Al-Risala · July 1988

The United States and the Arab World.

Al-Risala, July 1988, pp. 30–43

By Maulana Wahiduddin Khan

انھوں نے بتایا کہ واغی نگن میں وہ تقریباً دو ہفتہ ایک عیسائی پروفیسر ہافسٹی (Prof. Hofstee) کے یہاں مقیم رہے۔ یہ پروفیسر صاحب پروٹسٹنٹ تھے۔ ان کے یہاں کھانا پکانے کے لئے ایک خادمہ تھی جو کیتھولک فرقے سے تعلق رکھتی تھی۔ پروٹسٹنٹ اور کیتھولک میں اتنا زیادہ مذہبی اختلاف ہے کہ دونوں ایک دوسرے کو بے دین سمجھتے ہیں۔ اس مذہبی اختلاف کے باوجود دونوں ایک دوسرے کا مکمل احترام گھر کے مالک، ان کی بیوی بچے اور خادمہ سب ایک ساتھ میز پر بیٹھ کر کھانا کھاتے۔ لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ کھانے سے پہلے کچھ دعائیہ کلمات پڑھتے ہیں، اس کے بعد انگلی سے اپنے سینہ پر صلیب کا نشان بناتے ہیں ، پھر کھانا شروع کرتے ہیں۔ مذکورہ پروفیسر اور ان کے گھر کے لوگ کھانے کے وقت میز کے کنارے بیٹھ جاتے تھے۔ سب سے پہلے کیتھولک خادمہ اپنے مذہبی عقیدہ کے مطابق مختصر دعائیہ رسم ادا کرتی۔ اس وقفہ میں گھر کے تمام پروٹسٹنٹ افراد خاموشی کے ساتھ گردن جھکائے ہوئے اپنی کرسیوں پر بیٹھے رہتے۔ اور صرف اس وقت کھانا شروع کرتے جب کہ کیتھولک خادمہ اپنی دعائیہ رسم سے فارغ ہو جاتی۔

سہارن پور جاتے ہوئے سڑک کے دونوں طرف مسلسل ہریالی اور باغ کا منظر تھا۔ یعنی وہی منظر جس کی قرآن میں ان الفاظ میں تصویر کشی کی گئی ہے : لَقَدْ كَانَ لِسَبَا فِی مَسْکَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتٰنِ عَنْ يَّمِينٍ وَّ شِمَالٍ (سبا ۱۵) قرآن میں اہل سبا کے سرسبز باغات کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان کو اس نعمت پر شکر کرنے کا حکم دیا گیا تھا مگر انھوں نے اعراض کیا۔ یہاں تک کہ وہ ان باغات سے محروم کر دیے گئے۔

اس معاملہ پر غور کرتے ہوئے ذہن میں آیا کہ عام طور پر لوگ شکر کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ خود

اپنی ذات کے لئے کوئی نعمت ملے تو اس پر شکر کا کلمہ کہہ دیا جائے۔ مگر یہ شکر کی بہت ناقص اور محدود شکل ہے کیوں کہ عام طور پر آیا ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا میں احسانات خداوندی کا بظاہر ہر ایک چھوٹا سا جزو کسی فرد کو ذاتی طور پر ملتا ہے۔ اب اگر صرف ذاتی عطیہ پر شکر کرنا ہو تو آدمی کے اندر شکر کی ایک چھوٹی نہر تو جاری ہو سکتی ہے مگر شکر کا اتھاہ سمندر اس کے سینہ میں موجزن نہیں ہو سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ شکر خدا وند عالم کی بے پایاں عظمتوں کے اقرار کا نام ہے ۔ یہ شکر کا یہ درجہ کسی شخص کو اسی وقت مل سکتا ہے جب کہ وہ خدا کے عظیم تر احسانات پر جذبہ شکر سے سرشار ہو سکتا ہو۔ محدود احسان کے تصور سے محدود شکر پیدا ہوتا ہے۔ اور لا محدود احسان کے تصور سے لا محدود شکر ۔

راستہ میں ہمارا قافلہ دیوبند سے گزرا۔ یہ سہارن پور کا مشہور قصبہ ہے۔ قدیم عربی درس گاہ " دارالعلوم " یہیں واقع ہے۔ دار العلوم کی النادی الادبی کی دعوت پر ستمبر ۷اء کے پہلے ہفتہ میں دیو بند آیا تھا۔ النادی الادبی کے سالانہ اجتماع میں مجھے مہمان خصوصی کے طور پر بلایا گیا تھا۔ اس سفر کے موقع پر دیوبند میں میری کئی تقریریں ہوئی تھیں۔ اس کی روداد الجمعیۃ ویکلی (17 ستمبر ۷اء ) میں شائع ہو چکی ہے۔ ایک تقریر میں میں نے کہا تھا: " موجودہ حالات بظاہر دل شکن ہیں۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ آدمی خواہ کتنا ہی زیادہ لٹ گیا ہو، پھر بھی اس کے پاس کچھ چیزیں باقی رہتی ہیں۔ اور اگر دانش مندی سے کام لے کر ان موجود چیزوں کو استعمال کیا جائے تو ہر بربادی کے بعد نئی عظیم تعمیر کا امکان نکل آتا ہے۔

