If you have a good excuse, don't use it.
Al-Risala, July 1988, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
سہارنپور کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہاں فساد نہیں ہوتا۔ معمولی وقتی جھڑپیں تو ہوئیں مگر باقاعدہ قسم کا فرقہ وارانہ فساد کبھی نہیں ہوا۔ میں نے اس کے اسباب جاننے کی کوشش کی تو یہ بات سامنے آئی کہ یہاں کے ہندو اور مسلمان برابر آپس میں ملتے جلتے رہتے ہیں۔ مثلاً ۹ اپریل ۱۹۸۸ء کو نیشنل انگریشن کا جو اجتماع ہوا، اس میں نہ صرف سب کو شریک کیا گیا بلکہ جن لوگوں کو انعامات تقسیم کئے گئے ان میں بھی مسلمانوں کے ساتھ ہندوؤں کے نام شامل تھے۔ حتی کہ بد نامِ “ قسم کی فرقہ پرست پارٹیوں کے افراد کو بھی فیاضی کے ساتھ تحسین و اعتراف سے نوازا گیا۔
مجھے معلوم ہوا کہ یہاں مختلف قسم کی تقریبات اور اجتماعات میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے سربر آورده افراد بار بار آپس میں ملتے ہیں۔ ایک دوسرے کے معاملات میں شریک ہوتے ہیں۔ یہ طریقہ ہر قسم کے فساد کے لئے بلاشبہ سب سے بڑا روک ہے۔ پچھلی نصف صدی کے دوران مسلم لیڈروں نے نمائشى دھوم دھام، وقت اور پیسہ برباد کیا ہے، اگر وہ اس کو ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان آپس کا میل ملاپ بڑھانے کے لئے استعمال کرتے تو یقینی ہے کہ ہندوستان میں فرقہ وارانہ جھگڑے پیدا ہونے سے پہلے ختم ہو چکے ممکن ہے کہ اس غیر نمایشی تدبیر کو اختیار کرنے کی صورت میں قائدین ملت کا اپنا قطب بستی مینار کھڑا نہ ہوتا، مگر یہ یقینی ہے کہ خود ملت کے مسائل پورے طور پر حل ہو جاتے۔
موجودہ زمانہ کے تمام مسلم لیڈر کسی نہ کسی طور پر ایک ہی کام میں مشغول ہیں۔ حکمرانوں سے احتجاج اس قسم کی سیاست سراسر نادانی کی سیاست ہے۔ یہ عوامی جمہوریت کا زمانہ ہے۔ میں تمام اجتماعی فیصلے عوام کی سطح پر ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں جدوجہد کا رخ عوام کے بجائے حکمرانوں کی طرف کرنا صرف زمانہ سے نا واقفیت کا ثبوت ہے ، یہ اپنی جہالت کا اشتہار ہے نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی قیادت۔
سہارنپور میں میرا قیام اور وہاں کے ڈاک بنگلہ میں تھا۔ ”ڈاک بنگلہ نو آباد یاتی دور کی برطانی دور میں ہندوستان میں جگہ جگہ رہائش گاہیں بنائی گئی تھیں ۔ یہ عام طور پر یک منزلہ
مکانات ہتے تھے اور ان کے گرد وسیع خالی زمین ہوتی تھی ۔ یہ مکانات نو آبادیاتی افسروں (Colonial officials) کے وقتی قیام میں، نیز گھوڑوں کے ذریعہ ڈاک کی روانگی میں درمیانی اسٹیشن کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔ ان کو اس زمانہ میں ڈاک بنگلہ کہا گیا ۔ ڈاک بنگلہ کا لفظ بیک وقت دو چیزوں کی علامت ہے۔ سیاسی اعتبار سے نو آبادیاتی اقتدار ، اور تمدنی اعتبار سے وہ دور جبکہ ڈاک صرف حیوانی طاقت کے ذریعہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کی جاسکتی تھی۔
