لال قلعہ سے آئی آواز ڈھلوں ، سہگل ، شاہ نواز
Al-Risala, August 1988, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
کرنل گور بخش سنگھ ڈھلوں (عمر ۹۵ سال) اب شیوپوری (مدھیہ پردیش) میں رہتے ہیں۔ اور کبھی کبھی دہلی آتے ہیں۔ پرومیلا کلہن نے ان سے ایک انٹرویو لیا جو ہندوستان ٹائمس (16 مئی ۱۹۸۸ء) میں چھپا ہے۔ اس انٹرویو میں انھوں نے جو باتیں بتائیں ان میں سے ایک بات مطبوعہ انٹرویو کے مطابق یہ تھی کہ ہندوستانیوں اور ایشیائیوں نے فیاضانہ طور پر نیتاجی سبھاش چندر بوس کی مالی مدد کی۔ رنگون کے ایک مسلمان تاجر نے تنہا ان کو ایک کروڑ روپیہ دیا :
A cosmetic manufacturer, a Muslim in Rangoon, gave a crore of rupees (p.10). ہم ۱۹۴۳ء کا ایک کروڑ روپیہ آج کے لحاظ سے ۵۰ کروڑ روپیہ سے بھی زیادہ ہے۔ میں مسلمانوں نے سیاسی اور قومی کاموں میں بہت بڑا بڑا تعاون دیا ہے ۔ اور بے شمار سرمایہ خرچ کیا ہے ۔ مگر دورِ جدید کی پوری تاریخ میں کوئی ایک مثال نہیں جب کہ مسلمانوں نے دعوت الی اللہ کے کام میں کوئی بڑا تعاون کیا ہو۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ نفرتِ اقوام کے لیے اٹھے مگر وہ محبتِ اقوام کے لیے نہ اٹھ سکے۔ یہی واحد سب سے بڑا سبب ہے جس نے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے سارے معاملات کو برباد کر کے رکھا ہے۔ جب تک وہ اپنے اس مزاج کو نہ بدلیں، کسی بھی دوسری تدبیر سے ان کے حالات بدلنے والے نہیں ۔