دیوبند کے ایک طالب علم کی فرمائش پر میں نے حسب ذیل سطریں اس کی ڈائری میں لکھی تھیں: " زندگی اس کائنات کی سب سے قیمتی متاع ہے۔ مگر اس متاع کی قیمت بازار حیات میں اس وقت ملتی ہے جب کہ آدمی خود اس کی قیمت دے چکا ہو۔ زندگی وہ سودا ہے جو خارجی بازار میں فروخت ہونے سے پہلے خود آدمی کے اپنے اندر فروخت ہوتا ہے۔ یہ آپ کے حوصلہ کا امتحان ہے۔ آپ خود اپنی جتنی زیادہ قیمت لگائیں گے ، بازار عالم میں اتنی ہی زیادہ اس کی قیمت لگے گی۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی زندگی دوسروں کی نظر میں زیادہ قیمتی ٹھہرے تو سب سے پہلے خود اس کے خرید ار بنئے ! یہ دوسرے نہیں بلکہ خود آپ ہیں جو اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ بازار عالم میں آپ کی قیمت کتنی مقرر ہوگی (4 ستمبر ۷اء ) رائے پور ایک قصبہ ہے جو سہارن پور ضلع میں واقع ہے۔ یہاں مولانا عبد القادر رائے پوری

(۱۹۷۲ء - ۱۸۷۸ء) کی خانقاہ ہے۔ میں دو بار اس خانقاہ میں گیا ہوں ۔ یہ سفر بھی سہارن پور کے راستہ پہلی بار جنوری ۱۹۷۲ء کے آخری ہفتہ میں رائے پور کا سفر ہوا تھا۔ اس سلسلہ میں دو گھنٹے کے لئے سہارن پور میں بھی قیام رہا۔ اس سفر کی روداد الجمعیۃ ویکلی ۱۸ فروری ۱۹۷۲ء میں شائع ہو چکی ہے۔ اس سفر میں کچھ وقت قصبہ بہیٹ میں شاہ مسعود صاحب کے یہاں گزرا۔ وہ مولانا رائے پوری کے بہت قریبی لوگوں میں سے تھے ۔ انھوں نے کہا کہ ”حضرت کو اس بات کا بہت خیال تھا کہ مسلمان نئے زمانہ کے تقاضوں کو نہیں سمجھتے۔ حالاں کہ جب تک نئے زمانہ کے لحاظ سے تیاری نہ کی جائے اور اس کے مطابق عمل نہ کیا جائے، نئے زمانہ میں کوئی جگہ حاصل نہیں کی جاسکتی۔ “ شاہ مسعود صاحب نے بتایا کہ ایک بار میں نے حضرت رائے پوری کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ”دوسو سال سے ملت کا ستارہ گردش مولانا حبیب الرحمن صاحب ۱۹۳۵ء سے مستقل طور پر رائے پور میں مقیم تھے۔ انھوں نے مولانا رائے پوری کے ملفوظات بڑی مقدار میں قلم بند کر رکھے تھے۔ انھوں نے اپنی ڈائری مجھے دیکھنے کے لئے دی۔ اس میں یکم شوال 1370ھ کی رائے پور کی ایک صحبت کے تحت درج تھا کہ ”حضرت نے فرمایا کہ اب مسلمانوں کو اپنی پستی سے اٹھنے کے لئے دوسوال درکار ہیں، بشرطیکہ وہ صحیح راستہ پا کر اس پر عمل شروع کر دیں۔ ۲۰ جولائی ۱۹۵۱ء کی تاریخ کے تحت درج تھا کہ ”حضرت نے آج کی مجلس میں فرمایا کہ ہماری قوم کا عجیب قصہ ہے۔ وہ تیاری تو کرتی نہیں، شور مچاتی ہے۔ غوغائی لوگ ہیں۔ ان کو اب، بشرطیکہ جائزہ لے کر کام کریں، سو سال اٹھنے کو چاہئیں“ جب سناکہ پاکستان میں مسٹر جناح کے نام پر ایک نیا شہر ”قائد آباد“ بسایا گیا ہے تو فرمایا کہ ہماری قوم کا عجیب حال ہے۔ اگر، ہم پانچ دس لاکھ آدمی قتل کرا دیتے تو ہمارے نام پر بھی شہر آباد کر دیتے۔ جو ان کو تباہ کرے، یہ اس کے ساتھ لگتے ہیں۔ رائے پور (ضلع سہارن پور) کا دوسرا سفر جولائی ۱۹۷۲ء کے دوسرے ہفتہ میں ہوا۔ کی روداد الجمعیۃ ویکلی ۲۸ جولائی ۱۹۷۲ء میں مفصل طور پر شائع ہو چکی ہے۔ یہ دونوں سفر حافظ عتیق الرحمن دہلوی کے ساتھ ہوئے۔ خانقاہ کے ایک صاحب نے بتایا کہ تقسیم ہند سے پہلے جب مسلم لیگ کا طوفان برپا تھا اور ہر طرف انقلاب زندہ باد کے نعرے لگ رہے تھے، حضرت نے فرمایا: ”یہ سب نعرے تو میری سمجھ میں