ڈاک بنگلہ کو ، اس کے موجودہ استعمال کے لحاظ سے ، اگر سرائے کہا جائے تو وہ زیادہ بامعنی ہوگا ۔ مگر " وی آئی پی " حضرات جو اکثر ڈاک بنگلوں میں ٹھہرتے ہیں ، وہ شاید اس کو پسند نہ کریں۔ " سرائے " کے لفظ نے استعمال کی بنا پر وہ کشش کھودی ہے جو " ڈاک بنگلہ " کے لفظ میں قدیم برطانی تاریخ کی بنا پر پائی جاتی ہے۔
۹ اپریل کی شام کو مغرب کی نماز پڑھ کر میں مسجد سے باہر نکل رہا تھا، ایک صاحب نے کہا: آپ نے تو اپنے اسلامی نقشہ میں بدر و احد کو ختم کر دیا ہے۔ ان کا یہ سوال طنز یہ لہجہ میں تھا۔ مزید یہ کہ وہ میری طرف ایک ایسی بات منسوب کر رہے تھے جو میں نے خود نہ کہی ہو۔ میں نے سوچا کہ کیسے عجیب ہیں وہ نمازی جو اپنے ظاہری جسم کے اعتبار سے تو نمازی بن گئے ، مگر اپنی سوچ اور اپنی بات میں وہ نمازی نہیں بنے۔ میں نے کہا کہ اس کو میں نے ختم نہیں کیا، البتہ آپ جیسے مسلمان ضرور اس کو ختم کر رہے ہیں۔ واحد وقتی اشتعال کے تحت لڑ جانے کا نام نہیں ۔ اس قسم کی لڑائی خودکشی کا عمل ہے۔ جب کہ " بدر و احد " تاریخ سازی کا عمل۔ حقیقت یہ ہے کہ بدر و احد ایک لمبے منصوبہ کے تحت پیش آنے والا مقدس واقعہ ہے _______ حق کی دعوت دینا۔ اس کو تمام آداب حکمت کے ساتھ مسلسل جاری رکھنا۔ تک کہ وہ اتمام حجت کے مرحلہ تک پہنچ جائے ۔ پھر ہجرت مکانی یا ہجرت عملی کے ذریعہ فریق ثانی کی جارحیت کے نشانہ سے ہٹ جانا ۔ یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو غیر جارح بنا لینا ۔ ان سب مراحل کے بعد بھی اگر فریق ثانی چڑھ مھائی کر کے حملہ آور ہو جائے تو پھر اس سے مقا بلہ کرنا۔ یہ ہے وہ " بدر و احد " جس کے لئے نصر من اللہ و فتح قریب کی بشارت دی گئی ہے۔
موجودہ مسلمانوں نے " بدر و احد " کی تمام ابتدائی شرطوں کو عملاً منسوخ کر رکھا ہے۔ اس لئے ان کے حق میں وہ بدر و احد بھی منسوخ ہو چکا ہے جس میں خدا کے فرشتے ان کی مدد کے لئے اتریں اور انھیں
غلبہ و سر بلندی کی خبریں سنائیں ۔ جو کسان زراعت کی ابتدائی شرطوں کو پورا نہ کرے اس کے لئے فصل کے وقت فصل کاٹنا بھی مقدر نہیں ۔ اسی طرح جو مسلمان ” بدر واحد “ کی ابتدائی شرطوں کو پورا نہ کریں ان کے لئے یہ مقدر نہیں کہ وہ ” بدر واحد “ کے مجاہدین میں لکھے جائیں اور بدر واحد کے ثمرات میں حصہ دار بنیں ۔
ایک صاحب نے کہا کہ ” الرسالہ میرے دل کی آواز ہے “ ۔ میں نے پوچھا ، کیا آپ نے الرسالہ کی ایجنسی لی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ نہیں ۔ میں نے کہا ، پھر میں یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ الرسالہ آپ کے دل کی آواز ہے ۔ دل تو ایسی چیز ہے کہ جو بات اس کی آواز بن جائے وہ دل کے اندر محدود نہیں رہ سکتی ، وہ یقینی طور پر پھٹ کر نکلے گی ۔ اور اسی کی ایک صورت الرسالہ کی ایجنسی ہے ۔ ایجنسی در اصل صاحب ایجنسی کی شخصیت کی توسیع ہے ۔ وہ دل کے جذبات کا کاغذی روپ اختیار کر کے باہر آنا ہے ۔ ایک شخص جو حقیقی طور پر الرسالہ سے متاثر ہو ، وہ اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ اس کی ایجنسی لے کر اس کو پھیلانے کے عمل میں شریک نہ ہو جائے ۔
انھوں نے کہا کہ میں ایجنسی لینا چاہتا ہوں ، مگر میرے پاس پیسہ نہیں ۔ میں نے کہا کہ الرسالہ دنیا کا واحد پرچہ ہے جس کی ایجنسی کسی نقصان کا خطرہ مول لئے بغیر لی جاسکتی ہے اور جس کو مفت پڑھا جاسکتا ہے ۔ انھوں نے پوچھا کہ وہ کیسے ۔
میں نے کہا کہ آپ پانچ پرچہ کی یا دس پرچہ کی ایجنسی لے لیں اور ایک پرچہ اپنے پاس رکھ کر بقیہ پرچوں کو فروخت کرتے رہیں ۔ آپ کو مفت میں ایک پرچہ ملتا رہے گا ۔ اور اگر کچھ پرچے فروخت نہ ہوسکیں تو آپ کبھی بھی ان کو پوری قیمت پر واپس کر سکتے ہیں ۔ حتیٰ کہ اگر ایک شخص ایجنسی نہ لینا چاہے تب بھی وہ مفت پڑھ سکتا ہے ۔ اور اس کی صورت یہ ہے کہ وہ ایک سالانہ چندہ ( ۲۸ روپے ) جمع کر دے اس کے بعد ہر ماہ کے پرچے صاف ستھری حالت میں اکٹھا کرتا رہے ۔ یہاں تک کہ جب بارہ پرچے ہو جائیں تو وہ ان پرچوں کو دفتر میں واپس بھیج دے ۔ اس کی بنیاد پر اس کو اگلے سال کے لئے رسالہ جاری کر دیا جائے گا ۔ اسی طرح ہر سال وہ ۱۲ پرچے واپس کر کے دوبارہ خرید ار بنتا ہے ۔ آخر میں اگر چاہے تو پرچے واپس کر کے اپنی پوری رقم وصول کر لے ۔
ایک صاحب نے کہا کہ آپ نے فلاں ” تنقید “ دیکھی ہے جو آپ کے خلاف شائع ہوئی ہے ۔
میں نے کہا کہ وہ تنقید نہیں ، استہزا ہے۔ تنقید وہ ہے جس میں علمی تجزیہ ہو۔ اس میں کوئی علمی تجزیہ نہیں اس میں تو صرف لفظی مذاق اڑایا گیا ہے۔
میں نے کہا کہ استہزا کرنا یا مذاق اڑانا ہمیشہ غیر سنجیدہ لوگوں کا شیوہ رہا ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ پچھلے زمانوں میں جو پیغمبر آئے ، ان سب کا مذاق اڑایا جاتا رہا۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ ولقد استهزى برسل من قبلك (انعام ۱۰) دوسری جگہ فرمایا گیا ہے :
يا حسرة على العباد ما يأتيهم من رسول الا كانوا به يستهزون (يس ۳۰)
پھر میں نے کہا کہ استہزا کا میدان اتنا وسیع ہے کہ کسی بھی شخص کا مذاق اڑایا جاسکتا ہے ، خواہ بذات خود وہ کتنا ہی صحیح کیوں نہ ہو۔ استہزا کرنے کے لئے زیر استہزا شخص کے اندر نقص کا ہونا ضروری نہیں ۔ استہزا کرنے والے کے اپنے اندر غیر سنجیدگی اور اللہ سے بے خوفی ہونا کافی ہے۔ اگر یہ سرمایہ کسی پاس ہو تو وہ پیغمبروں تک کا حتی کہ خدا کا بھی مذاق اڑ اسکتا ہے ، جیسا کہ موجودہ زمانہ کے ملحدین کر رہے ہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ میں الرسالہ پابندی کے ساتھ پڑھتا ہوں مگر ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل کے بارہ میں آپ کا جو نقطۂ نظر ہے اس سے مجھے سخت اختلاف ہے۔ مزید دریافت کرنے پر انھوں نے کہا کہ "الرسالہ مسلمانوں کو بز دل بنا رہا ہے "
جن صاحب نے یہ بات کہی ، ان سے میں نے پوچھاا کہ آپ اپنے بیان کے مطابق الرسالہ برابر پڑھ رہے ہیں تو کیا آپ بز دل ہو گئے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ نہیں ، میں تو بز دل نہیں ہوا۔ پھر میں نے پوچھ کہ آپ کے اس علاقہ میں الرسالہ پڑھنے والے سیکڑوں افراد موجود ہیں ۔ کیا آپ ان میں سے کچھ لوگوں کو جانتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ ہاں ، میں بہت سے لوگوں کو جانتا ہوں جو برابر الرسالہ پڑھتے ہیں۔ نے کہا کہ کیا آپ ان بہت سے قارئین میں سے کسی ایک شخص کا نام بتا سکتے ہیں جو الرسالہ پڑھ کر بز دل ہو گیا میرے اس سوال پر وہ خاموش ہو کر سوچنے لگے ۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے میرے اس سوال کے بعد ان کا پور آ قلعہ دھڑام سے گر گیا ہو۔ ان کا چہرہ بتا رہا تھا کہ الرسالہ کے بارے میں وہ جس واقعہ کی خبر مجھے دے رہے تھے ، اس سے وہ خود بھی متعین طور پر باخبر نہ تھے ۔ میں نے بار بار ان سے پوچھا کہ آپ کسی ایک ایسے شخص کا نام بتائیں جو الرسالہ کو پڑھ کر بز دل ہو گیا ہو ، مگر ایسا کوئی نام بتانے سے وہ عاجز رہے ۔ انھوں نے نہ اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور نہ الرسالہ کے کسی بز دل قاری
کا نام بتایا۔
پھر میں نے کہا کہ الرسالہ بزدلی نہیں سکھاتا، الرسالہ حکمت سکھاتا ہے۔ بزدل در اصل وہ لوگ ہیں جو الرسالہ پر جھوٹی تنقیدیں کرتے ہیں۔ یہ لوگ الرسالہ کی اصل بات کو رد کرنے کی طاقت نہیں رکھتے، اس لئے بزدلانہ طور پر یہ کرتے ہیں کہ الرسالہ کی طرف ایک خلاف واقعہہ بات منسوب کرتے ہیں اور پھر اس خلاف واقع بات پر تنقید کر کے خوش ہوتے ہیں کہ انھوں نے الرسالہ کی تردید کر دی۔ حالاں کہ یہ خود اپنی بات کی تردید ہوتی ہے نہ کہ الرسالہ کی بات کی تردید۔
الرسالہ کے مخالف حضرات کا یہ حال ہے کہ وہ ہمارے لئے جائز تنقید کو بھی نا جائز بتاتے ہیں اور خود اپنے لئے ناجائز تشویہ کو جائز قرار دیتے ہوئے ہیں۔ اس کی ایک عجیب مثال اس دوران سامنے آئی۔ ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایک مشہور عربی مدرسہ میں آخری درجہ کے طالب علم ہیں۔ انھوں نے الرسالہ کے اس مضمون کا ذکر کیا جو ”تشویہ حقائق“ کے عنوان سے جنوری ۱۹۸۸ میں شائع ہوا انھوں نے کہا کہ آپ نے عربی جریدہ کے جس مطبوعہ مضمون پر تنقید کی ہے وہ خود جریدہ کے ایڈیٹر کا نہیں تھا، وہ تو انھوں نے دوسرے پرچہ سے نقل کیا تھا، اور آپ جانتے ہیں کہ نقل کفر کفر نباشد۔ میں نے کہا کہ آپ نے ادھوری بات کہی۔ نقل کفر اس وقت کفر نہیں ہے جب کہ وہ تردید کے لئے نقل کیا جائے۔ جو نقل کفر تصدیق کے ہم معنی ہو وہ یقیناً کفر ہے۔ انھوں نے کہا، مگر مذکورہ جریدہ نے اس کی تصدیق نہیں کی۔ اس نے تو اپنی تصدیق شامل کئے بغیر اس کو جوں کا توں شائع کر دیا میں نے کہا کہ ایک غلط بات کو تردید کے بغیر شائع کرنا بالواسطہ طور پر اس کی تصدیق کرنا ہے۔ پھر میں نے کہا کہ اس معاملہ میں شریعت کی واضح ہدایت موجود ہے، اور جس معاملہ میں شریعت کی ہدایت موجود ہو اس میں ذاتی منطق لگا نا ایمان کے منافی (الاحزاب ۳۶) ہے۔ آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ اس طرح اذاعت خبر کو قرآن میں اتباع شیطان (النساء ۸۳) کہا گیا ہے۔ سورہ نساء کی اس آیت کے تحت حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ :
اس میں ان لوگوں کے خلاف انکار ہے جو معاملات کی طرف بغیر اس کی تحقیق کئے ہوئے دوڑتے وہ اس کو پھیلاتے ہیں اور اس کو نشر کرتے ہیں، حالاں کہ یہ ممکن ہے کہ وہ خبر صحیح نہ ہو۔ امام مسلم نے اپنی صحیح کے مقدمہ میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث نقل کی ہے کہ کسی آدمی کے جھوٹا ہونے
کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات کو بیان کرنے لگے۔ اور حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص ایک بات بیان کرے اور وہ جانتا ہو کہ یہ جھوٹی بات ہے تو ایسا شخص دو کاذبوں میں سے ایک ہے (تفسیر ابن کثیر، الجزء الاول، صفحہ ۳۰ - ۵۲۹)
حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے نزدیک ایسی خبر کو بلا تحقیق پھیلانا شیطان کی پیروی کرنا ہے ، اور اگر آدمی خبر کو جھوٹ جانتے ہوئے اسے پھیلائے تو وہ خود بھی اسی کذب بیانی کا مرتکب ہو رہا ہے جس کا ارتکاب اس شخص نے کیا تھا جس نے ابتدا اً اس جھوٹ کو گھڑا تھا۔
۹ ایل کو ایوارڈ اور انعامات کی تقسیم کی تقریب جن مچ (گاندھی پارک) میں ہوئی۔ پر مجھ سے ملی ہوئی کرسی پر ایک صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے سادہ لباس اور سادہ انداز سے میں سمجھ نہ سکا کہ یہ "وی آئی پی " طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ تعارف کے بعد معلوم ہوا کہ وہ مسٹر چند را ما ولی (K. Chandramouli) ہیں جو سہارن پور کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ہیں۔ وہ مدراس کے رہنے والے ہیں اور ان کی مادری زبان تمل ہے۔ مگر وہ نہایت صاف اردو بول رہے تھے۔ پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ وہ یوپی کیڈر سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اور لمبے عرصہ تک اردو کے علاقوں میں رہے ہیں۔ جب میری تقریر پر شروع ہوئی تو وہ اپنی کرسی پر نظر نہ آئے۔ میں نے سمجھا کہ شاید وہ کسی ضرورت سے واپس چلے گئے ہیں۔ مگر بعد کو ایک صاحب نے بتایا کہ جب آپ کی تقریر کا وقت آیا تو وہ ڈائس سے اتر کر نیچے آئے اور سامنے کی کرسی پر بیٹھ گئے تاکہ تقریر کو اچھی طرح سن سکیں ۔ انھوں نے مزید کہا کہ میں ڈی ایم سے متصل کرسی پر تھا۔ انھوں نے تقریر کے بارہ میں نہایت اچھے تأثر کا اظہار کیا اور اس سے پور اتفاق کیا۔ مسٹر چند را ما ولی کو اسلامی مرکز کا انگریزی لٹریچر ڈا ک سے روانہ کر دیا گیا ہے۔ مسٹر چندر اما ولی اور دوسرے ہندو صاحبان سے بات کرنے کے بعد میں نے سوچا کہ یہ حضرات اگر چہ اردو رسم خط میں لکھی ہوئی عبارت کو پڑھ نہیں سکتے مگر اردو زبان کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو الرسالہ کا پیغام پہنچانے کے لئے دو شکلیں جاری کی جانی چاہئیں ۔ ایک یہ کہ الرسالہ کے ہمدرد اس قسم کے لوگوں کو الرسالہ کے مضامین پڑھ کر سنائیں۔ دوسرا طریقہ کیسٹ کا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ مرکز کے کیسٹ فراہم کئے جائیں۔ ہمارے احباب بطور خود ایسا کر سکتے ہیں کہ وہ الرسالہ کے منتخب مضامین کو کیسٹ پر ریکارڈ کر لیں اور اس کے ذریعہ ان لوگوں تک الرسالہ کا پیغام پہنچائیں جو اردو کو پڑھ نہیں سکتے۔
محسوس کر اس کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ یہ سلسلہ اگر بڑے پیمانے شروع ہو جائے تو وہ ان شاء اللہ ایک نئے انقلاب کے ہم معنی ہو گا۔
سہارن پور میں میری تقریر کا موضوع قومی اااایکتاا (National integration) تھا۔
میں نے اپنی تقریر میں ہالینڈ کا وہ واقعہ بیان کیا جو راستہ میں پروفیسر گوانی نے بتایا تھا۔ میں نے کہا کہ قومی یکتا قائم کرنے کا طریقہ۔ یہی رواداری ہے جس کی ایک مثال مذکورہ واقعہ میں ملتی ہے۔ اسلام اس رواداری کو آخری حد تک قائم رکھنا چاہتا ہے۔ ہالینڈ کے پروٹسٹنٹ پر پروفیسر نے کھانے کی میز پر ایک کیتھولک کو اپنی دعائیہ رسم ادا کرنے کی اجازت دی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اس معاملے میں یہاں تک گئے کہ آپ کے زمانہ میں نجران کے عیسائیوں کا وفد مدینہ آیا۔ روایات میں آتا ہے کہ اس دوران ان کی عبادت کا وقت آگیا تو آپ نے انھیں اجازت دے دی کہ وہ مسجد نبوی میں اپنی عبادت کر لیں۔ چنانچہ انھوں نے مسجد نبوی کے صحن میں اپنے عقیدہ کے مطابق عبادت کے مراسم ادا کئے (سیرۃ ابن کثیر، رابع ، صفحه ۱۰۸) عام طور پر یہ بات کہی جاتی ہے کہ اس وقت ہندوستان کا مسئلہ نمبر ایک نیشنل انٹیگریشن ہے۔ سے مجھے اصولاً اتفاق ہے۔ مگر اس کے لئے جو تدبیر بتائی جاتی ہے اس کو میں اصل مقصد کے لئے بالکل بے فائدہ لوگوں کا کہنا ہے کہ نیشنل انٹیگریشن حاصل کرنے کے لئے ہمیں کلچرل انٹیگریشن لانا ہوگا۔ مختلف فرقوں کی تہذیبی شناخت کو ختم کر کے ایک مشترک کلچر بنا یا جائے اور سب کو اسی کلچر کا پابند میں نے اپنی تقریر میں مختلف مثالیں دے کر بتایا کہ تہذیبی شناخت کسی بھی درجہ میں یکت اور یکجہتی میں مانع نہیں ہے۔ کسی ملک میں یکجہتی اس طرح آتی ہے کہ لوگوں کے اندر روادارانہ سوچ پیدا کی جائے۔ تہذیبی فرق کو مٹا کر یکجہتی پیدا نہیں کی جاسکتی۔
اس معاملہ میں اصل اہمیت ذہن کی ہے نہ کہ ظاہری آداب ورسوم کی۔ اور وہ ذہن یہ ہے کہ لوگوں کے اندر احترام انسانیت کا مزاج پیدا کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے ہمیں فرق کی شکل کو نہیں مٹانا ہے بلکہ فرق کی سوچ کو مٹانا ہے۔ ظاہر والے فرق کو ختم کرنا نہیں ہے بلکہ دل والے فرق کو ختم کرنا ہے۔ لوگوں کے اندر یہ سوچ ابھارنا ہے کہ وہ مذہب کے فرق کو اخلاق کا فرق نہ بنائیں۔ خلاصہ یہ کہ ایک کیتھولک کیتھولک رہتے ہوئے پروٹسٹنٹ کی عزت کرے ، اور اسی طرح ایک پروٹسٹنٹ ، پروٹسٹنٹ رہتے ہوئے کیتھولک کی عزت کرے۔ یہی یکتا اور یکجہتی پیدا کرنے کا واحد طریقہ ہے۔ اس کے سوا اس مقصد کو
حاصل کرنے کا کوئی اور ممکن طریقہ نہیں۔
یہ تقریر مزید اضافہ کے ساتھ مرتب کر لی گئی ہے۔ ان شاء اللہ اس کو الرسالہ میں شائع کر دیا زیر عنوان ”بھارت کی تعمیر“ سہارن پور کے خطاب اور گفتگوؤں میں میں نے لوگوں کے سامنے یہی نقطۂ نظر پیش کیا۔ میں ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی سبھی موجود تھے۔ میری معلومات کے مطابق، ہر ایک نے اس نقطۂ نظر کو پسند تقریر کے بعد ڈاکٹر تشہیر احمد صاحب میرے پاس آئے۔ انھوں نے کہا کہ کئی ہندوؤں نے مجھ کو یہ کہلا کر بھیجا ہے کہ میں آپ کو مبارک باد دوں اور یہ پیغام پہنچاؤں کہ آپ کی بات انھیں خوب سمجھ میں آئی۔ سے پوری طرح اتفاق کرتے ہیں کہ ایکتا پیدا کرنے کے لئے ذہن کو بدلنے کی ضرورت ہے نہ کہ کلچر ل پہچانونکو مجھ سے براہ راست بھی کئی غیر مسلم صاحبان نے اسی قسم کے تاثرات کا اظہار کیا۔ بعض فرقہ پرست ہندو لیڈر یہ کہتے ہیں کہ قومی ایکتا پیدا کرنے کا راز بھارتیہ کرن (انڈینائزیشن) یعنی تمام لوگوں کا زبان اور مذہبی شعار ایک ہو جائے، آپس میں شادی بیاہ ہوں، وغیرہ وغیرہ۔ پر مسلم قائدین سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہیں اور ”اسلام خطرہ میں “ کی گھنٹی بجا کر زور و شور کے ساتھ تحفظ شریعت کی مہم چلانے لگتے ہیں۔ یہ طریقہ غیر مفید بھی ہے اور اصل مسئلہ کو شدید تر کرنے والا بھی۔ نزدیک صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہم یہ کہیں کہ قومی ایکتا بجائے خود ایک ضروری چیز ہے۔ مگر اس کو حاصل کرنے کا طریقہ کلچرل شناختوں کو مٹانا نہیں بلکہ عدم رواداری کے ذہن کو مٹانا ہے۔ مسلم قائدین کے مذکورہ طریقہ میں آدمی صرف منفی ردعمل پیش کرنے والے کے روپ میں سامنے آتا ہے اور دوسری صورت میں وہ رہنمائی دینے والا بن جاتا ہے۔ پہلی صورت میں آدمی صرف دفاعی پوزیشن میں رہتا ہے، مگر دوسرا طریقہ اختیار کرنے کے بعد وہ اقدامی پوزیشن میں آ جاتا ہے۔ اور دفاعی پوزیشن کے مقابلہ میں اقدامی پوزیشن بلاشبہ زیادہ طاقتور ہے۔
موجودہ زمانہ کے نام نہاد مسلم لیڈروں نے تقریباً ہر معاملہ میں ایسا ہی کیا ہے۔ انھوں نے خدا کے دین کو عملاً تحفظ کا دین بنا دیا جب کہ باعتبارِ حقیقت وہ اقدام کا دین تھا۔
واپسی کا سفر شاملی کے راستہ سے ہوا۔ شاملی ایک تاریخی قصبہ ہے جو سہارن پور اور دہلی کے تقریباً وسط میں واقع ہے۔ ۱۸۵۷ء کے ہنگامہ میں علماء کی ایک جماعت نے شاملی میں انگریزی فوج پر حملہ کیا تھا۔
جس میں انہیں یک طرفہ طور پر شکست ہوئی۔
