے۔ بعد کو ان سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے کہا کہ میں نے آپ کا مشورہ نہ مان کر سخت غلطی کی۔ کے کام کو پسند کرتا ہوں مگر ماسٹر ڈگری نہ ہونے کی وجہ سے میں یونیورسٹی میں جگہ حاصل نہ کر سکا۔ آخر کار مجھے ایڈمنسٹریشن میں جانا پڑا۔ وہ ایک شریف آدمی ہیں۔ رشوت وغیرہ سے بہت دور رہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میرے جیسے آدمی کے لئے یونیورسٹی ٹیچر کی زندگی بہترین زندگی تھی۔ ایڈمنسٹریشن کے لئے ، کم از کم اس ملک میں ، تو میں بالکل ہی غیر موزوں ہوں۔ نتیجہ یہ ہے کہ میں مستقل طور پر ذہنی الجھن میں رہتا ہوں۔ کبھی وہ چیز نہ مل سکی جس کو اطمینان کار (Job satisfaction) کہا جاتا ہے۔
مذکورہ کہانی بیان کرنے کے بعد انھوں نے کہا : " میں نے اپنا ایک سال بچانا چاہا تھا، اس کے نتیجہ میں میری پوری زندگی کھوئی گئی ، اور آپ جانتے ہیں کہ زندگی صرف ایک بار ملتی ہے۔
دہلی سے سہارن پور تک کا سفر (۱۹ اپریل ۱۹۸۸) پر پروفیسر ایم ایس اگوان٘ی وائس چانسلر جواہر لال نہرو یونیورسٹی، کے ساتھ ہوا۔ وہ ایک علم پسند اور صاحب مطالعہ آدمی ہیں۔ چنانچہ پورے راستے میں ان کے ساتھ مفید تبادلہ خیال جاری رہا۔ گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ انھوں نے اپنا ڈاکٹر یٹ ہالینڈ کی واغی نگن یونیورسٹی (Wageningen Agricultural University) سے ۱۹۵۳ میں کیا ہے۔ پی ایچ ڈی کے لئے ان کے مقالہ کا عنوان یہ تھا: