خبر نامه اسلامی مرکز - ۴۱
Al-Risala, July 1988, pp. 45–48
By Maulana Wahiduddin Khan
الرسالة اور اسلامی مرکز کے حلقہ کی جانب سے بار بار یہ تقاضا سامنے آ رہا ہے کہ اسلامی مرکز کا کل ہند اجتماع کیا جانا چاہئے۔ اس سلسلہ میں اطلاع دی جاتی ہے کہ انشاء اللہ ۱۹۸۸ء کے آخر میں اسلامی مرکز کا کل ہند اجتماع ہوگا۔ مقام اور تاریخ کا قطعی اعلان بعد کو کیا جائے گا۔ نیشنل بک ٹرسٹ انڈیا کے تحت لندن میں کتابوں کی بین الاقوامی نمائش (International Book Fair) ہوئی۔ یہ نمائش ۲۸ - ۳۰ مارچ ۱۹۸۸ء کو تھی۔ نمائش میں ہندوستان کی منتخب مطبوعات رکھی گئی تھیں۔ ان منتخب کتابوں میں اسلامی مرکز کی کتاب مذہب اور جدید چیلنج بھی شامل تھی۔ اس کا ذکر نیشنل بک ٹرسٹ کی رپورٹ میں صفحہ ۴۵ پر کیا گیا ہے۔ اس نمائش میں ہندی، بنگالی، انگریزی، پنجابی، اردو کتابیں رکھی گئی تھیں۔
سہارن پور میں ۹ اپریل ۱۹۸۸ء کو ایک مشترکہ جلسہ ہوا جس میں صدر اسلامی مرکز نے خطاب خطاب کا موضوع تھا: "قومی ایکتا اور انسانی ترقی میں مذہب کا رول " اس موقع پر صدر اسلامی مرکز کو ایک خصوصی ایوارڈ پیش کیا گیا۔ اس پروگرام کی تفصیل انشاء اللہ سفر نامہ میں شائع کر دی جائے گی۔
غالب اکیڈمی (نئی دہلی) میں 17 اپریل ۱۹۸۸ء کی شام کو ایک عمومی اجتماع ہوا۔ ایس اگوانی (وائس چانسلر جواہر لال نہرو یونیورسٹی) نے صدارت کے فرائض انجام صدر اسلامی مرکز نے اس موقع پر ایک مفصل تقریر کی جس کا عنوان یہ تھا: "اسلام دور جدید کا خالق "۔ تعلیم یافتہ اصحاب کا بڑا طبقہ شریک ہوا۔ شرکاء اجتماع میں جناب حکیم عبد الحمید صاحب، جناب بدر الدین طیب جی اور دوسرے معزز حضرات شامل تھے۔ علاوہ غیر مسلم حضرات بھی شریک ہوئے۔ لوگوں نے تقریر کو پسند کیا اور کہا کہ اس قسم کی تقریر کا سلسلہ ہر مہینہ جاری رہنا چاہئے۔ تجویز ہے کہ ہر سکنڈ سٹڈے، کو بعد نماز مغرب یہ سلسلہ تقریر شروع کیا جائے ۔
اسلامی مرکز کا ایک مستقل شعبہ کتابوں کی اشاعت ہے " عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر"
کے لیے اب اسلامی مرکز ایک معروف نام بن چکا ہے۔ اس کے تحت کچھنے والی تازہ کتابیں حسب ذیل ہیں : مذہب اور سائنس نامی کتاب کا انگریزی ترجمہ ، خاتونِ اسلام ، نیا ایڈیشن سو صفحات کے اضافے کے ساتھ ، میوات کا سفرنامہ ، مہارت کی تعمیر ۔
تذکیر القرآن پورے قرآن کی تفسیر دو جلدوں میں ہے۔ اس کی اشاعت کے بعد ہم کو ایسے خطوط مل رہے ہیں جن میں تذکیر القرآن کے مطالعہ کے شدید شوق کا اظہار ہوتا ہے۔ کے ساتھ وہ لوگ لکھتے ہیں کہ ہم اپنی ناداری کی وجہ سے تذکیر القرآن کو قیمت دے کر خرید نہیں سکتے ۔ صاحب استطاعت حضرات سے ہماری اپیل ہے کہ وہ ایسے لوگوں کی طرف سے قیمت ادا کر کے انھیں تذکیر القرآن فراہم کرنے میں تعاون فرمائیں۔ تعاون کرنے والے اگر چاہیں گے تو انھیں مرسل الیہ کا نام و پتہ روانہ کر دیا جائے گا۔ عرصہ سے یہ تقاضا کیا جاتا رہا ہے کہ الرسالہ کا ہندی ایڈیشن نکالا جائے۔ اب ایک عملی تجویز یہ سامنے آئی ہے کہ ہندی ترجمہ نہ کیا جائے بلکہ موجودہ الرسالہ ہی کو ہندی رسم خط (لپی) میں منتقل کر کے ہر ماہ اسے شائع کیا جائے۔ یعنی زبان اردو اور الرسالہ ہی کی ہو۔ صرف رسم خط بدل دیا جائے۔ اس سلسلہ میں الرسالہ مشن کے ہمدرد حضرات اپنی رائے نیز یہ بھی لکھیں کہ مذکورہ صورت میں وہ بطور ایجنسی ہر ماہ کتنی تعداد منگانے کی ذمہ داری لے سکیں گے۔