شاملی کے اس "جہاد" کی تفصیلات مولا نا منتظر احسن گیلانی نے اپنی کتاب سوانح قاسمی مطبوعہ ۱۳۷۳ھ میں درج کی ہیں۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ شاملی میں انگریزوں کی یک گڑھی (چھوٹا قلعہ) تھا۔ کے علماء اور ان کے شاگردوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ وہ تھانہ بھون اور شاملی سے جہاد کرتے ہوئے دہلی کی طرف اور پھر دہلی کو انگریزی اقتدار سے آزاد کرائیں۔ یہ اقدام در حقیقت پایۂ تخت دہلی تک پہنچنے کے لئے کیا گیا تھا۔ مولانا طیب کے الفاظ میں" سرفروشان دین اپنے سروں کو ہتھیلیوں پر لے کر ایک منظم طاقت سے ٹکرانے کے لئے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے اور تھانہ بھون سے شاملی کی طرف مارچ شروع کیا جس کا نصب العین دہلی تھا۔ اس فوج میں مولانا محمد قاسم نانوتوی ، مولا نا رشید احمد گنگوہی، مولانا حافظ محمد ضامن ، مولا نا محمد منیر نانوتوی وغیرہ شریک تھے۔
یہ جہتا تحصیل شاملی پر چڑھ دوڑا۔ شاملی کے میدان میں ان کا مقابلہ انگریزی فوج سے ہوا۔ کی یہ گڑھی جس میں انگریزی فوج کے سپاہی تھے ایک ایسے کھلے میدان میں واقع تھی جس کے چاروں طرف کوئی ایسی جگہ نہ تھی جسے گڑھی کے باہر والے آڑ بنا سکتے ہوں۔ مجاہدین کا گروہ جو گڑھی کے باہر والے میدان میں تنگول کی طرح پھیلا ہوا تھا ان پر انگریزی فوج نے بندوقوں سے مسلسل فائرنگ شروع کر دی۔ انگریزی فوج دیوار کے پیچھے محفوظ تھی۔ مگر مجاہدوں کے لئے کوئی جائے پناہ نہ تھی جہاں وہ اپنے آپ کو گولی سے بچائیں۔ انگریزی فوج تحصیل شاملی میں قلعہ بند ہوگئی اور ادھر سے مجاہدوں پر بندوقوں کی باڑھ مارنا شروع کیا جس سے سیکڑوں مجاہدین ہلاک ہوگئے۔ انگریزی فوج اپنے قلعہ میں محفوظ تھی اور مجاہدین ان کے سامنے کھلے میدان میں تھے۔ انگریزوں کا حملہ پوری طرح کارگر اور کامیاب تھا جب کہ مجاہدین کے حملے غیر مؤثر ہو کر رہ جاتے تھے۔ اس ایک طرفہ مار کی وجہ سے مجاہدین کا بے پناہ جانی و مالی نقصان ہوا۔ مجاہدین کا ایک دستہ تحصیل شاملی پر حملہ کرنے کے لئے تھانہ بھون سے روانہ کیا گیا تھا۔ کے امیر البیش مولانا حافظ محمد ضامن صاحب تھے۔ جب یہ لوگ گڑھی کے قریب پہنچے تو انگریزی فوج کے ایک سپاہی نے فصیل سے نشانہ لے کر ان پر گولی چلائی اور بقول مولانا طیب "گولی ناف پر پڑی" جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہوگئے۔ اس خبر یعنی حافظ ضامن صاحب کی شہادت کی خبر نے مجاہدوں کی کمر توڑ دی اور وہ امید جو مجاہدوں کی مشعل راہ تھی ٹوٹ گئی جس سے قلوب میں سرد مہری کی کیفیت پیدا ہوگئی۔
حافظ ضامن صاحب کی شہادت ہوئی اور ادھر دہلی سے خبر آئی کہ بادشاہ دلی ( ظفر شاہ ) گرفتار ہو گئے اور دلی پر انگریزوں کا قبضہ ہو گیا (جلد دوم ، صفحہ ۱۷۰ - ۱۳۵ )
موجودہ زمانہ کے مسلم قائدین جہاد کے نام پر جو اقدامات کر رہے ہیں ، اگر یہی وہ چیز ہو جس کو شریعت میں اسلامی جہاد کہا گیا ہے تو زبان و ادب کے ماہرین کو ایک نیا لغت تیار کرنا ہوگا جس میں مقدس اسلامی جہاد اور نادانی کی چھلانگ دونوں کو ہم معنی الفاظ کے طور پر درج کیا گیا ہو۔ ۱۰ اپریل ۱۹۸۸ کی صبح کو ۹ بجے ہم لوگ سہارن پور سے واپس روانہ ہوئے اور تین گھنٹہ کا سفر بذریعہ روڈ طے کر کے دوبارہ دہلی واپس آگئے ۔