مجھے نو د بہت کی گھٹائیں آتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ اس کے لئے کچھ نہیں کیا جاتا۔ مسلمانوں کی یہ غوغائی سیاست آج بھی بدستور جاری ہے ” دو سو سالہ گردش “ کی مدت بڑھتی جا رہی ہے ، اور مسلم قائدین میں کوئی ایک شخص بھی نہیں جو ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کر کے از سر نو صحیح سمت میں سفر شروع کرنے کے لئے تیار ہو۔

۱۹ اپریل ۱۹۸۸ کی دو پہر کو جب میں سہارن پور پہنچا تو یہ سہارن پور میں میرے باقاعدہ قیام کا پہلا یہاں اندازہ ہوا کہ الرسالة کا مشن یہاں کے تعلیم یافتہ طبقہ میں عام طور پر پہنچ چکا ہے۔ طرح اطراف کی بستیوں میں بھی۔ خاص طور پر نوجوان طبقہ اب یہ محسوس کرنے لگا ہے کہ نام نہاد مسلم قائدین اب تک انہیں جور رہنمائی دیتے رہے وہ حقیقتاً ر ہنمائی نہیں تھی بلکہ قیادتی استحصال تھا۔ الرسالة کے ذریعہ پہلی بار وہ محسوس کر رہے ہیں کہ انہیں ایک ایسی راہ عمل مل رہی ہے جس پر وہ نتیجہ خیز طور پر سر گرم عمل ایک صاحب نے اپنا تاثر ان لفظوں میں بیان کیا کہ اگر الرسالة کا پیغام مجھے پہلے مل جاتا تو میں بہت سی ان حماقتوں سے بچ سکتا تھا جو میں نے مسلم قائدین کے خطیبا نہ الفاظ سے متاثر ہو کر کیں۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد اس طرح پر شوق طور پر ملاقات کرتی رہی جیسے کہ انہوں نے صاحب الرسالة کی شکل میں اپنا مستقبل دریافت کر لیا ہو۔

کئی نوجوانوں نے آٹو گراف لئے۔ میں نے ایک نوجوان کی بک پر لکھنا شروع کیا : زندگی اس سے زیادہ ... “ اس نے فوراً کہا ، کیا آپ وہ جملہ لکھ رہے ہیں جو اس سے پہلے الرسالة (دسمبر ۱۹۸۶ صفحہ ۳۷) میں چھپ چکا ہے۔ مجھے نوجوان کی یاد داشت پر حیرت ہوئی۔ اس نے کہا کہ ہم الرسالة کو پڑھتے نہیں ہیں بلکہ اس کو کاغذ سے لے کر اپنے سینہ پر لکھتے ہیں۔ میں نے سابقہ الفاظ کاٹ کر اس کی جگہ یہ جملہ لکھ دیا: کائنات رزق خدا و ندی کا دستر خوان ہے۔ جس نے موجودہ دنیا میں خدا کا رزق پایا ، وہی آخرت میں خدا کا رزق پائے گا۔ جو شخص دنیا میں خدا کے رزق سے محروم رہا وہ آخرت میں بھی خدا کے رزق سے محروم رہے گا۔

ایک شخص نے آٹو گراف کے لئے اپنی بک کھولی۔ اس میں یہ سوال لکھا ہوا تھا کہ ” خوشی کیا ہے “ اس کے جواب میں میں نے یہ الفاظ لکھ دئے : اس دنیا میں صرف وہ آدمی خوش رہ سکتا ہے جو ناخوشی کے حالات میں خوش رہنے کا فن جانتا ہو۔

اایک ہندو نوجوان نے اپنی بک کھول کر میرے سامنے رکھی کہا کہ اس میں کچھ نصیحت کی بات لکھ میں نے اس کی بک میں حسب ذیل انگریزی فقرہ لکھ دیا:

Printed page