جموں و کشمیر کا ایک ادارہ (مسلم انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن) جس کے تحت کئی اسکول چل رہے اس نے اپنے پرائیویٹ اسکولوں کے نصاب میں اسلامی مرکز کی چھپ کتابیں داخل نصاب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس میں باغ جنت ، نارِ جہنم ، حیاتِ طیبہ اور تذکیر القرآن کا تیسواں پارہ شامل ہے۔
مشاہدات اور رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ الرسالہ کی بات تیزی سے پھیلتی جا رہی ہے۔ گفتگو کرنے والے اپنی گفتگو میں اور تقریر کرنے والے اپنی تقریر میں اس کو دہرانے لگے بہت سے اخبار اور رسالے الرسالہ کی باتوں کو برابر نقل کر رہے ہیں ، ان میں کچھ ایسے ہیں جو نام اور حوالہ کے ساتھ نقل کرتے ہیں۔ مگر زیادہ تر وہ ہیں جو نام اور حوالہ کے بغیر اس
کو اپنی بات کے طور پر شائع کرتے ہیں۔ ان پھیلانے والوں میں ہمارے مخالفین الرسالہ کا پیغام الرسالہ کے ذریعہ جتنا پھیل رہا ہے، اس سے زیادہ دوسرے اس کو پھیلا رہے ہیں۔ کچھ احباب اگر براہ راست طور پر الرسالہ کی ایجنسی چلاتے ہیں تو دوسرے بہت سے وہ لوگ ہیں جو بالواسطہ طور پر الرسالہ کی ایجنسی کا کام کر رہے ہیں۔ ایک صاحب اپنے خط مورخہ (7۱ مارچ ۱۹۸۸) میں لکھتے ہیں: دو تین سال سے الرساله کا میں نے جب اسے پہلی بار پڑھا تو دیوانہ وار کئی بار پڑھا اور اسی وقت ٹھان لیا کہ میں الرسالہ کو اپنی زندگی میں شامل کروں گا۔ اس میں ایسی باتیں پڑھنے کو ملتی ہیں کہ اگر کم ہمتی اور بے دلی اور مایوسی کے بادل چھائے ہوئے ہوں تو عجب نہیں کہ صاحب مطالعہ تجدید زندگی کرلے۔ جس کی کشتی بھنور میں ہو اس کے لیے الرساله ناخدا سے کم نہیں۔ نوجوانوں کے لیے اس کا مطالعہ مشعل راہ ہے۔ آدمی اس کو دوبارہ پڑھے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اور ہر مرتبہ اس کا اثر دو بالا ہو جاتا ہے۔ (محمد عبد المجید ، کبھینسا) ایک صاحب لکھتے ہیں: الرسالہ ہر دین سے لگاؤ رکھنے والے کی ربّانی اور روحانی ضرورت بن گیا ہے۔ اس کا ہر صفحہ قرآن و حدیث سے اخذ شدہ ہوتا ہے۔ آپ پر جو تنقید بھی کبھی نظر سے گزرتی ہے وہ صرف تنقید برائے نفسانیت ہوتی ہے یا حقیقت سے انکار کی احمقانہ میں آپ کے پیغمبرانہ مشن پر اپنے آپ کو لگانے پر رضا مند ہوں۔ کچھ حضرات کے نام الرساله جاری کروانے کا ارادہ ہے۔ یہاں امام صاحب الرسالہ سے پوری طرح متفق ہر جمعہ کو تقریر کرتے ہیں۔ الرساله سے ان کی تقریروں میں ایک نیا رنگ پیدا ہو گیا ہے جو پہلے نہ تھا (مشتاق احمد ، شیو گنج)
الرساله خدا کے فضل سے بے شمار لوگوں کے لیے نئی زندگی کا باعث بن رہا ہے۔ اس کا اندازہ بار بار مختلف شکلوں میں ہوتا ہے۔ ۱۶ مئی ۱۹۸۸ کو ایک صاحب نے ٹیلی فون پر بتایا کہ بعض اسباب کے نتیجہ میں میں سخت مایوسی کا شکار تھا۔ عین اس وقت الرسالہ اپریل ۱۹۸۸ ملا۔ اس کے صفحہ ۲ پر "چیلنج نہ کہ ظلم" کو پڑھا تو آنکھ کھل گئی اور اچانک میں نے محسوس کیا کہ میرے اندر نئی طاقت آگئی ہے۔
اسلامی شریعت میں عورت کا مقام اسلام اور جدید تہذیب کا تقابل از: مولانا وحیدالدین خاں عورت کا درجہ اسلام میں وہی ہے جو مرد کا درجہ ہے۔ عزت اور احترام کے جو احکام ایک صنف کے لئے ہیں وہی احکام دوسری صنف کے لئے بھی ہیں۔ دنیا کے حقوق اور آخرت کے انعامات میں دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ البتہ اسلام کے نزدیک مرد مرد ہے اور عورت عورت ۔ زندگی کا نظام چلانے میں دونوں برابر کے شریک ہیں، تا ہم فطری فرق کا لحاظ کرتے ہوئے اسلام نے دونوں کے درمیان تقسیمِ کار کا اصول رکھا ہے نہ کہ یکسانیتِ کار کا اصول۔ ( صفحات ۲۹۲، قیمت ۳۵ روپیہ )